بحر کا قتل اور پچاس ہزاری شاعرہ۔۔ رانا محمد نعمان انجم

میں نے زندگی میں دو ہی کام بڑی احتیاط سے کیے ہیں۔ ایک شادی، دوسرا فیس بک پر کسی شاعر کی اصلاح۔
شادی میں تو اللہ نے عزت رکھ لی، لیکن اصلاح کا شوق آج تک میری عزت کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اب تو حالت یہ ہے کہ کسی کی غزل دیکھ کر پہلے دل میں "فاعلاتن" آتا ہے، پھر فوراً "اعوذ باللہ" پڑھ لیتا ہوں۔
کل حسبِ معمول فیس بک کی گلیوں میں آوارہ گردی کر رہا تھا کہ ایک محترمہ کی غزل سامنے آ گئی۔ غزل کیا تھی، علمِ عروض کی ایف آئی آر تھی۔ ایک مصرعہ دوڑ کر شمال کی طرف جا رہا تھا، دوسرا جنوب میں پناہ مانگ رہا تھا۔ بحر بیچاری دور کھڑی ہاتھ جوڑ کر کہہ رہی تھی:

"بھائی! میرا اس غزل سے کوئی تعلق نہیں۔"
میں نے کئی بار اسکرول کیا، پھر واپس آیا۔ ضمیر نے کہا:
"خاموش رہو۔"
عروض نے کہا:
"بول پڑو۔"
آخرکار میں نے ادب سے لکھ دیا:
"محترمہ بہن! اگر اجازت ہو تو ایک معمولی سی گزارش ہے۔ ایک دو مقامات پر وزن کا مسئلہ محسوس ہو رہا ہے۔"

میں نے ابھی تبصرہ پوسٹ کیا ہی تھا کہ موبائل ایسے کانپنے لگا جیسے اسے بجلی کا بل موصول ہو گیا ہو۔
ان باکس کھولا تو سامنے محترمہ تھیں، اور الفاظ ایسے برسا رہی تھیں جیسے میں نے ان کی غزل نہیں، خاندانی جائیداد تقسیم کر دی ہو۔
فرمان ہوا:
"آپ کون ہوتے ہیں میری شاعری پر اعتراض کرنے والے؟"
میں نے عاجزی سے لکھا:
"میں اعتراض نہیں، صرف اصلاح کی گزارش کر رہا ہوں۔"
جواب آیا:
"مجھے عروض، بحر اور وزن کی ضرورت نہیں۔ یہ سب خیال کی موت ہیں۔"
میں نے دل میں کہا:
"اگر یہی خیال زندہ ہے تو پھر بحر واقعی مرحوم ہو چکی ہے۔"
پھر ایک ایسا انکشاف ہوا کہ میرے موبائل نے بھی حیرت سے اسکرین کی روشنی کم کر دی۔
محترمہ نے لکھا:
"میں عام شاعرہ نہیں ہوں۔ میں نے اپنی غزلیں بیچی بھی ہیں۔"
میں نے فوراً کرسی سیدھی کی۔
"ماشاء اللہ! کتنے کی؟"
جواب آیا:
"ایک غزل پچاس ہزار روپے کی۔"

میں نے موبائل کو سینے سے لگا لیا۔ مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید میں غلط پیشے میں آ گیا ہوں۔
میں نے ادب سے پوچھا:
"کس خوش نصیب نے خریدی؟"
فرمایا:
"نام نہیں بتا سکتی۔ راز ہوتا ہے۔ بس اتنا جان لیں کہ سعودی عرب میں رہتے تھے... اب اس دارِ فانی سے کوچ کر چکے ہیں۔"
یہ پڑھتے ہی میرے منہ سے بے اختیار نکلا:
"انا للہ وانا الیہ راجعون۔"
اس مرحوم کے لیے میرے دل میں ایسی ہمدردی پیدا ہوئی کہ اگر پتہ مل جاتا تو فاتحہ پڑھنے ضرور چلا جاتا۔
میں سوچنے لگا، ہائے افسوس! ایسا سخی آدمی اگر چند سال اور زندہ رہتا تو ہم جیسے باوزن شاعر بھی آج موٹر سائیکل کی قسط وقت پر جمع کرا رہے ہوتے۔

میں نے دل ہی دل میں دعا کی:
"یا اللہ! مرحوم کی مغفرت فرما۔ انہوں نے اگر واقعی بے وزن غزل پر پچاس ہزار دیے تھے تو وہ سخاوت کے آخری نمائندے تھے۔"

محترمہ ابھی رکی نہیں تھیں۔
فرمایا:
"میں بڑے بڑے مشاعرے پڑھتی ہوں۔"
میں نے لکھا:
"بہت اچھی بات ہے۔"
بولیں:
"آپ جیسے شاعر نہیں، جنہیں ایک غزل کا کہا جاتا ہے اور وہ چار چار غزلیں سنا دیتے ہیں۔"
یہ جملہ میرے دل پر ایسے لگا جیسے کسی نے سچ کو اینٹ میں لپیٹ کر مارا ہو۔
واقعی ہمارا حال عجیب ہے۔
ناظمِ مشاعرہ اعلان کرتا ہے:
"صرف ایک غزل!"
شاعر جواب دیتا ہے:
"جی، صرف ایک!"
پھر پہلی غزل ختم ہونے پر کہتا ہے:
"یہ تو تمہید تھی، اصل غزل اب شروع ہوتی ہے۔"
یہ سن کر مجھے اپنی شادی یاد آ گئی۔
میں نے سہرابندی کے موقع پر باقاعدہ مشاعرہ رکھا تھا۔
ایک شاعر صاحب آئے۔
انہوں نے ایسا کلام سنایا کہ ردیف الگ خوش تھی، قافیہ الگ ناراض تھا، بحر کہیں نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔
مگر سامعین ایسے محظوظ ہوئے کہ نوٹوں کی بارش شروع ہو گئی۔
میں حیرت سے شاعر کو دیکھ رہا تھا کہ برابر میں بیٹھے ایک بزرگ ماہرِ عروض نے میری پسلی میں کہنی مار کر سرگوشی کی:
"بیٹا! یہ سب بے وزن ہے۔"
میں نے ایک نظر شاعر کو دیکھا۔
وہ نوٹ گن رہا تھا۔
پھر ماہرِ عروض کو دیکھا۔
وہ ہجّے گن رہے تھے۔
اسی لمحے مجھے ادب کا سب سے بڑا فلسفہ سمجھ آ گیا۔
اس دنیا میں شاعر صرف دو قسم کے ہیں۔
ایک وہ جو بحر گنتے ہیں۔
دوسرے وہ جن کے لیے حاضرین نوٹ گنتے ہیں۔
گھر واپس آیا تو الماری سے عروض کی کتاب نکالی۔
کتاب خاموشی سے مجھے دیکھ رہی تھی۔
مجھے یوں لگا جیسے کہہ رہی ہو:
"بیٹا! مجھے مت چھوڑنا، میں صدیوں کی امانت ہوں۔"
ادھر میرے کان میں ایک اور آواز آ رہی تھی۔
"پچاس ہزار...
میں نے کتاب بند کی، آسمان کی طرف دیکھا اور عرض کیا:
"یا اللہ! مجھے وزن سے محبت ضرور ہے، مگر اگر کہیں کوئی ایسا خریدار موجود ہو جو بے وزن غزل پر بھی پچاس ہزار دے دے، تو پہلے اس کا پتہ بھیج دینا، اصلاح بعد میں کر لوں گا۔"
تب سے میں نے ایک اصول بنا لیا ہے۔
اب کسی شاعر کی غزل دیکھ کر پہلے بحر نہیں دیکھتا...
پہلے یہ دیکھتا ہوں کہ اس کے سعودی عرب میں کتنے مداح ہیں!
رانا محمد نعمان انجمبحر کا قتل اور پچاس ہزاری شاعرہ
میں نے زندگی میں دو ہی کام بڑی احتیاط سے کیے ہیں۔ ایک شادی، دوسرا فیس بک پر کسی شاعر کی اصلاح۔

شادی میں تو اللہ نے عزت رکھ لی، لیکن اصلاح کا شوق آج تک میری عزت کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اب تو حالت یہ ہے کہ کسی کی غزل دیکھ کر پہلے دل میں "فاعلاتن" آتا ہے، پھر فوراً "اعوذ باللہ" پڑھ لیتا ہوں۔

کل حسبِ معمول فیس بک کی گلیوں میں آوارہ گردی کر رہا تھا کہ ایک محترمہ کی غزل سامنے آ گئی۔ غزل کیا تھی، علمِ عروض کی ایف آئی آر تھی۔ ایک مصرعہ دوڑ کر شمال کی طرف جا رہا تھا، دوسرا جنوب میں پناہ مانگ رہا تھا۔ بحر بیچاری دور کھڑی ہاتھ جوڑ کر کہہ رہی تھی:

"بھائی! میرا اس غزل سے کوئی تعلق نہیں۔"

میں نے کئی بار اسکرول کیا، پھر واپس آیا۔ ضمیر نے کہا:

"خاموش رہو۔"

عروض نے کہا:

"بول پڑو۔"

آخرکار میں نے ادب سے لکھ دیا:

"محترمہ بہن! اگر اجازت ہو تو ایک معمولی سی گزارش ہے۔ ایک دو مقامات پر وزن کا مسئلہ محسوس ہو رہا ہے۔"

میں نے ابھی تبصرہ پوسٹ کیا ہی تھا کہ موبائل ایسے کانپنے لگا جیسے اسے بجلی کا بل موصول ہو گیا ہو۔

ان باکس کھولا تو سامنے محترمہ تھیں، اور الفاظ ایسے برسا رہی تھیں جیسے میں نے ان کی غزل نہیں، خاندانی جائیداد تقسیم کر دی ہو۔

فرمان ہوا:

"آپ کون ہوتے ہیں میری شاعری پر اعتراض کرنے والے؟"

میں نے عاجزی سے لکھا:

"میں اعتراض نہیں، صرف اصلاح کی گزارش کر رہا ہوں۔"

جواب آیا:

"مجھے عروض، بحر اور وزن کی ضرورت نہیں۔ یہ سب خیال کی موت ہیں۔"

میں نے دل میں کہا:

"اگر یہی خیال زندہ ہے تو پھر بحر واقعی مرحوم ہو چکی ہے۔"

پھر ایک ایسا انکشاف ہوا کہ میرے موبائل نے بھی حیرت سے اسکرین کی روشنی کم کر دی۔

محترمہ نے لکھا:

"میں عام شاعرہ نہیں ہوں۔ میں نے اپنی غزلیں بیچی بھی ہیں۔"

میں نے فوراً کرسی سیدھی کی۔

"ماشاء اللہ! کتنے کی؟"

جواب آیا:

"ایک غزل پچاس ہزار روپے کی۔"

میں نے موبائل کو سینے سے لگا لیا۔ مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید میں غلط پیشے میں آ گیا ہوں۔

میں نے ادب سے پوچھا:

"کس خوش نصیب نے خریدی؟"

فرمایا:

"نام نہیں بتا سکتی۔ راز ہوتا ہے۔ بس اتنا جان لیں کہ سعودی عرب میں رہتے تھے... اب اس دارِ فانی سے کوچ کر چکے ہیں۔"

یہ پڑھتے ہی میرے منہ سے بے اختیار نکلا:

"انا للہ وانا الیہ راجعون۔"

اس مرحوم کے لیے میرے دل میں ایسی ہمدردی پیدا ہوئی کہ اگر پتہ مل جاتا تو فاتحہ پڑھنے ضرور چلا جاتا۔

میں سوچنے لگا، ہائے افسوس! ایسا سخی آدمی اگر چند سال اور زندہ رہتا تو ہم جیسے باوزن شاعر بھی آج موٹر سائیکل کی قسط وقت پر جمع کرا رہے ہوتے۔

میں نے دل ہی دل میں دعا کی:

"یا اللہ! مرحوم کی مغفرت فرما۔ انہوں نے اگر واقعی بے وزن غزل پر پچاس ہزار دیے تھے تو وہ سخاوت کے آخری نمائندے تھے۔"

محترمہ ابھی رکی نہیں تھیں۔

فرمایا:

"میں بڑے بڑے مشاعرے پڑھتی ہوں۔"

میں نے لکھا:

"بہت اچھی بات ہے۔"

بولیں:

"آپ جیسے شاعر نہیں، جنہیں ایک غزل کا کہا جاتا ہے اور وہ چار چار غزلیں سنا دیتے ہیں۔"

یہ جملہ میرے دل پر ایسے لگا جیسے کسی نے سچ کو اینٹ میں لپیٹ کر مارا ہو۔

واقعی ہمارا حال عجیب ہے۔

ناظمِ مشاعرہ اعلان کرتا ہے:

"صرف ایک غزل!"

شاعر جواب دیتا ہے:

"جی، صرف ایک!"

پھر پہلی غزل ختم ہونے پر کہتا ہے:

"یہ تو تمہید تھی، اصل غزل اب شروع ہوتی ہے۔"

یہ سن کر مجھے اپنی شادی یاد آ گئی۔

میں نے سہرابندی کے موقع پر باقاعدہ مشاعرہ رکھا تھا۔

ایک شاعر صاحب آئے۔

انہوں نے ایسا کلام سنایا کہ ردیف الگ خوش تھی، قافیہ الگ ناراض تھا، بحر کہیں نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔

مگر سامعین ایسے محظوظ ہوئے کہ نوٹوں کی بارش شروع ہو گئی۔

میں حیرت سے شاعر کو دیکھ رہا تھا کہ برابر میں بیٹھے ایک بزرگ ماہرِ عروض نے میری پسلی میں کہنی مار کر سرگوشی کی:

"بیٹا! یہ سب بے وزن ہے۔"

میں نے ایک نظر شاعر کو دیکھا۔

وہ نوٹ گن رہا تھا۔

پھر ماہرِ عروض کو دیکھا۔

وہ ہجّے گن رہے تھے۔

اسی لمحے مجھے ادب کا سب سے بڑا فلسفہ سمجھ آ گیا۔

اس دنیا میں شاعر صرف دو قسم کے ہیں۔

ایک وہ جو بحر گنتے ہیں۔

دوسرے وہ جن کے لیے حاضرین نوٹ گنتے ہیں۔

گھر واپس آیا تو الماری سے عروض کی کتاب نکالی۔

کتاب خاموشی سے مجھے دیکھ رہی تھی۔

مجھے یوں لگا جیسے کہہ رہی ہو
"بیٹا! مجھے مت چھوڑنا، میں صدیوں کی امانت ہوں۔"
ادھر میرے کان میں ایک اور آواز آ رہی تھی۔
"پچاس ہزار..."
میں نے کتاب بند کی، آسمان کی طرف دیکھا اور عرض کیا:
"یا اللہ! مجھے وزن سے محبت ضرور ہے، مگر اگر کہیں کوئی ایسا خریدار موجود ہو جو بے وزن غزل پر بھی پچاس ہزار دے دے، تو پہلے اس کا پتہ بھیج دینا، اصلاح بعد میں کر لوں گا۔
تب سے میں نے ایک اصول بنا لیا ہے
اب کسی شاعر کی غزل دیکھ کر پہلے بحر نہیں دیکھتا...
پہلے یہ دیکھتا ہوں کہ اس کے سعودی عرب میں کتنے مداح ہیں!

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !