ولادیمیر لینن... صبغت اللہ وائیں


لینن کا نظریہ کارل مارکس کے فلسفے پر مبنی تھا۔ لینن آج بھی ایک متنازع اور شدید اختلافات پیدا کرنے والی تاریخی شخصیت ہیں۔ ان کے حامی انہیں محنت کش طبقے کے حقوق اور فلاح کا علمبردار سمجھتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک وہ ایک سفاک آمر تھے جنہوں نے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کی۔

برٹرینڈ رسل کا 1920 میں ولادیمیر لینن سے ملاقات کے بارے میں بیان:

"میں 1920 میں روس میں لینن سے ملا۔ میری ان سے ایک گھنٹے کی بالمشافہ گفتگو ہوئی۔ وہ انگریزی اس سے کہیں بہتر بولتے تھے جتنا میں نے توقع کی تھی۔ پوری گفتگو انگریزی میں ہوئی۔ میں نے سوچا تھا کہ بات چیت جرمن زبان میں ہوگی، مگر مجھے معلوم ہوا کہ ان کی انگریزی خاصی اچھی تھی۔
میں لینن سے اتنا متاثر نہیں ہوا جتنا میں نے سوچا تھا۔ بلاشبہ وہ ایک عظیم انسان تھے، مگر وہ مجھے اولیور کرامویل کی دوبارہ تجسیم محسوس ہوئے، بالکل انہی حدود و قیود کے ساتھ جو کرامویل میں تھیں۔ وہ مکمل طور پر نظریاتی جمود کا شکار تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کسی بھی دعوے کو مارکس کے کسی متن کا حوالہ دے کر ثابت کیا جا سکتا ہے، اور وہ یہ ماننے سے بالکل قاصر تھے کہ مارکس میں کوئی بات غلط بھی ہو سکتی ہے۔ یہ بات مجھے خاصی محدود ذہنیت کی علامت لگی۔

مجھے ان کی ایک اور بات بھی ناپسند آئی، اور وہ تھی نفرت کو ہوا دینے کی ان کی غیر معمولی آمادگی۔ میں نے ان سے کچھ سوالات کیے تاکہ ان کے جوابات دیکھ سکوں۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا:
‘آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ سوشلزم قائم کر رہے ہیں، مگر دیہی علاقوں کے حوالے سے تو آپ مجھے کسانوں کی نجی ملکیت قائم کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو زرعی سوشلزم سے بالکل مختلف چیز ہے۔’

اس پر انہوں نے کہا:
‘ارے نہیں، ہم کسانوں کی نجی ملکیت قائم نہیں کر رہے۔ بات یہ ہے کہ غریب کسان بھی ہیں اور امیر کسان بھی۔ ہم نے غریب کسانوں کو امیر کسانوں کے خلاف بھڑکایا، اور انہوں نے جلد ہی انہیں قریبی درختوں پر لٹکا دیا، ہا ہا ہا!’
یہ بات مجھے بالکل پسند نہیں آئی۔"

— برٹرینڈ رسل

رسل کا نتیجہ:

"لینن اور ان کے ابتدائی ساتھی انسانیت کی بھلائی کی نیت سے کام کر رہے تھے، مگر نفسیات اور سیاسی نظریے میں غلطیوں کی وجہ سے انہوں نے جنت کے بجائے ایک جہنم تخلیق کر دی۔"

— برٹرینڈ رسل

تصویر:
ولادیمیر الیچ اُلیانوف المعروف لینن (22 اپریل 1870 – 21 جنوری 1924)، مئی 1919 میں ماسکو کے سویرڈلوف اسکوائر (جو اب تھیٹر اسکوائر کہلاتا ہے) میں ہونے والی ایک پریڈ کے دوران ویسیوو بوچ فوجیوں (عمومی فوجی تربیت) سے خطاب کرتے ہوئے۔ یہ تقریب ریڈ اسکوائر میں نہیں بلکہ سویرڈلوف اسکوائر میں منعقد ہوئی تھی، جیسا کہ اکثر غلط طور پر بتایا جاتا ہے۔
مترجم AI ۔۔۔//

یہ تحریر ہماری ایک فیس بک فرینڈ نے لگا رکھی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ "نقادوں کے خیال میں لینن نے انسانی حقوق کی پامالی کی ہے" ان کا یا نقادوں کا فرض ہے کہ وہ انسانی حقوق کی وضاحت اس لینن کے خلاف کریں جس نے عام انتخابات میں عورت کو ووٹ ڈالنے کا حق تاریخ میں پہلی بار دیا تھا۔ 

دوسرے یہ کہ ہمارے بہت سے "سوشلسٹ" دوست رسل نامی اس جعل ساز (اصلی فلسفی سچائی سے محبت کرنے والے کو کہتے ہیں) کے بچھڑے سے سوشلزم کا دودھ دوہتے نظر آتے ہیں۔ شاید ان کی دوڑ یہیں تک تھی۔

میں نے تو دوست سے ایک آدھ سوال پوچھا اور بات ختم کر دی ہے، کہ رسل نے بہتان باندھے ہیں، یا آپ نے رسل پر بہتان باندھا ہے۔

کیوں کہ اس بات کی سمجھ نہیں آتی کیا واقعی رسل "نجی ملکیت" کے بارے نہیں جانتا تھا، کہ وہ کیا ہوتی ہے؟

دوسرے یہ کہ میں لینن سے ملا تو نہیں ہوں، لیکن اس کی میں نے جتنی بھی تحاریر پڑھی ہیں، اس میں اتفاق سے مارکس کا شاید ہی کوئی حوالہ پڑھا ہو۔ اس کے بجائے اس نے جگہ جگہ پر اپنے مخالفین کے حوالے دیے ہیں۔

لینن اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے ناقابلِ شکست دلائل کے انبار لگا دینے کا عادی تھا۔ اس کی "سامراجیت سرمایہ داری کی آخری منزل" دیکھ لیں، "مادیت اور تجربی تنقید" یا کوئی اور تحریر۔

لیکن رسل تو ایک دو نمبر دانشور ہے، اس سے سچائی کی توقع رکھنا ہی فضول ہے۔ کرامویل سے بھی اس کی نفرت اس لیے ہے، کہ اس نے بادشاہ کا سر اتارا تھا، بعد ازاں کرامویل کی لاش کو قبر سے نکال کر پھانسی دی گئی تھی۔ مجھے مسئلہ ان "مارکسسٹوں" سے ہے، جو رسل میں سے مارکسزم تلاش کرنے نکلے ہیں۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !