جنریشن زی کا اضطراب ۔۔ سائرہ رباب

جنریشن زی کا اضطراب: بحران یا تبدیلی کا امکان
گرامچی کسی سماج کے بحرانی لمحے کو یوں بیان کرتا ہے کہ جب پرانا نظام مر رہا ہو اور نیا ابھی جنم نہ لے پا رہا ہو تو اس درمیانی وقفے—interregnum—میں طرح طرح کی بیمار علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ میتھیو آرنلڈ بھی اسی کیفیت کو “دو دنیاؤں کے درمیان بھٹکنا” کہتا ہے: ایک مردہ، دوسری ابھی پیدا ہونے سے قاصر۔ آج ہم اسی خلا میں کھڑے ہیں۔ ایک ایسا دور جہاں ناانصافی، کرپشن، جھوٹے بیانیے اور اخلاقی انتشار عروج پر ہیں.. پرانی بنیادیں متزلزل ہیں ، ٹوٹ رہی ہیں اور اسکے بطن سے نیی کونپلیں پھوٹنے کی جدوجہد میں ہیں ۔ یہی خلا نئے امکانات، اجتماعی تخیل اور بامعنی جدوجہد کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

اس تناظر میں سب سے پہلے نوجوانوں کی توانائی کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ Gen Z کی بےچینی، اضطراب اور نظام بدلنے کی خواہش کوئی خامی نہیں بلکہ ایک اخلاقی قوت ہے۔ یہ restless energy، unshaken idealism اور ناانصافی کے خلاف احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ سماج میں ضمیر ابھی زندہ ہے۔ جیسا کہ والٹر بینجمن یاد دلاتا ہے، انقلاب صرف مستقبل کی تعمیر نہیں بلکہ ماضی کے مظلوموں کے خون کا حساب بھی ہوتا ہے۔ یہی جذبہ اقبال کے اس یقین میں جھلکتا ہے کہ نوجوان اگر شعور پا لیں تو تاریخ کا رخ موڑ سکتے ہیں۔
جوانوں کو پیروں کا استاد کر 

لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ اگر احتجاجی توانائی کو تاریخی شعور اور تنقیدی فکر سے نہ جوڑا جائے تو طاقتور اشرافیہ اسے آسانی سے ہائی جیک کر لیتی ہے۔ عرب اسپرنگ، ٹوگو، کینیا، نیپال، مراکش اور مڈغاسکر کی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ غیر منظم اور صرف غصے پر مبنی تحریکیں یا تو بکھر جاتی ہیں یا بالآخر انہی طاقتوں کے مفاد میں استعمال ہو جاتی ہیں جن کے خلاف وہ اٹھی تھیں۔ اس لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ نوجوان خود اپنی توانائی کو critical thinking اور historical consciousness کے ساتھ جوڑیں۔

نوجوانوں کے لیے یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ طاقتور طبقات اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ تقسیم اور جوہر سازی (essentialism) کا سہارا لیتے ہیں۔ کبھی نسل کے نام پر، کبھی شناخت، زبان، جنس یا عقیدے کے نام پر۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ یہ تقسیمیں فطری نہیں بلکہ سیاسی ہوتی ہیں۔ سوال اٹھانا، اختلاف کرنا، اور سادہ نعروں کے بجائے گہرے تجزیے کی طرف جانا ہی وہ راستہ ہے جس سے احتجاج محض شور نہیں بلکہ شعوری مزاحمت بنتا ہے۔

نوآبادیاتی بھارت میں برطانوی راج نے صرف فوج یا انتظامیہ کے زور پر حکومت نہیں کی، بلکہ معاشرے کو طبقات اور خانوں میں بانٹ کر حکمرانی کی۔ ہندو بمقابلہ مسلمان، ذات پات، لسانی و علاقائی جھگڑے.... یہ سب ایک سوچے سمجھے سیاسی منصوبے کا حصہ تھے تاکہ لوگ آپس میں الجھیں اور اصل طاقت محفوظ رہے۔ عرب دنیا میں بھی عثمانیوں کے خلاف عرب قوم پرستی کو ہوا دے کر یہی حکمتِ عملی اپنائی گئی۔

آج یہی تقسیم نسلی بیانیوں کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ Millennials، Gen Y، Gen Z، Gen Alpha ... ہر نسل کے بارے میں stereotypes گھڑے جاتے ہیں۔ کہیں نوجوان غیر ذمہ دار اور جذباتی دکھائے جاتے ہیں، کہیں بزرگ فرسودہ اور خود غرض۔ اس جوہر سازی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مختلف نسلیں ایک دوسرے سے لڑتی رہتی ہیں، جبکہ اصل استحصال کرنے والے ہر نسل میں محفوظ رہتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ طاقت کا سرچشمہ عمر نہیں بلکہ طبقہ، ادارہ جاتی قربت اور ریاست–سرمایہ–میڈیا کا گٹھ جوڑ ہے۔ (کیا وڈیرے کا بیٹا یاد ہے آپکو ؟)

یہی منطق انسانی حقوق کے بیانیوں میں بھی کارفرما ہے۔ خواتین، LGBTQ، ٹرانس جینڈر اور دیگر شناختی گروپس کے مسائل کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ یکجہتی ممکن نہ ہو۔ مثال کے طور پر طلبہ کی خودکشیوں کے معاملات میں اساتذہ اور طلبہ کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے، جبکہ وہ کارپوریٹ تعلیمی نظام پس منظر میں اوجھل رہتا ہے جو دونوں کا یکساں استحصال کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بنیادی انسانی حقوق پر متحد ہو کر ہی ان مصنوعی تقسیموں کو توڑا جا سکتا ہے۔

اسی طرح انٹرنیٹ کو خودکار نجات دہندہ سمجھ لینا بھی سادہ کاری ہے۔ ڈیجیٹل تقسیم، الگورتھمز اور طبقاتی فلٹر طے کرتے ہیں کہ کون سی آواز سنی جائے گی اور کون سی دب جائے گی۔ آج ڈیجیٹل اسپیس خود امپیریل مفادات کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ مزید یہ کہ آن لائن، انگریزی بولنے والی، یا بیرونِ ملک جانے کی صلاحیت رکھنے والی Gen Z پوری نسل کی نمائندہ نہیں۔ ایک بڑی Gen Z وہ ہے جو اسکول سے باہر ہے، انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رکھتی، یا مزدوری پر مجبور ہے۔

اگر نوجوان اس تفاوت کو سمجھے بغیر صرف جذباتی بیانیوں پر چلیں گے تو ان کی توانائی آسانی سے ہائی جیک ہو جائے گی۔ مگر جب یہی سوالات طبقاتی تجزیے، تاریخی شعور اور تنقیدی فکر سے جڑیں گے تو جواب بھی واضح ہوں گے: اصل دشمن نسل نہیں بلکہ استحصال ہے؛ اصل لڑائی شناختوں کے درمیان نہیں بلکہ نظامی ناانصافی کے خلاف ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ احتجاج کا مرکز اقتصادی مسائل ہوں: بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی کمی، نجکاری کے نام پر پبلک وسائل کی لوٹ مار، اور بنیادی سہولیات کا فقدان۔ اشرافیہ اکثر نوجوانوں کو سطحی تنازعات اور non-issues میں الجھا کر رکھتی ہے تاکہ بنیادی سوالات پس منظر میں چلے جائیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ چھوٹے مسائل کبھی ختم نہیں ہوتے، مگر بنیادی فوکس درست ہو تو مجموعی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

عرب اسپرنگ سے لے کر افریقہ اور ایشیا کی متعدد تحریکوں تک یہی سبق ملتا ہے کہ تاریخی سیاق و سباق کو سمجھے بغیر نوجوانوں کی توانائی درست سمت نہیں پا سکتی۔ تاریخی آگاہی کے بغیر جوش آسانی سے استحصال کا شکار ہو جاتا ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ انسانی حقوق، خواتین، LGBTQ اور دیگر شناختی مسائل کو ایک مشترکہ فریم ورک میں رکھا جائے۔ بوڑھا اور جوان، شہری اور دیہاتی، استاد اور طالب علم، مرد، عورت اور ٹرانس جینڈر۔۔۔۔۔ سب اگر بنیادی حقوق، برابری اور انصاف کے لیے متحد ہوں تو مصنوعی تقسیمیں خود بخود بے اثر ہو جاتی ہیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ کون استحصال کر رہا ہے، کون اس کا شکار ہے، اور اس نظامی ناانصافی کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں، Gen Z کے احتجاج کو محض شور یا عارضی جوش کہہ کر نظرانداز کرنا تاریخی غلطی ہوگی۔ یہ ایک حقیقی موقع ہے جس میں تاریخی شعور، تنقیدی سوچ، اجتماعی مکالمہ اور منظم حکمتِ عملی کو جوڑا جا سکتا ہے۔ اگر نوجوان اپنے جذبے کو شعور میں بدل لیں، اور سماج کے مختلف طبقات ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوں، تو یہ احتجاج نمائشی نہیں بلکہ واقعی پائیدار اور نظامی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !