جب سے سوشل میڈیا پر صحت کے متعلق ریلز وائرل ہونا شروع ہوئی ہیں ۔عام لوگوں کو بھی ہارمونز کے اتار چڑھاؤ اور خواتین کے موڈ سوینگز کے بارے میں آگاہی ملنے لگی ہے ۔
لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک اور مسئلہ بھی سر اٹھانے لگا ہے ۔
اب خواتین کسی سچی بات پر بھی ضد کریں اور اپنا آپ منوانے کی کوشش کریں تو میں نے باخبر افراد کو یہ کہتے سنا ہے کہ ان میڈم کے ہارمونز ہی انہیں بے چین رکھتے ہیں۔
اب یہ کچی پکی انفارمیشن جس سے یہ پتہ چل گیا کہ ہارمونز ڈسٹرب ہوتے ہیں تو صحت اور موڈ بھی ڈسٹرب ہوتے ہیں ۔ یہ جاننے کی کوشش کیے بغیر کہ کونسے ہارمونز کس وقت کیسے ایکٹ کرتے اور کرواتے ہیں ، عورتوں کے ہر عمل کو ان کی کارستانی کہہ کر بات کو اگنور کر دیا جاتا ہے ۔
جبکہ بہت سارا ڈپریشن اور بے چینی ماحول اور حالات کی وجہ سے جنم لیتے ہیں ۔
آپ لاکھ کہیں کہ آپ کے گھر کی عورتیں ملکاؤں کی طرح رہتی ہیں ۔
آس پاس کے لوگوں کے رویے اور گھر کے مردوں کا بات بات پر احسان جتانا ، بیوی سے ہٹ کر باہر افیئر ہونا ، خاتون خانہ کو بچہ پیدا ہونے کے بعد جسم لوز ہو گیا ہے ، بوڑھی لگنے لگی ہو، پہلے جیسی نہیں رہی اور ہزاروں ایسے جملے جو کہہ دینے کے بعد مرد پلٹ کر نہیں دیکھتا کہ عورت پر ان جملوں سے کیا گزرتی ہے ۔
بچہ پیدا کرنا ایک الگ مشقت ہے لیکن اسے پالنا اور اس کے ساتھ ساتھ باقی کام اور معاملات دیکھنا اچھا خاصا جان جوکھم کا کام ہے۔
اپنی ذات کی نفی ، تفریح کے لیے سوچنے پر بھی پابندی ، دوستوں سے ملنے کا تصور بھی نہ ہونا اور ہر وقت مائیکہ سسرال اور سسرال مائیکہ میں گیند بنے لڑھکتے رہنا ۔
اچھی خاصی پڑھی لکھی اور کیرئیر اورئینٹڈ خواتین کو بھی خالص گھریلو اور سادہ خاتون میں بدل دیتا ہے ۔
ایسے میں وہ بچے کی نیپیاں بدلے ، صبح دوپہر شام کچن کا کرے ، اگر جاب کرتی ہے تو کام بھی برابر کا کرے اور گھر واپس آکر جہاں مرد آرام کرنے کا سوچتا ہے ، کچھ پڑھنے لکھنے کا یا دنیا کے حالات حاضرہ جاننے کی کوشش کرتا ہے ایسے میں وہ خاتون یہ سوچ رہی ہوتی ہے کہ آج کیا پکاؤں ۔۔۔
اسے دنیا سے کیا مطلب کہ اس کی دنیا گھر اور چاردیواری تک محدود رہ گئی ہے ۔
پھر ایسے میں اس کا غصہ ، بے بسی ، بے چینی اور ڈپریشن کو صرف ہارمونز پر ڈال دینا ایک اور بہانہ بن گیا ہے دامن چھڑوانے کا۔۔۔
جبکہ دوسری طرف مرد کا غصہ کرنا مردانگی ، بات بات پر چڑنا ۔۔۔ بے چارا تھکا ہوا آیا ہے ۔
بچوں پر چیخنا چلانا اور بیوی کو برا بھلا کہنا یہ سب مردانگی کے زیور ہیں کہ وہ بے چارا ہے ۔
گھر میں بیوی نے لفٹ نہیں کروائی اس لیے بے چارا باہر کی عورت سے دل لگا بیٹھا ۔
اب وہ باہر کی عورت سے پوچھو تو وہ اپنے گھر میں وہی عورت ہوتی ہے جس کے گھر والے اسے ویسی ہی عورت سمجھ کر کولہو کا بیل بنائے ہوئے ہوتے ہیں جیسی عورت کو چھوڑ کر اس کا بوائے فرینڈ اس کے پاس سکون کی تلاش میں آتا ہے ۔
یہاں مرد باہر والی عورت کو کبھی نہیں کہتا کہ تم بوڑھی ہو رہی ہو، لوز ہو گئی ہو ، تم سے بو آتی ہے یا پھر تم جاہل ہو اور دنیا کا کچھ پتہ نہیں ۔
وہ اعتماد اور پیار جس کی تلاش میں بیوی ہلکان ہو جاتی ہے وہ دوسری عورت پر لٹاتا ہے ۔
ایسے میں دوسری عورت کے ہارمونز اس خاص مرد کے لیے ڈسٹرب نہیں ہوتے ۔
لہذا ہر رویے کو ہارمونز کے سر ڈالنا بند کر کے اپنے اپنے مزاجوں کو بہتر کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے ۔
یہاں میری ان ڈاکٹرز اور ریسرچرز سے درخواست ہے جو خواتین کے مسائل تو ڈھونڈ لائی ہیں ۔ اب ان مردوں کے ہارمونز پر بھی ہمیں آگاہی دیں ۔
کہ چیٹنگ ، غصہ، بے زاری اور خود کو برتر سمجھنے والا ہارمون کیا کہلاتا ہے اور اس کا کیا علاج ہے ؟
