حضور صلی اللہ علیہ وآلہ کی جنگی حکمت عملی:فضہ شکیل

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی اور فلاح کے لیے حضرت آدم سے ایک سلسلہ شروع کیا، جو حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہوا۔ ان کی شریعت عالم گیر اور ہمہ جہت ہے ۔ رسول ﷺ کی شخصیت میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جن کے ذریعے اللہ کا پیغام بہترین اور مؤثر انداز میں انسانوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ ان کے ہر عمل، ہر فیصلہ اور ہر رہنمائی اللہ کی جانب سے دی گئی ہدایت اور قرآن کی تشریح کا حصہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے پیغام کو پوری دنیا تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو ترغیب دے کر، کبھی سمجھا کر، کبھی نرمی اور دوستی سے اپنا مقصد سمجھایا۔ لیکن کچھ مواقع ایسے بھی آئے جب بات صرف نرمی سے نہ بنی اور جہاد کرنا پڑا۔ آپ ﷺ سے پہلے جنگوں کے مقصد بھی ظالمانہ تھے اور ان کا طریقہ بھی خوفناک تھا۔ دشمن کو زندہ جلا دینا، جسم کے حصے کاٹ دینا یا زندہ انسان کی کھال اُتار لینا عام بات سمجھی جاتی تھی۔ ایک ایک لڑائی کئی نسلوں تک چلتی رہتی اور بے شمار بے گناہ لوگ مارے جاتے تھے۔
اگر دشمن زیادتی کرے تب بھی حضور ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو اخلاق اور شرعی حدود سے باہر نہ جانے دیا۔ آپ ﷺ نے جنگ کو صرف جہاد فی سبیل اللہ اور کلمہ حق کو بلند کرنے کے لیے محدود رکھا۔ کم سے کم قوت استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ مقصد حاصل کرنے کی تدبیراپنائی۔
رحمت العالمین ﷺ نے اپنی دعوت دین کا آغاز مکہ مکرمہ سے کیا۔ جیسے ہی پیغام خداوندی کی صدا بلند ہوئی، ظلم و جبر کے بادل چھا گئے۔ بہت سے لوگ اسلام کی تبلیغ روکنے کے لیے پیغمبر ﷺ کے مخالف بن گئے۔ مسلمانوں کے لیے ایسے ماحول میں جب رہنا مشکل ہوگیا تب آپ ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت کی۔
مدینہ میں ماحول بہتر تھا، لیکن باہر سے خطرات ہر طرف موجود تھے۔ یہودی قبائل اور مکہ والے مسلمانوں کے تعاقب میں تھے۔ اس وقت مسلمانوں کے لیے ہر جانب ہی محاز کھلا تھا۔ ایسے حالات میں عقل، حکمت، صبر اور اللہ کی مدد کے ذریعے ہی امن قائم رکھا جا سکتا تھا۔
حضور ﷺ نے مدینہ میں ایک پرامن ریاست قائم کی اور اپنی وسیع تر فہم و فراست کے ساتھ حالات کا مقابلہ شروع کیا۔
میثاق مدینہ کے ذریعے یہودی قبائل کے ساتھ امن و مصالحت کا معاہدہ کیا گیا۔ یہ معاہدہ ایک امن و مصالحت کا فریم ورک تھا اور تحریری شکل میں تھا۔ مدینہ کے تقریباً سبھی قبائل اس میں شامل تھے۔ یہودی قبائل تجارتی اور عسکری طور پر طاقتور تھے، لیکن وقتی طور پر صلح کے لیے تیار ہوگئے۔ دو بڑے یہودی قبیلے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، انصار کے حلیف تھے۔ جب اوس اور خزرج اسلام میں شامل ہوئے تو ان کے حلیف بھی مجبوراً صلح کرنے پر مجبور ہوئے۔
یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد، حضور ﷺ کی نظر مدینہ کے آس پاس رہنے والے قبائل پر تھی۔ عرب میں ہر قبیلہ ایک آزاد ریاست کی طرح اپنے علاقے پر حکمرانی کرتا تھا۔ اسلامی ریاست کے دفاع اور مضبوطی کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ ان قبائل کو اپنا دوست یا حلیف بنایا جائے یا انہیں قابو میں لایا جائے۔
مدینہ کے مضافات میں رہنے والے قبائل زیادہ تر بت پرست تھے، لیکن ان میں سے کچھ افراد فرداً فرداً مسلمان ہو رہے تھے۔ حضور ﷺ نے ان کے ساتھ مصالحت کا آغاز کیا۔
قبیلہ جہینہ، ایک اہم قبیلہ تھا۔ اس قبیلے کے ساتھ مصالحت کا ذکر حدیث میں بھی موجود ہے۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کی مدینہ آمد کے کچھ عرصے بعد یہ لوگ خود حاضر ہوئے اور امن کے معاہدے (وثیقۂ امن) کی درخواست کی۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ حضور ﷺ کی حکمت صرف محاذِ جنگ تک محدود نہیں تھی، بلکہ دشمن یا مخالف قبائل کے ساتھ پیش بندی، منصوبہ بندی اور مصالحت بھی اس میں شامل تھی۔
 اسی اصول کے تحت، آپ ﷺ نے غزوہ بدر، احد، خندق، خیبر اور حنین جیسے اہم معرکوں میں بھی فوج کی صف بندی، جگہ کے انتخاب، دشمن کے منصوبوں کا تجزیہ اور دفاع و حملے کی مناسب حکمت عملی اپنائی۔ ہر جنگ میں کمزور اور مضبوط پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا گیا۔ اور فوج کو ہر ممکن فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ فتح مکہ اور غزوات بنی نضیر و بنی قریظہ میں بھی یہ حکمت نظر آتی ہے، جہاں دشمن کو قابو پانے اور مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نرمی اور صبر کے ساتھ ساتھ مضبوط اقدامات کیے گئے۔
اس کے علاوہ، رسول ﷺ کی جنگی حکمت سیاسی اور داخلی انتظامات میں بھی نظر آتی تھی۔ جس میں صلح حدیبیہ، میثاق مدینہ اور مواخات انصار و مہاجرین کے ساتھ ایک مضبوط داخلی محاذ قائم کرنے کے اہم اقدامات شامل تھے۔ اسی طرح پہلی ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ میں مسلمانوں کی حفاظت اور مستقبل کی جنگی تیاری کے لیے اقدامات کیے گئے۔ دشمن بادشاہوں کو خطوط بھیج کر سیاسی حالات کا جائزہ لیا گیا اور ممکنہ اتحاد یا خطرات کا اندازہ کیا گیا۔
نوجوانوں کو فوجی قیادت میں شامل کرنا بھی ایک دور اندیشی تھی، جیسے اسامہ بن زیدؓ کو سپہ سالار بنانا تاکہ مستقبل میں فوج کی قیادت مضبوط ہو اور تجربہ کار کمانڈرز تیار ہوں۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ کی فہم و فراست میں محاذ پر حکمت عملی، داخلی اتحاد، سیاسی چالاکی اور نوجوان قیادت کی تربیت سب شامل تھیں، جو کمزور وسائل کے باوجود زیادہ سے زیادہ مقاصد حاصل کرنے کی بنیادی تدبیر بنی۔
خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چند سال کے مختصر عرصے میں بہت کم نقصان کے باوجود پورے جزیرۂ عرب میں توحید کا پیغام پہنچایا۔ وسائل اور افراد کی تعداد میں وہ دشمن سے کمزور تھے، لیکن اپنی حکمت، تدبیر اور منصوبہ بندی کی بدولت ہر موقع پر غالب رہے۔ چونکہ آپ ﷺ عربی علاقوں کے حالات، زمین، موسم اور راستوں سے واقف تھے، اس لیے ہر جگہ اپنے فائدے کے مطابق جگہ کا انتخاب کرتے، منصوبہ بندی کے ساتھ حرکت کرتے اور محفوظ انداز میں لشکر کی قیادت کرتے۔ اپنے اصحاب کو بھی حکمت کے ساتھ ہدایات دیتے۔
آپ ﷺ نے عربوں کے روایتی طریقے سے جنگیں لڑی، لیکن کئی معرکوں میں ایسی حربی تدابیر اختیار کیں کہ دشمن حیران رہ گیا۔ آپ کے سامنے دشمن کی تعداد کئی گنا زیادہ تھی، لیکن رسول ﷺ نے اللہ کی نصرت اور جنگی و جغرافیائی حکمت عملی کی بدولت دشمنوں کو بے بس کر دیا۔ آپ ﷺ دشمن کو غافل رکھتے، لیکن خود کبھی غافل نہ ہوتے۔
رسول ﷺ کے لیے لڑائی کا مقصد صرف قتل و کشت نہیں تھا، فتح ہو یا پسپائی، ہر معرکہ اصول اور اللہ کے حکم کے مطابق ہوتا۔ اسی حکمت اور تدبیر کے سبب قلیل عرصے میں جزیرۂ عرب فتح ہوا۔ رحلت کے بعد آپ ﷺ کے اصحاب اور جانشینوں نے اسی تربیت اور حکمت کے ساتھ اسلام کا پیغام دنیا کے ہر کونے تک پہنچایا، اور امن و سلامتی کا پیغام عام کیا۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !