وہ شہر کی جانی مانی ماہر نفسیات مسز ماریہ چوہان کے دفتر بیٹھی تھی______
مسز ماریہ چوہان نے کچھ ضروری سوالات کے بعد انابیہ سے اسکے آنے کا مقصد پوچھا___
انابیہ کے چہرے سے صاف ظاہر تھا وہ کسی اضطراب اور ہچکچاہٹ کا شکار ہے_____
اسکے ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہو رہے تھے_____
مسز ماریہ چوہان نے اسکی کیفیت بھانپتے ہوئے اسکا ہاتھ نرمی سے دباتے ہوئے اسکو تسلی دی اور کہا کہ وہ اپنی بات پورے اعتماد کے ساتھ کرسکتی ہے_____
انابیہ کو کچھ اطمینان سا ہوا اس نے ایک گہری سانس لی اور بولی_____
مسز ماریہ میں ایک انتہائی عجیب و غریب کیفیت کا شکار ہوں ____کب سے ہوں یہ بتانا مشکل ہے____
مجھے ہمہ وقت احساس رہتا ہے جیسے دو نیلی آنکھیں میرا پیچھا کر رہی ہیں ____
میں جہاں جاؤں کہیں بھی ہوں_____لگتا ہے دو نیلی آنکھیں میرا تعاقب کر رہی ہوں___عجب سی بے قراری میرے حواسوں پر چھائی رہتی ہے____
مجھے لگتا ہے جیسے ان نیلی آنکھوں کو میری جستجو ہو________
انابیہ نے میز پر رکھا پانی کا گلاس اٹھایا اور ایک سانس میں پی لیا____تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بولی___
میں جانتی ہوں میں زندگی بھر کبھی ایسے کسی شخص سے نہیں ملی جسکی آنکھیں نیلی ہوں___
مجھے یاد نہیں پڑتا کبھی بھی کہیں بھی ان آنکھوں سے میرا ٹکراؤ ہوا ہو______
مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ ان آنکھوں سے میرا ایک گہرا تعلق استوار ہوتا جا رہا ہے یہ نیلی آنکھیں جیسے میری روح میں اترتی جارہی ہوں_____
میں سمجھ نہیں پا رہی میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے___
کیا یہ کوئی ذہنی بیماری ہے انابیہ کا لہجہ سوالیہ اور عجب سے خوف میں ڈوبا ہوا تھا___
مسز ماریہ کیا یہ میرے ذہن کی اختراع ہے انابیہ شدید الجھن کا شکار تھی____مسز ماریہ بہت توجہ اورخاموشی سے اسکی بات سن رہی تھی____
انابیہ بات جاری رکھتے ہوئے بولی
میں شادی شدہ ہوں میرے دو بچے بھی ہیں ___میرے شوہر مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ہر لحاظ سے ایک آسودہ زندگی گزار رہی ہوں لیکن اس کیفیت نے مجھے بے سکون کر رکھا ہے_____
میں کسی انجان محبت کا شکار ہوں جسکی شدت مجھے جنون میں مبتلا کر رہی ہے ____
یہ بے چینی میری رگ رگ میں گھلتی جارہی ہے___
اپنی بات ختم کرتے ہوئے اسکی آنکھوں میں رم جھم سی برسنے لگی تھی______
مسز ماریہ نے تسلی آمیز انداز میں
کہا
انابیہ میں نے آپکی پوری بات بہت غور سے سنی ہے اور میرے لیے اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس ہے اور کچھ عام معاملات سے ہٹ کر بھی ہے__
یہاں عام طور ہر ذہنی دباؤ ڈپریشن اور گھریلو مسائل میں الجھے لوگ آتے ہیں
جہاں تک میں سمجھی ہوں یہ کیفیت آپکے لاشعور میں بسی کسی شدید ترین محبت کی ہوسکتی ہے__لیکن مجھے اس پر کام کرنا ہوگا فی الحال میں آپکو ذہنی سکون کے لیے کچھ دوا دے رہی ہوں اپ کچھ دن استعمال کیجئے___میں خود آپکو دوبارہ کال کروں گی_____
وہ بوجھل قدموں سے وہاں سے واپس آتے ہوئے سمجھ گئی تھی کہ اس ماہر نفسیات کے پاس اسکے مسئلے کا کوئی حل نہیں تھا اس نے ذہنی سکون کی دوا لینے کا ارادہ بھی ترک کردیا تھا ___
وہ اس کیفیت سے چھٹکارا نہیں اسکی حقیقت جاننا چاہ رہی تھی_____
اسکے اندر سے یہ آواز ارہی تھی کہ یہ سب بے سبب نہیں ہے____
وقت کا پنچھی اڑتا رہا________ان نیلی آنکھوں کا حصار اسکے گرد گہرا ہوتا چلا گیا____اور آج جب اسنے آئینہ دیکھا تو______اسکو لگا____جیسے ائنے کے اس پار سے یہ نیلی آنکھیں جھانک رہی ہوں_____
جن میں محبت پورے آب و تاب سے فروزاں تھی_____
جو شدت لوگ محسوس کرتے ہیں اس نے وہ شدت اس ائنے میں دیکھی تھی_____
اس کے دل نے گواہی دی کہ وہ کہیں موجود ہے اور یہ کیفیت اسکا وہم نہیں _______
وہ جو کہیں نہیں تھا اب اسکو پانے کی خواہش اسکی عبادات میں شامل ہوگئی ___دعا ہر دن ہر رات____یقین کا پیرہن اوڑھے دربار__الہی میں سرتاپا
کشکول دستک دے رہی تھی____
ہر گزرتے دن کے ساتھ دعا پیام لا رہی تھی_____
اور وہ ناممکنات کو ممکن بنانے والا____وہ دعا کو معجزوں میں بدلنے والا____اور وہ ہی ہے جو ہر شے پر قادر ہے
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ریلوے اسٹیشن پہنچی ہی تھی کہ ریل کی وسل سنائ دی__ریل گاڑی چھوٹنے کے ڈر سے وہ بھاگتے ہوئے ریل کے آخری ڈبے میں جیسے ہی سوار ہوئ ریل کے دروازے ایک جھٹکے سے بند ہوگئے اور ریل گاڑی چل پڑی_____
تیز بھاگنے کی وجہ سے وہ پسینے میں شرابور ہوچکی تھی اسنے دوپٹے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے دل ہی دل میں ریل نہ چھوٹنے کا شکر ادا کیا اور ڈبے میں نگاہ دوڑائ _______
اکا دکا لوگ نظر آئے وہ بھی کھڑکی کے ساتھ والی ایک خالی سیٹ پر بیٹھ گئی____
ریل گاڑی اپنے سفر کی طرف رواں دواں تھی __کھڑکی سے باہر تیزی سے گزرتے ہوئے مناظر وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی___لیکن یہ رستے اور مناظر اسے اجنبی نہیں لگ رہے تھے_____ریل گاڑی کتنی دیر چلتی رہی اسے کچھ اندازہ نہیں ہوا_____جیسے وقت ایک دنیا سے کسی دوسری دنیا میں سفر کر رہا ہو__
پھر اس نے دیکھا ریل گاڑی ایک پلیٹ فارم میں داخل ہورہی ہے اور اسکی رفتار آہستہ ہوتی ہوئ رک گئی ہے___
تمام مسافر ایک ایک کر ریل گاڑی سے اتر کر اپنی منزل ہولیے_____
وہ بھی ریل گاڑی سے اتری مگر یہ ریلوے اسٹیشن اسکی منزل نہیں تھا ____
لیکن فضا میں سرگوشیاں گھلی تھیں ____
یہیں تو تمہیں آنا تھا
اسے اسٹیشن کے اندر ایک شخص کاونٹر بند کرتا دکھائی دیا___
وہ تیزی سے اسکے قریب پہنچی اورا سں سے پوچھا کہ یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رک گئی ہے___ اس شخص نے حیرت سے اسے دیکھا اور بولا کہ یہ اس ریل گاڑی کا آخری اسٹیشن ہے
وہ دیکھو وہاں ٹرمینل لکھا ہوا ہے اسنے اسٹیشن پر
لگے سائن بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا
وہ گھبرا سی گئی
کیا مطلب___دوسری ریل گاڑی کب آئیگی
اس شخص نے لاپرواہی سے جواب دیا کہ دوسری ریل گاڑی فی الحال نہیں آئے گی یہ کہتے ہوئے اس نے کاونٹر بند کیا اور اسے باہر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بھی چل دیا______
وہ جب باہر نکلی تو شام کے سائے ڈھل رہے تھے اور سورج شب کی دہلیز سے رخصت لے رہا تھا
ریلوے اسٹیشن پر ایک بوڑھی عورت اپنی طرف آتے دکھائ دی جوں جوں وہ قریب آتے جارہی تھی اسے ایک مانوس سی خوشبو اپنے وجود میں اترتے محسوس ہورہی تھی___اسکی آنکھیں جیسے کسی شناسا کو دیکھ رہی تھیں مگر وہ اس پہچان کو سمجھنے سے قاصر تھی___
اسکے قریب پہنچتے ہی بوڑھی خاتون نے نرمی سے پوچھا
بیٹا تم کیوں پریشان ہو___اسے لگا جیسے اسکی سماعت اس آواز سے واقف ہو___
اماں____بنا سوچے سمجھے اسکے لب پکارے
وہ میں غلطی سے کسی دوسری ریل گاڑی میں بیٹھ گئی اور یہاں آگئی مجھے نہیں پتہ میں کہاں ہوں اور گھر کیسے واپس جاؤں گی یہ کہتے ہوئے وہ رو پڑی___بوڑھی عورت نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے کہا
یہاں رکنا مناسب نہیں بیٹا میرے ساتھ میرے گھر چلو
وقت جیسے تھم گیا ہو____کسی ایک منظر سے کسی دوسرے منظر میں بدل گیا ہو____
ساری گھبراہٹ اور پریشانی تمام سوالات اور الجھنیں جیسےوقت کے دائرے میں سمٹ کر اسی ریلوے اسٹیشن پر رہ گئی ہوں_________ ہ
کچی پکی پگڈنڈی کے دونوں اطراف سر سبز لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں سرسوں کے پیلے پیلے پھولوں کی مہک رچی ہوئ تھی_____
آسمان کو شفق کے آنچل نے ڈھانپ لیا تھا اور ہوا میں محبت کی خوشبو ہلکورے لیتی محسوس ہورہی تھی____اس نے چلتے چلتے اس بوڑھی عورت سے پوچھا اماں آپ کس کو لینے اسٹیشن آئ تھی____
اماں کے چہرے پر جیسے تفکر کے بادل چھا گئے ہوں اس نے ایک آہ بھری اور بولی کہ اسکا بیٹا جسے گاؤں کے لوگ پاگل کہنے لگے تھے ایک دن یہ کہہ کر گیا تھا کہ وہ اپنی محبت کی تلاش میں جارہا ہے جانے کتنا وقت بیت گیا اب تک واپس نہیں آیا ____
میں ہر روز اسٹیشن جاتی ہوں کہ شاید وہ واپس اجائے__
بوڑھی عورت کے رخسار آنسوؤں سے تر ہوگئے تھے_
گاؤں قریب تر ہوتا گیا اور اماں ایک کچے مٹی کے مکان کے اندر داخل ہوگئی_____
کچے آنگن میں مٹی کی سوندھی مہک کے ساتھ موتیے اور رات کی رانی کے پھولوں کے عطر گھلے ہوئے
تھے____
آنگن نے جیسے اسکے قدم جکڑ لیے ہوں
جیسے آنگن کی مٹی اسکے وجود کا حصہ ہو__
جیسے یہ گھر اور اسکی در و دیوار اس سے آشنا ہوں__
اسے لگا جیسے یہاں اک عمر گزری ہو____
کتنا وقت گزرا تعین کرنا ممکن نہیں ایک دن دروازہ کھلا____اور اماں کی فرط مسرت میں ڈوبی چیخ سنائ دی_______
میرا بچہ
وہ چھت سے سیڑھیاں اتر رہی تھی اسنے دیکھا ____
ایک نوجوان دروازے سے داخل ہورہا تھا اماں دوڑ کر اسکے سینے سے لگی رو رہی ہے____
اس نے جب نگاہیں اٹھائیں
تو وہ سیڑھیوں پر ساکت رہ گئی جیسے اسکا وجود پتھر ہوگیا ہو ____اور ساری فضا میں نیل گھل گیا ہو_______
دو نیلی آنکھیں ______
جن میں محبت کی کائنات سمائ ہوئ تھی____
اسے دیوانگی سے دیکھ رہی تھیں ---
سرشاری اسکی روح میں رقصاں ہوگئی___
یقین کامل سرخرو ہوا اور جستجو کی انتہا نے منزل کو چھو لیا_______
انابیہ
اسکے شوہر نے اسے زور کا ٹہوکا دیتے ہوئے جگایا___
ارے بھئی اٹھو جلدی سے ناشتہ بناو مجھے آفس سے دیر ہورہی ہے______
اسکی سماعت کو یہ اواز بوجھل محسوس ہوئ جیسے وہ کہیں بہت دور سے ارہی ہو
جانے کتنے زمانوں کے بعد_______
کتنی دیر تک وہ ایک منظر سے دوسرے منظر تک آنے کا سفر کرتی رہی______
مکمل بیدار ہونے تک وہ جان گئی تھی وہ محبت کی
معراج کا سفر طے کر کے آئ ہے______
