کمزور وجود (ماؤں کے نام)۔۔۔ آسیہ عمران


            جملہ کیا تھا کہ میں اچانک ہنس پڑی اور ہنستے ہنستے رو دی ۔ذیشان عثمانی نے  کہا تھا "ماں بڑی ہی پیچیدہ مخلوق ہے کبھی ہنستے ہنستے رو پڑتی ہے اور کبھی روتے روتے ہنس پڑتی ہے ۔"ان سے کسی نے "ماں" کے موضوع  پر بات کرنے کی فرمائش کی تھی۔ شاید  زندگی کی مشکل ترین فرمائش تھی۔ تبھی گلوگیر لہجے میں ایک پہلو کی طرف توجہ دلاتے کہنے لگےماں اس معاشرے کا وہ نوکر  ہے جس کی کوئی تنخواہ نہیں ۔ ایسا مزدور ہے جسے اولاد کی کامیابی کے سوا کوئی معاوضہ مطلوب نہیں۔حد تو یہ ہے معاشرہ اس بے لوث وجود کی بے مول خدمت کو قبولتا بھی نہیں۔ایک استاد کہا کرتے تھے۔مائیں  سانجھی ہوتی ہیں۔کسی کی بھی ماں  سامنے آجائےجھک جایا کرو ۔ہار مان لیا کرو۔چپ ہو جایا کرو۔اسکی خدمت بجا لاؤ۔ کہ ان میں ممتا کے سوتے بہتے ہیں سیرابی تمھیں بھی ملے گی۔ماں  پوری زندگی وہ  ڈھال ہوتی ہے جو ہر غم و الم کو اپنے نازک وجود میں پروتی رہتی ہے اولاد تک پہنچنے نہیں دیتی۔  بچہ کامیاب ہو تو گویا  انھیں میڈل مل جاتا ہے۔ ان کی ناکامی میں اپنے ہی قصور تلاش کرتے بے دم ہو جاتی ہیں۔تکلیف بچے کو ہو نیند ماں کی اڑ جاتی ہے۔  جاگ بچہ رہا ہو پیٹھ اس کی بستر سے نہیں لگتی۔

            ایک سہیلی جن کی ماں کو کینسر تشخیص ہوا تھا بستر مرگ پر تھیں ۔جب جب ہوش آتا بس یہی جملے ہوتے میرے بچے میری وجہ سے تکلیف میں ہیں ۔بیٹی رو دی ماں کو اس وقت بھی اپنی نہیں ہماری پروا ہے۔ ماں کا کمرہ گھر بھر میں سب سے بوسیدہ ، کپڑے  سادہ ترین، بچوں کے لئے تمناؤں کا جہاں لئے پھرتی ہے۔ماں بنتے ہی جیسے بدل سی جاتی ہے۔کبھی سوچا کہ کل تک  رنگینیوں کی شوقین لڑکی ماں بنتے ہی خود سے بے نیاز  کیوں ہو تی چلی جاتی ہے۔فضول خرچی کرنے والی پائی پائی بچا کر رکھنے لگتی ہے کہ مشکل وقت میں بچوں پر مشکل کا سایہ بھی نہ پڑے۔

            گزشتہ دنوں ایک ماں کے حوالے سے تحریر لکھی جس کے بدقسمت بچے اجر سمیٹنے سے محروم تھے۔ اس پر کمنٹس میں سے کچھ کمنٹس نے ہلا کر رکھ دیا کہنا تھا کہ اب ہمیں اولڈ ہاؤسز بنانے ہونگے۔ بجائے اس کے کہ اس خیر کے منبع کو گھر سے دور کرنے پر معاشرتی ،دینی حمیت جاگتی ، مشورے انھیں مزید تکالیف کے سپرد کر دینے کے  تھے۔وہ معاشرے  انسانیت سے خالی لعنت زدہ معاشرے ہیں ۔ جو بچوں کو چائلڈ ہاؤس اور بوڑھوں کو اولڈ ہاؤسز میں پیشہ ور ہاتھوں کو سونپ آتے  ہیں اور خود غیروں کی چاکری میں عزت تلاش کرتے ہیں ۔تصور کیجئے جب بچے ،بوڑھے گھر کے دو کمزور وجود گھر سے باہر دھکیل دئیے جائیں تو عورت کو گھر میں عزت سے بٹھانے کا جواز کیا رہ جاتا ہے۔ بےکار وجود تو کوئی بھی معاشرہ برداشت نہیں کر تا ۔دنیا میں آنے والے ہر وجود کو زندگی کی مقرر کردہ قیمت ادا کرنا ہوتی ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ جب ماں ،بہن بیٹی ،بیوی کی جگہ بندھنوں سے آزاد عورت لے لیتی ہے۔ تو آخر وہ خود کوایک مرد تک محدود کیوں کرے گی؟ پھرصرف اولڈ ہاؤس ہی نہیں ، چائلڈ ہاؤس بھی بنیں گے۔ نہ عورت محفوظ ہوگی نہ بچے نہ بوڑھے معاشرت کی بنیادیں ہل جائیں گی۔سارا نظام تلپٹ ہو جائے گا۔

            اس کی عملی صورت مغرب کی معاشرتی صورتحال میں دیکھی جا سکتی ہے بظاہرچمکتا دمکتا  شاندار مغرب معصومیت کا قاتل معاشرتی آسودگی سے دور دردناک صورتحال سے دوچار ہے۔ ڈاکٹر عبد الغنی فاروق نے "یہ ہے مغری تہذیب " نامی کتاب میں میں مغرب کی عبرت ناک صورتحال پر فکر انگیز تحقیق اور چشم کشا تجزیہ کیا ہے ۔فکر انگیز اعداد و شمار مغرب پرستوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ میرے دین نے دنیا کی رنگینیوں سے صرف نظر رشتوں اور تعلقات کو اہمیت دی ہے ۔ انھی تعلقات کی بہتری میں دین و دنیا کی کامیابیاں چھپی ہیں ۔میرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماں کو جنت اور باپ کو جنت کا دروازہ کہا ہے۔رب کریم نے تنبیہہ کی کہانھیں اف تک نہ کہنا۔بچوں کی پیدائش ، پرورش سبھی پر اجر رکھا ہے دونوں کے کمزور وجود میں گھر بھر کی بر کتیں اور  سکینت کا سامان ہے۔ اجر کے سوتے بہتے ہیں۔سعودی عریبیہ میں ایک بھائی نے دوسرے بھائی کے خلاف کیس دائر کیا کہ وہ ماں کو کئی سال سے اپنے پاس رکھے ہوئے ہے ۔ لہذا اب ماں کو اس کے حوالے کیاجائے۔کسی نے والدین کی خدمت کرتے کیا خوب کہامیں ان گھنے درختوں کی حفاظت کر رہا ہوں کہ ان کا گھنا سایہ میرے بچوں کو ملے۔

            اللہ نے ان رشتوں میں کیا رکھا کہ بیمار بچہ ہوتا ہے اور نیند ماں کی اڑ جاتی ہے۔تکلیف بھائی کو ہو تو سکون بہنوں کا لٹ جاتا ہے۔ غم سے بیٹی دوچار ہو کلیجہ باپ کا پھٹنے لگتا ہے۔اس بڑھتی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں احساس کی اہمیت کو علامہ اقبال نے ان الفاظ میں بیان کیا۔ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومتاحساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتماں باپ کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا کہ وہ تنو مند تھے  تو آپ کی زندگی بنا تے رہے ۔بوڑھے ہوئے تو خدمت کا مو قع دے کر آخرت بھی نام کر گئے۔ہر حال میں فائدہ تو آپ ہی کا ہوا۔یہ بظاہر کمزور وجود دراصل معاشرے کی" اصل "اور" روح" ہیں۔اے اللہ ہمارے والدین پر رحم فرماہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈکہم سب کو اپنے لئے،اپنے راستے پر لگاآمین ثم آمین

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !