سلمان ریاض صاحب سے فیس بک کے ذریعے رابطہ ہوا جو بعد ازاں واٹس ایپ پر گفتگو کا ذریعہ بنا۔ معلوم ہوا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے سلسلے میں اسلام آباد آئے ہوئے ہیں۔ ان کی دفتری مصروفیات کچھ ایسی تھیں کہ وہ رات آٹھ بجے سے پہلے فارغ نہیں ہو پاتے تھے۔
واٹس ایپ پر مختصر بات چیت کا سلسلہ چلتا رہا ۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے ملنے کے خواہاں تھے۔ تب وہ پچھلے دنوں میرے غریب خانے پر تشریف لائے اور یوں دس پندرہ منٹ کی ایک مختصر مگر یادگار ملاقات ہوئی۔
سلمان ریاض صاحب پیشے کے لحاظ سے شعبۂ طب (میڈیسن) سے وابستہ ڈاکٹر ہیں مگر شاعری سے انہیں عشق ہے۔ محترم فرحت عباس شاہ کی حوصلہ افزائی کے باعث وہ اپنا پہلا شعری مجموعہ شائع کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ میں نے انہیں ایک انتہائی مخلص اور نفیس انسان پایا۔ انہوں نے میری منتخب غزلوں کے مجموعے ’’خلاصہ‘‘ کی اشاعت پر مجھے مبارکباد پیش کی اور اپنی کتاب ’’وضاحت نہیں کی‘‘ عنایت فرمائی جبکہ میں نے اپنی کتاب ’’انا کے دستانے‘‘ ان کی نذر کی۔ اس کے بعد وہ اگلے سال دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے رخصت ہو گئے۔
’’وضاحت نہیں کی‘‘ غزلوں کا مجموعہ ہے جس کے فلیپ سلیم کوثر اور خالد عرفان نے لکھے ہیں جبکہ دیباچہ فرحت عباس شاہ کے قلم سے ہے۔ شاہ صاحب سلمان ریاض کی شاعری کے بارے میں رقمطراز ہیں:
"سلمان چاہے ذات کے دکھ بیان کرے یا کائنات کے اس کا انداز سادہ اور لہجہ بے تکلفانہ ہی رہتا ہے۔ وہ اپنی اسی مزاجی سچائی کی وجہ سے اپنی پہلی ہی کتاب سے اپنا ایک منفرد اسلوب دینے میں کامیاب ہوتا نظر آتا ہے۔"
کتاب کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ واقعی سادگی اور بے تکلفی ان کی شاعری کا خاصہ ہے۔ انہوں نے اپنے احساسات دلی جذبات اور روزمرہ کے مسائل و آلام کو اپنی غزل کا موضوع بنایا ہے۔ اس مجموعے میں بے شمار رواں سلیس اور برجستہ اشعار موجود ہیں۔ میں ان کے شعری مستقبل سے بہت پُر امید ہوں اور ان کی کتاب کا پُر جوش استقبال کرتا ہوں۔ ذیل میں ان کی ایک غزل اور اس کا ادبی تجزیہ پیشِ خدمت ہے:
غزل
تجھ سے ملنے کی گھڑی تھی سو شرارت نہیں کی
راہِ دُشوار پہ چلنے کی حماقت نہیں کی
میں کہ ہر دور میں لڑتا رہا ظلمت کے خلاف
میرے اپنے تھے مقابل سو شجاعت نہیں کی
سب کے سب دیکھنے آئے تھے طبیعت میری
میں نے بھی خیر سگالی میں وضاحت نہیں کی
مختصر وقت میں کرنی تھیں ہزاروں باتیں
ہم نے رستے ہوئے زخموں کی شکایت نہیں کی
ٹوٹنا ٹھہرا مقدر جو مرے شیشوں کا
میں نے رکھے ہوئے پتھر کی حفاظت نہیں کی
سلمان ریاض کی یہ غزل اپنے اسلوب سادگی اور بیانیہ دھیمے پن کے باعث قاری کو فوراً اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔ بحر کی روانی اور قافیہ و ردیف کا دروبست غزل کے مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
مطلع میں شاعر نے انسانی نفسیات کے ایک خاص پہلو کو چھوا ہے۔ محبوب سے ملاقات کا لمحہ اتنا مبرم اور محترم ہوتا ہے کہ انسان وہاں کسی قسم کی غیر سنجیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دوسرے مصرعے میں ایک مصلحت پسندانہ یا شاید تھکے ہوئے مسافر کا اعتراف ہے کہ اس نے روایتی عاشقوں کی طرح خارزارِ عشق یا "راہِ دشوار" پر چلنے کی حماقت جان بوجھ کر نہیں کی جو جدید دور کے انسان کے عملی پسند ہونے کی دلیل ہے۔
دوسرا شعر اس غزل کا سب سے طاقتور اور کائناتی سچائی پر مبنی شعر ہے۔ شاعر کا دعویٰ ہے کہ وہ اصولی طور پر ہمیشہ اندھیروں اور ناانصافی کے خلاف برسرِ پیکار رہا لیکن المیہ تب جنم لیتا ہے جب دشمن کی صفوں میں اپنے ہی لوگ کھڑے ہوں۔ اپنوں کے سامنے تلوار اٹھانا شجاعت نہیں بلکہ کم ظرفی ہوتی ہے اس لیے شاعر نے وہاں ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دی۔ یہ شعر مروت وضع داری اور رشتوں کے تقدس کا عکاس ہے۔ اس موضوع پر راقم الحروف کا بھی ایک شعر قابلِ توجہ ہے
جب مرا بھائی مقابل آیا
اپنی تلوار گرا دی میں نے
کتاب کے عنوان "وضاحت نہیں کی" کی مناسبت سے تیسرا شعر مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں معاشرتی منافقت اور تنہائی کا گہرا احساس ہے۔ عیادت کے لیے آنے والے مخلص نہیں تھے بلکہ وہ محض رسمِ دنیا نبھانے یا تماشہ دیکھنے آئے تھے۔ شاعر نے بھی ان کی اس مصنوعی خیر سگالی کا بھرم رکھا اور اپنے زخموں یا دکھوں کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی کیونکہ وہ جانتا ہے کہ درد کا رشتہ ہر ایک سے استوار نہیں کیا جا سکتا۔
چوتھا شعر راقم الحروف اور سلمان ریاض صاحب کی حالیہ مختصر ملاقات پر بھی پورا اترتا ہے۔ جب وقت کم ہو اور باتیں ہزاروں ہوں تو وہاں دکھوں کا رونا رو کر وقت ضائع کرنا نادانی ہے۔ شاعر نے شکوے شکایتوں پر محبت بھری گفتگو کو ترجیح دی جو ان کے مثبت رویے کو ظاہر کرتی ہے۔
آخری شعر میں شیشہ اور پتھر کی روایتی علامتوں کو شاعر نے ایک نئے انداز میں برتا ہے۔ جب شاعر کو اندازہ ہو گیا کہ اس کا دل یا اس کے خواب (شیشے) ٹوٹنے ہی والے ہیں اور یہ مقدر کا لکھا ہے تو اس نے اسبابِ ستم (پتھر) کی حفاظت کرنا چھوڑ دی۔ یعنی جب بربادی یقینی ہو تو انسان بچاؤ کی تدبیروں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ سلمان ریاض کی یہ غزل جذبات کی سچائی بیانیے کی سلاست اور صوفیانہ مصلحت پسندی کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ ان کا لہجہ دھیما ہے مگر اس دھیمے پن میں ایک گہری گونج موجود ہے جو دیر تک دل پر دستک دیتی رہتی ہے۔
