ایک تو یہ کہ پہلے والے ماں باپ ٹھیک تھے، مار پیٹ کرتے تھے، تب ہی بچے مضبوط بنتے تھے۔ اب ہم نے بچوں کو بہت نازک بنا دیا ہے۔ باہر کی سخت دنیا سے لڑنے کے لیے گھر میں سختی ضروری ہے۔
جب بھی بچوں کی مار پیٹ کو کوئی ایڈووکیٹ کرتا ہے تو میں سوچ میں پڑ جاتی ہوں۔ یہ بھی ان چیزوں میں سے ایک ہے جو مذہب سے زیادہ کلچرل ہیں۔ سیرتِ طیبہ میں تو کہیں بھی نہیں ملتا کہ نبی ﷺ چھوٹے بچوں سے مار پیٹ اور سختی کا معاملہ کرتے ہوں۔
میں یہ نہیں کہتی کہ ہم ہمیشہ ہی بچوں کے ساتھ بہت نرمی سے بات کریں گے۔ ہم پر بھی کوئی لمحہ کمزوری کا گزر سکتا ہے کہ ہم اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکیں۔ لیکن یہ رویہ ہمارا روٹین رویہ نہیں ہونا چاہیے۔
خیر، واپس اپنی بات پر آتی ہوں۔ زید بن حارثہ ؓ چھوٹے سے تھے جب نبیؐ کی خدمت میں بطور غلام آئے اور بعد میں منہ بولے بیٹے بنے۔ ان کے والد انہیں لینے آئے تو وہ گئے ہی نہیں۔ نبیؐ کے پاس ہی رکنے کو ترجیح دی۔ اتنی محبت سے رکھا گیا تھا انہیں۔ اگر بچوں کی تربیت میں مار پیٹ اور تحقیر بنیادی اصول ہوتے تو سب سے پہلے وہ ہمیں سیرت میں نظر آتے۔ زید ؓ کے والد انہیں لینے آئے تو وہ رکتے نہیں اگر نبی ؐ کا رویہ ان کے ساتھ شفقت میں ڈوبا نہ ہوتا۔
سیرت کا ہی ایک اور صفحہ پلٹیں تو آپ ﷺ اس بچے کے پاس تعزیت کرتے دکھائی دیں گے جس کا پرندہ مر گیا اور وہ غم زدہ تھا۔ اور نماز کے دوران جب ننھے حسن اور حسین رضی اللہ عنہم آپؐ کے کندھوں پر آ بیٹھتے تو آپ ﷺ سجدہ طویل کر دیتے لیکن بچوں کو پیچھے نہ ہٹاتے۔
سیرت میں ہمیں کہیں نہیں ملتا کہ بچوں کو مضبوط بنانے کے لیے ان سے شفقت کا رویہ نہ رکھا جائے۔ ان کی تذلیل کی جائے، ان پر ہاتھ اٹھایا جائے۔ بلکہ ایک بدو بہت حیران ہوا کہ آپ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں، تو فرمایا کہ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔
یہ چیز ہم میں سے اکثر نے مشاہدہ کی ہو گی کہ جو بچہ اپنے ہی گھر میں مسلسل تنقید اور سختی کا سامنا کرتا ہے،اس کا self-confidence تباہ ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتا ہے۔ وہ باہر کی دنیا سے لڑنے کے لیے مضبوط نہیں بنتا۔ وہ یا تو حد سے زیادہ ڈرپوک بن جاتا ہے، یا حد سے زیادہ باغی۔
اس کے برعکس جب والدین بچے کے لیے ڈھال بنیں۔ جب بچہ جانتا ہو کہ میری غلطی پر مجھے سمجھایا جائے گا، بے عزت نہیں کیا جائے گا۔ جب اسے یہ یقین ہو کہ میرے والدین میری ہوم ٹیم ہیں، میرے مخالف نہیں۔ پھر وہ باہر کی سخت دنیا کا مقابلہ اعتماد کے ساتھ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
ایک اور اعتراض، یا بلکہ غلط فہمی بھی ایسے کامنٹس میں دکھائی دیتی ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ جینٹل پیرنٹنگ کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کو کچھ کہیں ہی نہیں۔ کسی بات سے منع نہ کریں۔ ان کی ہر ضد پر امنا و صدقنا کہہ دیں۔ کوئی باؤنڈریز نہ ہوں اور بچے والدین کے سر پر چڑھ کر ناچیں۔
دیکھیں، بچوں کو منع بھی کرنا پڑتا ہے۔ حدود قائم بھی کرنی ہوتی ہیں۔ غلطی پر روکنا بھی ہوتا ہے۔ جینٹل پیرنٹنگ کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ جو چاہے کرے۔ بطور والدین بچے کو صحیح غلط بتانا ہماری ذمہ داری ہے۔ باؤنڈریز بنانا اور ان پر عمل کروانا (مار پیٹ اور تحقیر کیے بغیر)۔جینٹل پیرنٹنگ کا مطلب فقط یہ ہے کہ ہم چیخنے کے بجائے سمجھائیں۔ تحقیر کرنے کے بجائے سکھائیں۔ اور کئی بار اپنی نصیحت کو اپنے پاس رکھ کر کچھ دیر بچے کو سمجھنے کی کوشش کریں، اس کی فیلنگز کو ایکنالج کریں۔
فرض کریں بچہ کہتا ہے کہ مجھے سکول بالکل نہیں پسند۔ میں نے نہیں جانا۔
اب والدین بچے کو سکول تو بھیجیں گے، لیکن ایک طریقہ کار میں ڈانٹ ڈپٹ اور دھمکی اور طعنے شامل ہوں گے، دوسرے میں احساسات کو ایکنالج کر کے، بچے کی بات سن کر پھر بھیجا جائے گا۔
سلمان آصف صدیقی صاحب کا کہنا ہے کہ آپ اپنے بچے کو اتنی عزت دیں جتنی آپ چاہتے ہیں کہ معاشرہ دے۔ جب آپ بچے کو عزت دیتے ہیں تو بچہ اس چیز کو انٹرنلائز کرتا ہے کہ میں قابلِ عزت ہوں۔جو گھر میں محفوظ ہوتا ہے، وہ دنیا میں بے خوف چلتا ہے۔ اور جس بچے کی بات کا گھر میں مذاق اڑایا جائے، اسے بہن بھائیوں اور ہر آئے گئے کے سامنے شرمندہ کیا جائے، اس کی رائے کو بے وقعت سمجھا جائے تو ہم دنیا سے کیسے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اسے باعزت سمجھے گی؟
اگر ہمیں واقعی مضبوط نسل چاہیے تو ہمیں گھروں کو میدانِ جنگ نہیں بنانا، گھر والوں کے لئے سیف پلیس بنانا ہے جہاں چھوٹے بڑے ہر ایک کی عزت کی جاتی ہے، سب کی بات سنی جاتی ہے اور سب کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے۔
