کچھ شخصیات محض نام نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے عہد کی پوری تہذیب، مٹی کی خوشبو اور روایت کا استعارہ ہوتی ہیں۔ خادم رزمی صاحب بھی ایک ایسی ہی قد آور شخصیت تھے جن کے اٹھ جانے سے کبیر والا کے رنگ تو بدلے، مگر ان کے نقشِ قدم آج بھی فکر و فن کی راہوں پر روشن ہیں۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نےاپنی روایت سے جڑے رہ کر
آفاقیت کو چھوا۔
خادم رزمی صاحب کا فن ان کی درویش صفت اور قلندرانہ شخصیت کا آئینہ دار تھا۔ وہ کبیر والا کی پہلی علمی و ادبی شخصیت تھے جنہوں نے رچناوی لہجے پر نہ صرف تحقیق کی بلکہ اسے عالمی شناخت عطا کر کے اردو اور پنجابی ادب کے ایوانوں میں معتبر کیا۔ ان کی شاعری محض قافیہ پیمائی کا نام نہیں، بلکہ یہ دیہات کی زمینی سچائیوں اور انسانی وجدان کا ایساامتزاج جو قاری کو خوشگوار کیفیت میں لے جائے جاتا ہے۔ ان کے کلام میں جو سادگی ہے اور ان کے ہاں کمالِ فن کا وہ توازن موجود جو صرف صاحبِ طرز شاعروں کا خاصہ ہوتا ہے۔
شخصیت کے اعتبار سے وہ ایک ایسے شجرِ سایہ دار کی مانند تھے، جس کی گھنی چھاؤں میں کئی نوآموز تخلیق کاروں نے اپنے فن کی آبیاری کی۔ ان کی گفتگو میں وہ سحر تھا جو مخاطب کو اپنے حصار میں قید کر لیتا۔ ان کے ہاں عجز و انکسار کی گہرائی ان کے ادبی قد سے کہیں زیادہ تھی—اور یہی ایک سچے تخلیق کار کی معراج ہے۔
رزمی صاحب سے میری باقاعدہ پہلی ملاقات محلہ اسلام آباد میں ان کے گھر پر ہوئی۔ میں اپنے والد کے دوست ملک شاہد راں کے ہمراہ وہاں حاضر ہوا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ میں سلائی کا کام سیکھ رہا ہوں اور شاعری کا ذوق بھی رکھتا ہوں، تو انہوں نے بڑی شفقت سے مسکراتے ہوئے ایک ایسی بات کہی جو آج بھی میرا زادِ راہ ہے
بیٹا پہلے دل لگا کر اپنا ہنر سیکھو، جب ہاتھ مضبوط ہو جائیں گے تو یہ شوق بھی خوب رنگ لائے گا تم دیکھ لینا کیونکہ کائنات ایسا کچھ نہیں ہے جس کو خلوصِ نیت سے کیا جائے اور وہ تمہیں بلند عطا نہ کرے
یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ زندگی کا وہ گر تھا کہ فن تبھی معتبر ہوتا ہے جب انسان معاشی طور پر خود مختار ہو۔ افسوس کہ اس کے بعد چند ہی ملاقاتیں نصیب ہوئیں اور قضا کا بلاوا آ گیا۔ رزمی صاحب 2جنوری 2005 اس عارضی دنیا سے رختِ سفر باندھ گئے، مگر اپنی خوشبو اپنے کلام اور باصلاحیت خانوادے کی صورت میں چھوڑ گئے۔
وقت بدلا اور نعیم رضوان کی صورت میں مجھے ایک ایسا دوست ملا جس کے ساتھ گزری ہر شام کا محور رزمی صاحب کی یادیں ہوتیں۔ رحمت نثار لائبریری سے ان کے شعری مجموعے "زرِ خواب" کا مطالعہ کیا تو ان کے فن کی وسعتیں مجھ پر وا ہوئیں۔ ان کے بیٹوں سے ملاقاتیں ہوئیں تو احساس ہوا کہ شرافت اور نفاست اس خاندان کے خمیر میں ہے۔
آج جب کبھی مجھے اس مخصوص لہجے کی مٹھاس محسوس کرنی ہو، تو میں بھائی منیر رزمی کو فون کر لیتا ہوں۔ ان کی گفتگو میں وہی عکس نظر آتا ہے۔
ایک بار خادم رزمی صاحب کی قبر پر فاتحہ خوانی کے دوران منیر بھائی سے ملاقات ہوئی، انہوں نے جس محبت سے مجھے گلے لگایا اور جو الفاظ کہے، وہ میری زندگی کا اثاثہ ہیں
یار! اصل وارث تو آپ لوگ ہو خادم رزمی کے ہم تو صرف فرزند ہیں، تمہارا یہاں آنا خادم رزمی کے بچوں پر احسان ہے۔ ان کے الفاظ نے میری عقیدت کو اعتبار عطا کر دیا
خادم رزمی صاحب کی علمی خدمات کا اعتراف قومی سطح پر بھی کیا گیا۔ انہیں وارث شاہ ہجرہ ایوارڈ (1994) اور خواجہ غلام فرید ایوارڈ (1998) جیسے معتبر اعزازات سے نوازا گیا۔ حال ہی میں جب کلیاتِ خادم رزمی کی اشاعت کی خبر فیس بک پر پڑھی، تو یوں محسوس ہوا جیسے خادم رزمی صاحب جو کچھ
لمبے عرصے کے لیے کہیں چلے گئے تھے آج
دوبارہ کلیات کی صورت میں اپنے شہر کبیر والا کی گلیوں میں واپس لوٹ آئے ہیں۔ خادم رزمی ایک نام نہیں، ایک روایت ہے جو تا ابد زندہ رہے گی۔
منتخب کلام: خادم رزمی
مری زمیں کو نہیں کرب سے نجات ملی
مری زمیں پہ پیعمبر اتارنے والے
۔۔۔
بس ایک خواب بکھرنے کے انتظار میں ہیں
طویل ہم کوئی کارِ جہاں نہیں رکھتے
۔۔۔
یہ جو میرا دیس ہے اس میں، چاہے میں بھوکا ہی رہوں
مجھ کو ریشم دھوپ ہے اس کی، خاک میرا پشمینہ ہے
۔۔۔
کٹی ہے عمر کھلے آسمان کے نیچے
ہمیں خبر ہے رُتیں کس طرح بدلتی ہیں
۔۔۔
میں لبِ دریا کا ہوں وہ کھیت جس کو رات دن
اپنی آنکھوں سے پڑے، اپنا کٹاؤ دیکھنا
