آج رات کی کہانی، آج صبح تک چلی ہے. 21 گھنٹے کے طویل دور کے بعد کچھ وقفہ آیا ہے اور امرہکی نائب صدر جلد ہی میڈیا کے سامنے آنے والے ہیں.
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام آباد مذاکرات کے لئے آنے والا ایرانی وفد بھاری بھرکم اراکین پر مشتمل ہے. ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے اسلام آباد میں آنے والے ایرانی وفد کی تعداد 71 بتائی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے کم از کم 70 لکھی ہے جن میں قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی اکبر احمدیان اور مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی شامل ہیں۔ ایٹمی ماہرین۔ توانائی کے ماہرین۔ بین الاقوامی قانون کے ماہرین۔ بحری راستوں کے ماہرین۔ مالیاتی پابندیوں کے ماہرین۔ سامنے امریکہ سے تین آدمی ہیں: وینس، وٹکاف، کشنر۔ ایک سیاست دان جس کا سفارتی تجربہ محدود ہے، ایک رئیل اسٹیٹ ایلچی اور صدر کا داماد۔ امریکی وفد کو تقریباً 30-25 ایکسپرٹس کی معاونت حاصل ہے.
ہمارے ایرانی اوریجن دوست اور جانز ہاپکنز کے پروفیسر ولی نصر نے سی بی سی کے فرنٹ برنر پوڈ کاسٹ پر وہ بات کہی ہے جو اس پوری تصویر کی کنجی ہے: "اتنا بڑا وفد صرف اس وقت بھیجا جاتا ہے جب مذاکرات اپنے آخری مراحل میں ہوں، ابتدائی جائزے کے لیے نہیں۔" نصر کا کہنا ہے کہ ایران وینس کو کمرے میں اس لیے چاہتا ہے کہ پیغام سیدھا ٹرمپ تک پہنچے۔ تہران کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وٹکاف اور کشنر کو "مسائل پر گرفت نہیں تھی" اور انھوں نے شاید وائٹ ہاؤس کو "غلط تصویر" پیش کی۔ نیویارک ٹائمز نے ایرانی سینئر عہدیداروں کا حوالہ دے کر لکھا کہ رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے قالیباف کو اختیار دیا ہے: یا مذاکرات مکمل کرو یا ختم کرو۔ سیاہ یا سفید۔ بیچ کا رنگ نہیں۔
16 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ اسلام آباد میں دن کے 6 بج رہے ہیں ۔ نیویارک ٹائمز کے ٹائلر پیجر نے تصدیق کی کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں۔ تین دور ہو چکے ہیں۔ پروفائل نیوز نے تفصیل دی: پہلا دور بالواسطہ تھا، پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایجنڈا طے ہوا۔ دوسرا دور براہ راست تھا جس میں عراقچی اور وینس آمنے سامنے بیٹھے۔ پھر ورکنگ ڈنر ہوا۔ تیسرا دور تکنیکی تھا جس میں دونوں طرف کے ماہرین نے مخصوص نکات پر تفصیلی بات کی۔ پاکستانی ریاستی ٹی وی نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کمرے میں موجود ہیں۔ رائٹرز نے تصدیق کی۔ سی این این نے تصدیق کی کہ وزیر اعظم شریف بھی کمرے میں ہیں۔
1979 کے بعد پہلی بار ایران اور امریکہ میں اعلی سطح پر براہ راست آمنا سامنا ہوا ہے۔ صرف چھ ہفتے پہلے امریکہ نے ایران کے رہبر اعلیٰ کو مارا تھا۔ آج اسی ایران کے نمائندے اسی امریکہ کے نائب صدر کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔ سفارتکاری عجیب فن ہے۔
مگر میز کے نیچے آگ لگی ہوئی ہے۔
فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز پر تعطل ہے۔ ایران مکمل اختیار چاہتا ہے۔ امریکہ نے مشترکہ کنٹرول تجویز کیا۔ ایران نے مسترد کر دیا۔ تسنیم نے "سنگین اختلافات" کی تصدیق کی۔ تہران کے مذاکراتی ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ امریکی مطالبات "ناقابل قبول" ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے وہ بات رپورٹ کی جو سب سے عجیب ہے: ایران اپنی بچھائی ہوئی بارودی سرنگیں خود نہیں ڈھونڈ سکتا۔ جلدبازی میں بچھائیں، ریکارڈ نہیں رکھا، بعض بہہ کر نامعلوم مقامات پر پہنچ گئیں۔ عراقچی نے جنگ بندی میں "تکنیکی حدود" کا جو ذکر کیا تھا وہ اسی کا اعتراف تھا۔
اسی وقت آبنائے ہرمز میں فوجی تناؤ بھی ہوا۔ ایکسیوز نے رپورٹ کیا کہ امریکی تباہ کن جہازوں نے آبنائے بلا روک ٹوک عبور کی۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے بالکل الٹ کہانی سنائی: ایرانی افواج نے پاکستانی ثالث کو خبردار کیا کہ اگر جہاز نہیں رکا تو تیس منٹ میں نشانہ بنایا جائے گا۔ جہاز مڑ گیا۔ فارچون میگزین نے ایک علاقائی انٹیلی جنس عہدیدار کا حوالہ دیا جس نے فارس کے ورژن کی تصدیق کی اور بتایا کہ ایک ڈرون بھی بھیجا گیا۔ سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور مائیکل مرفی نے عبور کی اور مائن سویپنگ شروع ہو گئی۔ ایک کہانی سچ ہے، ایک جھوٹ۔ مذاکرات کی میز اور سمندر کی لہریں بیک وقت چل رہی تھیں۔
ٹرمپ نے کئی نئے کٹے کھول دیے۔ جب اس کے لوگ ایرانیوں کے سامنے بیٹھے تھے، وہ ٹروتھ سوشل پر لکھ رہا تھا کہ ایران کی بحریہ ختم، فضائیہ ختم، ریڈار مردہ۔ پھر طنزاً لکھا "الحمداللہ۔" میداس ٹچ نے سبسٹیک پر لکھا: "سوچیں کہ یہ الفاظ اس کمرے میں کیسے گرے جہاں اس کے اپنے لوگ ایرانیوں کے سامنے بیٹھے ہیں۔" پھر ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا: "مجھے فرق نہیں پڑتا معاہدہ ہو یا نہ ہو۔ ہم جیتتے ہیں بہرحال۔" اور میامی چلا گیا۔
باہر سے اسرائیل آگ لگا رہا ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں لبنان میں 200 سے زیادہ فضائی حملے۔ ہاریٹز کے مطابق نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ حزب اللہ کا ڈیڑھ لاکھ میزائلوں والا ذخیرہ چھ گھنٹوں میں تباہ کر دیا گیا۔ کان نیوز کے مطابق اسرائیل نے پہلے ہی اندازہ لگا لیا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات ناکام ہوں گے اور اگلا حملہ "شدید اور جامع" ہو گا۔ ولی نصر نے نیویارک ٹائمز کو بتایا: "اگر ٹرمپ نیتن یاہو کو لبنان میں روک نہیں سکتا تو بہترین صورت میں اس کا مطلب ہے کہ امریکہ اسے کنٹرول کرنے سے قاصر ہے۔ بدترین صورت میں اس کا مطلب ہے کہ ان کی آستین میں کچھ اور ہے۔"
منجمد اثاثوں پر ایک اور معمہ سامنے آیا. رائٹرز نے سینئر ایرانی ذریعے کا حوالہ دیا: امریکہ نے منجمد ایرانی اثاثوں کا ایک حصہ جاری کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے "جھوٹے دعوے" کہا۔ ایران کہتا ہے آ گئے۔ امریکہ کہتا ہے نہیں آئے۔ دونوں ایک ساتھ سچ نہیں ہو سکتے۔
پی بی ایس نے تصدیق کی کہ چینی، مصری، سعودی اور قطری حکام بھی اسلام آباد میں موجود ہیں۔ بالواسطہ۔ سی این این نے بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق چین ایران کو نئے فضائی دفاعی نظام بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے دھمکی دی: "چین نے ایسا کیا تو بڑے مسائل ہوں گے۔"
تسنیم نے رپورٹ کیا کہ بات وسیع اصولوں سے آگے بڑھ کر تکنیکی تفصیلات تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اچھی علامت ہے۔ مگر تسنیم نے یہ بھی لکھا: "امریکی مطالبات کو دیکھتے ہوئے یہ شاید ایرانی ٹیم کا آخری موقع ہے۔" آئی آر آئی بی نے کہا: "ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستان کی آخری کوشش ہے۔"
ولی نصر نے بنیادی بات کہی ہے: 71 آدمیوں کا وفد ابتدائی بات چیت کے لیے نہیں آتا۔ اتنا بڑا وفد یا تو معاہدہ لے کر جاتا ہے یا میز اٹھا کر جاتا ہے۔ ایران نے مرکزی بینک کا گورنر بھیجا ہے یعنی مالیاتی شقوں پر فوری دستخط کی تیاری ہے۔ قومی سلامتی کونسل کا سیکرٹری بھیجا ہے یعنی سلامتی ضمانتوں پر بات حتمی مرحلے میں ہے۔ ایٹمی ماہرین بھیجے ہیں یعنی یورینیم کی شقوں کا فنی جائزہ وہیں ہو گا۔ یہ وفد نہیں، حکومت ہے جو سفر پر آئی ہے۔
مزاکرات کے تکنیکی دور کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
جب تسنیم نے رپورٹ کیا کہ مذاکرات "وسیع اصولوں سے آگے بڑھ کر تکنیکی تفصیلات تک پہنچ گئے ہیں" تو یہ محض الفاظ کی تبدیلی نہیں ہے۔ سفارتکاری میں وسیع اصول اور تکنیکی تفصیلات کا فرق وہی ہے جو نقشے اور زمین کا ہوتا ہے۔ نقشے پر سب آسان ہے۔ زمین پر سب مشکل ہے۔
ایران کے دس نکات اور امریکہ کے پندرہ نکات وسیع اصول ہیں۔ تکنیکی دور میں ہر نکتے کے اندر وہ سوال اٹھتے ہیں جن کا جواب صرف ماہرین دے سکتے ہیں۔ اسی لیے ایران نے 71 آدمیوں کا وفد بھیجا اور اسی لیے وائٹ ہاؤس نے کہا کہ "متعلقہ موضوعات پر امریکی ماہرین کی مکمل ٹیم" اسلام آباد میں ہے۔
دی نیشنل اور ایپوک ٹائمز نے جو ایجنڈا بتایا ہے اس سے تکنیکی دور میں کم از کم پانچ شعبوں پر بات ہو رہی ہو گی:
پہلا: ایٹمی پروگرام۔ امریکی 15 نکاتی تجویز میں ایران سے مطالبہ ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری ہو اور افزودہ یورینیم بین الاقوامی نگرانی میں حوالے کیا جائے۔ تکنیکی سوالات یہ ہیں: کتنا یورینیم ہے؟ کس سطح تک افزودہ ہے؟ کہاں ذخیرہ ہے؟ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ ایران کا تمام اعلیٰ افزودہ یورینیم ملک میں موجود ہے، ممکنہ طور پر ان افزودگی مراکز میں دفن ہے جن پر جون 2025 میں بمباری ہوئی تھی۔ ایران نے اس کے بعد سے افزودگی نہیں کی مگر کہتا ہے کہ پرامن مقاصد کے لیے یہ اس کا حق ہے۔ تکنیکی دور میں آئی اے ای اے کے معائنوں کی شکل، اضافی پروٹوکول پر عمل درآمد کا طریقہ کار اور اچانک معائنوں کی اجازت جیسے نکات زیر بحث ہوں گے۔ یہ وہ نکات ہیں جن پر 2015 کے ایٹمی معاہدے میں مہینے لگے تھے۔
دوسرا: آبنائے ہرمز کی عملی بحالی۔ فنانشل ٹائمز نے بتایا کہ تعطل آبنائے کے "کنٹرول" پر ہے مگر تکنیکی مسئلہ اس سے بھی پیچیدہ ہے۔ نیویارک ٹائمز نے بتایا کہ ایران نے 2000 سے 6000 کے درمیان بارودی سرنگیں بچھائی ہیں، بہت سی کا مقام ریکارڈ نہیں ہے، بعض بہہ گئی ہیں۔ آبنائے 21 بحری میل چوڑی ہے مگر قابل استعمال شپنگ لین صرف تین تین میل چوڑی ہے ہر سمت میں۔ تکنیکی دور میں سوالات یہ ہوں گے: سرنگیں کون صاف کرے گا؟ امریکہ، ایران یا مشترکہ ٹیم؟ کتنا وقت لگے گا؟ اس دوران ٹرانزٹ کا انتظام کیا ہو گا؟ ایران کا مطالبہ ہے کہ آبنائے اس کی خودمختاری میں ہے اور گزرنے والے جہاز اس کی اجازت سے گزریں۔ امریکہ کا موقف ہے کہ یہ بین الاقوامی آبی راستہ ہے۔ بین الاقوامی بحری قانون، اقوام متحدہ کے بحری کنونشن 1982 اور "بے ضرر گزرگاہ" کی قانونی تشریح، یہ وہ نکات ہیں جن پر بحری قانون کے ماہرین چاہیے۔ ایران نے بھیجے ہیں۔
تیسرا: منجمد اثاثے۔ ایران کا مطالبہ 6 ارب ڈالر کی بلاشرط واپسی ہے۔ تکنیکی سوال یہ ہے: کون سے اثاثے؟ کن بینکوں میں ہیں؟ کس قانونی فریم ورک کے تحت جاری ہوں گے؟ امریکی پابندیوں کے تحت اثاثوں کی واپسی کے لیے ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کی منظوری چاہیے اور OFAC لائسنس جاری کرنا ہوتا ہے۔ ایران نے مرکزی بینک کا گورنر ہمتی بھیجا ہے تاکہ مالیاتی شقوں کی عملی تفصیلات فوری طور پر طے ہو سکیں۔ یہ وہ آدمی ہے جو بتا سکتا ہے کہ رقم کس اکاؤنٹ میں جائے گی، کس شرح تبادلے پر حساب ہو گا اور وصولی کا وقت کیا ہو گا۔
چوتھا: جنگ بندی کا نفاذی طریقہ کار۔ دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہوتی ہے۔ تکنیکی سوال یہ ہے: اگر مستقل جنگ بندی ہو تو نگرانی کون کرے گا؟ خلاف ورزی کی صورت میں شکایت کا طریقہ کیا ہو گا؟ مصر اور پاکستان ضمانت دار ہیں مگر ضمانت کی قانونی شکل کیا ہو گی؟ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد ہو گی یا نہیں؟ ایران نے اپنے دس نکاتی منصوبے میں سلامتی کونسل کی قرارداد کا مطالبہ کیا ہے تاکہ 2018 کی طرح کوئی امریکی صدر یک طرفہ طور پر معاہدہ نہ توڑ سکے۔ امریکہ کے لیے یہ مشکل ترین نکتہ ہے کیونکہ سینیٹ کی توثیق اور سلامتی کونسل کی قرارداد دونوں سیاسی طور پر ٹرمپ کے لیے مسئلہ ہیں۔
پانچواں: لبنان اور علاقائی سلامتی کی ضمانتیں۔ ایران کی شرط ہے کہ حزب اللہ سمیت تمام علاقائی اتحادیوں کو جنگ بندی میں شامل کیا جائے۔ امریکہ اور اسرائیل کہتے ہیں کہ لبنان الگ معاملہ ہے۔ اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کی واشنگٹن میں اگلے ہفتے ملاقات متوقع ہے۔ تکنیکی سوال یہ ہے: کیا ایران ایسا معاہدہ قبول کرے گا جس میں لبنان شامل نہ ہو؟ ولی نصر کا جواب واضح ہے: نہیں۔ اگر ٹرمپ نیتن یاہو کو نہ روک سکے تو ایران کے لیے اس معاہدے کی کوئی قیمت نہیں۔
یہ پانچ شعبے ہیں جن پر تکنیکی ماہرین رات پانچ بجے بات کر رہے ہیں۔ ہر شعبے کی اپنی زبان ہے، اپنی اصطلاحات ہیں، اپنے قانونی حوالے ہیں۔ ایران نے ہر شعبے کا ماہر بھیجا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکی میز پر ان شعبوں میں کون بات کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ "ماہرین کی مکمل ٹیم" ہے مگر ولی نصر نے جو بنیادی سوال اٹھایا ہے وہ میز پر بیٹھنے والوں کا ہے، پیچھے بیٹھنے والوں کا نہیں۔ فیصلے وہ کرتے ہیں جو آگے بیٹھے ہوں۔ اور آگے وینس بیٹھا ہے جس کا تعارف سینیٹر ہے، سفارت کار نہیں۔
یا تو معاہدہ ہوگا، یا مزاکرات والی میز ٹوٹے گی. کروڑوں لوگوں کی آس امن کے بہت مہین دھاگے سے بندھی ہوئی ہے. اللہ خیر کرے!
کل کہا تھا کہ پاکستان نے دونوں فریقین سے ایک دن اور مانگا ہے. اگر آج کا دن مزید شامل ہو جاتا ہے تو امن کے امکانات بڑھ جائیں گے. قرائن ہیں کہ مذاکرات آج اتوار کو بھی جاری رہیں گے. اللہ کرے ایسا ہی ہو.
