عباس تابش،عصری غزل کا حوالہ۔۔۔طارق جاوید

کچھ آوازیں صرف سماعتوں سے نہیں ٹکراتیں، وہ روح کے بند کواڑ کھٹکھٹاتی ہیں اور کچھ لہجے ایسے ہوتے ہیں جو لفظوں کو محض معانی نہیں، بلکہ ایک نئی زندگی عطا کر دیتے ہیں۔ عصری اردو غزل کے منظر نامے پر عباس تابش ایک ایسا ہی طلسماتی نام ہے، جس نے روایت کے قدیم چراغ سے جدید حسیت کی نئی شمعیں روشن کی ہیں۔ ان کا فن اس مرکزِ ربط پر کھڑا ہے جہاں میلسی مٹی کی دیرینہ لطافت، لاہور کے فکری دبستانوں کی وسعت سے دامنِ قربت ہے۔ ان کی تخلیقی جڑوں میں دیہات کی وہ پاکیزہ نمی ہے جو شاخوں تک پہنچتے پہنچتے ایک کائناتی فکر کے شجر میں ڈھل جاتی ہے—ایک ایسا شجر، جس کے لمس سے شجر تسبیح پڑھنے لگتے ہیں۔
عباس تابش کی غزل اس مقامِ بلند پر فائز ہے جہاں فن، سہلِ ممتنع کا لبادہ اوڑھ کر معجزہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے غزل کی کلاسیکی حرمت کو پامال کیے بغیر اسے عصری استعاروں کا ہم نوا بنایا ہے۔ ان کے ہاں انا کی سرکشی اور محبت کی عاجزی میں وہ توازن ملتا ہے جو صرف ایک درویش صفت تخلیق کار خاصہ ہو سکتا ہے۔ مکان سے لامکاں تک کا یہ سفر ان کی شاعری میں ایک فطری بہاؤ کی طرح رواں ہے، جو قاری کو حیرت کے ایک ایسے نگر میں لے جاتا ہے جہاں لفظ خوشبو بن کر احساس کو چھوتے ہیں۔
میری وابستگی کا قصہ بھی عجیب ہے۔ 2007ء کی ایک سہ پہر جب میں الکبیر لائبریری سے ان کا مجموعہ "آسمان" کرائے پر لیے گھر لوٹ رہا تھا، تو گمان بھی نہ تھا کہ یہ کتاب میری زندگی کا ایک باب بن جائے گی۔ راستے میں منیر راہی صاحب نے روکا، کتاب دیکھی اور وہیں جیب سے فون نکال کر عباس تابش صاحب سے یہ کہہ کر میری بات کروا دی: "عباس! دیکھو تمہاری محبت کس طرح گلیوں میں سفر کر رہی ہے۔" فون کی دوسری طرف سے آنے والی وہ آواز میرے لیے کسی خوشخبری سے کم نہ تھی؛ جیسے تپتی دھوپ میں ابرِ رواں کا سایہ ہو جائے۔
عقیدت کا یہ بیج 2013ء میں بہاولپور کی ایک شام میں پودا بنا اور پھر 2014ء میں کبیر والا کی مٹی نے اس رشتے کو مزید توانا کیا۔ لیکن میرے حافظے میں 2019ء کی وہ دوپہر آج بھی روشن ہے، جب فیصل ہاشمی کی دعوت پر اطہر خان بھٹہ کے ڈیرے پر ستاروں کا اترنا امجد اسلام امجد، شوکت فہمی اور عباس تابش،ایک ایسی محفل جس میں وقت کی گردش تھم گئی تھی۔ تاثیر جعفری، عمار یاسر مگسی اور محمد علی ایاز جیسے دوستوں کی موجودگی میں وہ جادوئی لمحات آج بھی میری تنہائیوں کا اثاثہ ہیں۔
زندگی کے سب سے کڑے امتحان نشتر ہسپتال کے وہ ایام تھے جب میں انکل نعیم طارق کی تیمارداری میں کرب اور بیماری کے سائے تلے دن گزار رہا تھا۔ ان تاریک لمحوں میں شاکر حسین شاکر کی آمد کسی معجزے سے کم نہ ہوتی۔ دکھوں کے اس حصار میں بھی جب ہم بیٹھتے، تو ہماری گفتگو کا محور عباس تابش ہوتے۔ میں دکھ کی شدت کو کم کرنے کے لیے شاکر حسین شاکر کو تابش بھائی کے اشعار سناتا۔ شاکر حسین شاکر میری اس دیوانگی کو خاموشی سے پرکھتے رہے، اور ایک دن انہوں نے کلیات "عشق آباد" میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے ایک ایسا جملہ کہا جو میری زندگی کی سب سے بڑی سند بن گیا: "طارق! اس کتاب کے اصل حقدار تم ہی ہو!"
حیرتوں کا یہ سفر ابھی تمام نہیں ہوا تھا۔ جب انکل نعیم طارق بیماری کی جنگ جیت کر گھر لوٹے، تو انہوں نے مجھے ایک ایسا تحفہ دیا جس نے میری آنکھوں کو پرنم کر دیا۔ ان کے ہاتھوں میں تابش بھائی کا مجموعہ "شجر تسبیح کرتے ہیں" تھا—یہ محض ایک کتاب نہیں تھی، بلکہ میرے دکھوں کا مداوا اور میری برسوں کی عقیدت کا ثمر تھا
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !