" باگھ" عبداللہ حسین کا تحریر کیا ہوا دوسرا ناول ہے جو ان کے پہلے ناول "اداس نسلیں" کے تقریبا اٹھارہ سال بعد شائع ہوا۔ باگھ شیروں کی ایک قسم ہے جو شیر اور چیتے دونوں سے مشابہت رکھتی ہے اور دہشت کی علامت ہے۔ تین سو ساٹھ صفحات پر مشتمل اس ناول کو ۱۹۸۲ میں قوسین پبلشرز نے لاہور سے شائع کیا۔ "باگھ" بنیادی طور پر ایک محبت کی کہانی ہے اور جس کا تعلق کشمیر سے ہے اور اس ناول کا مرکزی کردار اسد اپنی سانس کی بیماری کی وجہ سے وہاں علاج کے لیے آتا ہے اور مقتدر حلقوں اور ان کی ذیلی خفیہ ایجنسیوں کی نظروں میں آجاتا ہے اور پھر اسے مجبور کر کے کشمیر کے "جہاد" میں جاسوسی کے لیے پڑوسی ملک کے زیر انتظام کشمیر میں بھیجا جاتا ہے ۔ وہ اپنی محبت کی وجہ سے مجبور ہوکر اس مہم جوئی کا حصہ بنتا ہے لیکن وہاں پر بعض غیر متوقع حالات کا شکار ہو جاتا ہے اور نہایت کٹھن اور مصائب سے بھرے ہوئے سفر کے بعد واپس آنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اپنی محبوبہ یاسمین کے پاس پہنچ جاتا ہے تو اُسے وہاں سے اُٹھا لیا جاتا ہے اور یوں کشمیر کی وادیوں میں پنپنے والی یہ محبت کی داستان ادھوری ہی رہتی ہے.
"باگھ"کی کہانی میں کردار اگرچہ زیادہ نہیں ہیں لیکن ان کی کئی جہتیں ہیں۔ کتاب کے صفحہ نمبر تین پر ناول کے نام کے نیچے اگرچہ " ایک محبت کی کہانی " لکھا گیا ہے لیکن در حقیقت یہ ناول 1977ء کے پاکستان کے سیاسی اور سماجی حالات کا بھی عکاس ہے۔حقیقی تخلیق کار کوئی بھی ہو وہ اپنے زمانے کے سیاسی و سماجی حالات سے ضرور متاثر ہوتا ہے۔ عبداللہ حسین نے باگھ دو سال کے عرصہ میں تخلیق کیا یہ زمانہ جون 1976ء سے جون 1978ء تک کا ہے.تقریباً آدھے ناول تک یہ ایک محبت کی ہی کہانی نظر آتی ہے جس میں ناول کے مرکزی کردار اسد کی محرومیاں، اداسیاں،تنہائی، خواب ، خیالات، یادرفتگان، آدرشیں اور اُس کی بیماری نظر آتی ہے یا ناول کی ہیروئن یاسمین کے لیے ہیرو کی وارفتگی نظرآتی ہے۔ ناول کے آدھے حصہ کے بعد اچانک ناول میں ایک پراسرار کردار ذوالفقار کی صورت داخل ہوتا ہے اور پھر کہانی مجبور اور معصوم لوگوں کے ریاستی اداروں کے ہاتھوں استعمال ہونے کے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔ اس تبدیلی کو ہم جب اس زمانے کے حالات کے تناظر میں رکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس ناول کی تخلیق کے درمیانی حصے کے دوران ہی وطن عزیز میں 5 جولائی 1977 ء کو ایک جمہوری حکومت کو برطرف کر کے جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء نافذ کر دیا جاتا ہے اور نوے دن میں انتخابات کرانے کے دعویٰ کے ساتھ آنے والا آمر اپنے اقتدار کو 11 سال طول دے لیتا ہے.
اس لحاظ سے بخوبی یہ قیاس کرنے میں ہم درست ہیں کہ عبداللہ حسین نے ملک کے سیاسی منظر نامے کے ساتھ ہی اپنے ناول کی کہانی کا رخ بجا طور پر ادھر موڑ دیا اور ہمیں بتایا کہ کس طرح کشمیر کے جہاد پر مجاہدین کے روپ میں لوگوں کو زبردستی اور مجبور کر کے پڑوسی ملک کے زیر انتظام کشمیر میں بھیجا گیا اور انہیں ان کی مرضی کے خلاف اس نہ ختم ہونے والی جنگ کا ایندھن بنایا گیا اور اُس دور سے شروع ہونے والی یہ تبدیلیاں آنے والے ادوار میں سر زمین پاک کے لیے مسائل کی بنیادی وجہ بن گئیں اور جس کے اثرات اور نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں.
ناول کی کہانی بنیادی طور پر ایک نوجوان لڑکے اسد کریم کے گرد گھومتی ہے جو خونی رشتوں کو کھو دینے کے بعد سانس کی بیماری کا شکار ہو کر علاج کے لیے کشمیر کے علاقے میں ایک تجربہ کار حکیم کے پاس پہنچتا ہے اور اسے علاج کے لیے وہاں قیام کرنا پڑتا ہے۔ یہاں پر اسد کریم جہاں اس مخمصے کا شکار ہوتا ہے کہ اسے حکیم کے علاج سے افاقہ ہو رہا ہے یا نہیں وہیں وہ حکیم کی حلیم الفطرت بیٹی یاسمین کی زلفوں کا اسیر ہو جاتا ہے حالانکہ یاسمیںن اسد سے عمر میں پانچ چھ سال بڑی ہوتی ہے لیکن اسد کے شہر سے بہت دور اُس پہاڑی مقام پر رکنے کی ایک بڑی وجہ وہی بن جاتی ہے۔ پھر ایک رات پر اسرار طریقے سے یاسمین کے باپ حکیم کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس قتل کے الزام میں مقامی پولیس اسد کو غیر قانونی اور ماورائے عدالت تحویل میں لے کر قید رکھتی ہے اور اُسے تشدد کا نشانہ بنا کر قاتل ثابت کرنے کی کوششوں سے خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ اسی دوران کہانی میں خفیہ اداروں کی مداخلت شامل ہو جاتی ہے.خفیہ طاقتیں اسد کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ قتل کے الزام سے گلو خلاصی پانے کے لیے اور یاسمین کو حاصل کرنے کے لیے اُن کے کہنے پر کام کرے اُسے کشمیر میں جاسوسی اور عسکری کاروائیوں کے لیے بھیجا جاتا ہے اور حکیم کے قتل کے الزام میں ایک اور کردار خوشی محمد کو بھی دھر لیا جاتا ہے جو در حقیقت انہی کے کہنے پر سرحد کے آر پار آتا جاتا رہتا ہے۔ اسد سرحد پار جاتا ہے اور کچھ سر گرمیوں میں حصہ لیتا ہے تو اُسے خبر ہوتی ہے کہ وہ کن لوگوں کے کن مقاصد اور عزائم کا شریک بن گیا ہے اور پھر اُس کے ساتھی یعنی خفیہ اداروں کے نمائندے مارے جاتے ہیں تو اس کے لیے اپنی بقاء کا مسئلہ بن جاتا ہے بہر حال وہیں پر اس پر یہ عقدہ بھی کھلتا ہے کہ حکیم کے قتل میں گرفتار خوشی محمد اور کچھ دیگر لوگ جن میں میر حسن بھی شامل ہیں ،انہی طاقتوں کے ہاتھوں میں مجبور ہو کر کھیل رہے ہیں اور در حقیقت معصوم ہیں اسد جان پر کھیل کر بھوک پیاس برداشت کر کے تنہا اپنے بل بوتے پر سرحد پار سے واپس آجاتا ہے اور یاسمین کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ یاسمین کو لگتا ہے کہ اسد اسے مل گیا ہے وہ اپنی زمین اور گھر بیچ کر اس کے ساتھ شہر جانے اور شادی کرنے کا خواب دیکھتی ہے لیکن "بھائی لوگ"پھر اس کے آنے کی خبر پاکر اسے رات کے اندھیرے میں اٹھا کر نا معلوم مقام کی طرف لے کر روانہ ہو جاتے ہیں اور محبت کی یہ کہانی محبت کے خواب کی تعبیر بننے کی بجائے سراب ہی رہتی ہے.
"باگھ" عبداللہ حسین کے منفرد اسلوب کا جیتا جاگتا شاہکار ہے ۔ عبداللہ حسین کے اسلوب میں ان کی کردار نگاری ، منظر نگاری اور ایکشن خاص طور پر قابل ذکر ہیں. وہ اپنے طرز تحریر میں ایک خاص قسم کی اداسی، مایوسی اور یاسیت پیدا کرنے کا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں.
"باگھ" کی کردار نگاری میں بہت زیادہ کردار نہیں ہیں لیکن جو ہیں وہ کردار بہت نپے تلے اور سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔
مرکزی کردار اسد کریم کے ذریعے عبداللہ حسین نے اپنی تخلیقی صلاحتیں اور سوچ ناول میں سموئی ہے اسد کریم ایک تنہا، اداس اور سوچنے والا جوان ہے جیسے سانس کی تکلیف دہ بیماری کے آئے روز کے دوروں نے بے حال کر رکھا ہے وہ متجسس فطرت کا حامل جوان ہے جو اپنے گردوپیش سے ہر لحظہ متاثر ہوتا ہے۔ عبداللہ حسین نے اسے بیماری، محبت اور ریاستی جبر سے ایک ساتھ نبرد آزما ہوتے ہوئے دیکھایا ہے۔ ناول کی ہیروئن یاسمیںن کا کردار ایک سادہ،پُرخلوص اور محبت میں گندھی ہوئی دیہاتی لڑکی کا ہے جو اسد کریم کو خلوص دل سے پسند کرتی ہے اور خفیہ اداروں کے لوگوں کی چالبازیوں میں نہیں آتی اور وہ لوگ اسے توڑنے یا اسد کریم کے خلاف کرنے میں ناکام رہتے ہیں وہ اپنی محبت کا دم بدستور بھرتی رہتی ہے۔
عبداللہ حسین کے کردار عام زندگی سے لیے گئے ہیں وہ غلطیوں اور فطری ضرورتوں سے ہار مان لیتے ہیں وہ فرشتے نہیں ہیں بلکہ انسانی عمل و خطاؤں کے آگے عام انسان میں ہیں.
اردو ادب میں عبداللہ حسین صاحب طرز ادیب ہیں جنہیں ماحول کی منظر نگاری پر خصوصی ملکہ حاصل ہے۔ وہ منظر کی جزئیات نگاری کی بنت میں بہت گہرائی تک جاتے ہیں اور پڑھنے والے کو اس ماحول اور منظر کے اندر لے جا کر اُس کا حصہ بنا دیتے ہیں ۔ " باگھ" کے اندر بھی انہوں نے شکار ، دیہات،کشمیر کے پہاڑی علاقے، دیہاتی گھر اور مکالموں کے اندر منظروں کی مکمل تصویر کشی کرتے ہوئے اپنے فن کی معراج پہ نظر آئے ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں عسکریت پسندی کی کارروائیوں کے دوران پہاڑی علاقوں کے رہن سہن اور علاقے کی بود و باش پر اپنے تخّیل کی طاقت سے خوب منظر نگاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ عبداللہ حسین کے قلم کی جولانیاں منظروں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ہمیں باگھ میں عروج پر نظر آتی ہیں.باگھ میں دیگر فنی اور تکنیکی مظاہر
کے علاوہ ناول میں علاقوں اور استعارات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ ناول کا نام بذات خود ایک علامت ہے اور استعارہ ہے کہ باگھ چیتے سے مشابہت رکھنے والا ایک شیر ہے جو کہ خوف اور دہشت کی علامت ہے اور انسانوں پر جبر نافذ کر دیتا ہے اس علامت کو عبداللہ حسین نے ریاست کے طاقتور اداروں کے حوالے سے استعمال کیا ہے اسی طرح اکثر مقامات پر وہ بین السطور بہت سی مشکل باتیں بھی کچھ استعاروں کی مدد سے نہایت سہولت کے ساتھ کہہ گئے ہیں ۔
عبداللہ حسین نے "باگھ میں مکالمہ نگاری میں بھی بہت جذباتی اور پر فکر مکالمے کرداروں سے کہلوائے ہیں۔ در حقیقت باگھ مصنف کے تجربے اور فکر کا نچوڑ ہے اور انہوں نے جبر اور ابتلاوآزمائش کے اُس دور میں نہایت کمال سے اپنی بات کہی.
عبداللہ حسین نے "باگھ" میں ریاستی اداروں کی غیر نصابی سرگرمیوں کی بھینٹ چڑھنے والے معصوم اور بھولے بھالے لوگوں کی کہانی بیان کی ہے۔ انہوں نے محبت کی ایک انمٹ اور لازوال داستان کو ریاست کی غیر ضروری فعالیت اور معاشرے کے جبر کے ہاتھوں ہارتے ہوئے دکھایا ہے یہ ناول اپنے زمانے کے حساب سے فاضل مصنف کی طرف سے ایک بہت بڑی حق بیانی تھی اور انہوں نے کمال ہنر مندی سے اپنے ناول کے پلاٹ اور موضوع سے انصاف کیا۔ عبداللہ حسین نے نہایت خوبصورتی سے ایک حساس موضوع کو چھیڑا اور بہت سی نزاکتوں سے گزرتے ہوئے پڑھنے والوں پر سوچ اور فکر کے کئی نئے در وا کر دئیے۔ انہوں نے کشمیر کی تحریک کو بھی ایک منفرد زاویے سے ہمارے سامنے رکھا اور بہت ساری باتیں انہوں نے جان بوجھ کر پڑھنے والوں کےلیے ادھوری چھوڑ دیں۔بجا طور پہ بلاشبہ "باگھ" اردو ادب میں ایک اہم اور بڑے ناول کا درجہ رکھتا ہے۔
