قیدیوں کی تعداد بھی بیس سے پچیس ہزار بتائی جاتی ہے، جس میں 2,000 سے 3,000 کے قریب مختلف قسم کے کاریگر بڑھئی، لوہار اور سنگ تراش شامل تھے، ان میں مغل امرا کی بیٹیاں، شاہی حرم کی کنیزیں اور عام شہری شامل تھے۔ نادر شاہ کے سپاہیوں نے بہت سی عورتوں کو مالِ غنیمت کے طور پر بھی اپنے قبضے میں لے رکھا تھا۔ اس قسم کے “سامان” کی وجہ سے لشکر کی رفتار اب بہت سست ہوچکی تھی۔ اور منظم حملے یا ڈکیتیوں دوارہ وہ لشکری قافلہ اب vulnerable تھا۔ بالخصوص جہاں سے اسے دریا پار کرنے تھے۔
دہلی اور ستلج کے بیچ کا علاقہ تاریخی طور پر سرہند کی سرکار کہا جاتا تھا۔ نادر شاہ کا لشکر جب یہاں سے گزرا تو اس نے اس پورے علاقے کو روند کر رکھ دیا تھا۔ اس علاقے میں جن قصبوں اور شہروں کی خاص طور پر شامت آئی ان میں سونی پت، پانی پت اور کرنال آتے وقت بھی نچوڑے گئے اور جاتے وقت بھی۔پھر تھانیسر، کروکشیتر، انبالہ اور سرہند کو لوٹا گیا۔ نادر کے سپاہیوں نے یہاں کے قدیم مندروں اور حویلیوں میں توڑ پھوڑ کی، مقامی تاجروں سے زبردستی بھتہ وصول کیا گیا، اور جو رقم نہ دے سکے ان کی دکانیں لوٹ لی گئیں اور اکثر شہروں کی معیشت تباہ کر گئے۔ سرہند پڑاؤ کے وقت نادر شاہ کو اطلاع ملی کہ سکھ جتھے ستلج کے پار اس کا انتظار کر رہے ہیں، جس کے بعد اس کے سپاہیوں نے اردگر علاقوں پر مزید سختی برتی تاکہ وہ دریا پار کرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ سامان جمع کر سکیں۔ دہلی سے ستلج تک کا یہ تقریباً 250 کلومیٹر کا فاصلہ ایک تباہی کا رستہ بن گیا۔ نادر شاہ کا مقصد یہ تھا کہ پیچھے کوئی ایسی طاقت نہ بچے جو اس کے قافلے پر حملہ کر سکے۔ لیکن جیسے ہی وہ سرہند سے نکل کر ستلج کے کنارے پہنچا، اس کا سامنا ان سکھ جتھوں سے ہوا جنہوں نے ان لٹے پٹے علاقوں کے انتقام کے طور پر اس کے لشکر پر گوریلا حملے شروع کر دیے۔
ستلج پار کرتے وقت سکھوں کے مختلف جتھوں نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت حملہ کیا۔ جب ایرانی فوج کا ہراول دستہ دریا پار کر چکا اور درمیانی حصہ جس میں مال سے لدے ہوئے اونٹ اور خچر تھے، ابھی کنارے پر موجود تھا، تو سکھوں نے عقب سے اچانک یلغار کی۔ فارسی مورخین کے مطابق، یہاں سکھوں نے سینکڑوں اونٹ چھین لیے جن پر قیمتی پارچہ جات اور دہلی سے لوٹا ہوا سامان لدا تھا۔ نادر شاہ نے اپنے خاص دستوں کو ان کا پیچھا کرنے کا حکم دیا، لیکن سکھ دریا کے قریبی جنگلوں اور چھمبوں (دلدلی علاقوں) میں غائب ہو گئے۔
دریائے ستلج سے بیاس تک کے درمیانی علاقے کے پہلے حصے میں اسوقت کا اہم مرکز جالندھر پڑتا ہے۔ نادر کی فوج جب یہاں پہنچی تو انہوں نے شہر سے بھاری تاوان مانگا۔ رسد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے فوجیوں نے گرد و نواح کے دیہاتوں کو بھی بری طرح لوٹا۔ جس وجہ سے مقامی آبادی کو فاقوں کی نوبت آگئی۔ جالندھر کے علاقے میں سکھوں کے چھوٹے چھوٹے جتھوں نے یہاں بھی رات کے وقت نادر کی فوج پر شب خون مارے۔ اگلا نمبر تھا سلطان پور لودھی شہر ، یہاں بھی خوب لوٹ مار کی گئی۔ اس علاقے میں سکھوں کی مزاحمت اب چھڑپوں سے نکل کر ایک باقاعدہ خطرہ بن چکی تھی۔ سکھ جانتے تھے کہ نادر شاہ کو اگلا دریا پار کرنے کے لیے "پتن" Ferry points استعمال کرنے پڑیں گے۔ انہوں نے بیاس کے کناروں پر موجود گھنے سرکنڈوں اور جھاڑیوں میں مورچے سنبھال لیے۔ جب نادر شاہ کا مرکزی خزانہ (جو اونٹوں اور ہاتھیوں پر لدا تھا) بیاس پار کر رہا تھا، تو سکھ سرداروں کے جتھوں نے پھر سے اچانک حملہ کیا، انہوں نے ایرانی فوج کے پچھلے دستے کو کاری ضرب دی اور سونے چاندی سے لدی ہوئی کئی خچریں چھین لیں۔ بیاس پار کرتے وقت سکھوں کے اس بڑے حملے میں سینکڑوں عورتیں اور مردوں کو، جو نادر شاہ کے قیدی تھے، آزاد کروا کر قریبی جنگلوں میں پناہ دی گئی۔ سکھوں کے حملوں کی وجہ سے نادر نے اپنا راستہ تھوڑا شمال کی طرف (پہاڑوں کی طرف) کر لیا، جس کی وجہ سے ہشیار پور کے قریبی قصبوں کی شامت آ گئی۔ نادر کی فوج نے ان علاقوں میں قتل و غارت کی تاکہ سکھوں کو دی جانے والی کسی بھی ممکنہ مقامی مدد کو روکا جا سکے۔ اسکے باوجود یہاں نادر شاہ کے خلاف دو طرح کی مزاحمت ہوئی۔ پہلی سکھ گوریلا "مارو اور بھاگو" کی پالیسی، جسکا مقصد نادر کی فوج تھکانا اور اس سے مال و قیدی چھیننا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ مقامی دیہاتیوں نے اپنے اناج کے ڈھیر جلا دیے یا کنوؤں میں مٹی ڈال دی تاکہ نادر شاہ کی فوج کو کچھ نہ مل سکے۔ نادر شاہ کے ایک معاصر مورخ نے لکھا ہے کہ: "یہ باغی (سکھ) ہوا کی طرح آتے تھے اور بجلی کی طرح غائب ہو جاتے تھے۔ نادر شاہ جیسا جابر، جس نے مغل بادشاہ کو قیدی بنا لیا تھا، ان سکھوں کے سامنے بے بس نظر آتا تھا کیونکہ وہ لڑنے کے لیے سامنے ہی نہیں آتے تھے۔"
بیاس پار کرنے کے بعد نادر شاہ کے لشکر نے اس پٹی کو روندا جس میں بٹالہ، کانا کاچھہ کے گرد و نواح کے علاقے شامل تھے۔ بٹالہ اس زمانے میں ایک بڑا تجارتی مرکز تھا۔ نادر شاہ کی فوج جب یہاں پہنچی، تو انہوں نے رسد کے نام پر یہ شہر بھی نچوڑ ڈالا۔ بٹالہ کے معززین کو جمع کر کے بھاری رقوم کا مطالبہ کیا گیا، اور رقم نہ ملنے پر قریبی بستیوں کو آگ لگا دی گئی۔جیسا کہ کہا، بیاس سے راوی تک کا سفر نادر شاہ نے جی ٹی روڈ کے بجائے تھوڑا شمال کی طرف سے کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دیہات جو ابھی تک جنگ سے بچے ہوئے تھے، اب ایرانی فوج کے رحم و کرم پر تھے۔ کسانوں کا غلہ اور مویشی زبردستی چھین لیے گئے تاکہ 1.5 لاکھ کے قریب کے قافلے کا پیٹ بھرا جا سکے۔ اس علاقے میں سکھ مزاحمت شاید اپنی انتہا پر تھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ علاقہ ماجھا کہلاتا تھا، جو سکھ جنگجوؤں کا اپنا گھر تھا۔ سکھوں نے دن کے بجائے رات کو حملے تیز کر دیے۔ جب ایرانی فوج پڑاؤ کرتی، تو سکھ جتھے اچانک نمودار ہوتے۔ سکھ جنگلوں اور نالوں (مثلاً نالہ پٹی) کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ کرتے۔ جیسے ہی نادر شاہ کی "نسقچی" (فوجی پولیس) جوابی کارروائی کے لیے نکلتی، سکھ گھڑ سوار تیزی سے غائب ہوجاتے۔ بیاس سے راوی تک آتے آتے نادر شاہ نے لاہور شہر کے اندر داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
اسے اطلاع ملی کہ راوی کے کناروں پر سکھ جتھے ایک بڑی "گھات" لگائے بیٹھے ہیں اور شاید وہ لہور کے گورنر پر بھی پورا بھروسہ نہیں کر سکتا تھا لہذا کسی بھی ممکنہ حملے سے بچنے کے لیے اس نے اپنا رخ ایمن آباد کی طرف موڑ لیا تاکہ وہ راوی کو کسی ایسی جگہ سے پار کرے جہاں اُسکی فوج پر کوئی اچانک حملہ نہ ہو۔
یہاں سے نادر کو گرمی کی شدت بڑھنے احساس بھی ہوا، ساتھ ہی ساتھ سکھ گھڑ سواروں کے میدانی علاقوں اورجنگلوں میں موثر انداز سے لڑنے کے خطرے کے پیشِ نظر، اسے لگا کہ پہاڑی علاقہ نسبتا محفوظ رہے گا۔البتہ اسنے یہ رسک بھی لیا کہ پہاڑی علاقوں کے رستے تنگ اور فوج کی قطار لمبی اور زیادہ غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔ اسکے علاوہ گلیشئیرز سے اس عرصے میں زیادہ برف پگھلنے کارن، پہاڑوں کے قریب دریاؤں کی چوڑائی میدانی علاقوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، جس سے کشتیوں کا پُل بنانا آسان ہوتا ہے۔اس لیے اس نے لہور سے گزرنے کی بجائے شوالک پہاڑوں کے دامن کی طرف رُخ لیا اور شمال کی طرف سے راوی پار کرنے کا فیصلہ کیا (پار کرنے کی جگہ موجودہ شاہدرہ اور کالاشاہ کاکو کے درمیانی علاقے کے بیچ بتائی جاتی ہے) جب نادر شاہ کا لشکر راوی پار کر رہا تھا، تو سکھوں نے ایکبار پھر اس وقت حملہ کیا جب آدھا لشکر دریا کے بیچ میں یا دوسرے کنارے پر تھا۔ انہوں نے قیمتی کپڑوں، برتنوں اور گھوڑوں سے لدی ہوئے کئی خچر اور اونٹ چھین لیے۔ یہاں پر شاید نادر شاہ کو پہلی بار احساس ہوا کہ پنجاب کے یہ "باغی" صرف لٹیرے نہیں بلکہ ایک منظم گوریلا قوت بن رہے ہیں جو اس کے باقاعدہ تربیت یافتہ دستوں کو بھی چکمہ دے سکتے ہیں۔
راوی کو چھوڑتے ہوئے مغل کشمیر رُوٹ پر چلتے ہوئے اگلی باری پسرور اور سیالکوٹ کی تھی۔ پسرور اس زمانے میں ایک اہم انتظامی مرکز (پرگنہ) تھا اور مغل اشرافیہ کی پسندیدہ جگہ بھی۔ پسرور کی شامت آنے کی بڑی وجہ اسکا جغرافیہ تھا۔ یہاں کے ارد گرد گھنے جنگل اور برساتی نالے (جیسے کہ نالہ ڈیک) تھے۔ سکھ جتھے پسرور کے ان جنگلوں میں چھپ کر نادر شاہ کے فوجی قافلے کو لُوٹتے اور مال لے کر غائب ہو جاتے۔ نادر شاہ نے اسکے جواب میں پھر پسرور کے گرد و نواح میں ایسی تباہی مچائی، کہ دیہاتوں کے دیہات صاف کر دیے گئے۔ پسرور میں مغلوں کی ایک عظیم الشان سرائے اور شاہی باغ (جو مغل شہزادے دارا شکوہ سے منسوب تھا) ہوا کرتا تھا۔ نادر کی فوج جب یہاں سے گزری، تو انہوں نے ان سرائوں میں موجود ذخائر پر قبضہ کر لیا۔ نادر کی فوج کو ویسے بھی راستے میں جو کچھ ملے گا، وہ ان کا "حق" تصور کیا جائے گا۔ غلہ، مویشی اور گھوڑے—پسرور کے مضافات سے سب کچھ سمیٹ لیا گیا۔ پسرور کی تنگ گلیوں اور گرد و نواح کے کچے راستوں سے جب 20 ہزار قیدیوں اور ہزاروں اونٹوں کا قافلہ گزرا، تو مقامی معیشت مکمل طور پر مفلوج ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ نادر شاہ کے سپاہی پسرور کے بازاروں میں داخل ہوئے اور دکان داروں سے زبردستی سامان لیا۔ اگر کسی نے مزاحمت کی تو اسے وہیں قتل کر دیا گیا۔ نادر شاہ کے اس حملے نے پسرور کو ایسا زخم لگایا کہ وہ دوبارہ کبھی سنبھل نہ سکا۔ اس کے بعد یہ علاقہ سکھوں اور افغانوں کی کشمکش کا میدان بھی بنا۔ نادر شاہ کے بعد جب ابدالی آیا، تو اس نے پسرور کو باقاعدہ اپنی فوج کا پڑاؤ بنایا، جس نے بچی کھچی کسر بھی نکال دی۔
پھر وہ سیالکوٹ سے گزرتا ہوا اکھنور (جو آج کل بھارتی کشمیر میں ہے) کے مقام سے دریائے چناب کے قریب پہنچا۔ یہاں اسے بہت سے پہاڑی نالے اور دشوار گزار راستے پار کرنے پڑے، جہاں سکھ حملوں کارن اسکا کچھ مال ضائع بھی ہوا۔ یہاں سیالکوٹ کا کیا بنا، بتانا بھی قابل زکر ہے۔ سیالکوٹ کے امراء اور تاجروں نے نادر شاہ کو ایک بڑی رقم "نذرانے" کے طور پر پیش کی تاکہ وہ شہر میں قتل و غارت نہ کرے۔ نادر شاہ نے شہر کی توڑ پھوڑ تو نہیں کی، لیکن اس کی فوج نے شہر اور گرد و نواح کے دیہاتوں سے تمام غلہ، گھوڑے اور مویشی زبردستی قبضے میں لے لیے۔ سیالکوٹ اس زمانے میں کاغذ اور لوہاری کے کام کے لیے مشہور تھا۔ نادر شاہ نے یہاں سے بھی کئی ہنرمندوں کو زبردستی اپنے ساتھ لیا، اس حملے نے سیالکوٹ کی مغل معیشت کی کمر توڑ دی، وہ شہر جو مغلوں کے دور میں ایک پرامن تجارتی مرکز تھا،اور سرینگر کو جانے کا ایک رستہ بھی، اب اپنے زوال کے وقت میں چلا گیا۔ تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ نادر شاہ کے جانے کے بعد سیالکوٹ میں اتنی افراتفری پھیلی کہ مغل گورنر زکریا خان کو یہاں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں بڑی محنت کرنی پڑی، لیکن تب تک سکھ جتھے اس خلا کو پُر کرنا شروع کر چکے تھے۔
دریائے چناب کو پار کرتے وقت بھی نادر شاہ کو مشکل صورتحال کا سامنا ہوا۔ یہاں دریا کی طغیانی اور سکھوں کے مسلسل حملوں نے اسے مجبور کیا کہ وہ اپنے ہی سپاہیوں کو سخت سزائیں دے تاکہ وہ مال کی بہتر حفاظت کر سکیں۔ پھر وہ گجرات کے علاقے سے ہوتا ہوا دریائے جہلم کے کنارے پہنچا یہاں سے اس نے جہلم پار کیا۔ اس مقام تک سکھوں کے حملے اس قدر بڑھ چکے تھے کہ نادر شاہ کو اپنے لشکر کی ترتیب بدلنا پڑی۔ جہلم کو پار کرنا نادر شاہ کے لیے راوی سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہوا، کیونکہ یہاں کا جغرافیہ (جنگل اور پہاڑ) سکھوں کے لیے بہت سازگار تھا۔ جہلم پر مغلوں کے بنائے ہوئے کشتیوں کے پُل کو پار کرتے وقت بھیڑ بہت بڑھ گئی تھی۔ سکھوں نے دریا کے کنارے موجود گھنے جنگلات کا فائدہ اٹھایا۔ سکھ روایات کے مطابق، جہلم کے مقام پر ایک بڑا حملہ ہوا جس کا مقصد قیدی خواتین کو چھڑانا تھا۔ سکھ جتھے اچانک نمودار ہوئے، پہرے داروں کو قتل کیا اور سینکڑوں خواتین کو لے کر جنگلوں میں غائب ہو گئے۔نادر شاہ نے اپنے کمانڈروں کو حکم دیا کہ وہ ان "ڈاکوؤں" کا پیچھا کریں، لیکن سکھ گھڑ سوار پہاڑی راستوں پر اتنے تیز تھے کہ ایرانی بھاری گھڑ سوار انھیں نہ پکڑ سکے۔ جہلم پار کرنے کے بعد وہ پوٹھوہار کے علاقے (موجودہ جہلم، گوجرخان، راولپنڈی کے قریب کا علاقہ) سے گزرا۔ اس علاقے کا جغرافیہ ایسا تھا کہ یہاں گھات لگانا آسان تھا، اس لیے یہاں بھی چھوٹی موٹی جھڑپیں جاری رہیں۔
اٹک کے مقام پر سندھ پار کرنا اس کے سفر کا آخری اور مشکل ترین مرحلہ تھا۔ جب وہ اٹک پہنچا تو دریا کا بہاؤ تیز تھا اور کشتیوں کا پُل بن تو گیا تھا، لیکن اتنے بڑے لشکر اور بھاری سامان کو پار کروانے میں وقت لگا۔ جب فوج کا اگلا حصہ (نادر شاہ اور بیشتر قیمتی خزانے سمیت) دریا پار کر چکا، تو پچھلا حصہ جس کے پاس زیادہ تر مال و اسباب اور قیدی تھے، ابھی پنجاب والے کنارے پر ہی موجود تھا۔ سکھ جتھوں نے دریا کے کنارے پھیلے ہوئے گھنے جنگلات اور جھاڑیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں بھی “مارو اور بھاگو” والا ٹیکٹک آزمایا۔ جیسے ہی نادر شاہ کی فوج کا ایک حصہ پُل پر چڑھتا، سکھ گھڑ سوار اچانک نمودار ہوتے، پچھلی قطاروں پر حملہ کرتے، مال چھینتے اور قیدیوں کو آزاد کروا کر واپس جنگلوں میں غائب ہو جاتے۔ پُل پر موجود سپاہی پیچھے مڑ کر لڑنے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ پُل کی چوڑائی کم تھی اور وہ ایک قطار میں پھنسے ہوئے تھے۔ تاریخی روایات کے مطابق، دریا کے تیز بہاؤ اور سکھوں کے مسلسل حملوں کی وجہ سے پُل کے قائم رہ پانے کو شدید خطرہ پڑ گیا تھا۔ کچھ ذرائع بتاتے ہیں کہ سکھوں نے پُل کی رسیاں کاٹنے کی بھی کوشش کی تاکہ فوج دو حصوں میں کٹ کر رہ جائے۔ نادر شاہ جو دریا کے دوسری طرف (خیرآباد کی طرف) پہنچ چکا تھا، وہ اپنی توپیں استعمال نہیں کر پایا کیونکہ گولہ باری سے اس کے اپنے ہی سپاہیوں اور لوٹے ہوئے مال کے ضائع ہونے کا ڈر تھا۔ایک Apocryphal روایت کے مطابق، نادر شاہ کو جب اطلاع ملی کہ سکھ اس کے لشکر کو لوٹ رہے ہیں اور قیدیوں کو چھڑا رہے ہیں تو اس نے پوچھا "یہ لمبی داڑھیوں والے کون لوگ ہیں جو میرے جیسے فاتح کے مال پر ہاتھ ڈال رہے ہیں؟ ان کا گھر کہاں ہے؟" زکریا خان نے جواب دیا: "ان کے گھر ان کے گھوڑوں کی زینوں پر ہیں۔" یہ سن کر نادر شاہ نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ لوگ بہت جلد اس ملک کے حکمران بن جائیں گے۔
دلی سے دریائے سندھ پار کرنے تک ایک اندازے کے مطابق نادر شاہ کی فوج نے سکھوں کے ہاتھوں کوئی پانچ سے دس فی صد قیدی اور ایک سے دو فیصد خزانہ گنوایا۔ سکھ سورس اتنے میں ہی اُسے اپنی عظیم فتح گنتے ہیں۔ ایرانی جانی نقصان کی اگر بات کریں تو سکھ زرائع کے مطابق تو ہر جھڑپ میں سینکڑوں ایرانی سپاہی مارے گئے اور وہ سب جمع کیئے جائیں تو تعداد کئی ہزاروں میں بنتی ہے۔ ایرانی زرائع کہتے ہیں کہ نادر شاہ کے چند سو سپاہی ان جھڑپوں میں مارے گئے، جو زیادہ تر وہ تھے جو سپلائی لائن یا Rear Guard کی حفاظت پر کر رہے تھے۔ ان کے نزدیک یہ نقصان نہ ہونے کے برابر ہے۔ موجودہ مؤرخین کے مطابق نادر شاہ کے 1,000 سے 2,000 سپاہی دہلی سے اٹک کے پورے سفر کے دوران مارے گئے۔ ایک ریگُولر فوج کے لیے یہ تعداد بہت کم ہے، لیکن نفسیاتی طور پر annoying کہی جا سکتی ہے۔
نادر شاہ نے دہلی میں ایسا قتلِ عام کیا تھا کہ پورے ہندوستان پر موت جیسی خاموشی طاری ہو گئی تھی۔ مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا اس کے سامنے بے بس تھا۔ ایسے میں جب سکھوں نے نادر شاہ پر حملے کیے، تو انہوں نے یہ پیغام دیا کہ نادر شاہ جیسا فاتح بھی ایک عام انسان ہے جسے لوٹا جا سکتا ہے اور جس کے لشکر کو پریشان کیا جا سکتا ہے۔
دو یورپی سیاحوں نے بھی، جو مقامی روایات اور یادداشتوں کی بنیاد پر 1788 میں تاریخ لکھتے ہیں، اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ سکھوں نے نادر شاہ کے قافلے کو "آزاد" کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور قیدیوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کی وجہ سے انہیں عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔ سکھ سورسز میں اسے ایک بہت بڑی اخلاقی فتح کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کیونکہ اس عمل نے سکھوں کو "لٹیرا" یا باغی ہونے کے الزام سے نکال کر "مظلوموں کا نجات دہندہ" بنا دیا۔ سیاسی طور پر اس کا فائدہ یہ ہوا کہ نادر شاہ کے جاتے ہی پنجاب میں مغل حکومت کی بجائے عوامی ہمدردی کا پینڈولم سکھوں کے حق میں تبدیل ہونے لگا۔
جو "ایک سے دو فیصد" مال سکھوں کے ہاتھ لگا، وہ نادر شاہ کے لیے معمولی تھا، لیکن بکھرے ہوئے سکھ جتھوں کے لیے وہ بہت بڑی رقم تھی۔ اس مال سے انہوں نے بندوقیں اور گھوڑے خریدے۔ اپنے قلعے (جیسے گوجرانوالہ میں چرٹ سنگھ کا قلعہ) تعمیر کیے، اور اپنی طاقت کو مستحکم بنانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اگلے 20 سالوں میں احمد شاہ ابدالی کا مقابلہ کیا اور آخر کار پنجاب پر راج قائم کیا۔
