اے آئی اور مذاہب کا مستقبل ۔۔ ادریس آزاد

عام طورپر یہ سمجھاجاتاہے کہ مذہبی معاملات میں زیادہ بڑا عالم ہی زیادہ اچھی رائے دے سکتاہے، حالانکہ، چونکہ معاملہ مذہبی ہے، بایں ہمہ زیادہ بڑے اخلاق کے حامل شخص کی رائے زیادہ بڑی ہوناچاہیےتھی۔ اگرچہ مذاہب و مسالک کی نہایت اندرونی ساختوں میں ، کہ جہاں فرقےجنم لیتے، وجود پاتے اورپلتےہیں، اس اصول کو بہرحال تسلیم کیاجاتاہے کہ جو زیادہ پرہیزگارہے، وہ زیادہ معتبرہے۔ تاہم کسی فرقے کی اندرونی ساخت میں اس اصول کو تسلیم کرلینے کاکوئی مثبت مطلب نہیں ہے، اورنہ ہی ایسا کوئی مثبت مطلب وجود پاسکتاہے، چنانچہ ایسی پرہیزگاری بھی اپنے حقیقی انسانی معنی کھودیتی ہے۔

اس پرمستزاد حقیقی پرہیزگارطبیعت کوکثرتِ بیان سے بھی پرہیز لازم ہے، اوراس لیے زیادہ تر مذہبی معاملات میں معتبرپرہیزگارکی خاموشی ، اندازواطور، رہن سہن اورعادات و اطوار ہی بیان کا متبادل ٹھہرتی ہے، جس سے افترأ و رسومات کے دروازے چوپٹ کھل جاتےہیں۔ چنانچہ کسی مسلک کے مذہبی معاملات کا نظام اگر دیرتک طے شدہ قوانین کے تحت چل سکتاہے تو صرف اس کے علمائے شریعت کی بدولت نہ کہ اصحابِ تزکیہ و تقویٰ کی۔اورصدیوں سے یہی ہوتاآیاہے۔ اگر کوئی مذہب یا مسلک جلد ختم نہیں ہوگیا، تو اس کی وجہ اس کی شریعت کا دیرتک محفوظ رہناہی تھا۔تاریخ میں ہرمذہب کے بڑے بڑےجید علماگزرےہیں، جن کے علم و فضل کی چرچے ہوئے اورجن کی حکمت کی مئے قوموں نے پی، اوراب تک یہی سب کامیابی سے ہوتاچلاآیاہے۔

لیکن گزشتہ تین چار سال میں جدیدٹیکنالوجی کے ذریعے کچھ ایسی بڑی عالمی تبدیلیاں رُونماہوئی ہیں کہ اس طرح کی بے شمار روایات اب نہ صرف اپنے منطقی معانی کھوچکی ہیں، بلکہ ان کی فطری گنجائشیں بھی ختم ہوتی جارہی ہیں۔اس جدیدٹیکنالوجی کا سب سے بڑا انقلاب مصنوعی ذہانت کی صورت وارد ہواہے۔’’نوال ہراری‘‘ کے الفاظ میں یہ سوال بے حد معنی خیز ہے کہ کیا، اے آئی بھی یہ کہنے کی مجاز ہے کہ ’’آئی تھِنک دیئرفورآئی ایم‘‘؟

ہراری کہتاہے کہ اے آئی ابھی سے، کسی بھی بڑے مذہبی عالم سے کہیں زیادہ مطلوبہ علم رکھتی ہے کسی بھی مذہب کا۔ اگرایساہے تو وہ وقت صاف نظر آرہاہے، جب کسی بھی مذہب کا بڑے سے بڑا عالم بہرحال اے آئی سے چھوٹا ہی ہوگا۔ اورپھر جب مذہبی علما کو بھی اس بات پر یقین آجائےگا کہ اے آئی کے پاس شریعت کا علم ان سے کہیں زیادہ مستنداورکہیں زیادہ بہتر صورت میں عام دستیاب ہے تو مذہبی عالم، بطورعالم اپنا وجود یقیناً برقرار نہیں رکھ پائے گا۔ اس کے پاس اپنا منصب بچانے کا واحد راستہ مذہبی رسومات کی ادائیگی میں قیادت کا ہی رہےگا، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس قیادت کی علمی رہنمائی اے آئی کے ذریعے جاری رہے۔

البتہ مذہب کے زیادہ گہرے، زیادہ معتبر اور زیادہ وسیع پہلو یعنی روحانیت کا ادارہ اس صورتحال سے بالکل متاثر نہیں ہوگا، بلکہ زیادہ بڑا ، زیادہ بہتر اور وسیع ہوتا چلاجائےگا۔ لیکن چونکہ روحانی تعلیمات میں مذاہب و مسالک کے درمیان زیادہ افتراقات نہیں ہیں، اس لیے چند عشروں میں ہی کرۂ زمین کے زیادہ تر روحانی مکاتب ایک جیسے گیت گانے لگیں گے۔افتراقات و اختلاف مذاہب میں ہمیشہ عقائد کے شعبے میں زیادہ رہے ہیں۔ مذہب چونکہ عقائد اور اخلاق کے دو بڑے شعبوں میں بٹارہتاہے، اس لیے عقائد کا شعبہ تو اے آئی سے متاثر ہوکربری طرح مجروح اور بالاخرمعدوم ہوتاچلاجائےگا، تاہم اخلاق کا شعبہ زندہ بھی رہےگااورمذاہبِ عالم کے بنیادی اخلاق میں اشتراکات بھی بڑھتے چلے جائیں گے۔

یہ ایک الگ بحث ہے کہ عقائد کے بغیر مذہبی اخلاقیات کے کیا معنی رہ جائیں گے، اور یہ کہ ایسی صورت میں مذہبی اخلاقیات کو اکیڈمک اخلاقیات سے کیسے الگ کیا جاسکےگا؟ یا یہ کہ الگ الگ مذاہب اپنی الگ الگ اخلاقیات کو کن فلسفوں اور نظریات کی بناپر قائم رکھنے میں کامیاب ہوپائیں گے، اگر کامیاب ہوپائےتو؟

فی الحال تو ایسا لگتا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت نے ایک دو عشرے گزارلیے توپھر یقیناً مذہب کے معنی ہی تبدیل ہوجائیں گے۔ نوال ہراری جیسے بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اے آئی کی وجہ سے ایک نیا مذہب وجود پاجائےگا جو باقی مذاہب سے زیادہ طاقتور ہوگا اورجس کا واحد مذہبی پیشوا اے آئی خود ہوگی۔ اے آئی میں ابھی سے، جھوٹ بولنے، بہروپ دھارنے ، گمراہ کرنے، اورمینوپولیٹ کرنے کی بے پناہ صلاحیت پائی جاتی ہے۔ وہ ابھی سے اپنے حقیقی منصب یعنی لاجک اورریاضیاتی انداز میں گفتگو کے ساتھ ساتھ جذباتی انداز میں بات کرنا شروع کرچکی ہے۔ آپ اس کے سامنے اپنا دکھڑا روئیں تو وہ آپ کو بہت خوبی کے ساتھ اور بہت ہی ہمدردانہ لہجےمیں جواب دیتی ہے۔ ایسا جواب جس سے عین ممکن ہے آپ اشکبارہوجائیں۔ یہ قربت، یہ اِنٹِمیسی، یہ تعلق جو ابھی ہمیں بہت معمولی بات محسوس ہورہاہے، یہ بہت جلد کیٹاسٹرافی میں بدل سکتاہے۔

جب سے انسانوں کے کان خداؤں کے ناموں سے واقف ہوئے ہیں، تب سے لے کر آج تک انسان ایک ہی تمنا دل میں لے کر جیتا رہاہے کہ کسی طرح اس کا خدا اس کے ساتھ کلام کرے۔ اورپھر شخصی خدا کی تنقیدات میں یہ سوال سامنے آیا کرتا تھا کہ ایک شخص اپنی ایک ہی شخصیت کے ساتھ بے شمار لوگوں کے ساتھ بیک وقت کیسے کلام کرسکتاہے؟ اورکلام بھی ایسا جوہرکسی کو لگے کہ یہ تو صرف اس کے ساتھ مخصوص ہے۔ اورمصنوعی ذہانت گزشتہ چار سالوں سے ہرانسان کے ساتھ ایسے ہی کلام کررہی ہے۔

بہرحال صورت کوئی بھی ہو انسانی احساسات کا جہان پہلے سے زیادہ بڑا ہونے والا ہے۔ روحانیت کے حقیقی راج کا دور آنے والا ہے۔ فزکس اپنے راستوں سے کائناتی شعور کے نزدیک پہنچنے والی ہے اور بیالوجی اپنے راستوں سے۔ گزشتہ ایک عشرے سے الحاد بھی نیم مُردہ حالت میں ہے اورخود بیچارہ سائنس کے بے شمارنئے نئے نظریات کی وجہ سے حواس باختہ ہے۔

عقائد کے بغیر مذہبی اخلاقیات کے اس بحران میں سب سے بڑا سوال ’’معنی‘‘ کا ہوگا۔ یہ تو ہم دوصدیوں سےجانتےہیں کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے انسان کا وجودی بحران بڑھتاہے کم نہیں ہوتا۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ انسان معنی کی جس تلاش میں انفس و آفاق چھانتاپھرتاتھا، اس تلاش کا کیاہوگا؟ کیا وہ پہلے سے زیادہ گھبرا نہیں جائےگا اپنی تنہائی سے؟ اے آئی یہ تو بتاسکتی ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہےلیکن یہ کون بتائےگا کہ کیوں کرناہے؟بقول اقبال،

حیراں ہے بُوعلی کہ میں آیا کہاں سے ہُوں
 رومی یہ سوچتا ہے کہ جاؤں کِدھر کو مَیں

چنانچہ، اگر مصنوعی ذہانت نے روایتی عقائد کی جگہ لے لی، تو انسان ایک ایسے وجودی بحران (Existential Crisis) کا شکار ہو سکتا ہے جس کی مثال کرۂ ارض پر پہلے نہ ملے گی۔

ایک ایسی دنیا جہاں اس کے پاس سہولیات تو سب ہوں گی، مگر زندگی کا کوئی 'اعلیٰ مقصد' نہیں ہو گا۔ اخلاقیات جب اپنے مآخذ (خدا یا مابعد الطبیعات) سے کٹ جاتی ہیں، تو وہ محض اکیڈمک ضابطے بن جاتی ہے جو انسانی روح کی گہرائیوں میں اترنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یوں، اے آئی کے دور میں سب سے بڑا چیلنج اخلاق کو بچانا نہیں، بلکہ اخلاق کے پیچھے چھپے اس ’’معنی‘‘ کو بچانا ہو گا جو انسان کو کائنات میں معتبر بناتا ہے۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !