برباد زندگی ۔۔ زارا مظہر

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا ۔۔۔۔ 
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا ۔۔
(منیر نیازی ) 
راوی:- صوفیہ بانو۔۔۔تحریر:- زارا مظہر 

میرا نام صوفیہ بانو ہے میری عمر پچاس سال ہے میری کہانی اتنی تلخ ہے کہ اگر کسی سمندر میں دھویا جائے تب بھی اسکی تلخی اور سیاہی نہیں دھل سکتی مجھے شدید دکھ ہے کہ میری زندگی جو مخلوق کے لئے رب کا انعام ہے ایک شیطان کی وجہ سے رائیگاں کر دی گئی کئی سال تو میں فیصلہ ہی نہیں کر سکی کہ مجھے یہ کہانی دنیا کو سنانی چاہئے یا نہیں پھر کسی جنون کی کیفیت میں سوچا کہ میری کہانی دنیا کے لئے لکھی جائے دنیا جانے اور سبق سیکھے اور اپنی بچیوں کی عزت کے آبگینے کی حفاظت کرنا سیکھے ۔۔ جیسے اپنے زیورات اور قیمتی سامان کو سنبھال کے رکھتے ہیں اسی طرح بیٹیوں کو بھی سو تالے لگا کے رکھے ۔۔ 

پتہ نہیں میری کتنی زندگی باقی ہے بھولپن کے زمانے میں مجھے امید تھی کہ میری دعاؤں کے نتیجے میں میری بے مقصد زندگی ختم ہونے والی ہے لیکن اس کہانی کے مین کردار جو مجھ سے بیس پچیس سال بڑے ہیں ابھی زندہ ہیں تو شائد مجھے بھی ابھی زندگی کی سزا ملتی ریے اسی لئے سوچا کہ جس اذیت کو اپنے سینے میں روح کے ساتھ ایک شرمندہ احساس کی طرح قید رکھا اسے طشت ازبام کردوں اب سوچتی ہوں کہ اپنی کہانی روح کے ساتھ سینے میں قید رکھ کے زیادتی کی یہ کہانی میری روح کو چھیدتی رہی مجھے تبھی چیخ چیخ کر اعلان کرنا چاہئے تھا تاکہ دنیا کی آنکھیں کھل جاتیں اب چاہتی ہوں دنیا میں جو سلوک میرے ساتھ ہوا اسے دنیا میں ہی چھوڑ کے جاؤں میری روح ہلکی پھلکی اور پاکیزہ ہو کے اپنے اصل کی طرف شادمان لوٹے اور شائد کوئی اور صوفیہ پچاس سال دھرتی پہ بوجھ بننے سے بچ جائے اپنی زندگی آپ جئیے جس میں اسے ایک نارمل انسان کی طرح جینے کا حق ملے ۔۔

میں چھ سال کی تھی جب میری خالہ کے ہاں پہلونٹھی کی جڑواں بچیوں نے جنم لیا نصف صدی پہلے ماحول بے حد سادہ تھے عام گھروں میں ملازم یا ملازمہ رکھنے کا رواج نہیں تھا سادہ وقت تھا لوگ دال روٹی بھی مشکل سے افورڈ کر پاتے تھے کپڑے سالوں میں بنتے تھے اور وٹ سنٹ کے ساتھ پہنے جاتے رہتے تھے بڑے کا چھوٹا ہوا وا جوڑا جرسیاں چھوٹے بہن بھائی پھٹنے تک ہنڈاتے تھے تب بھی زندگی کی ضروریات مشکل سے پوری ہوتی تھیں آسائشات کا کوئی تصور ہی نہ تھا لیکن خالو ہوشیار بندہ تھا کئی کاروبار کرتا تھا اس لئے اسکی خوب آمدنی تھی ۔۔ خالہ اور میری ماں کے درمیان خدا جانے کون سی گٹ مٹ ہوئی اور کیسے خطوط کا تبادلہ ہوا کہ ایک دن خالو اشرف لاری میں بیٹھ کے مجھے لینے ہمارے گاؤں آگیا ۔۔ میرے سکول میں داخلے کا وقت تھا لیکن کسی کا دھیان ہی نہیں تھا بس ماں کے لئے یہ اہم تھا کہ اسکی بہن کو میری مدد کی ضرورت ہے ۔۔ کاش ایسے بھولے زمانے نہ ہوتے ۔۔ 

خالو اشرف نے مجھے لاری اڈے سے قلفی لے کے کھلائی اور گنڈیریاں بھی لے کے دیں جو میں لاری میں بیٹھ کے چوستی رہی یہ دونوں چیزیں میرے لئے ایک بڑی نعمت تھیں اور قلفی کے ذائقے سے میں پہلی بار آشنا ہوئی تھی ۔۔ مجھے خالہ کی بچیوں کو سنبھالنے میں خالہ کی مدد کرنی تھی کچھ دو بچوں کی بیک وقت پیدائش کے سبب خالہ نڈھال بھی پڑی تھی میں انکے چھوٹے چھوٹے کام کر لیتی کسی روتی ہوئی کو بہلا لیتی انکے لنگوٹ بدل دیتی بچھونیاں بچھا لیتی یاد رہے اس وقت پیمپرز کا خواب و خیال بھی نہیں تھا نہ ہی تولیے کی پلاسٹک ریپ والی نیکریں دستیاب تھیں بستر پہ فیڈر پلا دیتی ۔۔ گیلے لنگوٹ اور چڈیاں بدل دیتی مجھے یہ کام کبھی مشکل نہیں لگا میری خالا زاد بہنیں اپنی گڑیا کی طرح لگتی تھیں ہلکی پھلکی اور چھوٹی چھوٹی ۔۔ دونوں سوتی تو ایک ساتھ روتیں تو بھی کورس میں خالہ خود چھوٹی سی لڑکی تھیں پھر خالو لاڈ بھی اٹھاتے تھے تو ان لاڈو رانی سے دونوں بچیاں ایک ساتھ سنبھل نہیں سکتی تھیں خالہ کا خیال رکھنے کے لئے گاہے بگاہے نانی بھی آجاتی تھیں ۔ 

بچیوں کو کوئی حفاظتی ٹیکے لگنے تھے نانی بھی آئی ہوئی تھیں نانی اور خالا بچیوں کو لے تانگے پہ بیٹھ کے سول ہسپتال جا چکی تھی دو سیٹیں لے کے دونوں گود میں ایک ایک بچہ سنبھال کے بیٹھ گئیں مجھے ساتھ لے جاتیں تو تیسری سواری کا دو آنے کرایہ بھرنا پڑتا اس لئے مجھے گھر ہی چھوڑ دیا گیا میں تو بچی تھی ناسمجھ لیکن خالا نانی تو سمجھدار تھیں گویا میری عزت کی قیمت دو آنے سے ہلکی تھی خالو کو کوئی کاروباری مجبوری تھی اس کا مال آنا تھا وہ بیٹھک میں بنی دکان پہ ہی تھا اچانک گرچ چمک کے ساتھ خوب تیز بارش برسنے لگی شائد برسات کا مہینہ تھا بادل زور زور سے گرجنے لگےڈبل سٹوری گھر میں ملگجا سا اندھیرا پھیل گیا میں تھوڑی تھوڑی خوفزدہ تھی خالو اندر والے دروازے سے آوازیں دیتے ہوئے گھر میں داخل ہوگیا اور میرا ڈر دور کرتے کرتے مجھے تمام زندگی کے لئے خوفزدہ کردیا ۔۔ مجھے لپٹا لپٹا کے پیار کرتا رہا اور نانی اور خالا کو کچھ نہ بتانے کی سختی سے اور محبت سے بار بار تلقین کی ۔۔ میں تکلیف میں تو تھی لیکن مجھے بالکل اندازہ نہیں ہوا کہ میرا کتنا قیمتی گوہر لٹ چکا تھا عجیب ناسمجھی کی عمر تھی برے بھلے کا کچھ پتہ نہیں تھا ۔۔ کئی گھنٹے بعد واپسی پہ مجھے سست اور سہما ہوا دیکھ کر خالہ سمجھیں گھر میں اکیلے ہونے سے بچی ڈر گئی ہے اسی لئے بخار نے آلیا ہے یا اکیلی رہ کے گھر والوں سے اداس ہو گئی ہے مٹھائی سے کھلونے سے بہل جائے گی اور بس ۔۔ ایک دو دن میں میں ٹھیک ہوگئی ۔۔ 
اب خالو کو لت لگ چکی تھی ۔۔    

 درمیان میں کئی برس گزر گئے ۔۔ خالہ ہر سال بچہ پیدا کرتے کرتے چھ بچوں کی ماں بن گئی 
میری عزت کا گراں بہا گوہر بھی پہلی بار کے بعد اکثر لٹنےلگا پتہ نہیں کتنی بھوک تھی خالو کے اندر جو مٹتی ہی نہ تھی ایک گھر میں رہتے تھے خالو کا یہ گھناؤنا کھیل کب تک چھپ سکتا تھاخالہ کو پہلے شک ہوا پھر آنکھوں سے دیکھ لیا ۔۔۔ خالہ خالو پہ بہت ناراض ہوئی یہ ناراضگی زیادہ سنگین نہیں تھی بلکہ مصلحت آمیز تھی ایک طرف شوہر کی عزت تھی پھر بھانجی کی عزت کا خیال تھا محلے میں یا رشتے داروں میں بات پھیلتی تو کچھ نہ بچتا ۔۔ ہاں خالو نے کہیں باہر منہ مارا ہوتا تو اور بات تھی ۔ مصلحتاً خالہ اپنے شک و شبہات سے کھیلتے کھیلتے دماغی طور پہ اس حرامزدگی کو قبول کر چکی تھی اسے اپنا آرام عزیز تھا یا شائد گھر اور بچے ۔۔ خالہ اب مجھے واپس بھجوانا چاہتی تھی میں خود بھی روز کراہیت سے جیتے مرتے فرار چاہتی تھی لیکن خالو نے خالہ سے صاف کہہ دیا یہ گئی تو تم بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ لے جانا ۔۔۔ ناجائز تعلق بہت میٹھے اور مضبوط ہوتے ہیں آسانی سے نہیں ٹوٹتے لیکن جائز تعلق انتہائی نازک ہوتے ہیں سیکنڈوں میں اور معمولی جھٹکے سے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ 

 کئی بار کی لڑائیوں اور منہ ماریوں کے بعد خالہ صاحبہ نے شوہر کو مجھے لوٹنے کی اجازت دے دی تھی ورنہ اس کی ازدواجی زندگی ٹوٹ جاتی ۔۔۔ میرے جوتے کپڑے اور ضرورت کی دوسری چیزیں خالہ کی برابری پہ ایک جیسی لاتا اکثر تانگے پہ بٹھا کے مجھے شاپنگ کروانے لے جاتا محلے والے میری قسمت پہ رشک کرتے عجیب سادے لوگ تھے اس مہربانی کو خالہ خالو کی شفقت سمجھتے تھے ۔۔ ہاں اگر میں خالو کو انکار کرتی تو اسکی مونچھیں پھڑپھڑانے لگتیں آنکھیں لال ہو جاتیں اور میں خوف سے سہم جاتی ۔ میں صوفیہ بانو اب جوان ہو چکی تھی میری بھولی لولی ماں اب مجھے گھر واپس لانا چاہتی تھی میری شادی کرنا چاہتی تھی ۔۔ مجھے شادی سے دلچسپی تھی نہ گھر جانے سے اور نہ ہی ماں سے ۔ میں تمام دنیا سے خفا تھی مجھے خالو نے استعمال کر کر کے اتنا گندا کر دیا تھا کہ اب میں خود کو کسی کے بھی قابل نہیں سمجھتی تھی ۔۔۔ میں بچی تھی خوفزدہ رہتی تھی اور پرائے گھر میں دبی دبی رہتی تھی لیکن کیا ماں یا خالہ کو علم نہیں ہوسکا تھا یا اپنی زندگیوں میں اتنی مست تھیں کہ ایک آٹھ دس سال کی لرزتی خوفزدہ بچی انہیں نظر ہی نہیں آتی تھی ۔۔۔ وہ کیوں سہمی رہتی ہے ۔۔ کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی تھی ۔۔ خالہ کو اپنی سہولت عزیز تھی اور ماں کو اس سہولت کے عوضانے کی جو خالہ وقتاً فوقتاً آنے بہانے سے ماں کے حوالے کر دیتی تھی ۔۔۔ مجھے سکول بھی نہیں بھیجا گیا تھا میرا شعور کتنا پالش ہو سکتا تھا جو میں احتجاج کرتی ۔۔ یا پھر میں اتنی بدھو یا بے وقوف ہوتی کہ کوئی مصلحت مجھے چپ رہنے پہ مجبور نہ کرتی بعد کی زندگی نے اچھی طرح سمجھا دیا کہ یہ درمیانی عقل کے لوگ ہمیشہ نقصان ہی اٹھاتے ہیں ۔ مسلسل بربادی کے بعد اب مجھے اپنا آپ ایک تنکے جیسا لگتا تھا یا پھر فرش پہ پھیرنے والے ٹاٹ جیسا ۔۔ نہ سر پہ آسمان نہ پیر کے نیچے زمین عجیب سی کٹی پتنگ بن کے ڈولتی رہتی نہ میری کوئی مرضی تھی نہ خواہش ۔۔ اتنی گندی ہونے کے بعد میں چاہتی تھی کاش کہ میں اب مرجاؤں ۔۔۔ 

خالہ کے بچے پورے ہو چکے تھے اور گود سے بھی نکل چکے تھے خالہ کو کچھ کچھ ہوش رہنے لگی تھی بلکہ ایک عالمِ برزخ میں رہتی تھی جس رات خالو مجھے استعمال کرتا خالہ کو آگ لگ جاتی ۔۔ میں عادی تو تھی لیکن اب بڑی ہوگئی تھی تو کچھ شعور اور ہمت آنے لگی تھی اپنی بربادی کا ادارک دماغ کو چڑھنے لگتا تھا اپنے اسی جنون میں ایک دن پھٹ گئی میں نے مطالبہ کر دیا کہ مجھے گاؤں میرے اپنے گھر میں جانا ہے مجھے چھوڑ کے آؤ ۔یاد رہے اس وقت زمانہ اتنا ایڈوانس نہیں تھا کہ کوئی لڑکی کہیں اکیلی جاتی ۔ ایک بار منہ سے بات نکلی تو پھر سودا ہی سما گیا میں روز روز مطالبہ کرنے لگی مجھے دورہ سا پڑ جاتا میں زور زور سے چیختی پھر میں کسی کے قابو میں نہ آتی پورا گھر سہم جاتا جو چیز ہاتھ لگتی میں توڑ ڈالتی ایک بار ٹی وی کی ٹانگ کھینچ کے گرا دیا خالو جو پہلے مجھے ڈراتا تھا اب دبک کے بیٹھ جاتا مجھ سے یا میری دیوانگی سے ڈر جاتا ۔۔۔ باہر اچھی خاصی عزت کما چکا تھا اب اس کا خیال رہنے لگا کچھ اسکی عیش بھری جوانی کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر بھی اترنے لگا تھا جس دن میں نے چھری پکڑ کے اپنی کلائی پہ رکھی اس دن خالہ نے ماں کو خط لکھا کہ صوفیہ کو لے جاؤ ماں اکیلی آئی اور میری بربادی پہ اپنی بہن سے خوب خوب لڑی اگلے دن ہم گاؤں آگئے کبھی واپس نہ جانے کے لئے ۔۔ کئی ہفتے یا شائد کئی مہینے میں بولائی بولائی پھرتی رہی میری شکل پہ نحوست کھنڈی رہتی اس خبیث کا خوف ذہن سے اترا تو رفتہ رفتہ میں زندگی کی طرف لوٹنے لگی اب میں ماں کے سینے پہ دھری ایک ایسی سل تھی جو کبھی سرک نہیں سکتی تھی پھر بھی ماں نے باری باری کئی لوگ میرے رشتے کے لئے بلائے بات کہیں نہیں بنی جو جاتا واپس کبھی نہ آتا شائد میرا اعمال نامہ میرے ماتھے پہ کھنڈ گیا تھا ۔۔ میری ذہنی کیفیت بھی عجیب سی رہتی روز روز ٹھکرائے جانے کی ذلت مجھے مزید ابتر کر دیتی ہاتھ دھوتی تو دھوتی ہی رہتی نہانے جاتی تو گھنٹہ گھنٹہ نہاتی ہی چلی جاتی لیکن غلاظت نہ دھلتی وہ غلاظت دھل بھی کیسے سکتی تھی جو میرے جسم میں زبردستی انڈیل دی گئی تھی میرے ساتھ بڑی ہوئی تھی میری ہڈی بوٹی اور ماس اس غلاظت سے بنے تھے مخدوش ذہنی کیفیت میں مجھے لگتا جسم پہ سانپ بچھو چل رہے ہیں میں خود کو جھٹکتی رہتی ۔ ڈولتے ہوئے کبھی دیواروں میں جا لگتی ۔۔۔ کئی سال بیت گئے خالہ کی ان جڑواں بیٹیوں کی شادی ہوگئی وہ اب بال بچے دار تھیں مجھے ہر ہر موقعے پہ اپنی بے مائیگی اور تباہ ہونے کا خیال رلاتا رہتا ۔۔ میں اب چالیس سال کی ہورہی تھی ماں کو سختی سے منع کر دیا کہ میں شادی کے قابل نہیں ہوں یہ خیال دل سے نکال دے ماں نے خیال تو نکال دیا لیکن میری فکر سے اب اسکی روح نہیں نکلتی تھی ماں ہر دم پچھتاوں کی آگ میں گھری رہتی مجھ سے ہاتھ جوڑ جوڑ کے معافیاں مانگتی کہ میں ماں ہوکے کیسے اتنی لاپرواہ ہو گئی تھی ۔ مجھے بیٹی کی تکلیف اور بہنوئی کا تسلط کیوں سمجھ نہیں آیا ۔۔مگر اب پچھتاوے کیا ہوت ۔۔ اس دوران میں مولوی صاحب کی بیوی کے پاس قرآن کا محاروہ کرنے جاتی رہتی تھی رفتہ رفتہ ترجمہ بھی پڑھ لیا میری زندگی میں کچھ سکون آنے لگا تھا مولوی صاحب کی بیوی مر گئیں تو بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری ازخود میری ہوگئی ۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہمارا صحن بھر گیا دن بھر خواتین آتی ہیں بچیاں آتی ہیں مجھ سے قرآن اور ترجمہ پڑھتی ہیں ساٹھ ستر خواتین اور بچے میری ذمہ داری بن گئے ہیں دو فارغ ہو کے جاتے ہیں تو چار اور آجاتے ہیں میں اب زندگی کے دن پورے کر رہی ہوں میں دل سے چاہتی تھی مجھے کوئی گھاؤ لگے اور میں دنوں میں چٹ پٹ ہو جاؤں کرونا کے دنوں میں مجھے بڑی آرزو رہی کہ کاش میرے ناپاک وجود سے دھرتی پاک ہوجائے اور میں وہاں جا کے پاک ہو جاؤں لیکن مجھے کبھی بخار تک نہیں ہوا ۔۔ رفتہ رفتہ میں نے نئے سرے سے جینا سیکھا میں نے عزم کر لیا کہ میں تو برباد ہوگئی ہوں میں ممکن حد تک اور کسی کو برباد ہونے نہیں دوں گی میں گاؤں کی لڑکیوں میں شعور بانٹنے لگی انہیں بتاتی ہوں کہ مرد کس کس روپ میں بھیڑیا ہو سکتا ہے ہفتے میں ایک دن ماؤں کی بھی کلاس لیتی ہوں کہ بچیوں کی حفاظت کیسے کیسے کرنی چاہئے کہاں کہاں کرنی چاہئے انہیں بتاتی اور سمجھاتی ہوں ۔۔ میرے پاس لٹنے کا تجربہ تھا اس لئے میری بات میں حتمی رنگ ہوتا ہے اب تو میں نے اپنی زندگی اس مشن کے لئے مختص کر دی ہے سوچتی ہوں تو کبھی کبھی مجھے قرار ملتا ہے کہ شائد اللہ نے مجھے اس مشن کے لئے ہی دنیا میں بھیجا تھا ۔۔ لیکن اس بھیڑیے کو کبھی اپنی بربادی نہیں بخشوں گی ۔۔ قیامت کے دن اس کا خالہ کا اور اپنی ماں کا گریبان پکڑوں گی ان سب نے مجھے وہ سبق سکھایا تھا جو کسی سکول میں نہیں سکھایا جاتا میرا کیا قصور تھا ۔۔ 

ماں سمجھاتی مر گئی کہ زندگی بہت خوبصورت ہے رب کا انعام ہے میں بھی خود کو بہت سمجھاتی ہوں کہ اس بربادی میں میرا کیا دوش لیکن رائیگانی کا احساس مارے ڈالتا ہے کہ زندگی تو ایک ہی بار ملتی ہے برباد ہو یا آباد ۔۔۔ میں نے کب دنیا میں دوبارہ آنا ہے جو مجھے زندگی حسین لگے یا نعمت لگے ۔۔ 

کیا تھا اگر وہ خبیث میری زندگی برباد نہ کرتا میں بھی ایک نارمل زندگی جی لیتی ۔۔۔ عام لڑکیوں کی طرح سکول جاتی دس بارہ یا چودہ جماعتیں پڑھ لیتی پھر میری شادی ہوجاتی دنیا میں میرا ایک شوہر ہوتا گھر ہوتا بچے ہوتے پھر میں زندگی کو امانت سمجھ کے احتیاط سے خرچ کرتی ۔۔ 
پہلے نمازوں میں رب سے لڑتی تھی اب گریہ زار رہتی ہوں کہ کسی کا قصور ہوتا ہے تو اسے سزا ملتی ہے میری زندگی کیوں بے ثمر ہوئی ؟

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !