دو پہیے۔۔۔(افسانہ) زوبیہ حسیب


وہ اپنے شاندار کیبن میں دائیں جانب رکھی لکڑی کی راکنگ چیئر پر بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھیں نیلگوں کاغذ میں لپٹی کتاب پر مرکوز تھیں۔
“دو پہیے…” اس نے زیرِ لب دہرایا۔
ماضی کے دھندلے پنّے الفاظ بن کر اس کی بند آنکھوں میں گڈمڈ ہونے لگے۔ اس نے سر کرسی کی پشت پر ٹکا دیا۔
اس کا نکاح عتیق منّان سے بائیس لاکھ مہر پر طے پایا تھا۔ چھ کمروں کے بڑے سے گھر سے رخصت ہو کر وہ دو کمروں کے مکان میں آ گئی تھی۔
عتیق اس کا ہاتھ تھامے کمرے میں داخل ہوا۔
“آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں، دل آویز،” اس نے کہا۔
“میں آپ کو آج سے دل کہہ کر پکاروں گا، امید ہے آپ کو اعتراض نہیں ہوگا۔”
فطری شرم و حیا کا پیکر بنی وہ بس مسکرا دی۔
مسکراہٹ سے شروع ہونے والا یہ سفر آنے والی مسافتوں اور ناہموار راہوں سے بےخبر تھا۔
عتیق اپنی ملازمت کے لیے دوسرے شہر میں مقیم تھا۔
دن یونہی گزرتے رہے، دل آویز اس کی تمام ضرورتوں کا احساس کرتی۔
شادی کے چند روز بعد ہی ایک نئے سوال نے ان کی زندگی میں ہلچل مچانا شروع کر دیا۔
اہلِ محلہ سے لے کر رشتہ داروں تک، دفتر کے ساتھیوں سے لے کر تمام سہیلیوں تک—ہر طرف سے ایک ہی سوال سماعتوں سے ٹکرانے لگا۔
تمام لوگوں کو ان نسبتوں کے لحاظ سے ایک ننھے مہمان کا انتظار تھا۔
اس انتظار نے انہیں سماجی لا تعلقی کا متقاضی بنا دیا۔ ان کے درمیان خاموشی بڑھنے لگی۔
“دل! آپ میری بات کا یقین کریں، وہ اس شہر کی سب سے مقبول ڈاکٹر ہیں۔ میں نے ان سے ملاقات کا وقت طے کر لیا ہے، پلیز آپ تیار رہیے گا۔”
وہ عجلت میں کہتا، کتاب لے کر بستر پر آ گیا۔
دل ہونقوں کی طرح اسے دیکھتی رہ گئی۔
پچھلے ہفتے جس ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی، اس نے مشورہ دیا کہ عتیق کو مؤثر علاج کی ضرورت ہے، جس پر وہ جی بھر کر خجل ہو رہا تھا۔
وہ ڈاکٹر سے ملاقات کے بعد لوٹ رہے تھے۔
“عتیق، آپ اپنے لیے کسی ڈاکٹر سے ملاقات کر لیں، پلیز…” دل نے دھیمے لہجے میں، دونوں ہاتھ کی انگلیاں کسمساتے ہوئے کہا۔
“کیا مطلب…؟” عتیق نے لاشعوری انداز میں اس کی جانب دیکھا۔
“نہیں، وہ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ آپ…”
“ارے، تم پریشان نہ ہو۔ میں کسی اور ڈاکٹر کا وقت لے لوں گا۔ سب بکواس کر رہی ہیں۔”
اس نے اپنے غصے کو از حد قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔
یہ کشمکش اب ایک بحث سے باقاعدہ جھگڑوں اور انا پروری کی شکل اختیار کر گئی تھی۔
گرد و نواح سے اُمنڈنے والے سوال تو محض چہ مگوئیاں بن کر رہ گئے تھے، مگر ان کا اندرونی سکون تلخی میں بدل گیا تھا۔
ماہ و سال کی تابناک گردش کے بعد اللّہ پاک نے انہیں اپنی نعمت سے نواز دیا۔
یہ اطلاع ملنے پر عتیق کی والدہ ان سے ملنے آگئیں، جبکہ دل آویز کے والدین نے بھی خوب دعاؤں سے خوشی کا اظہار کیا۔
یہ موقع ہر ایک کے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھا۔
عتیق نے دل آویز کا مکمل خیال رکھا۔
آخر کار ننھی صنوبر نے اپنے باپ کی گود میں آنکھ کھولی۔
عتیق کی خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی۔ وہ دیوانہ وار اپنی بیٹی کی خوشیاں منا رہا تھا۔
دادی ہو یا نانا، نانی—سب اس کے لاڈ اُٹھا رہے تھے۔
اینٹ پتھر کے مکان میں خوشیاں مہمان بن کر لوٹ آئی تھیں۔
دونوں اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریوں میں مگن تھے۔
عتیق کے لہجے میں فرائض کا بوجھ اور حقیقت کی خنکی در آئی تھی، کیونکہ وہ اب ایک بیٹی کا باپ تھا۔
گھنے بالوں والی صنوبر کسی گڑیا جیسی تھی۔ اس کی معصومیت میں شادمانی کے ہزار رنگ بکھرے ہوئے تھے۔
وہ اپنے والدین کی ہوشیار اور فرماں بردار بیٹی تھی۔ ایک حساس اور پُر سوچ لڑکی تھی۔
اس رات صنوبر کسی کھلونے کے لیے ضد کرتے ہوئے سوئی تھی۔ دل نے دروازے سے جھانکتے ہوئے اس کا جائزہ لیا۔
“فی الحال تو میں نے سُلا دیا ہے، لیکن مجھے اس کی بے جا ضد پسند نہیں۔ سمجھدار ہو رہی ہے، اب اس کی عادتیں سنوارو۔”
عتیق نے صنوبر پر لحاف درست کرتے ہوئے تنبیہ کی۔
“جی، میں سمجھا دوں گی،” وہ نظریں جھکا گئی۔
عتیق وہاں سے جا چکا تھا۔
زندگی نے اُسے دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا۔
ایک طرف اکلوتی بیٹی کا بچپن تھا، اور دوسری طرف شوہر کی انا پروری۔
وقت سرپٹ دوڑتا رہا۔ پیاری سی صنوبر پانچویں جماعت میں ہو چکی تھی۔
“دل… دل آویز فوراً یہاں آئیں!”
عتیق اپنے کمرے سے چلّایا۔
اپنے کمرے میں پڑھائی کرتی صنوبر کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔
“جی، آ رہی ہوں۔”
دل نے باورچی خانے سے جواب دیا اور کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
“میرے جوتے صاف نہیں کیے آپ نے؟” اس نے دل کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“وہ… میں فجر کی نماز پڑھ کر کچھ دیر کے لیے لیٹ گئی تھی، اس لیے بھول گئی۔ آپ رکیں، میں ابھی کر دیتی ہوں۔”
یہ کہہ کر اس نے لپک کر جوتے اٹھا لیے۔
“رہنے دیں، دیر ہو رہی ہے۔ میں جا رہا ہوں۔”
وہ غصے میں جوتے پہننے لگا۔
“ارے، میں رک—”
“کبھی جو آپ نے میری ضرورتوں کی پرواہ کی ہو…”
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، وہ پیر پٹختا ہوا گھر سے نکل گیا۔
دو آنسو اس کی رخسار پر لڑھک گئے۔
عتیق کی فطری شخصیت اس کے لب و لہجے سے عیاں ہونے لگی تھی۔
وہ اپنے گال رگڑتے ہوئے صنوبر کے کمرے کی طرف چل دی۔
“صنوبر! بیٹی، کیا کر رہی ہو؟ آؤ ناشتہ کرتے ہیں۔”
دل نے آواز میں چاشنی گھولتے ہوئے کمرے کا دروازہ کھولا۔
“جی امی، آتی ہوں۔”
وہ اپنی کتاب بند کر کے اٹھ گئی۔
“امی جی، جب ابو جی زور سے بات کرتے ہیں تو میرا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے۔ میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔”
وہ سرخ آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔
“نہیں بیٹی، اب ایسا نہیں ہوگا۔ میں آپ کے ابو جی سے کہہ دوں گی کہ آہستہ بات کیا کریں۔ ہماری پیاری بیٹی ڈر جاتی ہے۔”
دل نے نرمی سے کہا۔
“آپ ناشتہ کرو۔”
وہ زبردستی مسکراتے ہوئے دوسری طرف دیکھنے لگی، مگر صنوبر کی سرخ آنکھوں نے دل کو اندر تک چیر کر رکھ دیا تھا۔
وہ ناشتے کی میز پر چائے کی پیالی لیے بیٹھا تھا۔
“یہ کیا ہے دل! میں نے آپ سے کہا تھا مجھے گرم چائے نہیں چاہیے، اور یہ۔۔۔ اس قدر گرم ہے۔”
اس نے چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے زور دار آواز میں کہا۔
دوسری کرسی پر بیٹھی صنوبر سہم کر بیٹھ گئی۔
“میں ذرا ٹھنڈی کر دیتی ہوں۔ آپ ذرا دھیرے بات کیا کریں، صنوبر ڈر جاتی ہے۔”
اس نے چائے کی پیالی اٹھا لی۔
“تو یہ غصہ بھی تمھاری وجہ سے آتا ہے۔ بے وقوف عورت!
پہلے تو مجھے خوشی دے نہیں سکی، اب ایک بیٹی ہے، اس کی تربیت بھی نہیں کر سکتی۔”
اس نے غصے سے غرّاتے ہوئے چائے کی پیالی کو ہاتھ دے مارا اور وہ سامنے کی دیوار سے جا لگی۔
چلو اب۔۔۔
اس نے صنوبر کو دیکھا اور بیرونی دروازے سے نکل گیا۔
صنوبر دھندلی آنکھوں سے بیگ لے کر اس کے پیچھے بھاگ گئی۔
عتیق کے الفاظ سیسہ بن کر اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
“صنوبر۔۔۔ ص۔ن۔و۔بر، میری بیٹی۔۔۔”
بہت دیر تک وہ صنوبر کو یاد کرتے ہوئے سسکتی رہی تھی۔
برآمدے میں رکھے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔
عموماً اس وقت اس کی ساس کا ہی فون آتا تھا۔
وہ دوڑتے ہوئے آئی اور فون اُٹھا لیا۔
“السلام علیکم، دل!”
دوسری طرف سے آواز آئی۔
اس کی آواز سنتے ہی دل کی ٹانگیں لرز گئیں۔
“ج۔ج۔جی۔۔۔ مجھے معاف کر دیں، مجھے آپ سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی، مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔”
اس کی بات سن کر دل کے حلق میں الفاظ اٹک گئے تھے۔
“صنوبر۔۔۔ وہ بچی ہے، میں سمجھا لوں گا۔”
لہجہ ہنوز اٹل تھا۔
“آپ تیار رہیے گا، شام میں گھومنے جائیں گے۔”
“جی۔”
اس نے فون بند کر دیا تھا۔
وہ بری طرح الجھ چکی تھی۔
اس پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھنا تھا یا اس کی خاردار شاخوں کو برداشت کرنا تھا۔
مغرب کی اذان ہو چکی تھی۔
وہ دونوں عتیق کا انتظار کر رہی تھیں۔
اچانک دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔
صنوبر نے دروازہ وا کیا۔
سامنے ان کے پڑوس میں رہنے والی ماریہ کھڑی تھی۔
دل آویز!
اس نے کھوجتی نگاہوں سے اسے پکارا۔
“ہاں جی؟”
حیرانگی سے وہ اس کی طرف لپکی۔
“عتیق بھائی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ وہ اب نہیں رہے۔”
ماریہ نے سانس روک کر کہا۔
اتنے میں ایمبولینس دروازے پر آ کر رکی۔
قیامت تھی جو ان دونوں پر ٹوٹ چکی تھی۔
اس ناگہانی آفت کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر آ چکی تھی۔
عدت ختم ہوئی تو ماحول میں گھٹن بڑھنے لگی۔
“بیٹا، تم نکاح کر لو۔”
دل کے والد نے اسے نصیحت کی۔
“ابو جی! میری ایک نو سال کی بیٹی ہے، میرے لیے یہ ناممکن ہے۔ زندگی ابھی باقی ہے، میری بیٹی۔ کیسے گزرے گی؟ میں کچھ بھی کر لوں گی، میری بچی میرے لیے بہت اہم ہے۔”
اس نے ایک سکول میں نوکری کر لی تھی۔
صنوبر بھی چپ رہنے لگی تھی۔
کچھ عرصے میں اس نے اپنے والدین کے برابر میں ایک گھر کرائے پر لے لیا۔
اس کی تمام تر توجہ صنوبر کی طرف تھی۔
قدرت نے اُسے صرف بیوہ کیا، مگر معاشرے نے اسے زندہ درگور کرنے میں کسر نہیں چھوڑی تھی۔
ایک عورت مرد، شوہر یا محافظ کے بغیر اکیلی ہی ہوتی ہے، یہ اس نے سمجھ لیا تھا، مگر وہ مستقل مزاج رہی اور اپنی بیٹی کے لیے محنت کو جاری رکھا۔
اس نے سکول کی ایک استانی کے ساتھ مل کر اپنے گھر میں بچوں کی تدریس کا آغاز کر دیا۔
آہستہ آہستہ یہ بات محلے میں پھیل گئی اور محلے کے بہت سے بچے مستفید ہونے لگے۔
ضرورت ایجاد کی ماں بن گئی اور دل آویز کا چھوٹا سا گھر کوچنگ سینٹر کی شکل اختیار کر گیا۔
بہت سی باہمت لڑکیوں کے لیے دل آویز ایک تحریک بن چکی تھی۔
اس کا رہن سہن اور طرزِ زندگی زبان زدِعام رہنے لگا۔
صنوبر نے اپنی امی کے شانہ بشانہ چل کر خوب محنت کی۔
کئی راتیں انہوں نے گیدڑ بھیڑیوں کے خوف میں لرزتے ہوئے گزاری تھیں۔
بہت دفعہ بھوکے پیٹ سورج کو ڈوبتے دیکھا تھا۔
دل آویز کا وہ چھوٹا سا گھر “دل آویز کوچنگ سینٹر” کے نام سے پہچانا جانے لگا۔
بہت سی نجی تنظیموں نے کوچنگ سینٹر کا دورہ کیا اور دل آویز سے ملاقات کی۔
چند عرصے میں دل آویز سوشل میڈیا کی ایک ابھرتی شخصیت بن گئی۔
اس نے اپنی تمام تر کاٹھنائیوں، صبر اور محنت کا ثمر پا لیا تھا۔
نجی تنظیم کے تعاون سے اس کی روداد کو ایک کتاب کی شکل دی گئی، جس کا نام “دو پہیے” رکھا گیا۔
دل آویز نے یہ تسلیم کر لیا کہ آسائشوں اور خوشیوں سے لدی زندگی کی یہ گاڑی ہمیشہ دو پہیوں پر ہی چلتی ہے۔
اس گاڑی کو تن تنہا چلانا آسان نہیں ہے۔
“امی جان! یہ دیکھیں، مجھے کالج میں شاندار طالبعلم کا میڈل ملا ہے!”
وہ سفید وردی میں سیدھی اپنی ماں کے پاس آئی تھی۔
صنوبر کی چہکتی آواز اسے ماضی کے دھندلکوں سے نکال کر حال میں لے آئی تھی۔
“میری بیٹی صنوبر۔۔۔” دل نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور وہ اپنی ماں سے لپٹ گئی۔
“واؤ، امی جان، آپ۔۔۔ کی بک! میں نے اس کا بہت انتظار کیا تھا۔ اور آپ کو معلوم ہے، میری ساری سہیلیاں آپ سے ملنا چاہتی ہیں!”
وہ اپنی ہی دھن میں بولتی چلی گئی۔
دل آویز اسے دیکھ رہی تھی۔
“امی، مجھے آپ پر فخر ہے۔ آپ دنیا کی سب سے پیاری امی ہیں۔”
صنوبر کتاب کو دیکھ رہی تھی۔
“مجھے بھی آپ پر پورا یقین ہے۔ آپ اپنے ابو کی سمجھدار بیٹی بن کر دیکھائیں گی۔ پرومس!”
“بالکل پکا پرومس!”
دل آویز نے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !