انار کلی ایک ایسی فرضی کہانی ہے جس کا تاریخ میں ایک بھی ثبوت موجود نہیں ہے۔ امتیاز علی تاج نے یہ ڈرامہ کیا لکھا، اس کی شہرت کے ڈنکے بجنے لگے اور دھڑا دھڑ اس کہانی پر فلمیں بننے لگیں۔
بھارت میں اس پر لاتعداد فلمیں بن چکی ہیں مگر ان تمام فلموں میں سب سے زیادہ نمایاں فلم مغل آعظم ہی ہے جس نے ایک کلاسیکل کلٹ کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔
پاکستان نے بھی اس موضوع پر فلم انار کلی بنائ تھی۔ فلم انار کلی ہم نے ٹی وی پر دیکھی تھی۔ پاکستان بنتے ہی پاک و ہند کی فلم انڈسٹری میں ایک مقابلہ سا چل پڑا تھا۔ ڈنکے کی چوٹ پر ایک ہی موضوع پر فلمیں بنتی تھیں یا ایک دوسرے کی فلموں کا چربہ کیا جاتا۔
پاکستانی فلم انڈسٹری کے فنکاروں کی جال موومنٹ کے زریعے جب بھارتی فلموں پر پاکستان میں پابندی لگ گئ تو یہ چربہ سازی مزید تیز ہو گئ۔
ہمارے فلمساز کابل جا کر تازہ ترین بھارتی فلم دیکھتے اور لاہور واپس آ کر وہی کہانی عن و من فلما کر خوب دولت بٹورتے۔
70 اور 80 کے عشروں میں بھارت کی ہر کامیاب فلم کا پاکستان میں چربہ ضرور بنایا گیا۔
سرحد کے اس پار مغل آعظم کا اعلان ہوتے ہی یہاں بھی اسی کہانی پر انار کلی بننے لگی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے پاس نہ ہی وہ وسائل تھے، نہ فنکار، مگر مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا۔
کے آصف کے شاندار مہنگے سیٹ، لاجواب قیمتی ملبوسات اور بڑے نامور اداکاروں کے جھرمٹ میں بنتی مغل آعظم کے مقابلے میں پاکستان کے پاس آخر تھا ہی کیا؟
خیر۔۔۔
پاکستان کے پاس نور جہاں تھی، جس کی مدھر سریلی آواز کو پورا برصغیر ملک کے ٹکڑے ہو جانے کے باوجود بھلا نہیں پایا تھا۔ اگرچہ بھارت میں لتا نے شمشاد بیگم کو شکست فاش دے کر گھر بٹھا دیا تھا اور گھر گھر ان کی پتلی مہین، سوئ جیسی باریک آواز کا طوطی بولتا تھا مگر نور جہاں، نور جہاں ہی تھی۔
انار کلی میں مہنگے، نایاب سیٹوں کی بجائے تاریخی شاہی قلعے، شالا مار باغ، اوریجنل شیش محل میں اس فلم کو فلمبند کیا گیا۔ اس فرضی کہانی نے اسی ماحول میں جنم لیا تھا لہذا اسے پر تاثر تو ہونا ہی تھا۔
فلم انارکلی اور مغل آعظم کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک تو پاکستانی فلم انار کلی بلیک اینڈ وائٹ بنی تھی اور مغل آعظم سے پہلے مکمل ہو کر ریلیز ہو گئ تھی۔ مغل آعظم بعد میں مکمل ہوئی۔ اس کے بھی صرف چند سین اور کچھ گانے ہی کلر میں فلمائے گئے تھے۔ اسے بعد میں کے آصف کے بیٹے نے لندن میں کمپیوٹر کی مدد سے ڈیجٹل طور پر مکمل رنگین بنوا کر دوبارہ ریلیز کیا تھا۔
جب پہلی بار مغل آعظم ریلیز ہوئی تو اس کی شہرت چار وانگ میں پھیل گئ۔ بھارت کے تمام بڑے شہروں میں جہاں جہاں یہ ریلیز کی گئ وہاں سینما ہاوسز میں مدھو بالا اور دلیپ کمار کے قد آور مجسمے بنا کر لگائے گئے تھے۔ پاکستانی شائقین کے لیے ایک خاص ٹرین چلائی گئ تھی اور صرف ایک دن کا خاص ویزہ بھی جاری کیا گیا تھا، جسے مغل آعظم ویزا کہتے تھے۔ پاکستانی لوگ یہ ویزا لے کر لاہور سے امرتسر جاتے اور فلم دیکھ کر اسی دن واپس آ جاتے تھے۔ اس طرح پاکستانیوں کی اک بڑی تعداد نے یہ فلم بھارت جا کر دیکھی تھی۔ اس سے قبل بھی بھارت میں ایک فلم "انار کلی" بنی چکی تھی۔ جس میں بینا رائے اور پردیپ کمار نے یہ کردار نبھائے تھے۔
پاکستانی فلم "انار کلی" ایک لو بجٹ فلم تھی۔ اس فلم میں میڈم نور جہاں کی اداکاری اور حسن کوئ بہت زیادہ متاثر کن نہیں تھے۔ سدھیر صاحب بطور شہزادہ سلیم ہرگز نہیں جچے اور شہنشاہ اکبر کا کردار کرنے والے اداکار نے تو نہایت پھسپھسی سی اداکاری کی۔ اس فلم میں پیش کردہ مغل شاہی دربار کا کروفر، شان و شوکت کسی ایک سین سے بھی ٹپک کر اپنا جادو نہ جگا سکا۔
ہاں فلم کی موسیقی نہایت شاندار اور پر اثر رہی۔ فلم کے ٹائٹل کے ساتھ چلنے والے گیت "صدا ہوں اپنے پیار کی" میں نور جہاں نے ثابت کر دیا کہ نہایت مہارت اور سر داری سے اونچی لے اور تان لپٹے لینے، زیر و بم سے انھیں لپیٹنے اور آخری حدوں تک کھینچ لینے میں ان کا ثانی کوئ بھی نہیں ہے۔
اسی مقابلہ بازی کے دور میں بھارت میں مرزا غالب بنی اور ثریا نے ڈومنی کے کردار میں خوب لہک لہک کر غزلیں گائیں:
نکتہ چیں اے غم دل بات بنائے نہ بنے
پاکستان نے نور جہاں کو مقابلے میں کھڑا کر کے ترنت فلم "غالب" بنا ڈالی۔ اس فلم میں نور جہاں سچ مچ بے حد خوبصورت نظر آئیں اور کمال گائیکی سے فن کا یہ مقابلہ جیت لیا۔ پاکستانی فلم غالب اگرچہ سخت ناکام رہی کیونکہ پاکستانی عوام نے اپنے جنگجو ہیرو سدھیر کو مرزا غالب کے روپ میں بالکل قبول نہ کیا تھا۔
اسی طرح بھارت میں دلیپ کمار، وجنتی مالا اور مہتاب کو لے کر "دیوداس" بنائ گئ تو پاکستان نے اس کا جواب شمیم آرا، حبیب اور نیر سلطانہ کے ساتھ "دیوداس" بنا کر دے دیا۔ یاد رہے کہ اس سے پیشتر متحدہ برصغیر میں دیوداس پر بہت سی فلمیں مختلف زبانوں میں بن چکی تھیں۔ سہگل اور جمنا کو لے کر نیو تھیٹرز اسٹوڈیوز کے پی سی بروا نے 1935 میں دیوداس بنائ تھی، جس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ امراو جان ادا، دیوداس، ہیر رانجھا، لیلی مجنوں، سوہنی میہنوال اور سسی پنوں جیسی لوک کہانیوں پر بھی دونوں ممالک میں فلمیں بنی ہیں بلکہ متعدد بار بنی ہیں۔ ایسی کہانیوں کی لمبی لسٹ ہے جن کو دونوں طرف فلمایا گیا تھا۔
