27 جون کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 187ویں برسی تھی اس دن کی مناسبت سے سوشل میڈیا پرسرائیکی اورپنجابی قوم پرستوں کے مابین باہمی الزام تراشیوں اورطعنوں پر مبنی پوسٹوں کا ٹی 20 چلتارہا۔چوکے چھکے لگائے گئےہیں۔سرائیکی قوم پرستوں نے 27 جون کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا سندیسہ دیا تو پنجابی قوم پرستوں نےاسے یوم نجات۔۔ وہ دن جب پنجاب وایسوں کو سہ حاکمان لہور کی چیرہ دستیوں سے رنجیت سنگھ نے نجات دلائی تھی۔
فریقین کی پوسٹیں پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہےکہ دونوں اپنے موقف کو مبنی برسچ ثابت کرنے کے لئےہم عصر تاریخ کی بجائے جذبات اورمفروضوں کا سہارا لیتے ہیں۔دونوں فریق انیسویں صدی کے حکمرانوں ،ان کی حکومتوں،ان کی مزاحمت اورحملوں کو اکیسویں صدی کے تناظر میں پیش کرتے اورنتایج اخذ کرتے ہیں۔
رنجیت سنگھ بلاشبہ پنجابی تھا لیکن اس کے دورمیں پنجابی ہونے کا تصورقطعاً وہ نہیں تھا جو آج سمجھا جاتا ہے۔قومی شناخت کولونیل عہد میں پیدا ہوئی۔موجودہ صوبوں کی شکل و صورت بھی ابتدائی طورپرایسٹ انڈیا کمپنی کی دین تھی جس میں بعد ازاں برطانوی سرکارنے اپنی انتطامی ضرورتوں کے تحت ردوبدل کیا تھا۔رنجیت سنگھ نےکبھی خود کو پنجابی حکمران نہیں کہا تھا اورنہ ہی اس کے ذہن میں پنجابیت کا وہ تصور موجود تھا جس کے پنجابی قوم پرست آج کل گرویدہ ہیں۔ وہ تو اپنی حکومت کو لاہوردرباریا خالصہ سرکار کہتا تھا اس نے کبھی پنجابی دربارکانام اپنی حکومت کے لئے استعمال نہیں کیا تھا۔ رنجیت سنگھ نے اپنی سلطنت کو وسعت دیتے ہوئے مذہب کو قطعا پیش نظر نہیں رکھاتھا۔وہ سکھ سرداروں کے خلاف بھی اسی طرح فوج کشی کرتا تھا جس طرح کہ مسلمانوں حکمرانوں کے خلاف۔وہ مزاحمت کرنے والے ہرحکمران کے خلاف لڑتا خواہ وہ سکھ ہوتا یا مسلمان۔ اس نے تو اپنی ساس سدا کور کو بھی نہیں بخشا تھا۔ بہت سی شخصی خوبیوں کا حامل رنجیت سنگھ فیوڈل حکمران تھا اس کے اندازحکمرانی اوراس کے اخلاقی میعاروں کو آج کے عہد کے پیمانوں کے حوالے سے جانچنا اورحکم لگانامعروضیت سے زیادہ موضوعی طرزعمل ہے۔
رنجیت سنگھ کی سرکارکے ریونیو کا انحصار دیگر فیوڈل ریاستوں کی طرح
کسانوں کے زیادہ سےزیادہ استحصال اورہمسایہ سرداروں اورراجواڑوں کو لوٹنےپرتھا۔ وہ کوئی پنجابی فلاحی ریاست قائم کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ اس عہد میں ایسا ہونا ناممکن تھا۔ لوٹ ہی اس عہد کا نشان تھا اور رنجیت سنگھ کا بھی یہی نشان تھا۔
اب تھوڑا ذکرنواب مظفر خان کو ہوجائے۔ نواب مظفرخان بھی ایک صوبے دار تھا جس کامقصد حیات اپنے اوراپنے اولاد کے اقتدار کے سوا کچھ نہ تھا۔ کیا اسے کسی بھی حوالے سے سرائیکی قراردیا جاسکتا ہے؟ کیا وہ سرائیکی بولتا تھا؟ کیا وہ سرائیکی سماجی اورثقافتی خصائل کا حامل تھا؟ کیا اس نے کبھی خود کو یا اپنی حکومت کو سرائیکیوں کی حکومت قرار دیا تھا بالکل بھی نہیں۔ کیونکہ یہ تصورات اس کے عہد میں موجود ہی نہیں تھے۔ وہ بھی روایتی فیوڈل صوبے دار تھا اور رنجیت سنگھ اور نواب مظفر خان کے مابین لڑائی دونوں قوموں کے مابین نہیں دو فیوڈل حکمرانوں کے مابین تھی۔ کسی ایک کو حق پر قرار دے کر دوسرے کی مذمت کرنا سراسر جذباتیت ہے۔تاریخ سے اس کو کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ قوم پرستی صنعتی دور کی پیداوار ہے فیوڈل عہد میں ایسا کوئی سیاسی مظہر نہیں پایا جاتا تھا۔
آج کے عہد میں سرائیکی اور پنجابی قوم پرستی جڑوں کا سراغ معاشی عدم ہمواری، سماجی تفریق اور سیاسی امیتازی سلوک میں تلاش کرنا ہوں گی نہ کہ ماضی کے فیوڈل حکمرانوں کی شخصی اقتدار کی خواہشات کو قوم پرستی کا سمبل بنایا جائے
