"آج میں اسے تنہا کیوں چھوڑ دوں؟... وہ میرا جیون ساتھی ہے۔ جس نے مجھے پہچان دی، اپنی جوانی مجھ پر نچھاور کی، میرا ضمیر گوارا ہی نہیں کرتا کہ اسے یوں تنہا چھوڑ دوں۔" تہمینہ نے دو ٹوک الفاظ میں چچی کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔ چچی نے مزید کچھ کہنا چاہا تو تہمینہ بولی، "آج وہ شخص اگر حالات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہا ہے تو میرا تو حق نہیں بنتا کہ میں اسے یوں تنہا چھوڑ دوں۔ میں اپنے اس جیون ساتھی کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی۔ جب تک سانس ہے، میں اپنی ان سانسوں کو اپنے جیون ساتھی کے نام ہی رکھوں گی۔"
"عمران اپنے ہوش میں نہیں رہتا۔۔۔۔ اسے شدید غصے کے دورے پڑنے لگے ہیں۔" چچی نے بگڑتے حالات کا نقشہ کھینچا تو تہمینہ نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، "یہ میری قسمت ہے۔ میں اپنے ماتھے کے لکھے کو بدل نہیں سکتی۔"
"اس سے کنارہ تو کرسکتی ہے۔ وہ تمھیں کہیں نقصان نہ پہنچا دے؟" تہمینہ افسردہ ہو کر بولی، "جو اللہ کی رضا، وہ میری رضا۔ میرا ساتھ دینے سے عمران ٹھیک ہو جائے گا، ضرور ٹھیک ہو جائے گا۔ انشاء اللہ۔"
تہمینہ نے پرعزم لہجے میں جواب دیا اور اپنے خاموش آنسو اپنے دوبٹے کے پلو سے پونچھتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔ گلی میں جھانکتے ہوئے دور تک نگاہ دوڑائی۔ اسے عمران کی واپسی کا شدت سے انتظار تھا۔ چچی نے تہمینہ کی بے تابی دیکھی تو وہ خاموشی سے اپنا ٹوپی والا سفید برقعہ سنبھال کر چل دی۔
اگلے ہی لمحے عمران گلی میں لڑکھڑاتا ہوا آتا نظر آیا تو تہمینہ دروازہ ادھ کھلا چھوڑ کر کچن میں چلی آئی۔ اس نے نیلے پھول والے چینی کے کپ کو نکال کر سامنے رکھ دیا۔ تہمینہ جانتی تھی کہ عمران چائے کا بہت زیادہ شوقین ہے۔ عمران کی نفسیات کا اسے معلوم تھا کہ وہ نیلے پھول والے چینی کے کپ میں چائے پینا پسند کرتا ہے۔ وہ اس کے علاوہ کسی اور کپ میں چائے اسے ذرا بھی لطف نہیں دیتی۔ اگلے ہی لمحے دروازے کی کنڈی کی جھنکار سنائی دی تو اس نے فوراً کپ میں چائے ڈال دی۔ گھر کا آنگن مکمل سنسان پڑا تھا۔ آنگن میں زرد پتے ہوا کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے پھر رہے تھے۔
تہمینہ غم سے نڈھال تھی۔ شوہر کی دن رات کی پریشانی اس کا کسی کام میں جی لگنے نہیں دیتی تھی۔ عمران خاموشی سے صحن میں داخل ہوا۔ اس کا گریبان کھلا ہوا تھا۔ بال الجھے ہوئے تھے۔ نگاہیں ایسے ادھر ادھر گھما رہا تھا جیسے کچھ ڈھونڈ رہا ہو۔ تہمینہ نیلے پھول والے چینی کے کپ میں چائے لے کر سامنے آئی تو عمران نے اجنبی نگاہوں سے اسے دیکھا، پھر کپ پر نگاہ ڈالی اور تہمینہ سے کپ لے کر خاموشی سے چاۓ پینے لگ گیا۔ عمران کبھی چاۓ کا گھونٹ بھرتا تو کبھی نیلے پھول کو غور سے دیکھتا۔ اسے ایسا محسوس رہا تھا جیسے اسے کسی نے سکون آور دوا دے دی ہو۔ اس نے چائے ختم کی تو تہمینہ نے جھٹ سے کپ لیا۔ وہ اسی طرح چارپائی پر دراز ہو گیا۔
اس نے اپنے شوہر کے چہرے پر سکون دیکھا تو اللہ کا شکر ادا کیا۔ آج کافی دنوں بعد تہمینہ کو عمران کی طبیعت میں بہتری آتی دکھائی دی۔
تہمینہ کو ایسا لگ رہا تھا جیسے بہار کی پہلی کلی پھوٹ چکی ہو۔ عمران کے چہرے پر اطمینان سا جھلک رہا تھا۔ بہار کی پہلی کرن کی سرخی اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی تھی۔ امید کی کرن کا اجلا پن اور رمق آج تہمینہ کے آنگن میں اتری تھی۔
اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے پیاسے صحرا کی ریت پر آج شبنم کی پہلی بوند ٹپکی ہے۔ ڈھلتی شام میں پڑوسیوں کی دیوار کے ساتھ شیشم کے درخت پر چڑیاں آج کچھ زیادہ ہی چہک رہی تھیں۔
ادھر چڑیوں کے چہچہاہٹ عمران کو بھلی معلوم رہی تھی۔ وہ اس چہچہاہٹ کو بڑے غور سے سننے رہا تھا۔ ادھر کچن کی کھڑکی سے تہمینہ بھی عمران کو دیکھے جا رہی تھی۔ عمران نے چڑیوں کو اور چڑیوں کی چہچہاہٹ کو اپنے کانوں میں بھر لیا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ سی اتری۔ اس نے مڑ کر تہمینہ کی طرف دیکھا۔ تہمینہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھے جا رہی تھی۔ وہ تہمینہ کو دیکھ کر مسکرایا تو تہمینہ جھٹ سے اس کے پاس آ بیٹھی۔ اسنے غور سے عمران کے چہرے کو دیکھا تو عمران مسکرا کر بولا، "میں شاید کہیں کھو گیا تھا۔ میں پہلے والا وہ عمران نہیں رہا تھا۔ لیکن میں پہلے والا عمران بننا چاہتا ہوں۔ تم اسی طرح میرے پاس رہو تو میں پہلے والا ہنستا مسکراتا عمران بن جاؤں گا۔" تہمینہ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے یقین دلاتے ہوئے کہا، "میں تو تمھارے پاس ہوں۔ بس تم جلدی سے پہلے والے ہنستے مسکراتے عمران بن جاؤ۔" اس نے چڑیوں کی چہچہاہٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "ان چڑیوں کی چہچہاہٹ کتنی اچھی لگ رہی ہے۔ ہے نا!"
عمران نے اپنے احساسات کی تصدیق چاہتے ہوئے کہا تو تہمینہ نے اس کے چہرے میں نظریں گاڑھتے ہوئے کہا، "ہاں، واقعی آج میری طرح یہ چڑیاں بھی بہت خوش ہیں۔"
