فلسفہ محبت و جنسیات۔ڈاکٹر مختیار ملغانی


جنسی عمل جیسے فطری کام بارے بھی عموماً سرگوشی یا اشاروں کنایوں میں بات کرنا پڑتی ہے کہ یہ عمل ممنوعات کی اس فہرست میں شامل ہے جو کچھوے کے خول جیسی ایک آہنی چادر سے ڈھکی ہے، اس بیہودگی کا سہرا عیسائی رہبانیت کو جاتا ہے، ان روکھے مزاج اور جمالیات سے عاری راہبوں سے قبل جنسیات ایک دیوتائی فعل تصور کیا جاتا تھا ، فعل عروسی کا نکتۂ عروج انسانی فطرت کی کاملیت کا اشارہ دیتا تھا ۔ انسان نفسیات میں چھپی اس کی شہوانی خواہشات اور جسمانی مطالبات کو یکجان کرنے سے ہی انسان نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی بہتر جاننے میں مہارت حاصل کرسکتا ہے۔
نیند میں شہوانی خوابوں کی یلغار بھی بلاوجہ نہیں کہ شعور میں رچی رکاوٹ اور لاشعور سے اٹھتی منہ زور طغیانی کی دھکم پیل یہ سمجھنے کو کافی ہے کہ اس دیوار کو جب تک ہم گرا نہیں دیتے تب تک ہم خود کو اور دوسروں کو فقط جزوی طور پر ہی سمجھ پائیں گے اور آدھے تیتر آدھے بٹیر کی سی کیفیت میں باقی ماندہ نصف بارے تخمینے اور تکے لگانا ہی ہماری فطرت ثانیہ بن چکا ہے، اب یہ تکے اور تخمینے والی ناگفتہ بہ حرکت باقاعدہ ایک فن کا درجہ حاصل کر چکی ہے ۔

اس موضوع سے روگردانی کرنا اصل میں حسن سے انکار کرنا بھی ہے کہ ظاہری خوبصورتی محبت کے جذبے کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور پھر یہی جذبہ آگے جا کر قربت کا ضامن قرار پاتا ہے ۔ حسن صرف سامنے والے کی ذات سے ہی منسلک نہیں، بلکہ اس کی جڑیں انسان کے اپنے اندر سے پھوٹتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ کوئی فرد کسی ایک انسان کے نزدیک تو خوبصورت ہو لیکن دوسرا اسے خونصورت ماننے کو تیار نہیں کہ خوبصورتی ایک سبجیکٹیو چیز ہے، اسی لئے محاورتاً کہا جاتا ہے کہ ، حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے ۔ اب جنس پہ بات کرنے کو ممنوع قرار دینے سے حسن کو سراہنا بھی ممکن نہیں رہتا تو ہمارے سماج کی اجتماعی جمالیات کا جو بیڑا غرق ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے، گیت ہیں تو دما دم مست قلندر ، رقص ہے تو مہک ملک ، گلوکار ہے تو ذیشان روکھڑی ، تجزیہ کار ہیں تو مزمل سلہری ۔ یعنی، پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے ۔

محبت اور جنس کے جذبات کو آجکل انسانی دماغ کے کیمیائی عناصر سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے ، گویا کہ لمس سے جسم جو ردعمل دیتا ہے اس کے نتیجے میں مخصوص کیمیائی عناصر خارج ہوتے ہوئے ہمارے اندر خاص جذبات کو جنم دیتے ہیں، یہ بات مگر پوری طرح درست نہیں ، کیونکہ محبت اور جنس کا تعلق brain کی بجائے mind سے زیادہ ہے، یہ معاملہ خالصتا brain کا ہوتا تو کچھ ادویات کی مدد سے ہجر کے عذاب سے جان چھڑائی جا سکتی تھی، دوسری طرف جنسیات کو لے کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ عمل جبلتی طور پر انسان کی افزائشِ نسل سے جڑا ہے، اگر صرف یہی ایک وجہ ہوتی تو مرد اور عورت اپنے بچوں کی پیدائش اور منصوبہ بندی پر گفتگو کرتے ہوئے ہیجانی طور پر بھڑک اٹھتے مگر ایسا نہیں ہوتا ۔

حیاتیاتی نکتۂ نگاہ اس خوبصورت فعل کی پوری تصویر دکھانے سے قاصر ہے کہ معاملہ صرف بچوں کی پیدائش یا دماغی عناصر تک محدود ہوتا تو قدیم ادوار کی مذہبی اور رمزی رسومات میں جنسی عمل کو اتنی اہم حیثیت حاصل نہ ہوتی ، یہاں آ کر پھر ہمیں اس کے اساطیری پہلو کی طرف توجہ کرنا ہوگی ۔
قدیم یونانی اساطیر میں ایک اسطورہ androgyne ہے جسے افلاطون نے بیان کیا ہے، اس اسطورہ کے مطابق پہلے انسان میں نر اور مادہ دونوں برابر موجود تھے اور یہ انسان بہت طاقتور تھا ، ان کی طاقت کو دیکھتے ہوئے دیوتا زیوس نے انہیں دو حصوں میں تقسیم کر کے مرد اور عورت کو علیحدہ کر ڈالا اور ایک دوسرے کی تلاش میں بھٹکنے کیلئے زمین پہ چھوڑ دیا، بس اسی دن سے ایک نصف اپنے دوسرے نصف کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ دوسری طرف اسطورہ انسانی لاشعور کی زبان بھی ہے ، گویا کہ لاشعور کی سطح پہ انسان اپنے کھوئے ہوئے حصے کی تلاش میں رہتا ہے اور اس نصف کے ملنے پر محبت کے جذبات محسوس کرتا ہے، اسے ہمارے ہاں یوں بیان کیا گیا کہ عالم امر میں جو روحیں ایک دوسرے سے شناسا تھیں وہ زمین پر بھی ایک دوسرے کیلئے دوستی کے جذبات محسوس کرتی ہیں ۔
پیدائش کے وقت بچے کی نفسیات میں زنانہ یا مردانہ رجحانات مبہم ہوتے ہیں ، یہ چیزیں اسے سماجی اقدار سکھاتے ہیں، انہی سماجی اقدار کے تحت لڑکا اپنے زنانہ رجحانات کو اور لڑکی اپنے مردانہ رجحانات کو تحت الشعور میں دھکیلتے جاتے ہیں ، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر مرد میں ایک عورت اور ہر عورت میں ایک مرد چھپا ہوتا ہے، یہی کارل یونگ کے Anima and Animus ہیں، اب آرکیٹاہپس کے مطابق ہر مرد جن جن عورتوں کو جانتا ، پرکھتا ،سمجھتا دیکھتا جاتا ہے اس کے اندر وہی روپ اپنی جگہ لیتے چلے جاتے ہیں، یہی معاملہ مستورات کے ساتھ ہے کہ جن مردوں سے واسطہ پڑا، حتی کہ پردہ سکرین پہ دیکھا یا پڑھا وہ اسے آئیڈیالئز کر سکتی ہے، اس لئے حیرانی نہیں ہونی چاہئے کہ بعض اوقات مرد کو نیک اور شرمیلی خاتون متاثر کرتی ہے تو گاہے شوخ اور چنچل حسینہ اسے اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، اسی لئے واقفان حال کہہ گئے ہیں کہ بستر پہ اور بستر سے باہر انسان کو موقع محل کے مطابق رویہ اختیار کرنا چاہئے کہ قیام کے وقت سجدہ جائز نہیں ۔

وہ رجحانات جو سماجی دباؤ کے تحت ہم اپنے لاشعور میں دھکیلتے جاتے ہیں، ان رجحانات سے مماثلت جب ہم مخالف جنس میں دیکھتے ہیں تو فورآ پسندیدگی محسوس کرتے ہیں، بعض اوقات پسندیدگی کی شدت اتنی زیادہ ہو سکتی ہے کہ ، پہلی نظر میں تمہیں دل دیا ہے، گنگنانے کو دل کرتا ہے، یہ بالکل اسی نفسیات کا متضاد پہلو ہے جو کارل یونگ کے سائے کی نفسیات ہے کہ جو برائی ہم اپنے اندر چھپائے رکھتے ہیں وہ کسی اور میں دیکھیں تو بھڑک اٹھتے ہیں اور لعن طعن شروع کر دیتے ہیں، یہ سب لاشعور کا عکس ہے جو حقیقت کا روپ بن کے سامنے آتا ہے، مثبت اور منفی دونوں اطراف سے۔ لاشعور میں بیٹھی خواہش جتنی شدید ہوگی اس کا عکس سامنے آنے پہ ردعمل اور اس ردعمل کا اثر اتنا ہی پرزور اور دیرپا ہوگا ، جیسے وہ جنسی خواہشات جو لاشعور میں پنپتی ہیں مگر شعوری سطح کے اظہار میں جھجکتی ہیں ، اگر یہ خواہشات اپنااظہاریہ پالیں تو فریقین کے بیچ وابستگی اور پیوستگی بڑھ سکتی ہیں، بستر عروسی پر بوقتِ وصل سامنے لگے قد آدم آئینے میں فریقین ایک دوسرے کو دیکھیں تو یہ بھی لاشعوری میں پنپتی خواہشات کا اپنی طرز میں ایک اظہاریہ ہے، جیسے دھندلاہٹ سے نکل کر وجود اب روشنی میں آگیا ہو ۔

گویا کہ انسان اپنے اندر موجود خلا کو بھرنے کی تلاش میں رہتا ہے تمام عمر، خلا کو پر کرتا روپ سامنے آئے تو سیرابی محسوس ہوتی ہے، یعنی اندرونی خلا اور بیرونی روپ ایک ہی وجود کے دو نصف ہیں، اب ان دو انصاف کا یوں ملنا، وہ بھی زمان و مکان کی قید کو لتاڑنے ہوئے، یونگ کے بقول قطعاً اتفاق نہیں ہو سکتا، یہ آفاقی چارہ گری ہے جو طویل عرصے تک اس حادثے کی آبیاری کرتی رہی، اس آفاقی چارہ گری کو ہی اساطیر سے تعبیر کیا گیا کہ معاملہ فقط ذہنی یا جسمانی نہیں بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر ہے ۔

جیسا کہ عرض کیا کہ حسن کا سبجیکٹیو تصور پسندیدگی سے ہوتا ہوا محبت اور پھر جسمانی قربت پہ آ ٹھہرتا ہے، فرانسیسی مصنف گستون بشلیارڈ نے اپنی کتاب the poetics of space میں ایک دلچسپ بحث چھیڑی ہے کہ بیڈروم انسان کیلئے گھونسلے کے اندر ایک گھونسلا ہے ، جیسے گھر ایک محفوظ مقام ہے تو بیڈ روم اس محفوظ مقام کے اندر محفوظ تر مقام ہے، اسی بیڈروم میں جو بستر ہے یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کمزور بھی ہے اور حقیقی بھی ، یہیں وہ خواب دیکھتا ہے، محبت کے لمحات گزارتا یے، بیماری کے دن کاٹتا ہے، گویا کہ انسان کا بستر وہ جگہ ہے جہاں اس کا شعور اور لاشعور قریب تر آ جاتے ہیں اور بعض اوقات تو ان کے بیچ کھڑی دیوار میں شگاف تک پڑ جاتا ہے، علامتی طور پر بیڈروم کو عورت کی کوکھ سے تعبیر دی جا سکتی ہے کہ جہاں فرد سکون اور تحفظ محسوس کرتا ہے، غار کا تصور بھی کوکھ سے ابھرا کہ جہاں معتدل درجہ حرارت اور تحفظ درکار تھا ۔
بید روم میں گھستے ساتھ ہی انسان بیرونی لباس کے ساتھ ساتھ چہرے سے وہ ماسک بھی اتار پھینکتا ہے جو سماجی ضروریات کے مطابق اس نے چڑھا رکھے تھے، اس ماسک کے پیچھے کیا چھپا ہے ؟ وہی جو ہم دوسروں کو نہیں دکھانا چاہتے، بات صرف جسمانی حجاب کی نہیں ، نفسیاتی حجاب اس سے زیادہ اہم ہے جسے ہم دوسروں سے چھپا رہے ہوتے ہیں، ماسک اتارنے کے بعد انسان اپنے اصل کے قدرے قریب ہوتا ہے، مگر جنسی خواہشات اور تصورات کو لے کر جھجک کی دیوار گرانے کیلئے ضروری ہے کہ فریقین ایک دوسرے کا لباس اتاریں، گویا کہ یوں وہ ایک دوسرے کو اعتماد دیتے ہوئے اجازت دے رہے ہیں کہ محبوب کو کوئی insecurity نہیں ہونی چاہئے، لاج و حیا کی غیر ضروری چادر اتارنے کیلئے لباس اتارنے میں محبوب کی مدد کی جانی چاہئے ، لباس کی ایک ایک تہہ کے گرنے سے عشاق شعور سے لاشعور، عقل سے جنون اور نامقدس سے مقدس کا سفر کر رہے ہوتے ہیں جو کہ طواف کیلئے ناگزیر شرائط ہیں ۔ اگر بستر پر بھی انہی سماجی ماسک کے ساتھ اترا جائے تو محبوب میں تحلیل ہونے کے لطف سے محرومی رہے گی، یہ ایسے ہے جیسے حرم میں توبہ کیلئے داخل ہوا جائے مگر اپنے گناہ کا اقرار کرنے سے فرد منحرف رہے ۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !