دنیا میں سب سے عظیم رشتہ ماں کا ہوتا ہے جو اپنی بیٹی کے ہر دکھ سکھ کا سہارا ہوتی ہے۔ دھنک کے سارے رنگوں میں چمک اسی کے دم سے ہوتی ہے۔ ایک بیٹی جب پرورش پاتی ہے تو اس کے ہر عمل میں ماں کی چھاپ دیکھائی دیتی ہے۔ ذہنی اور جسمانی فطرت سے لے کر گھر داری تک زندگی کے ہر موڑ پر ماں کا چہرہ یاد آتا ہے۔ بعض اوقات ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب زندگی ایک چوراہے کا روپ دھار لیتی ہے۔ جہاں باپ،بھائی، شریکِ حیات ماں اور بہن جیسے چہرے نظر آتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ذہن ہیجانی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اپنی مشکل کا حل کس چہرے میں تلاش کیا جاۓ۔ بالآخر ہم اپنی بہن پر یقین کرتی ہیں اور دل کی کھڑکی کھول کر اُسے پکارتی ہیں ۔ اور وہ ہوا کے کسی سر مست جھونکے کی طرح آکر ہمارے اندر کی نمی کو جزب کر لیتی ہے۔ کچھ پل کی ہی سہی ہمیں ایک خوشی میسر آتی ہے۔
بہن کو اپنی روداد سنا کر آپ کے دل کو تسکین ملتی ہے اور وہ بہن اپنی زندگی اور مسائل کو نظرانداز کرتے ہوۓ ہمیں تسلی دینے لگتی ہے۔ بہن چاہے شمال میں ہو یا جنوب میں اس کا پیار اور اپنائیت دنیا کے ہر کونے تک پہنچ جاتی ہے۔ اپنی بہن کی خوشی اور اطمینان کے لیے وہ دنیا کے ہر خطرے کو مول لے لیتی ہے ۔ وہ ایک وجود جس کی ذرا سی تکلیف پر آپ کانپ جاتی ہیں وہ آپ کی بہن ہے۔ جس کی ازواجی زندگی سے لے کر نفسیاتی پیچ و خم تک اس کی ہر آزمائش کو خدائی مصلحت سمجھ کر اپنے سینے میں قید کر لیتی ہیں وہ آپ کی بہن ہوتی ہے۔ جس کی خیریت اور خوشیوں کے لیے آپ سجدوں میں گر جاتی ہیں۔ وہ عظیم ہستی آپ کی بہن ہوتی ہے۔ کانٹا چبھنے کی ذرا سی تکلیف سے لے کر گمشدہ جوتے ملنے کی فطری مسرت کا بہن سے تبادلہ کرنا ایک ازلی امر ہے۔ شاید میں اس دنیا میں کسی نے ایسا کیا ہو لیکن میں کر رہی ہوں میں ازلی روایت کو بدل رہی ہوں میں اپنی دعا میں ایک اضافہ کر رہی ہوں۔ اللّہ پاک ہماری ماؤں کے ساتھ ساتھ ہماری بہنوں کو بھی سلامت رکھے آمین۔
