سلاگر کی رات(افسانہ)۔۔۔۔ لہر نیازی

"فرار۔۔۔۔ ہاں۔۔ فرار کا راستہ سندھو ہی ہے۔ سندھو ہی مجھے اس دوزخ سے نکالے گا۔ بس رات گہری ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔" رادھا نے سر شام ہی گٹھڑی دریا کے کنارے قد آدم جھاڑیوں میں چھپا کر رکھتے ہوئے ایک نظر دریا کنارے جھاڑیوں میں چھپی کشتی پر تسلی بخش نظر دوڑائی اور پگڈنڈی پر سے ہوتی ہوئی 
ایک گھنی جھاڑی کے نیچے چھپ کر بیٹھ رہی۔ شام ڈھلنے کے بعد کچھ جانور جھاڑیوں سے نکل کر دریا میں اترنے لگے۔رادھا ان میں سے کچھ جانوروں سے واقف تھی لیکن کئی ایک ایسے جانور بھی تھے جنہیں اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یا شاید اندھیری رات کے اس پہر وہ زندگی میں پہلی بار دریا کے مشرقی کنارے مہا کھڈ کے مندر تک آئی تھی۔ پہاڑی کی ڈھلوانوں سے مختلف جانداروں کے رینگ رینگ کر دریا کے کنارے تک جانے کا احساس اسے ڈرائے جا رہا تھا۔ وہ سہمی بیٹھی تھی۔ اسے خدشہ تھا کہ یہ چھوٹے چھوٹے درندے اسے کہیں نقصان نہ پہنچا دیں۔ لیکن جب انسانوں کی بستی میں بیٹھے بڑے درندے کا خیال آتا تو اس کا خوف کم پڑ جاتا۔ ایسے میں رادھا کو چھوٹے چھوٹے درندے اتنے ڈراونے نہیں لگ رہے تھے۔
جوں جوں رات ڈھلتی جاتی تھی سردی بڑھتی جاتی تھی۔ بستی کے چراغ دھند میں کہیں گم ہو چکے تھے۔ صرف بستی کے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں وقتاً فوقتاً سنائی دیتی تھیں۔ دھند گہری ہوتی جا رہی تھی۔ دور دور کے درخت اور جھاڑیاں جو کچھ دیر پہلے دکھائی دے رہے تھے اب وہ بھی دھند میں غائب ہو چکے تھے۔
سرد رات نے دھند کی چادر اوڑھ لی تھی۔ سندھو دریا کا پانی اچھل رہا تھا اور دریا کے اوپر دھند کبھی اٹھتی تو کبھی بیٹھتی دکھائی دے رہی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے دھند کی پریاں دریا کے پانی کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہی ہوں۔
رادھا مہا کھڈ کے بوڑھے تاجر بدی رام لعل سے بچ بچا کر سندھو دریا کے سنگ کالاباغ کی طرف بہنا چاہتی تھی۔ سلاگر پہاڑ کے دامن میں چرواہوں کے بسیرے کا اسے معلوم تھا۔ اس کے لیے راہ فرار کا صرف یہی راستہ بچا تھا۔ وہ کافی رات بیت جانے کا انتظار کر رہی تھی۔ کیونکہ پچھلی تاریخوں کا چاند رات گئے نکلتا تھا۔ جو نہی آسمان پر دھند میں چاندنی کی جھلک پڑی تو رادھا نے گٹھری جو پہلے سے دبوچ رکھی تھی ایک بار پھر تسلی کے لیے اس پر نگاہ ڈالی اور پھر سے ہاتھوں میں مضبوطی سے جکڑ لیا۔ رات کے اس سنسان پہر کو اکیلی رادھا دبے پاؤں جھاڑیوں سے نکلی اور بھیگی ریت پر قدم جماتے ہوئے کشتی کی طرف بڑھی۔
 دریا کے کنارے پانی پر جھکے سرکنڈوں میں سے کشتی نکالی اور دریا کے رخ مغرب کی سمت بہنا شروع کر دیا۔بدی رام جو ایک گھناونا کردار تھا لیکن اپنی دولت کے بل بوتے پر رادھا کو خرید چکا تھا۔ لیکن ابھی اس کی روح تک اس کی پہنچ نہیں ہوئی تھی۔ رادھا نے اپنی روح کی آواز پر لبیک کہا اور آج رات کے اس اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سندھو کے سنگ بہنے کا تہیہ کر لیا تھا۔ سندھو کی آغوش میں چاندنی کی چادر اوڑھے زندگی کی انجان منزل کی جانب روانہ ہو چکی تھی۔ اس کے خوابوں میں گزشتہ کئی راتوں سے جو حسین و جمیل چہرہ آرہا تھا شاید وہ اس کی طرف کھنچی چلی جا رہی تھی۔ رادھا اپنی مرضی سے جینا چاہتی تھی۔ انجانی منزلوں کا خوف تو تھا ہی مگر کچھ سہانے خواب بھی آنکھوں میں چمک رہے تھے۔ شاید دھند میں لپٹی اس رات میں لہروں پر پڑنے والی چاند کی چاندنی دراصل اس کی آنکھوں کی وہ امید تھی جو اسے راہ دکھا رہی تھی۔ چاند کی چاندنی میں سندھو دریا کی بل کھاتی لہریں اس رات کچھ زیادہ ہی خوش تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے چاند کی چاندنی سے بغل گیر ہونے کے لیے بے تاب ہوں۔ دریا میں طغیانی معمول سے زیادہ تھی۔ اسی لیے دریا کی لہروں کا جوش بڑھا ہوا تھا اور ایسا لگتا تھا جیسے وہ ابھی چاند کی چاندنی کو اپنی باہوں میں سمیٹ لیں گی۔
 سندھو دریا مغربی سمت کھلے میدانوں سے ملنے کو بڑی تیزی سے رواں دواں تھا۔ آس پاس کی پہاڑیاں پیچھے کو بھاگی جا رہی تھیں۔
رادھا کی کشتی ہچکولے کھاتی لہروں پر رقص بے خودی میں مگن تھی۔ سندھو دریا تنگ راہوں سے گزر آیا تھا۔ اب دریا پہلے کی نسبت کچھ تھم سا گیا تھا۔
سندھو کے دونوں اطراف میں پہاڑوں کی چوٹیاں دھند میں غائب تھیں۔ دریا ان پہاڑوں کے بیچوں بیچ سے بل کھاتا آگے بڑھا اور گھوم کر وسیع میدان پر پھیل گیا۔ رادھا کالاباغ کی وادی میں داخل ہورہی تھی۔سامنے سلاگر کا پر شکوہ پہاڑ سلامی دے رہا تھا۔ سلاگر پر نظر پڑی تو رادھا کا حوصلہ بڑھا۔ کشتی اب سلاگر کے ساتھ ساتھ بہنے لگی تھی۔ مشرقی افق پر پہاڑوں کے کی اوٹ سے سرخی بکھرنے لگی تھی۔ رادھا کی ان دیکھی منزل قریب تھی۔ دریا کنارے کچھ جنگلی بطخیں تیرتی دکھائی دیں۔ وہ رادھا کا استقبال کرنے آئی تھیں۔ سلاگر کے دامن میں جھاڑیوں اور کیکر کے جنگل میں چرواہوں کی جھگیوں میں جلتے چراغوں کی روشنی جھلملاتی دکھائی دی تو رادھا نے خود سے کہا, "ہاں ہاں، یہی ہے وہ جگہ جو میں نے سپنوں میں دیکھی ہے۔۔۔۔۔ ۔" رادھا نے کشتی دریا کے شمالی کنارے کی طرف بڑھا دی جہاں سے جنگلی بطخیں دریا میں کود رہی تھیں۔ چرواہوں کی جھونپڑیوں کے گرد کتوں کے بھونکنے کی آوازیں صاف سنائی دینے لگی تھیں۔ آسمان پر سے دھند نیچے اتر کر وادی میں پھیل گئی تھی۔ دور فلک پر سرخی جھلکنے لگی تھی۔ مگر سلاگر کے دامن میں پھیلے جنگل میں ابھی اندھیرا تھا۔ رادھا کشتی کنارے پر لگاۓ چادر میں لپٹی اس علاقے کا جائزہ لے رہی تھی کہ جھاڑیوں میں سے ایک جوان چرواہا نمودار ہوا۔ اس کے پہلو سے سفید کتا رادھا کی طرف غرا کر بڑھنے لگا۔ رادھا خوفزدہ ہو کر سمٹ گئی۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ اسی اثنا میں چرواہے نے کلہاڑی تان کر گرج دار آواز میں پوچھا، "کون ہے وہاں ۔۔۔ سامنے آؤ۔۔۔ ۔" سورج کی پہلی کرن زمین پر اتر چکی تھی۔ رادھا نے چہرے سے چادر ہٹائی تو جیسے وہ چرواہا اسے دیکھ کر کچھ دیر حواس کھو بیٹھا۔ کتے کے بھونکنے سے وہ اپنے حواسوں میں واپس آیا اور کشتی کی طرف آگے بڑھا۔ رادھا کو سہارا دینے کے لیے چرواہے نے اپنا ہاتھ بے اختیار آگے کو بڑھا دیا۔ رادھا نے چرواہے کے ہاتھ کا لمس اپنی روح میں اتارا اور کشتی سے اتر آئی۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !