غار میں موجود 99 فیصد لوگ اندھیرے کو گالیاں دیتے رہے اور پہرے داروں کی منتیں کرتے رہے، لیکن اس ایک شخص نے سنسنی خیز حقیقت جان لی تھی: "دروازے پر تالا باہر سے نہیں، اندر سے لگا ہے۔" اس نے حالات، قسمت اور دوسروں پر الزام لگانا چھوڑ دیا اور اپنی آزادی کی ذمہ داری خود اٹھا لی۔
اس سے پہلے کہ وہ اندھے غار میں بھاگنا شروع کرتا، اس نے آنکھیں بند کیں اور تصور کیا کہ وہ مر چکا ہے اور لوگ اس کی قبر پر کھڑے ہیں۔ اس نے خود سے پوچھا، "میں کیا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ میرے بارے میں کیا کہیں؟" اس ایک سوال نے اسے وہ واضح نقشہ دے دیا کہ اسے جانا کہاں ہے۔ بغیر منزل کے دوڑنا صرف تھکاوٹ ہے، کامیابی نہیں۔
راستے میں اسے کئی چمکدار ہیرے ملے، لیکن اس نے صرف وہ بھاری پتھر اٹھائے جو دروازہ توڑنے کے کام آ سکتے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ جو انسان اپنی ترجیحات طے نہیں کرتا، وہ غیر ضروری کاموں کی بھول بھلیاں میں ہمیشہ کے لیے بھٹک جاتا ہے۔
دروازے کے پاس اسے ایک اور طاقتور قیدی ملا۔ وہ چاہتا تو اس سے لڑ کر اکیلے فرار ہونے کی کوشش کرتا، لیکن وہ جانتا تھا کہ لڑائی میں دونوں مارے جائیں گے۔ اس نے اسے دشمن بنانے کے بجائے اپنا حصہ دار بنایا۔ اصل طاقت دوسروں کو گرانے میں نہیں، بلکہ ایک ایسی جیت میں ہے جہاں دونوں کا فائدہ ہو۔
جب اس دوسرے قیدی نے شک کی بنا پر مخالفت کی، تو اس نے بحث کرنے کے بجائے اپنے ہونٹ سی لیے اور پوری توجہ سے اس کا خوف سنا۔ جب آپ لوگوں کو یہ احساس دلا دیتے ہیں کہ آپ انہیں دل سے سمجھ چکے ہیں، تو ان کے دماغ کے دفاعی دروازے خود بخود گر جاتے ہیں۔
اب وہ دو الگ الگ قیدی نہیں رہے تھے۔ ان کا اتحاد ایک تیسری اور نامعلوم قوت بن چکا تھا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ایک اور ایک دو نہیں، بلکہ گیارہ بن گئے۔ ان کے مشترکہ ذہنوں نے وہ راستہ ڈھونڈ نکالا جو اکیلے انسان کے لیے ناممکن تھا۔
آخری اور سب سے موٹی دیوار توڑنے سے پہلے، وہ پاگلوں کی طرح وار کرنے کے بجائے رکے۔ انہوں نے سستانے کا فیصلہ کیا اور اپنے اوزاروں کو تیز کیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ تھکے ہوئے جسم اور کند ذہن کے ساتھ آپ دیوار نہیں گرا سکتے، صرف اپنا خون بہا سکتے ہیں۔
انسان اور اس کے مختلف رویئے انہی سات اصولوں کے گرد گھومتے ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ آج بھی اسی غار میں بیٹھے کند کلہاڑی سے دیواریں پیٹ رہے ہیں۔ جس دن آپ نے ان سات چابیوں کو اپنی زندگی پر لاگو کر لیا، آپ کو احساس ہوگا کہ جس دنیا کو آپ ایک ظالم جیل سمجھتے تھے، وہ دراصل آپ کے اپنے ہی فیصلوں کا عکس تھی۔
