خالد جاوید کے یہاں اب ناول محض قصہ گوئی کا فن نہیں رہا، بلکہ یہ "خوف کی تشریح" کی ایک مستقل لیبارٹری بن چکا ہے۔ ’’موت کی کتاب‘‘ اور ’’نعمت خانہ‘‘ سے شروع ہونے والا یہ تخلیقی سفر اب ’’اکیس ایک سو بائیس‘‘ کے اس مقام تک آپہنچا ہے جہاں ہر طرف دھند ہے۔ عنوان بظاہر ایک ریاضیاتی معمہ (Mathematical Riddle) لگتا ہے، لیکن ورق پلٹتے ہی وہی پرانی اور شناسا ’’خالد جاویدی فضا‘‘ قاری کا استقبال کرتی ہے۔ وہی مابعد الطبیعاتی آوارہ گردی، وہی پرانا لسانی اسراف، وہی عالمی شہ پاروں کی شعوری پیروڈی اور وہی اقوالِ زریں کا لامتناہی قبرستان۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے پچھلے ناولوں سے لے کر ’’ارسلان اور بہزاد‘‘ تک سب کچھ اب ایک ایسی گول پٹری پر دوڑتا محسوس ہوتا ہے جہاں مصنف ہر چند کلومیٹر بعد اسی موڑ سے گزرتا ہے جسے وہ پہلے کئی بار عبور کر چکا ہے۔
لیکن اس ناول کے تفصیلی پوسٹ مارٹم سے پہلے کچھ ضروری ’جملہ ہائے معترضہ‘ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے میرے کچھ مہربان دوست اس تنقید کو پرانی ’دوستی‘ یا ’سابقہ عقیدت‘ کے آئینے میں دیکھیں، لیکن میرا ماننا ہے کہ ادب میں دیانت کا مقام کسی بھی ذاتی تعلق سے کہیں بلند ہوتا ہے۔ تاریخِ ادب شاہد ہے کہ جب فن کے زوال کا مسئلہ درپیش ہو تو بڑے ادیبوں نے اپنے ’قبلوں‘ کو بھی رعایت نہیں دی۔ ارنسٹ ہیمنگوے (Ernest Hemingway) کی مثال لیجیے، جنہوں نے اپنے محسن شیروڈ اینڈرسن (Sherwood Anderson) کی فنی لغزشوں پر اس قدر تیکھی تنقید کی کہ ان کے اسلوب کا پول کھولنے کے لیے پورا ایک پیروڈی ناول 'The Torrents of Spring' لکھ مارا—حالانکہ یہی اینڈرسن تھے جنہوں نے ہیمنگوے کا پہلا مجموعہ چھپوانے میں کندھا دیا تھا۔ یہی حال ولادیمیر نابوکوف (Vladimir Nabokov) کا تھا، جو روسی ادب کے دیوانے ہونے کے باوجود دستوئیفسکی (Dostoevsky) کی بعد کی تحریروں کو ’’سستی جذباتیت‘‘ اور ’’نفسیاتی گتھیوں کا ملبہ‘‘ کہہ کر رد کرنے میں ذرہ برابر نہیں ہچکچائے۔ خود ٹالسٹائی نے شیکسپیئر پر وہ سوالات اٹھائے تھے کہ پورا ادبی جہان دنگ رہ گیا تھا۔
چنانچہ، اگر میں آج خالد جاوید کے اسلوب کے اس ’تاریک زندان‘ اور لایعنی تکرار پر بات کر رہا ہوں، تو یہ دراصل اس بلند معیار کا مطالبہ ہے جو خود خالد نے اپنے ابتدائی شاہکاروں سے طے کیا تھا۔ فن سے وفاداری، فنکار سے وفاداری پر ہمیشہ مقدم ہونی چاہیے۔ آخر کو دوستی کا تقاضا ’تحسین‘ ہو سکتا ہے، لیکن تنقید کا منصب تو بہرحال ’تطہیر‘ (Purification) ہی ہے۔
ناول ’’اکیس ایک سو بائیس‘‘ درحقیقت خالد جاوید کے پچھلے کاموں کا ایک ایسا ’’ڈیجیٹل ری سائیکلنگ بن‘‘ (Digital Recycling Bin) ہے جس میں انہوں نے 21122 کے مستقبل کا بہانہ بنا کر اپنی وہی پرانی ’’کراہت کی جمالیات‘‘ (Aesthetics of Disgust) دوبارہ پیک کر کے پیش کر دی ہے۔ اس ناول پر اب تک جتنے تبصرے میری نظر سے گزرے، وہ زیادہ تر ’سوئپنگ اسٹیٹمنٹس‘ ہی تھے؛ بلکہ اکثر تو موصوف کو ملے ’جے سی بی ایوارڈ‘ کی ہیبت کے زیرِ اثر لکھے گئے معلوم ہوتے ہیں۔ خود خالد جاوید کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر عبقری صلاحیتوں کے باوجود اب ہر ناول کے ماتھے پر ’’جے سی بی انعام یافتہ‘‘ کی سند جڑنا ویسے ہی فرض سمجھتے ہیں جیسے ہمارا بیچارہ ’’ساہتیہ اکیڈمی یافتہ‘‘ ادیب اس تمغۂ رسوائی کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ خیر، اب تو جے سی بی اور ساہتیہ اکیڈمی کا ایک طرح سے ’نکاحِ مسنونہ‘ ہو چکا ہے اور یہ جوڑا کسی ہنی مون کپل کی طرح ایک دوسرے کا ’’تاج محل‘‘ تھامے تصویریں کھنچواتا پھرتا ہے۔ رہی سہی کسر ان کے مشترکہ پبلشر ’’عرشیہ پبلی کیشنز‘‘ کے خطبۂ نکاح اور احمد نعیم کے سہرے نے پوری کر دی، جس سے یہ پوری فضا رقت آمیز حد تک روحانی ہو گئی۔
انعام ندیم کا ایک تفصیلی تبصرہ ضرور سامنے آیا، مگر وہ بھی کسی ’’پیرس کی ملاقات‘‘ کا سونیئر (Souvenir) ہی زیادہ لگا، پھر بھی چونکہ اس میں کچھ نکات ہیں، اس لیے بات کی جا سکتی ہے۔ انعام نے اسے ایک ’’انوکھا تجربہ‘‘ کہا ہے، جبکہ میرا مشاہدہ اسے خالصتاً ایک ’’تخلیقی جمود‘‘ قرار دیتا ہے۔ خالد جاوید اس ناول میں سیمیول بیکٹ (Samuel Beckett) بننے کی ناکام تگ و دو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ بیکٹ کے ہاں ’’خاموشی‘‘ معنی خیز ہوتی ہے، جبکہ خالد کے یہاں ’’شور‘‘ (خود کلامی) سراسر لایعنی ہے۔ اگر رابرٹو بولانو (Roberto Bolaño) کا ناول '2666' اپنی ضخامت میں انسانی المیے کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہے، تو خالد جاوید کا '21122' اپنی ضخامت میں محض ’’مصنف کی انا‘‘ کا بوجھ ڈھو رہا ہے۔ بولانو کے یہاں واقعات بولتے ہیں، خالد کے یہاں صرف ’’مصنف‘‘ تقریر کرتا ہے۔ (بولانو پر میرا تبصرہ میری ٹائم لائن پر موجود ہے، جسے ڈھونڈا جا سکتا ہے)۔ ’’اکیس ایک سو بائیس‘‘ جیمز جوائس کی ’یولیسیز‘ بننے کا شوق تو پالے ہوئے ہے لیکن اس میں شعور کی رو (Stream of Consciousness) کے بجائے محض ’’لفظوں کی قے‘‘ (Linguistic Vomit) کا احساس ہوتا ہے۔
رہی بات اس میں موجود ’’اقوالِ زریں کے قبرستان‘‘ کی، تو انعام ندیم صاحب اسے ’’حکمت و دانش‘‘ کہیں، مگر ایک بے لاگ قاری کے لیے یہ صفحات کا زیاں ہے۔ خالد جاوید نے پلاٹ کو قربان کر کے اسے ’’خلیل جبران کا تاریک ورژن‘‘ بنا دیا ہے۔ بیس بیس صفحات پر محیط یہ اقوال دراصل ناول کے ڈھانچے میں ان ’’سرطانی خلیوں‘‘ کی مانند ہیں جو کہانی کی حرکت ہی چھین لیتے ہیں۔ ایک اوسط درجے کی مابعد الطبیعیات کو زبردستی قاری کے حلق میں ٹھونسنے کی یہ مشق اسے ’’شاہکار‘‘ نہیں بلکہ ایک ناقابلِ برداشت ’’بوجھ‘‘ بناتی ہے۔
خالد جاوید کا اصل المیہ یہ ہے کہ وہ ’’نعمت خانہ‘‘ کے سحر سے باہر نکلنے کو تیار ہی نہیں۔ وہی گوشت، وہی تعفن، وہی موت اور وہی لجلجا پن۔ یوں لگتا ہے جیسے مصنف ایک ہی راگ کو الفاظ کے ہیر پھیر سے بار بار الاپ رہا ہے، جہاں آواز تو بدلتی ہے مگر سُر وہی پرانا اور تھکا ہوا رہتا ہے۔ اگر کسی ادیب کے پاس نیا ’’احساس‘‘ ختم ہو جائے، تو وہ محض لسانی جادوگری سے قاری کو دیر تک چکمہ نہیں دے سکتا۔ اس ناول میں وہ تمام خامیاں یکجا ہو گئی ہیں جو اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کوئی لکھاری یہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا ہر جملہ ’’وحی‘‘ کا درجہ رکھتا ہے۔
اس ناول کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ یہ خود کو ’’عالمی ادب‘‘ کی صف میں کھڑا کرنے کے شوق میں اپنی اصل بنیادوں (اردو معاشرت اور انسانی لمس) سے ہی کٹ گیا ہے۔ مارسل پروست (Marcel Proust) بننے کی تمنا میں یہ ایک ایسے ’’بے خواب مریض‘‘ کی بڑ بن کر رہ گیا ہے جو نہ خود سوتا ہے اور نہ قاری کو چین لینے دیتا ہے۔ اگر خالد جاوید نے اپنے ان ’’اقوالِ زریں‘‘ کی ہوس کو لگام نہ دی، تو شاید اگلے ناولوں میں ان کے پاس صرف ہندسے ہی بچیں گے، کیونکہ الفاظ تو وہ اسی ایک ناول میں ضائع کر چکے ہیں۔
