جس طرح زندگی کے پاؤں میں سفر باندھ دیا جاتا ہے ۔اسی طرح ادب کی زمین پر قلم کی نوک ،لفظوں کی کاٹ ،جذبوں کی آنچ،خیالات کی بلندی، تحقیق اور پڑتال سے آبیاری کا آغاز ہوتا ہے اور نوخیز گلستان ادب کو سیرابی کے سفر پہ قلمکار لے نکلتا ہے ۔منزل کا تعین کرنا اس میں نا ممکن ہے ۔خزاں رسیدہ زرد موسم میں بسیرا کرنا پڑتا ہے ۔یا پھر سرد موسم کی ٹھٹھرتی شاموں میں نثر کی چادر اوڑھے کسی غزل کا مقطع،حسن خیال کو زنجیر تنہائی میں قید ملتا ہے ۔یا پھر نثری قلم کی زلفوں کی گنجلک میں دم سادھے کنائیے،استعاروں کے ہجوم میں ردیف،قافیے کے پیوند لگانے میں ناکام،بدحواس، بے نور اور بیقرار تڑپتے لرزتے لفظ اور لفظوں کے ٹوٹے ہوئے جملے قلمکار کی ذات بن کر آئینے کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں ۔سچائی تک رسائی قلم کا پہلا سبق ہے ۔مگر اس تک رسائی پاتے پاتے انسان کی اکثر موت ہو جاتی ہے ۔مگر قلم اور لفظ کبھی نہیں مرتا ۔کتاب زندہ رہتی ہے ۔کہی ہوئی بات کی باز گشت صدیوں سنائی دیتی ہے۔مگر کہنے والا نہیں رہتا اور پڑھنے والا اور سے اور ہوتا چلا جاتا ہے ۔تاریخ کی زندگی کا موجب بھی قلم ،سیاہی،الفاظ اور قرطاس ہوا کرتے ہیں ۔ادب کی امانتوں کا امین ایک ادیب و شاعر ہوا کرتا ہے ۔
حرف شناس آنکھوں کے لئے ذوق کے رنگین آنگن سے معنی کی تابش سے خود کو روشن قندیل کرنا بہت آسان ہے ۔کیونکہ دل کے کشکول میں سکون کی جھنکار کا اعزاز جذب و کیف میں ڈوبے لفظوں یا پیرایہ کو حاصل ہے ۔چھن چھن کی پازیبی صدا یا کنگن کی کلائی سے مل کر صندل سی مہک ہواؤں کے دوش کرنا،ادب کو رنگینی ء جاں کا اذن بخشتا ہے ۔ شوق کی راہداریاں،ہمارے ذوق کی مرہون بھی ہوتی ہیں ۔لکھنے والے اپنے سجادے پہ آسودہ نفس نہیں ہو پاتے ۔کیونکہ انہوں نے محبتوں کے چراغ روشن کر کے رشتوں کو منور کرنا ہوتا ہے ۔قرطاس پہ سیاہی کے نقش و نگار،تزئین و آرائش کے محتاج کہاں ہوتے ہیں ۔جس طرح جناب گلستان خان لہر نیازی نے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار "سلاگر کی رات " میں افسانوں کی سانچے و ڈھانچے میں پیش کر کے معاشرے و سماج کے چہرے سے گھونگھٹ سرکا کر اہل دل واہل ہوش کے دل و سوچ میں ہلچل مچانے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے ۔
آج نگینہ بوٹ ھاؤس مین بازار میانوالی میں،جو کہ میری دوکان بھی، دفتر بھی، سیاسی و ادبی و مذہبی گفتگو کا اکھاڑہ بھی ،مزہبی لوگوں سے معذرت کے ساتھ سٹیج ہے وہاں اپنے ببلو بیٹے کے ہمراہ تشریف لائے اور کالاباغ کی سنگلاخ پہاڑوں کے نام کردہ افسانوں پر مشتعمل" سلاگر کی رات "سرکار پبلشرز ملتان"کے صاحبزادہ روفی سرکار کی برکات کے لبادے میں 144
صفحات اور 23افسانوں پر خوبصورت صفحات پر مشتعمل کتاب دیتے ہوئے کہا کہ باہی صاحب آپ صاحب کتاب بن چکے ہیں ۔۔یہ بھی پڑھیں اور اس پر لکھیں ۔۔جیسے میں کوئی زبردستی بنا ہوں حالانکہ بہت سارے دوستوں کے بار بار کے اسرار لیکن لہر نیازی اور منشا خان کے پر زور ،زور پر یہ چھوٹا سا ،"صاحب کتاب"کا لقب حاصل کرنے کے قابل ہوا ۔لہر نیازی خوبصورت شاعر ،
افسانہ نگار اور آنے والے اردو ناول "خان بابا"کے تخلیق کار کا تعلق موچھ سے ہے اور انہیں پہلی بار محمود ہاشمی مرحوم کے مشاعرے میں لیکر گیا اور پڑھوایا تھا ۔خوبصورت لفظ ہوں ، تحریر و تقریر ہو، ادائیگی ہو ،گائیکی ہو ، میری کمزوری ہیں۔چاہے وہ مقرر کا انداز ہو، قاری کی لے ہو، ثناء خوان کی تاثیر ہو، ڈھول کی تھاپ ہو،ہارمونیم کی کشش ہو
،سارنگی کی سر ہو، بھنگڑے کا انداز ہو،پائل کی جھنکار ہو،
ساقی کی تیر نظر ہو ،جام کا خمار ہو ،پڑھنے والے کے رخسار ہوں، سننے والی کی پلکیں ہوں، دیکھنے والے ہونٹوں کی لغزش ہو، بیٹھنے کا انداز ہو، کمر کی انگڑائی ہو، آنکھوں کی آنکھ مچولی ہو، آبرو کا اشارہ ہو ،ادائے بے نیازی ہو، محبت بھرا نگاہوں کا سلام ہو،حیا کی ادا ہو ،ادب کا سلیقہ ہو، جبین کا سجدہ ہو ،باپ کا روپ ہو ،ماں کی محبت ہو ،بیوی کی خدمت ہو ،بہن کی نسبت ہو ،بیٹی کے بے ساختگی ہو ،
یہ ادائے بے نیازی تجھے اے بے وفا مبارک
ایسی بے رخی کیا جو سلام تک نہ پہنچے
میری کمزوری ہیں میں داد دینا فرض عین سمجھتا ہوں کیوں جو بھی ہنر و عقیدت ہے وہ رب کی نعمت ہے ۔
اور لہر نیازی کی پہلی English Poetry book جو انہوں نے Dreams in Desert کے نام سے تہلکہ خیز انداز میں پیش کی میں نے اس وقت بھی فوراً تبصرہ اخبارات کی نذر کیا ۔اج انہوں نے افسانے "سلاگر کی رات "
رات جب جل اٹھتی ہے شدت ظلمت سے ندیم
لوگ اس وقفہ ء ماتم کو سحر کہتے ہیں
حوالے کی آج ہی ایک ہی نشست میں مکمل کتاب پڑھنے کے بعد اب واٹس اپ پر انگلیاں چلانے کی مشق کر رہا ہوں۔
میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں
غور سے جو دیکھا تو تیری تصویر بن گئی
دکھ, درد, محبت, پیار ,غرض یہ کہ ہر انداز کے جذبات واحساسات کو کوئی قلمکار ہی بامعنی الفاظ کو موتیوں کی صورت میں لڑیوں میں پرو سکتا ہے ۔جس سے ایسی روشنی نکلتی ہے کہ ہر طرح کا موسم سہانا ہو جاتا ھے درد میں ڈوبا ہوا سسکیوں کی شکل میں،دکھی آنسوں کی شکل میں، خوشگوار موڈ میں مسکراہٹ کے ذریعے، پڑھ کر سلام عقیدت پیش کرتا ہے جس طرح "سلاگر کی رات " کو پڑھتے وقت متعد بار قمیض کو آنچل بناتے ہوئے آنکھوں کو تسلی دیتا رہا.تاکہ دل مطمئن رہے کہ افسانے ہیں۔حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہے۔لیکن حقیقت کا اظہار یہی لفظ،شعرو نثر کے جملوں کے ذریعے اندر جا کر " مظاہرہ کرنے میں منہ زور ہو جاتے ہیں"
وہ رویا بہت مگر مجھ سے منہ موڑ کر رویا
کوئی مجبوری ہو گی جو دل توڑ کر رویا
میرے سامنے کر دیا میری تصویر کے ٹکڑے
پتا لگا میرے پیچھے وہ ان کو جوڑ کر رویا
جو مسکرایا تھا میری موت کا سن کر
لاش دیکھ کر وہ میری جان دل توڑ کر رویا
جناب صاحبزادہ روفی سرکار نے سرکار پبلشرز ملتان کی طرف سے کتاب نہیں دی سماج و معاشرت کے لئے پہلو وا کئے ہیں لہر نیازی کی یہ کتاب زندگی کی حقیقتوں کی ترجمان دراصل ان کی افسانوی زندگی کا رخ نہیں دیکھا رہی بلکہ یہ لفظوں کا مجموعہ چاند کی صورت ہے۔جو بھی،جس انداز سے جس ڈھنگ میں ،جس رنگ میں ،جس ادا میں ،جس طرح سے ،جیسے چاہے اس سے اپنے اندر کے موسم کے مطابق لطف اندوز ہو سکتا ہےکہ موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
کتاب کا نام کالا باغ کے پہاڑوں کے نام "سلاگر "افسانے کے ٹائٹل پر رکھ کر دریا کی لہروں کی طرح ہر افسانے میں نشیب و فراز دیکر قاری کو ایک ہی نشست میں مکمل کتاب پڑھنے پر قفس میں صیاد(لہر نیازی) کے حوالے کر دیا ہے
صیاد تیرے حکم رہائی کا شکریہ
ہم تو قفس میں کاٹ چکے دن بہار کے
پہلا افسانہ شاید اس لئے میری نوک قلم پر سبقت لے رہا ہے کہ میں خود جوتوں کی دوکان ۔۔نگینہ بوٹ ھاؤس کا مالک ہوں جو1950سے اسی مقام پر ہے ۔انہوں نے "جوتے" سے آغاز کتاب کیا اور صدر بش کو جوتا مارنے پر میں نے بھی "جھکانا "آرٹیکل لکھا تھا یاد آ گیا.. پہلے ہی افسانے میں غربت کی چیخیں آسمان تک سنائی دینے لگیں "قسمت کا پتھر "مذھبی لبادے میں موجودہ جہالت کی جھلک دکھائی ہے ۔کہ قلندر بابا پر۔ کس طرح اسلم شاہ اپنی زندگی کو توہم پرستی کی نذر کرتا رہا "حوا کی مجبور بیٹی" اسلام کی اس حقیقت سے روگردانی کی بھی کہانی ہے جس میں بیٹی سے جیون کا ساتھی پوچھنے کی پابندی ہے پر عمل نہ کر کے زندگی کو مسائل کی دلدل میں دھکیلا جاتا ہے "ناخلف" باپ تو باپ ہوتا ہے وہ کیسے گھر کی زندگی کی تلخیاں لوگوں کے سامنے پیش کرتا "لیکن "انجام "کا آخری جملہ"کہنے کو تو باپ حوصلے کا پہاڑ ہوتا ہے لیکن اپنی ہی اولاد کے لگائے زخم اس کو ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں " "حوصلے کا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو چکا تھا " یہ جملہ قاری کے حوصلے کو ریزہ ریزہ کرتا نظر آتا ہے ۔۔"یاد رفتہ" میں حقائق سے چشم پوشی اور خیالوں کی دنیا کا نتیجہ پیش کرتا افسانہ ہے ۔"اماں ابا کا کمرہ "والدین سے زیادہ کوئی کم ہی مخلص ہوتا ہے ۔سب کچھ مل سکتا ہے مگر والدین دوبارہ نہیں ملتے۔" اس حقیقت سے دنیا کی کوئی بھی سوچ انکار نہیں کر سکتی۔"یہ بیٹیاں ہی ہوتی ہیں جو ماں باپ کی
یادوں کو دل سے لگائے رکھتی ہیں ۔بیٹے تو اپنی ہی دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں "۔ ۔۔"گردش ایام "
مایوسیاں تو کفر ہیں لا تقنطو کے بعد
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
"پتھر دل " میں خدا کا انتقام بھی کہہ کر تبصرہ کر سکتے ہیں خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے بھی کہہ سکتے ہیں ۔"نصیب اپنا اپنا "میں خونی رشتوں کی لاج کی حقیقت کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے"آدھی عورت "میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اولاد کے بغیر عورت واقعی آدھی ہوتی ہے اور یہ ایک اظہر من الشمس حقیقت ہے ۔
کہا جاتا ہے بے حسی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے جو بے حسی کی چادر اوڑھ کر سو جائے وہ ہر قسم کے غم ،سوچ و بچار سے ماورا ہو جاتا ہے بے حسی کا متضاد احساس ہوتا ہے ۔افسانہ "احساس"میں گلستان خان لہر نیازی کے موتیوں کی چمک کو دیکھیں "ہمارا زمانہ تو لد گیا۔اب جو سانسیں بچی ہیں تو یہ بچوں کے حساب سے ہی لینا ہوں گی۔ارد گرد کا جو ماحول ہوتا ہے یہ ہمیں بہت کچھ سکھا تاہےاگر ہم موسم بدلنا نہ سکھیں تو کئی معاملات میں ہم الجھ کر رہ جائیں گے ۔اس الجھنے سے بہتر ہے ہم تھوڑا سا حالات کو دیکھ کر اپنے اندر تبدیلی لے آئیں۔"آج کا المیہ یہی ہے کہ"آج کا نوجوان سمجھتا ہے کہ وہ حادثاتی طور پر اس دنیا میں آ گیا ہے ۔اس کی نظر میں والدین صرف کاغذی کاروائی تک محدود ہیں ۔"یہ لہر نیازی کے خوبصورت افسانہ "المیہ" کا آغاز ہے ۔"پیار جو ںیت گیا "و دیگر میں سرزمین میانوالی بالخصوص موچھ سے میانوالی ہجرت کا مکمل اظہار ۔کچہری بازار ،رابی سنٹر ،مسلم بازار
،مسلم کالونی ،شہزاد ہوٹل ماڑی انڈس ریل گاڑی کا ذکر کیا ہے اور میانوالی سے وابستگی کا حق ادا کر دیا ہے ۔"۔ گھاٹے کا سودا" میں دیکھیں "محبت ملتی نہیں ،محبت حاصل کی جاتی ہے "۔ آج نوجوان دنیاوی محبت میں کس طرح دھوکا کھا کر اپنی اپنے والدین کی زندگی کو تباہ کر دیتے ہیں اس حقیقت پر خوبصورت تحریر ہے ۔"چراغ بجھ گئے "
شب انتظار کی کشمکش میں مت پوچھ کیسے سحر ہوئی
کبھی ایک چراغ جلا دیا،کبھی ایک چراغ بجھا دیا
زمینی حقائق کو امر ربی نہ سمجھنا اور اپنے غصہ پر قابو نہ پانے کے نتیجہ جو ہم اکثر معاشرے میں دیکھتے ہیں اس کی عکاسی خوبصورت انداز میں "چراغ بجھ گئے "میں کی گئی ہے ۔ رب کو خاوند نے مجازی خدا کا رتبہ دے رکھا ھے بغیر خاوند کی اجازت کے بیوی خانہ کعبہ طواف کعبہ کے لئے بھی نہیں جا سکتی ۔"بدلتے موسم "میں رب کائنات نے خاوند کو جو ترجیح دی ہے اس پر پہنچایا گیا ہے ۔ "انگاروں سے کھیلنے والے اپنے ہاتھ ضرور جلا بیٹھتے ہیں ۔ہمیں کل کی فکر تھی شکر اللہ کا ہم وقت پر ان دھکتے انگاروں سے دور چلے گئے ہیں۔""کل کی فکر "دنیاوی لالچ کاانجام ۔۔۔۔انسان کچھ کبھی کبھی بہت خطرناک ہو جاتا ہے ۔یہ "جلد باز "فسانے کی جلد بازی پر اظہار خیال ہے "ریڑھی والا " گورنمنٹ جامع ہائی سکول کے کنٹین والے نے غربت و ادھار کی وجہ سے واپڈا افس کے نزدیک آڈی پل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی تھی اور راقم نے "غربت "کے نام پر آرٹیکل لکھا تھا ریڑھی والا آرٹیکل نے دلخراش واقعہ یاد دلا دیا ۔۔۔ بھائی بھائی ہوتے ہیں مرحوم بھائی کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اہمیت پر خوبصورت افسانہ "زندگی افسانہ ہے "لکھ کر تمام جذبات تمام احساسات تمام خراج تحسین کے جملے دلوں سے چھین کر لہر نیازی نے اپنی مُٹھی میں کر لئے ہیں درمیان میں" گمراہ "نمبر 13پر تھا پر۔۔۔ یا اللہ مجھے گمراہی سے بچا ۔۔خود آخیر پر لایا ہوں ۔ شاید قلمکار نے ن لیگی ہونے کا اظہار کیا ہے ۔ اگر وہ سی پیک روڈ بلاک کا ،9مئ کا ذکر نہ کرتے تو پھر اپنے نمبر پر ذکر ہوتا ہے,،یا ازاد جیوڈیشل کمیشن بنا کر انکوائری کا ذکر کرتے۔یاپھر ۔ساتھ آرمی پبلک سکول سے ڈیڈھ سو بچوں کی لاشوں کا ذکر کرتے۔ افغانستان کی صہیونی جنگ میں لاکھ سے زائد میتوں کا ذکر کیا جاتا ۔عمران خان دور میں لاھور میں لبیک کا حوالہ دیا جاتا ۔مریدکے کے واقعہ کا ذکر کر دیا جاتا ۔فاطمہ جناح پر کس نے گمراہ کیا تھا بجلی چوری کا پرچہ کرانے کا۔۔۔ کس نے گمراہ کیا تھا ایٹمی ہیرو کو ٹی وی پر معافی منگوانے کا۔۔میری ذاتی رائے میں افسانہ تھا جماعت کا حوالہ نہ دیا جاتا۔ آرٹیکل ہوتا تو پھر بالکل ٹھیک تھا ۔انہوں نے ایک جماعت ایک شخصیت کو قاتل جب کہ قاتل حکومت کی حمایت دیکھا کر تنقیدکاموقعہ دیا ہے میں کوئی باقاعدہ قلمکار نہیں ہوں۔ ہو سکتا ہے میری سوچ غلط ہو کہ مجھے اس پر فخر ہے کہ میں نے کبھی بھی ن لیگ کو ووٹ نہیں دئیے کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ، غاصب، قبضہ، مافیاز،سیاسی جماعتوں کی حمایت نہیں کی ہے ۔۔۔بہرحال اسلام و شریعت مدینے جانے طواف کعبہ ،نماز،
روزہ ،حج ،زکوۃ میں نہیں۔ نظام کو انسانیت کو بچانے کے لئے مدینہ چھوڑ کر کربلا کو بسانے کی حقیقت اصلیت ہے ۔
بہرحال گلستان خان لہر نیازی نے ادب سے وابستہ اہل ذوق کو میانوالی کی سر زمین کے اہل شعور و ذوق کو ایک خوبصورت تحفہ دیا ہے
بہت مدت کے بعد ان کی "سلاگر کی رات "پڑھنے کے بعد محسوس ہوا کہ کسی صاحب میں سوجھ بوجھ ہے ۔ان کے لفظوں کی ادائیگی سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ لہر نیازی صاحب کا ذوق بھی بہت اچھا ہے ۔اور یہ بچپن سے آ رہا ہو گا ۔یعنی ان کے پاس اچھی کتب کا ذخیرہ بھی ضرور ہو گا ۔جن کے مطالعے نے ان کے الفاظ کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کتاب کیا تھی۔ لگ رہا تھا جیسے بہار کے موسم میں نئی کونپلیں کھل رہی ہیں ۔پھول جھڑ رہے ہیں ۔شائستگی ء آداب اور تہذیب سے ہم آہنگ ایک ایسا انسان جو میانوالی کی مٹی سے مکمل طور پر جڑا ہوا ہے، ایک ایسا بندہ جسے وسائل اور مسائل کا ادراک ہے، ایک ایسا بندہ جسے احساس ہے کہ کسی بھی قوم کا کلچر اسے نہ صرف دنیا میں پہنچان دیتا ہے بلکہ کلچر کی ترقی اصل میں قوم کی ترقی بن جاتی ہے۔ خدائی رشتوں کے تقدس میں کتنی تقدیس پائی جاتی ہے۔ گلستان خان لہر نیازی نے زندگی کے ہر پہلو کی تصویر افسانوی رنگ میں کھینچی ہے ۔اگر عشق و محبت کی رویداد میں حسن و رعنائی کا اظہار کیا ہے تو وہیں گھریلو زندگی کے روز مرہ واقعات کی حکایت بیان کی ہے ۔اخلاق وپند میں اظہار خیال سے اپنے نقش بٹھانے میں سو فیصد کامیاب ہوئے ہیں الغرض ان کے افسانوں کے موضوع ہمہ گیر ہیں بقول لہر نیازی
ہر حال میں ہر دور میں تابندہ رہوں گا
میں زندہ جاوید ہوں پائندہ رہوں گا
تاریخ میرے نام کی تعظیم کرئے گی
تاریخ کے اوراق میں آئندہ رہوں گا
۔رب تعالیٰ ان کی قلم کو مزید عروج سے نوازے
بڑھ بڑھ کر چلی آتی ہیں لہریں میری جانب
سمندر کو میری پیاس نے بے چین کیا ہے
