جھنگ سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر جو جھنگ کے ملنگ شاعر کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔
جھنگ صرف بہادروں، دانشوروں اور عظیم شخصیات کی سرزمین ہی نہیں بلکہ ادب اور شاعری کے ایسے چراغوں کی دھرتی بھی ہے جنہوں نے اپنے لفظوں سے اس خطے کی شناخت کو دنیا بھر میں اجاگر کیا۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک نام معروف شاعر شیر افضل جعفری کا ہے، جن کی شاعری میں جھنگ کی مٹی کی خوشبو، اس کے لوگوں کی محبت اور اس دھرتی سے گہری وابستگی نمایاں نظر آتی ہے۔
شیرافضل جعفری یکم ستمبر 1909ء کو جھنگ، برطانوی ہند کے صوبہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شیر محمد تھا۔ وہ اردو اور پنجابی زبان کے ایک منفرد لب و لہجے کے شاعر تھے خصوصاً وہ اپنی اردو شاعری کو جس طرح پنجابی زبان کے خوب صورت الفاظ سے ہم آمیز کرتے تھے وہ انہی کا خاصا تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں سانولے من بھانولے، چناب رنگ، شہر سدا رنگ اور موج موج کوثر کے نام شامل ہیں۔
شیر افضل جعفری نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف محبت، انسانیت اور معاشرتی اقدار کو اجاگر کیا بلکہ جھنگ کی ثقافت، روایات اور تہذیبی حسن کو بھی اپنے اشعار میں سمویا۔ ان کے کلام میں اپنے شہر اور اپنی دھرتی کے لیے محبت کا جذبہ واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
وہ ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے جھنگ سے شہرت حاصل کرنے کے بعد بھی اپنی شناخت کو اپنے شہر سے جوڑے رکھا اور شہر چھوڑ کر کبھی نہیں گئے۔ ان کی شخصیت اس بات کی عکاس ہے کہ اصل عظمت اپنی جڑوں سے وابستہ رہنے میں ہے۔ ان کا ادبی سفر جھنگ کے نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے کہ محنت، علم اور تخلیقی صلاحیت کے ذریعے قومی سطح پر پہچان حاصل کی جا سکتی ہے۔
آج شیر افضل جعفری کا نام جھنگ کے ادبی ورثے کا اہم حصہ ہے۔ ان کی شاعری آنے والی نسلوں کو نہ صرف ادب سے محبت کا درس دیتی ہے بلکہ اپنے شہر اور اپنی ثقافت پر فخر کرنے کا حوصلہ بھی عطا کرتی ہے۔
شیر افضل جعفری واقعی جھنگ کے ان ہیروز میں شامل ہیں جنہوں نے قلم کی طاقت سے اپنے شہر کا نام روشن کیا اور جھنگ کی پہچان کو ادب کے افق پر نمایاں کیا۔
اللہ تعالی ان کو کروٹ کروٹ جنت میں جگہ عطافرمائے۔
ان کی ایک خوبصورت غزل ہے
ٹہنیاں پھولوں کو ترسیں گی یہاں تیرے بعد
وادیٔ جھنگ سے اٹھے گا دھواں تیرے بعد
لاڈلے شیشموں کی بھاگ بھری شاخوں سے
کونپلیں پھوٹیں گی بن بن کے فغاں تیرے بعد
دھندلی دھندلی نظر آئیں گی سہانی راتیں
ہچکیاں لے گا ''ترمّوں'' کا سماں تیرے بعد
ناگ بن جائیں گی پانی کی شرابی لہریں
آگ پھیلائے گا سیلاب چنہاں تیرے بعد
کون ''بیلے'' میں دل زار کو بہلائے گا
کون دے گا مری آہوں کو اماں تیرے بعد
''ماہیا'' گائیں گی کونجیں لب دریا لیکن
ان کی سنگیت میں وہ بات کہاں تیرے بعد
بشکریہ: جھنگ کے ہیروز
