وقت کےصحرا میں منیرہ احمدشمیم۔۔ محمد اکرام قاسمی

منیرہ احمد شمیم کے افسانوی مجموعے " وقت کا صحرا " پر میرا تاثراتی  اظہار 

انسان صدیوں کی شاہراہوں پر نہ جانے کتنے کاروانِ حیات لیے گزرا ہے ۔ اگرچہ انسانی ذہن اِس کا مکمل احاطہ کرنے میں قدرے معذور نظر آتا ہے ۔ لیکن وقت کی صدیوں پر پھیلی ہوئی آنکھ نے انسانی زندگی کے تمام تر واقعات و حالات کو نہ صرف دیکھا بلکہ اپنے حافظے میں محفوظ بھی رکھا ہے۔اور جب منیرہ احمد شمیم کی تخلیقی صلاحیت صدیوں سے زمین کو اپنی رہائش گاہ بنائے ہوئے انسان کی شکست و ریخت کے اسباب کو تجزیاتی نگاہ سے دیکھتی ہے، تو اُن کے حل کی تلاش میں اپنے پسندیدہ رنگوں کی روشنی کو حال کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے پکار اُٹھتی ہے ۔

عقل کو کچھ نہ ملا علم میں حیرت کے سوا
دل کو بھایا نہ کوئی رنگ محبت کے سوا

جس طرح عقل ذہن میں موجود معلومات کو تجربات ، مشاہدات اور منطقی استدلال کی حیرت بھری دوکانوں پر چھان پھٹک کے بعد علم کے رنگ میں ڈھالتی ہے۔اُسی طرح دل اپنی زینت و آرائش کا سامان جذبوں کی صداقت ، احساسات کی نفاست اور قلبی وارات کی پاکیزگی اور نزاکت سے حاصل کرکے انسان کی پوری شخصیت کو محبت کے رنگیں قالب میں ڈھال دیتا ہے ۔ منیرہ احمد شمیم کا افسانوی مجموعہ " وقت کا صحرا " محبتوں کا ایسا ہی رنگ ساز ہے ۔ جو محبت کے رنگوں میں یکساں ہونے کے باوجود اپنے طرزِ احساس میں بالکل جداگانہ حیثیت کے ساتھ ذہن کو وصل کی رنگینی اور تازگی بھی فراہم کرتا ہے ۔اور دل کو ہجر کی درد بھری آنچ پر سلگتا بھی چھوڑ دیتا ہے۔

افسانوں میں کردار نگاری کے حوالے سے بات کی جائے تو منیرہ احمد شمیم کسی ماہر سنگ تراش کی طرح خدوخال کو اپنے افسانوں میں نمایاں نہیں کرتیں۔ بلکہ وہ لفظوں کی جادوگری ، تصنع اور تکلف سے پاک زبان و بیان کی سادگی سے کردار کے افعال اور ذہنی عوامل کی پرتیں اِس سلیقے سے واضح کرتی ہیں کہ کردار کی شکل خود بخود قاری کے قلب و ذہن میں اُترتی چلی جاتی ہے۔اور قاری اُن کرداروں کو اپنی حقیقی زندگی میں چلتا پھرتا ، سانس لیتا ہُوا دیکھتا ہے ۔ اور اُن کی خوبیوں ، خامیوں ، محرومیوں اور مایوسیوں سے بھی واقف ہوتا چلا جاتا ہے۔
وکٹر ہیوگو نے کہا کہ
" آپ اُس شخص کے احساساتِ قلب کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتے جس کا دُنیا میں ایک ہی دوست ہو ، ایک ہی رہا سہا سہارا ہو "
واقعتاً ہم ایسا ہی دیکھتے ہیں کہ جب انسان پر یہ احساس غالب آ جاتا ہے،کہ اب وہ دنُیا میں تنہا ہے ۔اور کوئی اُس کا غم گسار نہیں تو مایوسی کی کیفیت میں مبتلا ہو کر اپنی ذات میں کھو جانا بالکل فطری سا ہے۔ اور منیرہ شمیم کے افسانوں میں بعض کردار تنہائی اور مایوسی میں مبتلا ہو کر لفظوں سے کلام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ لیکن منیرہ احمد شمیم اس سے افسانے کی فضا کو بوجھل نہیں ہونے دیتیں ، بلکہ وہ توازن کو برقرار رکھتے ہوئے کردار کو اُمید اور روشنی کی کھونٹیوں سے باندھ کر، بلا کی معنوی وسعت پیدا کر دیتی ہیں ۔اور قاری تا دیر اُس کی سحر انگیز فضا میں سانس لیتا رہتا ہے۔

منیرہ شمیم کی آرٹ گیلری میں متعدد افسانے ایسی ہی کیفیات کے حامل ہیں ۔ اُن میں سےافسانہ " چاہت ایک سُمندر " بھی قابلِ ذکر ہے۔
یہ افسانہ آرمی لفٹیننٹ اور اُس کی محبت کو دلسوز پیرائیے میں بیان کرتا ہے ۔جنگ میں زخمی ہونے کے باعث لفٹیننٹ کے دونوں پاوں کٹ جاتے ہیں۔ تو لفٹیننٹ کا وہ ذہن جو اپنی محبت کا ہاتھ پکڑ کے قدم بقدم پاوں پر زندگی کے سفر میں اِتنی دور نکل جانا چاہتا ہو جتنی دور وہ جا سکتا ہے ۔ جنگ میں اپاہج ہو جانے کے بعد اُسے اپنے تمام خواب بھی معذور لگتے ہیں۔
منیرہ احمد شمیم نے جہاں افسانے کے کرداروں میں
Monogamous family
کا نقشہ کھینچا وہیں لفٹیننٹ کے کردار سے خطوط لکھوا کر اُس کے ذہنی عوامل اور فطری بے چینی کوبھی خوبصورتی سے نمایاں کیا ۔ لیکن سویرا کے کردار نے تو جیسے اِس افسانے میں آبِ حیات پی لیا ہو۔ ایک خط میں لکھتی ہے ۔

" میرے لفٹیننٹ ۔۔۔ تم میرے کون ہُو ؟ جو میری روح کے ساتھ چپکے رہتے ہو ۔ کیا مجھے یوں پریشان کرنا اچھا لگتا ہے ؟ تم نے اپنا وعدہ وفا نہیں کیا ۔ جب میرا خط تمہیں ملتا تو جواب دینے پر مجبور ہو جاتے ہو ورنہ ۔۔ خاموشی۔۔۔ میری آنکھیں ہر وقت تمہیں ڈھونڈتی رہتی ہیں ۔ دل کو بہت سمجھاتی ہو ں ۔۔ تم بھی مجبور ہو ۔۔۔ نوکری تمہارے پیروں کی زنجیر بن گئی ہے۔۔ خدا کرے یہ لڑائی ختم ہو اور تم واپس آو "

لیکن اُسے یہ خبر نہیں کہ جنگ کے بے رحم اژدھے نے اُس کے لفیٹننٹ کے پاوں نگل لیے ہیں ۔ لفٹیننٹ مستقبل کے خدشات سے خوفزدہ ہو کر اُسے لکھتا ہے ۔ " جانے یہ لڑائی کب تک چلے گی ۔۔ جنگ میں انتظار بے معنی ہے ۔ اور پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں لڑائی میں مارا جاوں ؟ یا اپاہج ہو جاوں ؟ ۔تم ایک ایسے شخص سے کیسے شادی کر سکتی ہو ؟"
اور سویرا کا دل ہے کہ محبت کے دستِ معجز آفریں سے نکلتا ہی نہیں ۔ وہ لیڈی میکبتھ جیسے ارادے کو ظاہر کرتی ہے۔ " میں نے اپنے شوہر کو بادشاہ بنانے کی ٹھان لی ہے اب اگر میرے ارادے کی راہ میں میرا بچہ بھی حائل ہُوا تو اُسے اپنے پاوں تلے کچل ڈالوں گی "
میں نے دیکھا ہے کہ منیرہ احمد شمیم کے افسانوں میں جس کردار پر محبت غالب ہوتی ہے ۔وہ کردار محبت میں پیش آنے والے معاملات کی نوعیت کو ظاہری حسیات ، تخیل کے فرضی اشکالات یا عقل کے کلیات سے نہیں سمجھتے ، بلکہ محبت اُنہیں فہم و بصیرت اورفکری ادراک کی وہ آنکھ عطا کرتی ہے ،جو کائنات کی حدود سے آگے جاتی ہے، اور ذہن کے لیے معاملات کی خالص صورت لے کر آتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاوں کٹ جانے کے بعد لفٹیننٹ کا ذہن جب سویرا کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا سوچتا ہے تو اُس کا تخیل مختلف قسم کے خدشات سے بھرے منظر پیش کرکے اُس میں مایوسی کی فضا بڑھا دیتا ہے ۔
لیکن سویرا کا فکری ادراک ایسے خدشات کو آنکھ اُٹھا کر دیکھنا بھی گورا نہیں کرتا ۔۔ سویرا کا آخری مکالمہ جو لفٹینٹ کے مایوس چہرے کو طمانیت اور ادھورے وجود کو کاملیت بخشتا ہے ۔
"سُنو میں تمہارے ساتھ ہُوں ۔ میری آنکھوں میں جھانک کر دیکھو ، تم میرے دل میں ہُو ، میری آنکھوں میں ہو ، تمہارے بغیر زندگی ایک کٹھن سفر ہے جس کی کوئی منزل نہیں "
جہاں افسانہ" چاہت ایک سمندر " عورت کے ارادے کی قوت اور محبت کی دلگداز داستان سناتا ہے ۔وہیں اپنی معنوی تہوں میں جنگ کے مہلک اثرات جس میں دونوں طرف انسانیت اور اُن سے وابستہ رشتوں ، جذبوں ، خواہشوں اور اُمیدوں کا قتل ہوتا ہے ، کا نقشہ کھینچ کر پوری انسانیت کو محبت کے مشترکہ بندھن میں دیکھنے کی آرزو لیے دستِ دعا بلند کرتا ہے ۔ میری دعا ہے کہ پروردگار اُن کے فن کی عمر دراز کرے آمین۔۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !