ناقص الایمان ۔۔۔ زوبیہ حسیب


وہ ایک ناقص الایمان مسلمان تھا. اس کا نام احمد تھا. وہ ایک دیہاڑی دار مزدور تھا. گھر میں دو بچے اور ایک بوڑھی ماں موجود تھے. بیوی کچھ عرصہ پہلے اپنے آخری سفر پر روانہ ہو چکی تھی. دونوں بچے اپنی تعلیم میں مصروف تھے اور بوڑھی والدہ اپنے آپ کو روزمرہ کاموں میں مصروف رکھتیں.
احمد جو کچھ کما کر لاتا پورا کنبہ اسی پر صبر شکر کر لیتا. احمد اکثر بھوکے پیٹ ہی کام کے لئے نکل جاتا. کبھی گھرسے باہر رہتا تو رات گئے واپس آتا. اس کی والدہ کو اس کی صحت پر شک ہوا. انہوں نے اس کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہ رہنے دی. آہستہ آہستہ معمول بڑھتا گیا... احمد کی والدہ فکر مند رہنے لگیں. بچے بھی باپ کے لئے پریشان رہتے.
بات بڑھتی گئی. اردگرد کے لوگوں میں بھی شرگوشیاں ہونے لگیں. احمد پر کچھ اثر نہ ہوا. ایک روز مالک الموت کی آمد ہوئی اور یوں احمد کی والدہ جہاں فانی سے کوچ کر گئیں.
بچے جوان ہو گئے. نیک با شعور اور ہنر مند. وقت کا پہیا گھومتا رہا. اولاد نے اپنے باپ کا حق ادا کیا. اب احمد گھر پہ آرام کرتا. ایک بیٹا کما کر لاتا اور دوسرا باپ کی خدمت کرتا.احمد اکثر خود کو کمرے میں بند رکھتا. دونوں لڑکے حیران رہتے. مگر باپ سے سوال کون کرتا؟؟؟
دن ڈھلتے رہے رفتہ رفتہ بستر احمد کا مسکن بن گیا. ایک رات احمد نے اپنے بیٹوں کو بلایا. دونوں اسے دیکھ رہے تھے. ایک کپکپاتی سی سرسراہٹ ہوئی اور آواز ابھری.
"تمھاری ماں ایک نیک ہمسفر اور خدمت گزار شریک حیات تھی. میں شرمندہ ہوں کہ وہ شفقت نہ دے سکا جو لازم تھی. تم دونوں میری صالح اولاد ہو. میں تم دونوں سے بہت خوش اور مطمئن ہوں. اب میرا سفر منزل کے قریب ہے. سب کچھ تمھارے لئے ہے.
یاد رکھنا اس زندگی میں سب سے اہم دولت دل ہے اس کو سنبھال کر رکھنا. یہ دولت برباد بھی کرتی ہے اور آباد بھی. اور سب سے بڑا امتحان تمھارا دماغ ہے اسے سیدھے راستے حل کرنا."
"بابا!" اچانک چھوٹے بیٹے نے پکارا.
بوڑھے نے بیٹے کی طرف دیکھا. "بابا آپ تنہائی میں کیا عمل کرتے تھے. ہم ہمیشہ اس سوال کا جواب چاہتے تھے."
ایک مسکراہٹ در آئی.
"عبادت"
"بابا وہ تو ہم بھی کرتے ہیں پھر ایسا کیوں؟ تم عبادت کیوں کرتے ہو؟"
"کیوں کہ یہ ہم پہ فرض ہے. اس کی ادائیگی سزا و جزا کا فیصلہ کرتی ہے. میں عبادت اللہ کے لئے کرتا تھا. اس لئے کہ میرا مالک مجھ سے خوش ہو جائے. میں روزہ رکھتا تھا اپنے رب کے لئے اس کی خوشی کے لئے. فرض کی ادائیگی سب کرتے ہیں مگر اپنے رب کو خوش کون کرتا ہے؟ فرض نماز.. فرض روزے... لازم سجدے... اور بس.... یوں تو ہم بس آخرت میں اپنا دفاع کرتے ہیں. اپنے رب کے لئے کیا ... کیا ہم نے؟؟"
بوڑھے کی آنکھوں میں ندامت و پشیمانی کے آنسو تھے. دونوں بیٹے باپ کی صورت دیکھ رہے تھے. یہی وہ راز تھا جو بند دروازے میں قید تھا. یہی وہ محبت تھی جس نے مجھے بھوکا رکھا. دونوں لڑکے اشک بار تھے. بوڑھا شدت سے اشک بار تھا. اچانک کلمہ کی آواز بلند ہوئی اور احمد کی روح قبض ہو گئی. ایک ناقص الایمان مسلمان اپنی اعلی درجے کی محبت الہیہ لے کر رخصت ہو گیا.

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !