ان میں سے کسی نے اپنے بچے کی فیس اپنے ممتا کے احساس بھرے بندے بیچ کر دی تھی تو دوسری نے دل پر قابو کرکے اسے دور علم دین کے حصول کے لئے بھیجا تھا۔ کسی نے نام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ مرنے کا سلیقہ سکھایا تھا تو کسی نے سلائی مشین سے زندگی کشید کی تھی۔ کسی نے تعلیمی اخراجات بکریاں پال کر ادا کئے تھے۔تو کسی نے میدان جہاد کے خواب دیکر شہدا کی فصل بوئی تھی۔ ہر ایک نے رت جگے کاٹے تھے۔ بس قربانیوں کے رنگ جدا تھے۔قوس قزاح کے سبھی رنگ جمع تھے۔ ایمان وایقان کے بیجوں کی آبیاری کرنے والے ہاتھ بھی تھے توجواں حوصلوں کے امیں بھی انھی گودوں میں کھیلے تھے۔دعاؤں کی پھوار،فصلوں کی بہار انھی کے دم سے تھی۔ جوتے کے پیسے نہ ہونے پرکسی ماں نے ٹوپی ٹیڑھی رکھ کر بولا تھا۔اب توجہ ٹوٹے جوتوں پر کسی کی نہ جا?ئےگی توکوئی شوہر کو سرحدوں کی طرف روانہ کرتے بیٹوں کو بھی یہی خواب دان کربیٹھی تھیں۔کسی نے اعلائے کلمۃ اللہ میں مقصد زندگی سجھا دیا تھا۔یہ ملت کی مائیں تھیں۔ یہ عائشہ اور خدیجہ رضی اللہ عنھما کی بیٹیاں تھیں۔
یہ سب کیسے عیاں ہوا۔ کہ رازوں کی پوٹلیاں تو ان کے سینوں میں دفن تھیں۔ یہ الگ بات کہ ان خزانوں کو عیاں ہونا چاہیے تھا۔یہ وہ قرض تھاجو قوم بھلا بیٹھی تھی۔یہ ملکی سطح کا پروگرام تھا۔نامی گرامی شخصیات،میڈیا کا جم غفیر،کیمروں کی چمک وہ سب سمٹی جا رہی تھیں۔حیا کی اوڑھنیاں زیور کی طرح ان کے وجود کو مہکا رہی تھیں۔ سامنے موجود بڑے مجمعے میں ان کی جذبہ ایمانی سے لبریز بچیاں،اپنی مقرر ہ حدود میں نئےدیے جلا رہی تھیں تو دوسری طرف الگ حصے میں ان کے عظیم بیٹے آج سامع بنے بیٹھے تھے۔آنکھوں میں آنسو بتاتے تھے آگاہی کے نئےدر وا ہوئے ہیں ابھی۔ پائلٹ، فوجی افسر، پولیس، اینکر پرسن، ماڈل گرل وہ ان میں سے کچھ بھی تو نہ تھیں۔ہمارے ہاں اسٹیج تو سالہاسال سے انھی کے لئے مختص کر دیے?گئے تھے۔یہ آج کون انھیںکھینچ لایا تھا۔ آخر مقصد کیا تھا؟
لاکھوں کے خرچ سے منعقد ہونے والی یہ تقریب اور اعزاز یقیناً خواب ہی تھا۔سربراہ ادارہ کے اسٹیج سنبھالنے سے سناٹا چھا گیا۔وہ گویا ہوئیں۔آپ حیران ہیں کہ آج کی تقریب جو معمار ملت کے نام سے ہے۔ اس کا مرکز،اور اصل میری قوم کی عظیم مائیں ہیں۔آج کا دن آپکی قربانیوں اور لازوال محبتوں، ایثار، بے غرضی،ملی غیرت، جذبہ ایمانی سے عبارت ہے۔آپ وہ ہیں اللہ ربی نے جن کے سپرد اپنی امانتیں مستقبل کے معمار کی?۔آپ نے ہر ہر پہلو سے ان امانتوں کا مقدور بھرحق ادا کرنے کی سعی کی۔ خود کو بھول کر ان کو آگے بڑھاتی رہیں۔اخلاق و کردار کو سنوارتی رہیں۔دعائیں مانگتی رہیں۔آپ اس قوم کا اصل تاج اور شہزادیاں ہیں۔یہ سلطنت آپکی ہے۔آج اپکے بیٹے اگر قوم کا فخر ہیں تو باحیا بیٹیاں اسکی خوشبو۔ہم بحیثیت قوم آپ سے شرمندہ ہیں کہ ہماری غفلت کے باوجود مورچے آپ نے سنبھالے رکھے ہیں۔کسی عزت اور ستائش کے بغیر،یہ خدمت کبھی بھلائی نہ جا سکے گی۔یہ آپ ہی ہیں جو ملت کی کڑی گھڑیوں میں اپنے مورچوں پر کم سامانی، ستائش، صلے سے بے نیاز ڈٹی رہی ہیں۔اس وقت بھی آپ نے اپنے مورچے اور اصل کام نہ چھوڑے جب دنیا باہر نکلنے والی خواتین کو نوبل انعامات سے نوازا رہی تھی۔انھیں ان کے اصل مقام سے ہٹانے کی پلاننگ تھی۔آپ اپنے کام پر مرتکز ملت کا فرض کفایہ ادا کرتی رہیں۔
میری ماؤ! اور بہنو!دشمن نے زبردست چال چلی تھی۔وہ رنگینیوں اور سبز باغ دکھا کر بھی تمھیں تمھارے مورچوں سے نہ ہٹا سکا۔ مردانہ فیلڈ میں کسی عورت کی کامیابی کو نمایاں کر کے پیش کرنا ان کی چال ہی تو تھی تاکہ تم اپنا اصل کام چھوڑ کر ان چکروں میں پڑ جاؤ۔یہاں تک کہ نسوانیت بھی بھول جاؤ۔جیسے مغربی عورت بھول گئی۔بہترین پائلٹ، بہترین فوجی، بہترین ایئر ہوسٹس، حسینہ عالم کے القاب اور نہ جانے کن کن نوبل انعامات کی چمک بھی تمھیں راستے سے نہ ہٹا سکی۔ اس انحطاط کے دور میں ہم آپ سے اپنا بھولا سبق یاد کرنے بیٹھے ہیں۔ ہم مغرب کی عورت کی طرح ذلت کے گھڑوں میں گرنے کو تیار نہیں۔ ہم اسٹیٹس، ہوس،عیش وعشرت کی دوڑ میں تھک چکے۔رشتوں میں آرام اور پناہ چاہتے ہیں۔آج گزشتہ سے کہیں زیادہ شریعت کی ضرورت ہے۔پروگرام آخری مراحل میں تھا۔تاریخ مسکراتے روشن صبح کو دور سے طلوع ہوتا دیکھ رہی تھی۔مرد نما خواتین نوبل انعامات کے چکروں سے آزاد پرسکون سفر کا آغاز کرنا چاہتی تھیں۔
٭٭٭٭٭٭
