عورت کیوں نہیں بولتی؟ ۔۔ شہنیلا بیلگام والا

آج ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے سوال کیا ہے کہ پاکستانی عورتوں کی اکثریت اپنے لیے اسٹینڈ لیتے ہوئے کیوں ڈرتی ہے؟
اس کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ جس لڑکی نے بچپن ہی سے یہ سنا ہو کہ سالن کی اچھی بوٹی باپ اور بھائیوں کو ملے گی. جہاں ماں سے یہی سننے کو ملے کہ اگر چھوٹا بھائی بدتمیزی بھی کرتا ہے تو برداشت کرو کہ لڑکا ہے. جب ساری زندگی بیٹی کی پیدائش پہ سوکھی مبارکباد اور بیٹے کی پیدائش پہ مٹھائیاں بٹتے ہوئے دیکھا ہو تو اپنے لیے اسٹینڈ لینا تو دور کی بات، ہر طرح کے abuse کو عورت کا مقدر کہتے ہوئے برداشت کیا جاتا ہے.
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ معاشی طور پر مضبوط عورت اسٹینڈ لے لیتی ہے. ایسا ہرگز نہیں ہے. ہمارے معاشرے کی عورت اگر معاشی طور پر خودکفیل ہو بھی جائے تو معاشرتی بوجھ کے نیچے دبی ہوتی ہے. آج کل کے ماڈرن زمانے میں بھی جب گھر کے باہر پڑی ہوئی مرد کی جوتی بھی محافظ ہوتی ہے جیسی پوسٹس پہ مرد اور عورتیں واہ واہ کے ڈونگرے برسائیں. تو سمجھ لیجیے کہ ہمارے معاشرے کا مائینڈ سیٹ کیا ہے. کوئی یہ سوال نہیں کرے گا کہ کیا اس مرد کی جوتی بھی محافظ ہے جس جوتی کا کام ہی بیوی پہ بے دریغ برسنا ہے.
چلیں ایک سوال کرتی ہوں. ہم میں سے بیشتر نے بہت سے مکان ایسے دیکھے ہوں گے جن پہ بیٹا بیٹی دونوں ہونے کے باوجود گھر کا نام بیٹے کے نام پہ رکھا جاتا ہے. جیسے معظم منزل، شجاعت محل. کیا آج تک کسی نے بیٹے کی موجودگی میں گھر کا نام بیٹی کے نام پہ رکھا ہے. یہ مت کہیے گا کہ لڑکیوں کا نام حیا کے تقاضوں کی وجہ سے نہیں رکھا جاتا. اگر ایسا ہوتا تو ماں کے نام پہ گھر کے نام نہ رکھے جاتے. میں نے اپنی آنکھوں سے خدیجہ محل اور زلیخا منزل ماؤں کے نام پہ دیکھے ہیں. بس آج تک بیٹی کے نام پہ گھر کا نام نہیں دیکھا.
ایسے معاشرتی ڈھانچے میں عورتوں کو اپنے لیے اسٹینڈ لینے میں زمانے لگیں گے

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !