شہر کی شور مچاتی سڑک کے کنارے، ایک پرانے اور عظیم الجثہ برگد کے پیڑ تلے بیٹھا وہ بوڑھا آدمی ہر آنے جانے والے کو بڑی غور سے دیکھتا تھا۔ اس کے سامنے ایک میلی سی ڈائری کھلی تھی، جس کے صفحات ہوا کے دوش پر تھرتھرا رہے تھے۔ لوگ اسے "بابا جی" کہہ کر پکارتے، کوئی سکہ پھینک دیتا تو کوئی نظر انداز کر کے گزر جاتا۔ وہ برگد کا پیڑ خود بھی ایک گزری ہوئی صدی کا نوحہ معلوم ہوتا تھا، جس کی لٹکتی ہوئی جڑیں زمین کو یوں چھو رہی تھیں جیسے کوئی تھکا ہوا مسافر صدیوں کا بوجھ اتارنے کی کوشش کر رہا ہو۔ بابا جی کی جلد پر پڑی جھریاں محض بڑھاپے کے نشان نہیں تھے، بلکہ وہ وقت کے لکھے ہوئے افسانے تھے جنہیں کوئی پڑھنے والا نہیں تھا۔
ایک دن ایک نوجوان طالب علم اس کے پاس رکا اور پوچھا، "بابا جی! آپ ہر وقت اس ڈائری میں کیا لکھتے رہتے ہیں؟" بوڑھے نے اپنی دھندلی آنکھوں سے اسے دیکھا اور ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ بولا، "میں زندگی کی کہانی لکھ رہا ہوں، بیٹے! یہ کہانی اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے، لیکن دوسروں کے رویوں پر ختم ہوتی ہے۔ جب میں چھوٹا تھا، تو میں نے لکھا کہ زندگی ایک میلہ ہے۔ میں بھاگتا رہا، رنگ جمع کرتا رہا۔ جب جوان ہوا تو لکھا کہ زندگی ایک جنگ ہے؛ میں لڑتا رہا، جیتتا رہا اور زخم کھاتا رہا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب مجھے لگا کہ میں نے سب کچھ پا لیا ہے، تب میں نے لکھا کہ زندگی ایک سکون ہے، لیکن پھر وقت نے کروٹ بدلی۔ اولاد اپنے خوابوں کے پیچھے پردیس اڑ گئی، شریکِ حیات ساتھ چھوڑ گئی، اور دوستوں کی محفلیں خاموش ہو گئیں۔"
نوجوان خاموشی سے سن رہا تھا۔ بوڑھے نے ڈائری کا ایک کورا صفحہ پلٹا اور قلم اٹھا کر وہاں بڑے حروف میں 'انتظار' لکھا۔ وہ بولا، "بیٹے! اب میں وہ لکھ رہا ہوں جو میں نے نہیں جیا۔ میں ان معافیوں کا انتظار لکھ رہا ہوں جو میں مانگ نہ سکا، اور ان محبتوں کا حساب لکھ رہا ہوں جو میں دے نہ سکا۔" شام ڈھل رہی تھی، دور افق پر سورج ڈوب رہا تھا۔ بابا جی نے نوجوان کا ہاتھ تھاما اور کہا، "دیکھو اس سورج کو، یہ ہر روز ڈوبتا ہے تاکہ اگلے دن کی کہانی لکھ سکے۔ ہم ڈوبنے سے ڈرتے ہیں، حالانکہ ڈوبنا ہی اگلی صبح کی تمہید ہوتا ہے۔ میری ڈائری کے یہ خالی صفحات دراصل خوف نہیں بلکہ امید ہیں۔"
نوجوان وہاں سے رخصت ہوا، لیکن کچھ ہی دور جا کر اسے خیال آیا کہ اس نے بابا جی کا نام تو پوچھا ہی نہیں۔ وہ تیزی سے واپس مڑا تو دیکھا کہ بابا جی کی لالٹین بجھ چکی ہے اور وہ ساکت بیٹھے ہیں۔ قریب پہنچ کر اس نے دیکھا کہ بابا جی کا سر سینے پر جھکا ہوا تھا؛ وہ خاموشی سے رخصت ہو چکے تھے۔ نوجوان نے لرزتے ہاتھوں سے وہ ڈائری اٹھائی جو زمین پر گری پڑی تھی۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ اس میں لکھے فلسفے پڑھے گا، لیکن جیسے ہی صفحات پلٹے، اس کے ہوش اڑ گئے۔ ڈائری کے تمام صفحات خالی تھے، یہاں تک کہ وہ لفظ 'انتظار' بھی غائب تھا جو اس نے خود لکھتے دیکھا تھا۔
آخری کور پلٹنے پر اسے ایک پرانی تصویر ملی۔ تصویر میں وہی بابا جی اپنی جوانی کے عالم میں ایک پروقار افسر کے لباس میں تھے اور ان کے برابر میں ایک چھوٹا بچہ کھڑا تھا جس کے گلے میں ایک خاص قسم کا تعویذ تھا۔ نوجوان نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے گلے کو چھوا، وہی تعویذ اس کے اپنے گلے میں بھی موجود تھا۔ تصویر کے پیچھے لکھا تھا: "میرا بیٹا مجھے پہچاننے سے پہلے ہی کھو گیا، میں روز اس امید پر یہاں بیٹھتا ہوں کہ شاید وہ ایک مسافر بن کر آئے اور میں اسے اپنی زندگی کی خالی ڈائری دکھا سکوں، کیونکہ باپ کی زندگی تو اولاد کے بغیر ایک خالی صفحہ ہی ہوتی ہے۔"
نوجوان کی چیخ نکل گئی۔ وہ جس بوڑھے کو قصہ گو سمجھ رہا تھا، وہ اس کا اپنا باپ تھا جو برسوں سے اسی برگد کی چھاؤں میں اس کا منتظر تھا۔ اس نے روتے ہوئے قلم اٹھایا اور اسی خالی صفحے پر لکھا: "اعتراف"۔ اس نے سمجھ لیا تھا کہ باپ وہ برگد کی چھاؤں ہے جو خود تپتے ہوئے سورج کا سامنا کرتی ہے تاکہ اس کے نیچے بیٹھنے والے سکون پا سکیں۔ جب وہ اپنے باپ کے جسدِ خاکی کو کندھے پر اٹھا کر رخصت ہوا، تو ہوا میں ایک سرگوشی گونجی: "میری کہانی اب مکمل ہے"۔ برگد کے ایک پتے سے شبنم کا قطرہ مٹی پر گرا، جیسے اس بوڑھے پیڑ نے بھی اس ملن پر ایک آنسو بہایا ہو۔
