چشمِ فلک آج وہ منظر دیکھنے لگی ہے کہ جب صرف تین ہزار سرفروشانِ اسلام وقت کی سپر پاور روم کے ایک لاکھ فوج کے ٹڈی دل لشکر سے ٹکرانے نکلے ہیں ۔
طاقت کا کوئی توازن نہیں تھا یہ جنگ صرف اور صرف جذبہ ایمانی اور خالد بن ولید کی منفرد جنگی حکمتِ عملی سے لڑی گئی۔
اس جنگ نے خالد کو ہمیشہ کے لئیے" سیف اللہ المسول" بنا دیا۔۔۔اسکے بعد اللہ کی یہ تلوار برقِ قہر بن کر گرتی رہی جس نے اسوقت کی دو عالمی طاقتوں کی کجکلاہی کو خاک بسر کر دیا۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کو خود ترتیب دیا ، روانگی سے پہلے لشکر کا امیر مقرر کرتے ہوئے فرمایا !!
"اگر زید بن حارثہ شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب علم سنبھالیں اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ علم اٹھائیں۔"
پھر وہ لمحے آئے جنہوں نے اسلامی تاریخ میں چند کرداروں کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
سب سے پہلے نوجوان زید بن حارثہؓ جھنڈا اٹھائے دشمن کی صفوں میں اترے۔۔۔ وہ خوب بہادری سے لڑتے رہے یہانتک کہ نیزوں اور تلواروں نے ان کے جسم کو چھلنی کر دیا مگر پرچم زمین پر نہ گرنے دیا۔
انکی شہادت کے بعد پرچم فوراً جعفر بن ابی طالبؓ کے ہاتھ آ گیا۔یہ وہی جعفر تھے جنہوں نے حبشہ میں اسلام کی ترجمانی کی تھی۔
جنگِ موتہ میں انہوں نے گھوڑے سے اتر کر اس کی کونچیں کاٹ دیں تاکہ واپسی کا خیال بھی دل میں نہ آئے۔
وہ دونوں ہاتھوں سے جھنڈا تھامے لڑتے رہے ایک بازو کٹ گیا تو دوسرے سے تھام لیا دوسرا بھی کٹ گیا تو بازوؤں کے باقی حصے سے پرچم کو سینے سے لگا لیاآخرکار وہ بھی شہید ہو گئے۔۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جعفرؓ کے کٹے ہوئے دونوں ہاتھوں کے بدلے انہیں جنت میں دو پر عطا کیے ہیں۔۔۔۔اسکے بعد جعفر جعفر نہ رہے "جعفر طیار "ہوگئیے۔۔
پھر عبداللہ بن رواحہؓ نے علم سنبھالا...اس شان سے لڑے کہ شہادت نے انہیں بھی اپنی آغوش میں لے لیا۔۔۔
تینوں سالاروں کی شہادت کے بعد اسلامی لشکر بغیر کسی قائد کے رہ گیا اور صفوں میں انتشار پھیلنے لگا۔
رومی مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیرا ڈال کر مٹانے ہی والے تھے کہ ایک انصاری صحابی حضرت ثابت بن اقرمؓ نے گرتا ہوا علم تھاما اور بلند آواز سے پکارے !!
"اے مسلمانو!
اپنے میں سے کسی ایک شخص کو سالار منتخب کر لو"۔
لوگوں نے جواب دیا
"ثابت! اب آپ ہی ہمارے سالار ہیں"۔
ثابت نے انکار کیا
"نہیں، میں اس کا اہل نہیں"۔
پھر ان کی نظر مکہ کے اس نو مسلم جنگجو پر پڑی جو چند ماہ پہلے ہی اسلام لایا تھا یہ خالد بن ولید تھے ۔
ثابت بن اقرمؓ نے علم ان کی طرف بڑھایا اور بولے
"اے ابو سلیمان! یہ علم پکڑو خدا کی قسم تم عسکری چالوں کو مجھ سے بہتر جانتے ہو"۔۔
اُدھر مدینہ میں رسول اللہ ﷺ اپنے صحابۂ کرامؓ کے درمیان تشریف فرما ہیں ۔۔اچانک آپ پر ایک کیفیت طاری ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نبی کے سامنے موتہ کا منظر آشکار کر دیا..
آپ نے فرمایا!!
" زید نے جھنڈا لیا ہوا ہے .. وہ شہید ہو گئے اب جعفر نے جھنڈا اٹھایا... وہ بھی شہید ہو گئے۔ اب عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا تھام لیا ہے۔۔... وہ بھی شہید ہو گئے۔"
یہ فرماتے ہوئے رسول اللہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
ماحول پہ گھمبیرتا چھائی ہوئی تھی ۔۔صحابہ کرام پہ سکوت طاری تھا۔۔مدینہ میں بیٹھے ہوئے وہ شام کے میدان میں تیغ و تفنگ کی جھنکار سن رہے تھے۔
کچھ دیر بعد حضور ﷺ کا چہرہ مبارک چمک اٹھا اور آپ ﷺ نے بلند آواز سے وہ تاریخی اور بے ساختہ جملہ ارشاد فرمایا !
:"حتیٰ اَخَذَ الرَّایَۃَ سَیْفٌ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ، حَتّٰی فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ"
"یہاں تک کہ اب علم کو اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (سیف اللہ) نے سنبھال لیا ہے اور اللہ نے ان کے ہاتھوں (مسلمانوں کو) فتح (اور نجات) عطا فرما دی ہے"
وہ مردِ جری خالد بن ولیدؓ تھے۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں ہے ۔۔۔یہ سند ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خالد بن ولید کو کہ جس نے ابھی چند ہی ماہ پہلے اسلام قبول کیا تھا۔۔۔ آج انکے لیے خاتم النبئین ﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ کی تلوار ہے۔۔۔پھر یہ تلوار برق بن کے ایسی چمکی ایسی چمکی کہ سلطنت روم و فارس اسکی چمک سے خیرہ ہوگئیں ۔۔
اسی لمحے خالد بن ولیدؓ ہمیشہ کے لیے "سیفُ اللہ" بن گئے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے آگے بڑھ کر علم سنبھالا۔۔ انہوں نے بکھرتی ہوئی فوج کو یکجا کیا اور خود رومیوں کے غول میں گھس گئے۔ شمشیر زنی کا وہ مظاہرہ کیا کہ ان کے اپنے الفاظ میں اُس ایک دن ان کے ہاتھ میں نو (9) تلواریں ٹوٹیں اور صرف ایک چوڑا یمنی خنجر باقی بچا۔
انہوں نے رومی لشکر کو دباؤ میں رکھا اور رات ہوتے ہی سائکالوجیکل وارفیئر کے تحت اپنی مشہور عسکری چال چلی ۔
انہوں نے راتوں رات اپنی فوج کی ترتیب بدل کر (دائیں کو بائیں، اگلی صف کو پیچھے کر کے) رومیوں کو یہ تاثر دیا کہ مسلمانوں کہ نئی کُمک آ گئی ہے
جدید عسکری اصطلاح میں اسے "Deception and Misdirection" (دھوکہ اور گمراہی کی حکمتِ عملی) کہا جاتا ہے جس سے دشمن کا حوصلہ لڑے بغیر ٹوٹ جاتا ہے۔
موتہ میں خالد بن ولید نے محض غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ ہی نہیں کیا بلکہ اس عسکری بصیرت سے کام لیا جسے آنے والی جنگی مہارتوں میں شمار کیا گیا۔
یہ کسقدر ایمان افروز منظر ہوگا کہ
موتہ کی سزمین پر خالدؓ دشمن کے نرغے میں تلوار چلا رہے ہیں اور مدینہ میں رب کی طرف سے ملی خبریں رسول اللہ ﷺ اپنے اصحابؓ کو سنا رہے تھے۔
موتہ کا میدان میلوں دور تھا مگر نبوت کی نگاہ اس لمحے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔کہ جب تین چراغ بجھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی تلوار کو علم عطا کیا جس کی دھار پھر یرموک، عراق، شام اور فارس تک اسلام کی تاریخ رقم کرتی چلی گئی۔
اس دن تاریخ نے خالد بن ولیدؓ کو ایک جرنیل نہیں، بلکہ "سیفُ اللہ المسلول" کے نام سے یاد کرنا شروع کیا۔۔۔
جو رہتی دنیا تک خالد کی عظمت کی دلیل ہے ۔
