اسلام: پانچ بڑے انحراف....محمد حسن الیاس

اللہ کے نزدیک دین ابتدا ہی سے اسلام ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے پروردگار کے آگے سرِ تسلیم خم کرے، اُس کی نازل کردہ ہدایت کو اپنے لیے آخری حجت مانے اور اپنے فکر و عمل کو آخرت کی جواب دہی کے شعور سے وابستہ رکھے۔ یہی حقیقت فطرتِ انسانی میں ودیعت کی گئی، یہی انبیا علیہم السلام کی دعوت کا محور رہی، اسی کی تفصیل آسمانی کتابوں میں بیان ہوئی اور اسی کی یاددہانی و تجدید کے لیے پیغمبر ہر دور میں مبعوث ہوتے رہے۔

مگر انسانی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ وہ خدا کی ہدایت کو قبول تو کر لیتا ہے، لیکن پھر اسے اپنی اصل حیثیت پر باقی نہیں رہنے دیتا۔ وہ رفتہ رفتہ اس کے گرد ایسے انسانی مراجع قائم کر لیتا ہے، جو ابتدا میں شرح و تعبیر کے عنوان سے سامنے آتے ہیں، پھر نمایندگی کا دعویٰ کرتے ہیں اور آخرکار دینی حجت بن کر اسی ہدایت کے قائم مقام ہو جاتے ہیں۔ کبھی روایت یہ مقام حاصل کر لیتی ہے، کبھی قومیت، کبھی مذہبی منصب، کبھی روحانی دعویٰ اور کبھی سیاسی اقتدار۔ انبیا کی بعثت اسی بنیادی انحراف کی اصلاح کے لیے ہوتی رہی ہے کہ انسانوں کو ان خود ساختہ مراجع سے نکال کر دوبارہ اس حقیقت کے سامنے کھڑا کیا جائے کہ دین میں فیصلہ کن حیثیت صرف خدا کی نازل کردہ ہدایت کو حاصل ہے، انسانوں کے بنائے ہوئے مراکزِ استناد کو نہیں۔

یہ انحراف دینی تاریخ میں کسی ایک قوم یا ایک عہد تک محدود نہیں رہا؛ ہر بڑی مذہبی روایت میں کسی نہ کسی صورت ظاہر ہوا ہے۔ یہود کے ہاں شریعت وقت کے ساتھ ساتھ احبار، قومی تفاخر اور مذہبی طبقوں کے اختیار میں چلی گئی۔ نصاریٰ کے ہاں مسیح علیہ السلام کی دعوت پر رہبانیت، کلیسائی اقتدار، الوہیتِ مسیح اور مذہبی پیشوائیت کے پردے پڑ گئے۔ مشرکینِ عرب نے خدا کے تقرب کے لیے آبا و اجداد، بتوں، شفاعت، واسطوں اور مقدس نسبتوں کو دین کا ذریعہ بنا لیا۔ صورتیں جدا تھیں، مگر اصل غلطی ایک ہی تھی: خدا کو مانا گیا، لیکن فیصلہ کن مقام پر انسانوں کے بنائے ہوئے دینی اختیار قائم ہوتے چلے گئے۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اسی دینی تاریخ کے آخری مرحلے میں ہوئی۔ آپ کے ذریعے سےدین اپنی حتمی اور آخری صورت میں انسانیت کے سپرد کر دیا گیا۔ قرآن مجید ہمیشہ کے لیے دنیا کی حفاظت میں آ گیا، سنت امت کے عملی تواتر میں جاری ہو گئی اور نبوت کا دروازہ قیامت تک بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد اصولاً یہ بات ہمیشہ کے لیے طے ہو جانی چاہیے تھی کہ دین میں اب کسی شخص، خاندان، روحانی منصب، سیاسی اقتدار، فقہی مکتب یا مذہبی طبقے کو اپنی ذات میں حجت کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اب ہر دعویٰ، ہر تعبیر، ہر نسبت اور ہر دینی اختیار کو اسی ہدایت کی میزان پر پرکھا جائے گا، جو قرآن و سنت کی صورت میں امت کے پاس موجود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ختمِ نبوت کا عملی نتیجہ صرف یہ نہیں کہ آپ کے بعد کوئی شخص نبی کے نام سے نہیں آئے گا؛ بلکہ اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ خدا کی طرف سے دینی حجیت، خصوصی علم، منصبی اطاعت، عصمت، ماموریت اور پیغمبرانہ مشن کا باب بند ہو چکا ہے۔ اب نہ کوئی نئی وحی ہے، نہ معصوم رہنما، نہ باطنی حجت، نہ مامور من اللہ، نہ کوئی نیا منصبِ رسالت اور نہ ایسا روحانی، سیاسی، فقہی یا مذہبی مقام جس کی اطاعت بہ ذاتِ خود دین قرار پائے۔ آپ کے بعد جو کچھ ہے، وہ انسانی فہم، تعبیر، اجتہاد اور تدبیر ہے اور اسے ہر حال میں قرآن و سنت کے تابع رہنا ہو گا۔

اسی پس منظر میں امت کی علمی تاریخ کو بھی پرکھنا چاہیے۔ اسے صرف خدمات اور علمی سرمایے کے عنوان سے نہیں پڑھا جا سکتا؛ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین کا آخری مرجع کہاں مانا گیا۔ بلاشبہ اس امت نے قرآن کی حفاظت کی، سنت کو نسل در نسل منتقل کیا، اور تفسیر، حدیث، فقہ، زبان، اصول، تزکیہ، دعوت اور اصلاح کے میدانوں میں عظیم سرمایہ علم پیدا کیا؛ لیکن اسی تاریخ میں بعض ایسی تعبیرات بھی ابھریں جنھوں نے دینی استناد کو قرآن و سنت کے بجاے نئے انسانی مراکز سے وابستہ کر دیا۔ یہ اختلافات محض فروعی یا جزوی نہیں تھے، بلکہ اصل سوال سے متعلق تھے: ختمِ نبوت کے بعد دین میں آخری حجت کون ہے؟

فکرِ فراہی کے اصولی تناظر میں امت کی علمی تاریخ کے یہ پانچ بڑے تعبیری انحرافات اسی بنیادی سوال کے مختلف جوابات سے پیدا ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین میں قطعی حجیت کا مقام کس کو حاصل ہے۔ تشیع نے اس حجیت کو منصبِ امامت سے وابستہ کیا، تصوف نے اسے ولایت، کشف اور الہام کے دائرے میں تلاش کیا، دین کی سیاسی تعبیر نے اسے غلبۂ اسلام کے پیغمبرانہ مشن سے متعلق کر دیا، تقلیدِ محض نے فقہی مکتب اور اکابر کی روایت کو عملی طور پر فیصلہ کن مرجع بنا دیا اور تکفیری رویوں نے ایمان و کفر کے تعین میں مذہبی طبقات کے فیصلوں کو خدائی اختیار کی صورت دے دی۔

 ان سب کی ظاہری صورتیں مختلف ہیں، مگر اصل لغزش ایک ہی ہے: ختمِ نبوت کے بعد،کسی نہ کسی انسانی مرجع کو دین کے فہم، اطلاق یا فیصلے میں ایسی حیثیت دے دی گئی جو قرآن و سنت کی حتمی اور فیصلہ کن حجیت کے مقابل ایک مستقل دینی اختیار بن کر کھڑی ہو گئی۔
ان پانچ انحرافات کی تفصیل یہ ہے:

1-تشیع اور امامت
تشیع میں امامت کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین کے صحیح فہم، حفاظت، قیادت اور باطنی توضیح کے لیے ایک ایسا منصبی تسلسل ضروری تھا، جسے خدا کی طرف سے امت کا دینی مرجع بنایا گیا ہو۔ اس تصور میں قرآن و سنت اصلاً دین کا ماخذ نہیں رہتے، بلکہ اپنی قطعی تعبیر، حقیقی مراد اور محفوظ تطبیق کے لیے ایک منصوص، معصوم اور مفترض الطاعت امام کے محتاج قرار پاتے ہیں۔ یوں امامت محض علمی فضیلت، اخلاقی بزرگی، خاندانی شرف یا سیاسی قیادت نہیں رہتی، بلکہ ایک مستقل بالذات دینی منصب بن جاتی ہے۔ امام کو دین کا باطنی مفسر، خاص علوم کا حامل، شریعت کا محافظ، امت پر خدا کی حجت، حلال و حرام کا معتمد شارح، اختلافات میں آخری مرجع، اور ایسا منصبی رہنما مانا جاتا ہے، جس کے بغیر دین کی مکمل حفاظت، صحیح تعبیر اور قطعی رہنمائی ممکن نہیں سمجھی جاتی۔

اس تعبیر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دینی حجیت کے وہ اوصاف جو اصلاً منصبِ نبوت سے متعلق تھے، ایک نئے نام کے تحت امام کے لیے ثابت کر دیے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اصل سوال یہ تھا کہ دین کی قطعی حجت کہاں ہے؟ اس کا جواب صرف قرآن و سنت ہونا چاہیے تھا؛ مگر امامت کے اس تصور میں قرآن و سنت کے ساتھ ایک ایسا انسانی مرکز بھی قائم ہو جاتا ہے جو دلیل کا تابع نہیں رہتا، بلکہ اپنے منصب ہی کی بنا پر حجت مانا جاتا ہے۔ یوں امام کی راے عام عالم، فقیہ یا صالح بزرگ کی علمی راے نہیں رہتی، بلکہ لازم الاطاعت دینی اتھارٹی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ختمِ نبوت کا عملی مفہوم مجروح ہو جاتا ہے۔

اس کے برخلاف اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی معصوم مفسر باقی ہے، نہ کوئی لازم الاتباع خاندان، نہ کوئی منصبی دینی مرجع۔ ختمِ نبوت کا تقاضا ہے کہ نبوت کے بعد دینی حجیت کا ہر انسانی مرکز ختم سمجھا جائے۔ کسی دینی نسبت، خاندانی شرف یا روحانی امتیاز کو معصوم، منصوص اور واجب الاطاعت اتھارٹی میں بدل دینا اسی اصول سے متصادم ہے۔ آپ کے بعد دین میں فیصلہ منصب، نسبت، تقدس یا خاندان سے نہیں، صرف قرآن و سنت کی دلیل سے ہو گا۔

2- تصوف اور ولایت
تصوف دین کی ایک متوازی تعبیر ہے جس میں ختمِ نبوت کے بعد بھی نبوت کے بعض بنیادی خصائص ولایت، کشف، الہام، نبوتِ عامہ، غیر تشریعی نبوت، کمالاتِ نبوت اور حقیقتِ محمدیہ کے عنوانات سے باقی رکھے جاتے ہیں۔ اس نظام میں دین کا اصل میدان قرآن و سنت کی محکم ہدایت، ایمان بالغیب، بندگی، تقویٰ، عبادت اور اخلاقی تزکیہ نہیں رہتا، بلکہ باطنی تجربات، روحانی مقامات، مابعد الطبیعی مشاہدات اور ذاتِ خداوندی سے براہ راست ربط و اتصال کی خواہش اصل ہدف بن جاتی ہے۔ چنانچہ شیخ، پیر، ولی، قطب، غوث، ابدال، رجال الغیب، صاحبِ کشف اور صاحبِ تصرف جیسے تصورات ایک ایسے باطنی نظام میں ڈھل جاتے ہیں جس کی اپنی لغت، اپنی اتھارٹی، اپنا نظامِ ثبوت اور اپنا تصورِ دین ہے۔

یہاں اصل انحراف یہ ہے کہ قرآن و سنت کی علانیہ حجت کے ساتھ ایک غیر علانیہ باطنی حجت کھڑی ہو جاتی ہے۔ مکاشفہ، الہام، روحانی تصرف کو دین کے فہم، معرفت اور ہدایت کا امتیازی ذریعہ سمجھا جانے لگتا ہے۔ جس کام کو پیغمبر خدا کی وحی پا کر انجام دیتا تھا، وہی کام اس تصور میں ولی باطنی علم اور روحانی اتصال کے ذریعے سے انجام دینے لگتا ہے۔ اب اسے ولایت اور نبوت عامہ کہا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ ختمِ نبوت کو تسلیم کرنا نہیں، بلکہ ایک نئے نام کے ساتھ نبوت کے منصبی آثار کا تسلسل ہے۔

فکرِ فراہی کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی نئی وحی ہے، نہ غیر تشریعی نبوت، نہ نبوتِ عامہ، نہ معصوم الہام، نہ باطنی شریعت اور نہ کوئی ایسا روحانی منصب جس کی بات اپنی ذات میں دین کی حجت بن جائے۔ قرآن میں ولایت سرے سے کوئی منصب ہی نہیں، بلکہ عربی کا ایک لفظ ہے جو ایمان، تقویٰ اور بندگی کی زندگی اختیار کرنے والوں کی صفت کے طور پر نقل ہوا ہے۔ ختمِ نبوت کا لازمی تقاضا یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین کی آخری حجت صرف قرآن و سنت رہیں؛ کسی ولی، شیخ، قطب، غوث، کشف، الہام، خواب یا باطنی نظام کے لیے دینی حجیت کا کوئی امکان، کوئی گنجایش اور کوئی منصب باقی نہ رہے۔

3-سیاسی تعبیر اور منصبِ رسالت
دین کی سیاسی تعبیر کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی امت کا اصل دینی فریضہ سیاسی اقتدار کا حصول، اسلامی ریاست کا قیام، خلافت کی بحالی، دنیا میں اسلام کا غلبہ اور غیر مسلم اقوام کو سیاسی محکومی میں رکھنا ہے۔ اس تصور میں اقامتِ دین، خلافت، غلبۂ اسلام، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور جہاد جیسے تصورات اس طرح مرتب کیے جاتے ہیں کہ گویا امت پر بھی وہی تاریخی ذمہ داری عائد ہے جو رسولوں پر عائد تھی۔ یعنی جس طرح رسول خدا کی معیت، اتمامِ حجت، نصرتِ الٰہی، منکرین پر عذاب اور اہلِ ایمان کے غلبے کا مظہر بنتے تھے، اسی طرح امت کو بھی ایک مستقل دینی منصوبے کے تحت بالآخر سیاسی فتح، اقتدار اور عالم گیر غلبے تک پہنچنا ہے۔ یوں دین کا اصل میدان دعوت، عبادت، اخلاق، تزکیہ اور حق کی گواہی نہیں رہتا، بلکہ سیاسی اقتدار اور اجتماعی غلبہ اس کا مرکزی ہدف بن جاتا ہے۔

یہاں اصل انحراف یہ ہے کہ نبوت و رسالت کا دعویٰ تو نہیں کیا جاتا، مگر اس کے سیاسی اور تاریخی نتائج ایک نئے عنوان سے باقی رکھے جاتے ہیں۔ جماعت کو رسول نہیں کہا جاتا، مگر اسے خدا کے دین کو غالب کرنے کی نمایندہ قوت سمجھا جانے لگتا ہے۔ قیادت نبوت کی مدعی نہیں ہوتی، مگر اسے ایک ایسے دینی مشن کی نمایندہ حیثیت دے دی جاتی ہے جسے سیاسی اجتہاد نہیں، بلکہ دین کا لازمی اور قطعی تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ سیاسی پروگرام وحی نہیں ہوتا، مگر عملاً وحی کے مطلوب نتیجے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں جو کام رسول خدا کی طرف سے مامور ہو کر، اتمامِ حجت کے بعد، خدا کے فیصلے کے طور پر انجام دیتا تھا، وہی کام اس تصور میں امت، جماعت یا قیادت اپنے سیاسی منصوبے کے ذریعے سےانجام دینے لگتی ہے۔ حقیقت میں یہ رسالت کے منصبی مشن کا خاتمہ تسلیم کرنا نہیں، بلکہ ایک نئے سیاسی نام کے ساتھ اس کے تقاضوں کا تسلسل ہے۔

فکرِ فراہی کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی سیاسی ماموریت باقی ہے، نہ اتمامِ حجت کا منصبی اختیار، نہ خدا کے عذاب کو نافذ کرنے کا حق، نہ غلبے کا پیغمبرانہ مشن اور نہ کوئی جماعت، قیادت، خلافت، ریاست یا تحریک جس کا منصوبہ اپنی ذات میں دین کی حجت بن جائے۔ امت دعوت دے سکتی ہے، اصلاح کر سکتی ہے، سیاست کر سکتی ہے، ریاست چلا سکتی ہے اور ظلم کے خلاف منظم جدوجہد کر سکتی ہے، مگر وہ رسول کی طرح خدا کا فیصلہ نافذ کرنے پر مامور نہیں ہو سکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کا قتال اسی خاص سنتِ الٰہی کا حصہ تھا جس میں اتمامِ حجت کے بعد خدا کا فیصلہ تاریخ میں ظاہر ہوتا ہے۔ آپ کے بعد قتال کا تعلق ظلم، عدوان، مذہبی جبر اور اجتماعی زیادتی کے خلاف منظم دفاع و مزاحمت سے ہے، نہ کہ عالم گیر سیاسی غلبے کے مستقل منصوبے سے۔ ختمِ نبوت کا لازمی تقاضا یہی ہے کہ رسول کے بعد دین کی آخری حجت قرآن و سنت رہیں؛ کسی سیاسی جماعت، ریاست، خلافت، انقلاب یا تحریک کو رسالت کا منصبی مشن حاصل نہ ہو۔

4- تقلید کی بدعت
فقہ اسلامی امت کا عظیم علمی سرمایہ ہے اور ائمۂ مجتہدین امت کے بڑے محسن ہیں۔ انھوں نے قرآن، سنت، آثار، زبان، قیاس، عرف، مصالح اور عملی زندگی کے مسائل پر گہرا غور کیا۔ عام مسلمان ہر مسئلے میں براہِ راست اجتہاد نہیں کر سکتا؛ اسے اہلِ علم سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے فقہ سے استفادہ، ائمہ کی قدر، اہلِ علم سے رہنمائی اور علمی روایت سے وابستگی دین کے فہم کا فطری طریقہ ہے۔ لیکن تقلیدِ محض اس فطری رجوع کا نام نہیں، بلکہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اہلِ علم سے رہنمائی لینے کے بجاے کسی ایک امام، مکتب یا روایت کو قرآن و سنت تک پہنچنے کا لازمی اور مستقل واسطہ بنا دیا جائے۔ یہی بدعت ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین میں کسی غیر منصوص انسانی اتھارٹی کی لازم پابندی مقرر کرنا دین کے اصل نظام میں اضافہ ہے۔

تقلید کی اس تعبیر میں ایک امام یا مکتب کو ایسا مستقل معیار بنا دیا جاتا ہے کہ قرآن و سنت بھی اسی کی عینک سے پڑھے جاتے ہیں، مخالف دلیل بھی اسی کے تابع کر دی جاتی ہے اور دین کی صحت و عدم صحت مسلکی نسبت سے طے ہونے لگتی ہے۔ پہلے مکتب طے ہوتا ہے، پھر دلیل اس کے حق میں تلاش کی جاتی ہے۔ پہلے امام کی راے کو حق سمجھا جاتا ہے، پھر آیت و حدیث کو اس کے مطابق پڑھا جاتا ہے۔ یوں فقہ دین کی خدمت نہیں رہتی، دین پر حاکم بننے لگتی ہے۔ یہی تقلیدِ محض کا اصل فساد ہے کہ وہ انسان کو قرآن و سنت کے سامنے آزاد، سنجیدہ اور جواب دہ طالبِ حق نہیں رہنے دیتی، بلکہ اسے ایک مسلکی نظام کا پابند بنا دیتی ہے۔

یہاں اصل انحراف یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین کے فہم کے لیے ایک غیر منصوص مسلکی پابندی قائم کر دی جاتی ہے۔ دین میں غیر مشروط اطاعت کا منصب اصولاً صرف رسول کو حاصل تھا؛ اس لیے نہیں کہ وہ محض عالم، فقیہ یا مجتہد تھے، بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کے رسول، وحی کے حامل اور دین کے منصبی شارح تھے۔ آپ کے بعد یہ منصب ختم ہو چکا ہے۔ مگر تقلیدِ محض کی صورت میں یہی حیثیت پہلے ائمۂ اربعہ، پھر ان کے فقہی مکاتب، پھر اجماعِ امت، جمہور یا اکابر کی روایت کے عنوان سے ایک اجتماعی علمی نظام کو منتقل ہو گئی، یہاں تک کہ اس سے اختلاف کو دین سے اختلاف سمجھا جانے لگا۔ فہم پر اجماع کے دعوے کو قرآن و سنت پر حاکم بنا دینا بھی اسی بدعت کی ایک فرع ہے، کیونکہ اس میں افراد کے مجموعے کو عملاً وہ معصومیت دے دی جاتی ہے جو دین میں صرف خدا کے رسول کو حاصل تھی۔ یوں مکتبِ فکر شریعت کا نام اختیار کیے بغیر قرآن و سنت تک رسائی کا لازم واسطہ بن جاتا ہے اور فقہ وحی نہ ہوتے ہوئے بھی وحی کی تعبیر پر فیصلہ کن حاکم کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو علمی روایت رہنمائی کا ذریعہ تھی، وہ معیارِ حق بن جاتی ہے اور جو امام معلم تھا، اس کی راے دین و شریعت کے برابر کھڑی کر دی جاتی ہے۔

درست دینی اصول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی امام، مکتب، فقہی نسبت، اجماعی دعویٰ یا مسلکی نظام دین کا مستقل مرجع اور لازم الاطاعت منصب نہیں بن سکتا۔ ائمہ امت کے معلم تھے، شارع نہیں؛ قرآن و سنت کے خادم تھے، ان پر حاکم نہیں۔ فقہ دین کے فہم کا عظیم ذخیرہ ہے، مگر آخری حجت نہیں۔ اہلِ علم سے رجوع ضرورت ہے، مگر کسی ایک مکتب کی لازم پابندی دین نہیں۔ امام کی راے محترم ہو سکتی ہے، مگر دین کی آخری حجت نہیں؛ فقہ سے استفادہ علم ہے، مگر فقہ کو قرآن و سنت پر حاکم بنا دینا انحراف ہے۔ ختمِ نبوت کا تقاضا یہی ہے کہ رسول کے بعد دین میں بات دلیل سے مانی جائے، نسبت سے نہیں؛ قرآن و سنت کی میزان پر پرکھی جائے، مسلکی پابندی یا اجماعی دعوے کی بنا پر قطعی حق قرار نہ پائے۔

5- تکفیر کی بدعت
دین میں حق و باطل کا امتیاز ہے۔ ایمان اور کفر ایک چیز نہیں ہیں۔ شرک کو توحید، الحاد کو ایمان، گم راہی کو اجتہاد، اور دین کے مسلمات کے انکار کو محض راے کا اختلاف نہیں کہا جا سکتا۔ علما کا کام ہے کہ ایمان کے حدود واضح کریں، غلط تعبیرات پر نقد کریں، شرک کو شرک، کفر کو کفر، بدعت کو بدعت اور گم راہی کو گمراہی کہیں، اور امت کو فکری انحرافات سے خبردار کریں۔ لیکن تکفیرِ محض اس علمی کام کا نام نہیں، بلکہ اس کے حدود سے تجاوز کی ایک خطرناک صورت ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عقیدے پر علمی حکم لگانے کے بجاے کلمہ گو انسانوں کے ایمان، باطن اور آخرت پر قطعی فیصلے سنائے جانے لگتے ہیں۔ دین میں کسی انسان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ خدا کی جگہ کھڑے ہو کر بندوں کی نیت، ایمان اور انجام کا فیصلہ کرے؛ یہی وجہ ہے کہ تکفیر کی یہ روش علم نہیں، بدعت ہے۔

اس بدعت کا اصل فساد یہ ہے کہ فتویٰ علم کے بیان سے آگے بڑھ کر ملت سے اخراج، دینی مقاطعہ اور ایمان و کفر کی آخری حد بندی کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ ایک نظریہ کفر پر مشتمل ہو سکتا ہے، ایک بات شرک ہو سکتی ہے، ایک تعبیر گم راہ کن ہو سکتی ہے، مگر کسی متعین شخص کی تاویل، جہل، شبہ، فہم، علمی استطاعت، ماحول، تربیت، ذہنی کیفیت اور خدا کے ساتھ اس کے باطنی تعلق کا احاطہ انسان نہیں کر سکتا۔ اس لیے کسی عقیدے یا قول پر علمی حکم لگانا اور کسی کلمہ گو کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا دو الگ چیزیں ہیں: پہلی چیز علمی تنبیہ ہے، دوسری خدا کے فیصلے میں مداخلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص خود اسلام کا اقرار کرتا اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، اسے کافر یا غیر مسلم قرار دینا تکفیر ہی کی ایک صورت ہے؛ یہ محض شناخت کا تعین نہیں، ملت سے اخراج ہے۔

یہاں اصل انحراف یہ ہے کہ ایمان و کفر کا فیصلہ اصلاً خدا کا اختیار ہے؛ رسول کی موجودگی میں بھی باطن، نیت اور انجام کا فیصلہ خدا ہی کرتا تھا، دنیوی معاملہ انسان کے اقرار پر قائم رہتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تو نہ وحی ہے، نہ دلوں تک رسائی، نہ انجام کا علم، نہ اتمامِ حجت کا منصبی اختیار۔ مگر تکفیری رویوں میں انسان پہلے کسی کلمہ گو کو کافر قرار دیتا ہے، پھر اسے مرتد شمار کرتا ہے اور پھر رسول کے مقام پر کھڑے ہو کر اس پر سزا کے نفاذ کا حق بھی اپنے لیے مان لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تکفیر، ارتداد اور سزا کا یہ نظام ختمِ نبوت کے عملی مفہوم سے متصادم ہو جاتا ہے، کیونکہ جو فیصلہ رسول کے مقابلے میں شعوری انکار اور اتمامِ حجت کے بعد خدا کے حکم سے متعلق تھا، اسے عام مسلمانوں تک پھیلا دیا جاتا ہے۔

درست دینی اصول یہ ہے کہ کوئی انسان باطن کا حاکم، ایمان کا داروغہ، آخرت کا فیصلہ کرنے والا یا خدا کی عدالت کا نمایندہ نہیں بن سکتا۔ جو شخص اسلام کا اقرار کرتا اور خود کو مسلمان کہتا ہے، دنیا میں اس کے ساتھ معاملہ اسی اقرار کے مطابق ہو گا۔ اس کی غلطی کو غلطی، تعبیر کو باطل اور عقیدے کو گم راہ کن کہا جا سکتا ہے، مگر اس کے ایمان اور آخرت کا معاملہ خدا پر چھوڑا جائے گا۔ ختمِ نبوت کا تقاضا یہی ہے کہ رسول کے بعد ایمان و کفر، ارتداد، ملت سے اخراج اور خدائی سزا کے فیصلے انسانوں کے ہاتھ میں نہ دیے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین کی آخری حجت قرآن و سنت ہیں؛ تکفیری فتوے، خطیبانہ فیصلے اور مذہبی جتھوں کی عدالتیں نہیں۔

یہ امت کی تاریخ کے پانچ بڑے انحراف ہیں؛ بہ ظاہر مختلف، مگر اپنی حقیقت میں سب کے سب ختمِ نبوت کے عملی تقاضوں سے انحراف کی صورتیں ہیں۔ دین خدا کی ہدایت ہے، انسانوں کے بنائے ہوئے مراکزِ استناد نہیں۔ ختمِ نبوت کا پیغام یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر دعویٰ، ہر نسبت، ہر تعبیر اور ہر اختیار کو قرآن و سنت کی میزان پر پرکھا جائے گا؛ کسی منصب، مکتب، کشف، سیاست یا فتویٰ کو اپنی ذات میں آخری حق اور قطعی حجت نہیں بنایا جا سکتا۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !