جہاں سے چلے جائیں وہاں واپس نہ جائیں۔ خطیب احمد

جہاں سے آپ جا چکے ہوں وہاں واپس کبھی نہ آئیں۔ چار باتیں آپ کی سوچ کو ایک نیا زاویہ دیں گی۔ چند دن قبل یہیں مسقط میں ایک پرانے دوست سے ملنا ہوا جس نے زیرو میٹر پچیس ماڈل ٹیوٹا لینڈ کروزر لی تھی۔ اسکی قیمت قریب قریب تیس ہزار عمانی ریال تھی۔ پاکستانی کوئی سوا دو کروڑ روپے۔ اس نے کہا خطیب آؤ آج میرے سب سے پہلے ارباب سے ملنے جاتے ہیں جسکے پاس میں 80 ریال سیلری پر پاکستان سے آیا تھا۔ دو سال وہاں کام کیا پھر تنازل لے لیا۔ دوسرا ویزہ بھی جاب کی تیسرا آزاد ویزہ لے کر باہر محنت مزدوری شروع کر دی۔ پھر پینٹ کی لائن پکڑی اور آٹھ سال بعد ٹھیکیدار بن گیا۔ اللہ نے ہاتھ پکڑ لیا اور الحمدللہ آج دس بارہ بندے میری اپنی کمپنی ذاتی کمپنی میں ہیں۔ میں ان کا سپانسر یعنی ارباب ہوں۔ میں اپنے بزنس کا سو فیصد خود مالک ہوں۔ 

اس دن پہلی تراویح تھی۔ یعنی اگلے دن روزہ تھا۔ ارباب نے کہا تروایح کے بعد آجائیں۔ کئی سال بعد دوست بھی وہاں جا رہا تھا۔ مٹھائی لی فروٹ کی ٹوکری بنوائی۔ ارباب کے پاس گئے پہلے تو بہت خوشی سے ملا۔ جب دوست نے بتایا کہ یہ لینڈ کرورز میں نے لی ہے۔ اس نے پوچھا اچھا بنک کی قسط کتنی ہے؟ اس نے کہا قسطوں پر نہیں کیش پر لی ہے۔ تو اس کا رنگ اڑ گیا۔ اس کے پاس kia کمپنی کی پرانی سی rio گاڑی تھی۔ حد ہزار بارہ سو ریال کی ہوگی۔ اسکے لیے یہ ناقابل یقین معجزہ تھا کہ اسی ریال ماہانہ پر دس بارہ سال قبل مزدوری کرنے والا ایک بندہ آج تیس ہزار کی لینڈ کروزر خرید چکا ہے۔ شروع میں اسکے لہجے کی مٹھاس اب پھیکی پڑ چکی تھی۔ اور وہ اس ملاقات کو جلد از جلد ختم کرنا چاہ رہا تھا۔ 

جب ہم واپسی کے لیے نکلے تو میرے دوست نے بتایا کہ اس بندے کو والد سمجھ کر ملنے آیا تھا۔ سوچا تھا وہ خوش ہوگا۔ وہ تو جیسے مر ہی گیا۔ وہ چاہ کر بھی اپنے جذبات نہ چھپا سکا۔ اور دو سو فیصد تک اسے یقین نہیں آیا ہوگا کہ اس لڑکے کی گاڑی اپنی ہے۔ 

میرا ایک دوست مغل فیملی سے ہے۔ اس نے revo ڈالا لیا۔ والد صاحب کی وفات ہو چکی تھی۔ تو ابا کے ایک دوست چاچا پٹواری کے پاس ان کو والد سمجھ کر ملنے گیا۔ وہ گوجرانوالہ شفٹ ہو چکے تھے عید یا کسی خوشی غمی پر گاؤں آتے تھے۔ اس نے بتایا کہ چاچا پٹواری نے پوچھا گاڑی کس کی ہے؟ میں نے کہا میری ہے؟ تو بولا مذاق نہ کرو۔ تمہارا باپ تو ہماری اور سارے گاؤں کی سیپ کرتا تھا درانتیوں کو دندے نکالتا تھا ٹوکے کی چھریاں آگ پر تیز کرتا تھا تم نے اتنے پیسے کہاں سے کما لیے؟ اس نے بتایا کہ چاچا جی ہمارا بلڈنگ میٹریل اسٹور ہے۔ اللہ کی بڑی خیر ہے۔ کبھی تشریف لائیں ہم آپ کے بچے ہیں۔ چاچا بولا پتر غصہ نہ کریں توں پاویں ہیلی کاپٹر لِل لے رہنا تساں لوہار ای اے۔ اس نے بتایا کہ چاچا پٹواری جٹ تھے اور ہم ماضی میں انکے کمی ہوا کرتے تھے۔ آج وہ نجانے کیسے اپنا گزر بسر کر رہے تھے ایک بیٹا عراق جا کر کار واش کا کام کرتا ہے۔ مگر وہ عہد رفتہ کی برتری والی سوچ آج بھی باقی ہے۔ دوست نے بتایا کہ انکی کوئی بات بری نہیں لگی دیہاتوں میں یہی نارمل سوچ ہے۔ لوگ آج بھی ایسا ہی سوچتے ہیں۔ مگر افسوس اس بات پر ہوا کہ جہاں سے آگے جاچکے ہوں وہاں واپس نہیں جانا چاہیے۔ 

میرے ایک دوست نوشہرہ ورکاں سے ہیں۔ ڈائریکٹ ہیڈ ماسٹر سکیل سترہ میں بھرتی ہوئے۔ اپنے سکول کے بیسٹ ٹیچر کے گھر مٹھائی لے کر ملنے گئے۔ جو ابھی حاضر سروس ایس ایس ٹی تھی۔ بولے وڈی کنی دتی آ؟ رشوت کتنی دی ہے؟ اس نے بتایا سر وہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ میرٹ پر سب ہوتا ہے۔ بولے میں وی ستارہوی اچ جان آلا واں۔ لسٹاں بن گئیاں نیں۔ اس کو لفظی مبارک تک نہیں دی نہ ہی خوش ہوئے کہ یہ تمہاری کامیابی ہے۔ یہ استاد کا حال ہے کہ میرا شاگرد مجھ سے آگے کیوں نکل گیا۔ 

میں خود جب سال دو ہزار چار میں کالج گیا۔ تو ایک فوٹو سٹوڈیو میں بطور فوٹو ایڈیٹر اور مووی مکسر ملازمت اختیار کی۔ کالج کے بعد وہاں چاد پانچ گھنٹے کام کرتا تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ مجھے اس وقت کوئی پیسوں کی ضرورت تھی۔ ابو سعودیہ تھے، میرے نام پر اکاؤنٹ تھا گھر کے تمام مالی معاملات میرے سپرد کیے جا چکے تھے۔ اس دور جیسی بے فکری یا مالی خوش حالی دوبارہ آج تک نہیں محسوس کی۔ جب میں کالج گیا تو کوئی تین لاکھ روپے کی سیونگ میرے اکاؤنٹ میں تھی۔ انہی دنوں ہمارا موجودہ گھر بھی تعمیر ہو رہا تھا۔ گھر مکمل بن کے بھی پیسے باقی بچ گئے تھے۔ 

بہرحال میری وہاں سیلری 1500 روپے طے ہوئی۔ جو تین ماہ بعد 3000 ہوگئی۔ میرے لیے بہت مزے کی جاب تھی۔ ایڈوب فوٹو شاپ مجھے اچھا چلانا آتا تھا۔ میرے پاس گھر بھی P4 ایک اچھا کمپیوٹر بھی تھا۔ خیر سال سوا میں نے وہاں کام کیا پھر جاب چھوڑ کر آوارہ گرد ہوگیا۔ دوستوں کے ساتھ گوجرانوالہ و لاہور کے سینما جانا ، لاہور تماثیل ہال اسٹیج ڈرامے دیکھنے جانا وغیرہ میرے مشاغل تھے۔ 

میں کوئی پندرہ سال بعد کرونا وبا کے دنوں میں اس دکان پر دوبارہ گیا۔ اونر بڑی خوش دلی سے ملا کہ ایک مدت بعد آئے ہو۔ اور پھر کام میں مصروف ہوگیا، اس دور کا میرے ساتھ کام کرنے والا ایک فوٹو گرافر آج بھی وہاں موجود تھا۔ وہ اپنی جیب سے جاکر میرے لیے بوتل اور سموسے لے آیا۔ وہ بہت خوش تھا کہ ہم دوبارہ ملے ہیں۔ اونر نے پوچھا اب کیا کرتے ہو خطیب ؟ میں نے کہا سکول ٹیچر ہوں۔ پوچھا سرکاری؟ میں نے کہا جی۔ بولے اچھا تنخواہ کتنی ہے؟ میں نے کہا ایک لاکھ بیس ہزار۔ بولے بس کر یار، جو اصل میں ہے وہ بتا۔ ایک لاکھ بیس سرکاری سکول ٹیچر کی تنخواہ۔ پین چو اسی سوا کروڑ روپیہ لا کے ڈیڑھ دو لکھ پئے بچانے آں۔ میں نے کہا سچ میں اتنی ہی ہے کیوں جھوٹ بولوں گا؟ وہ چپ کر گئے اور میں اپنا کام کروا کے واپس آگیا۔ بعد میں دوست نے بتایا کہ آئندہ یہاں کبھی مت آنا۔ تمہیں اس بندے نے بہت گالیاں دیں، اور بہت برا بھلا کہا، تمہارے اس دور کے کام میں غلطیاں نکالیں کہ اسے ہم نے کام سکھایا تھا۔ جب کہ یہ سب جھوٹ تھا تم کام سیکھے ہوئے آئے تھے اور تم بہت اچھا کام کرتے تھے۔ صرف اس وجہ سے کہ اسکی نظر میں تم آج بھی وہی دو چار ہزار کی ملازمت والے فوٹو ایڈیٹر ہو۔ وہ اس سے اوپر تمہیں دیکھ کر خوش نہیں ہو سکتے۔ مجھے دیکھو تب چار ہزار تنخواہ تھی آج تیس ہزار ہے۔ اللہ تمہیں بہت نوازے ۔ تم سے تب بھی پیار تھا آج بھی ہے۔ مگر سیٹھ کو تم بہت برے لگے ہو زندگی میں آگے بڑھ کر۔ حالانکہ اس کا کوئی نقصان تم نے نہیں کیا۔ تمہارے جانے کے بعد سال دو سال تمہاری تعریف کرتا رہا، اور آج وہی بندہ بکواس کر رہا ہے۔ صرف حسد اور اپنے اندر کے نیچ پن کی وجہ سے۔ بولا کوئی کسی کو برداشت نہیں کرتا، آئندہ اپنی تنخواہ آدھی بتانا جہاں بھی کسی کو بتاؤ، اور جہاں سے جا چکے ہو وہاں واپس کبھی لوٹ کر نہ آنا۔ 
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !