پھر میں نے دیکھا کہ چوک میں چاروں طرف ایک منظر تھا۔ وہ لوگ جو اپنی بائیک بہت آگے گھُسیڑ کر لے گئے تھے، انہوں نے اپنی بائیکس کونیچے اُتر کر واپس دھکیلا اور اپنے سے پیچھے والے لوگوں کو پہلے آگے آنے دیا۔ یعنی انہوں نے اپنی ذاتی آزادی، خواہش، تمنّا اور اُمنگوں کو قربان کردیا اور ایک معاشرتی حِس جو بذاتِ خود جبلی اور بایں ہمہ مکمل طور پر فطری تھی، کو استعمال میں لاتے ہوئے دوسروں کو راستہ دینے لگے۔ چاروں طرف ایک جیسا منظر تھا۔ ہرکوئی تھوڑی بہت قربانی ضرور دے رہاتھا۔ دس منٹ یا زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ کے اندر اندر تمام گاڑیاں پھر رواں دواں ہوگئیں اور ٹریفک جام ختم ہوگیا۔ ہم نے بھی دوبارہ اپنا سفر شروع کردیا۔ لیکن میرا ذہن مسلسل اسی بات میں اٹکا ہوا تھا کہ اگر ہم فرد کو اُس کی ’’فریڈم آف سپیچ‘‘ سمیت ہرکسی کی شخصی آزادی دیتے ہیں تاکہ وہ عہدِ جدید کی فکری نعمتوں سے مالامال ہوکر اپنے انسان ہونے کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرسکے تو کیا ہوگا کہ ٹریفک جام ہوجائے گی۔ ہر کہیں، ہر صورت میں ایسا ہی ہوگا۔ فرد کو اگر اس کی ’’فطری‘‘ آزادی کلیۃً دے دی گئی تو معاشرہ کسی صورت قائم نہیں رہ سکتا۔ میری فریڈم آف سپیچ کسی اور کے لیے ’’ہیٹ سپیچ‘‘ ہوسکتی ہے۔ میری گاڑی کے بمپر کو جہاں جگہ مل رہی ہے میں وہاں گاڑی ڈالنے کے لیے حق بجانب ہوں۔ اور اگر تم کہو کہ نہیں، میں کسی قاعدے قانون کا پابند رہونگا تو پھر بصد معذرت، سوسائٹی کی برتری ثابت ہوجائے گی اور اگر سوسائٹی کی برتری ایک بھی بار ثابت ہوگئی تو یاد رکھنا! کہ مذہب ہو یا کمیونزم، ہروہ ادارہ جو انسانی اجتماع کے لیے کوئی طریقۂ کار وضع کرتاہے اپنی اخلاقیات کا مقدمہ جیت جائے گا۔ سو اگر اپنی انفرادی، فطری آزادی کا نعرہ مارناہے تو یا تو ’’لعل شاہ‘‘ بن کر مری کی پہاڑیوں میں جابیٹھنا چاہیے اور یا پھر ٹوٹتےہوئے، تنہا ہوتے ہوئے ہوئے معاشرے کے تابوتوں میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے کمربستہ ہوجانا چاہیے تاکہ قوم سرے سے فنا ہوجائے۔ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔
نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ۔۔۔ ادریس آزاد
افطاری کا وقت قریب ہوتو مارکیٹوں میں رش بڑھ جاتاہے۔ مارکیٹوں میں رش بڑھتاہے تو سڑکوں پر بار بار ٹریفک بلاک ہونے لگتی ہے۔ ارشد صاحب اور میں اکیڈمی آف لیٹرز جارہے تھے کہ ایک جگہ ٹریفک جَمتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ہماری طرح اورلوگ بھی یقیناً لیٹ ہورہے تھے اس لیے ہرکوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں تھا۔ انسان اپنی انفرادی، شخصی آزادی کا استعمال کررہے تھے، کیونکہ وہاں انہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ کوئی قانون کا پاسدار موجود نہ تھا۔ کوئی معاشرتی دباؤ نہیں تھا۔ کوئی آباؤاجداد کی قدروں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کوئی مذہبی حکم یا عقیدہ اس افراتفری کو تخلیق کرنے میں مانع نہیں تھا۔ انسان مکمل طور پر اپنی انفرادی حیثیت کے ساتھ اپنی خالصتاً ذاتی، شخصی آزادی کا کھلم کھلا استعمال کررہے تھے۔ ہر فرد الگ تھا اور صرف اپنے لیے کوشش کررہا تھا۔ اگرچہ کوشش تمام کے تمام افراد کررہے تھے لیکن ہرکوئی اپنی ذاتی اور خالص اپنی ’’فریڈم‘‘ کا استعمال کررہاتھا۔ یہاں تک کہ ٹریفک مکمل طور پر جام ہوگئی۔
Tags
