"دوسری جیب میں ہاتھ ڈال، کچھ روپے اور دے اور اچھا مال لے۔" منڈی کے تاجر ممریز خان نے پھلوں کے چھوٹے چھوٹے ڈھیروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اکرم پھل فروش کو مشورہ دیا تو اکرم پھل فروش اپنے سر پر بندھے رومال کو اتار کر لمبی سانس لے کر بولا، "بات تو ساری پیسے کی ہے۔ اور نگوڑا پیسہ غریب کی جیب میں کب ٹکتا ہے۔ انہی پیسوں میں جو مال مل جائے وہی بہتر ہے۔"
اکرم پھل فروش کی آج منڈی میں زیادہ دیر ہو گئی۔ غریب کی جیب میں جب دھیلا نہ ہو تو وہ کونے میں دبک کر بیٹھ رہتا ہے۔ اکرم پھل فروش کی بھی یہی حالت تھی۔ کیونکہ اس کی جیب میں دام کم تھے۔ وہ ایسے پھل خریدنے کے لئے انتظار میں تھا جو تھوڑا سستے ہوں۔ تاکہ ان میں سے آج کے لیے کچھ اپنی دال روٹی بھی کما سکے۔ اسی چکر میں وہ آج منڈی سے بہت دیر کے بعد نکلا۔ لیکن جو پھل اس کے ہاتھ لگا اتنا اچھا نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس نے سوچا کہ چلو اسے بیچ کر کچھ دال دلیا چلا ہی لے گا۔ یہ سوچ کر وہ اپنا سودا لے کر منڈی سے نکلا اور چوک کی طرف بڑھا ہی تھا کہ شہر سے باہر جہاز چوک سے آگے ایک پولیس والے نے اسے روک لیا۔ ٹریفک پولیس والا اس کے ساتھ انتہائی بد تمیزی سے پیش آیا۔ جیب میں کچھ روپے تھے ٹریفک پولیس والے نے ہتھیا لیے۔
وہ خالی جیب لیے چوراہے پر آن کھڑا ہوا اور ریڑھی لگا لی۔
اس کی ریڑھی پر گلے سڑے پھل قریب سے گزرنے والے راہگیروں کو اپنی طرف متوجہ نہ کر سکے۔ اکرم پھل فروش اپنا گلا پھاڑ پھاڑ کر پھلوں کی تشہیر کر رہا تھا، "آ گئے آ گئے، تازہ پھل آگئے، میٹھے پھل آگئے۔۔۔۔۔"
کچھ راہگیر متوجہ ہوئے اور پھلوں کو الٹا پلٹا کر چلتے بنے۔
کافی وقت گزر چکا تھا۔ مفلسی کے مارے اکا دکا گاہک آئے مگر خرید کی رقم سے کم پر بضد تھے۔ اکرم پھل فروش اس خسارے کو دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ وہ راہگیر کچھ سوچ کر آگے بڑھ گئے۔ اکرم پھل فروش کی آنکھوں میں اپنے معصوم بچوں کے چہرے بار بار گھوم رہے تھے۔ وہ بار بار اپنی خالی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا اور پھر نکال لیتا۔ اس کی آنکھوں میں کچھ خواب تھے جو دم توڑنے لگے تھے۔ کچھ لوگ چوراہے سے ادھر ادھر پیدل جا رہے تھے۔ مگر کوئی بھی اس کی ریڑھی کا رخ نہیں کر رہا تھا۔ اکرم پھل فروش کے چہرے پر اداسی اور غم نمایاں تھا۔ اکرم بار بار رومال سے گاڑیوں کی اڑائی ہوئی دھول کو اپنے چہرے سے صاف کرتا اور دھول پھر سے اس کے چہرے اور بالوں پر جم جاتی۔ اس کے مقدر کی طرح اس کا لباس بھی دھول میں اٹا تھا۔ سورج کی تپش اس کے چہرے کو جھلسا رہی تھی۔ پسینہ تھا کہ اس کی ماتھے اور اس کی گردن سے بہا چلا جا رہا تھا۔ دن کا دوسرا پہر شروع ہوا تو چند غریب عورتیں بچوں کو لیے ریڑھی کی طرف بڑھیں۔ بچوں نے پھل کی طرف ہاتھ بڑھایا تو ان عورتوں نے ان کے ہاتھ کو جھٹکا اور پھل کے دام پوچھے۔ اکرم پھل فروش نے جھجکتے ہوئے پھل کا دام باتا ہے تو عورتوں نے کم دام لگا کر پھل خریدنے کی ضد پکڑ لی۔ ان عورتوں کے ساتھ ایک ننھی سی گڑیا تھی جو ضد کیے جا رہی تھی کہ اسے تو یہی پھل کھانا ہے۔ اکرم پھل فروش نے جب ننھی کا چہرہ دیکھا تو اسے اپنی بیٹی ماہ نور یاد آگئی۔ ان عورتوں نے چند روپے اس کی طرف بڑھائے تو اس نے چپ کر کے روپے لے لیے۔ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اپنی ماہ نور پری کی فرمائش پوری کر رہا ہے۔ عورتوں نے کچھ روپے اسے تھما کر پھل لے کر چل پڑیں۔ پھل ہاتھ میں تھمانے پر اس بچی کے چہرے پر ایک عجب سی خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ جس نے اکرم پھل فروش کی روح کو خوش کر دیا تھا۔ اکرم پھل فروش چند روپے بغیر گنے جیب میں ڈال کر ریڑھی دھکیلتا گھر کی طرف چلا ہی تھا کہ ایک پولیس اہلکار نے اسے روک لیا۔
"ابے تجھے شرم نہیں آتی گلے سڑے پھل بیچتا ہے۔ تجھے پتہ ہے ان گلے سڑے پھلوں سے لوگوں میں بیماریاں پھیلتی ہیں۔ چل میں تجھے تھانے بند کرتا ہوں۔" پولیس اہلکار اسے دھمکا رہا تھا اور یہ اس کی نیت جان چکا تھا۔ غریب مزدور تھا لہذا اس سے بحث تو کر نہیں سکتا تھا لیکن حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خاموشی سے اکرم پھل فروش نے اپنا ہاتھ جیب کی طرف بڑھایا۔ جیب میں ہاتھ ڈالتے وقت اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس کے دل میں عجیب سی گھٹن پیدا ہونے لگی تھی۔ لیکن دل میں مفلسی اور بے بسی کے آنسو گراتے ہوئے اکرم پھل فروش نے پولیس اہلکار کی طرف دیکھا۔
اور مٹھی میں سارے دن کی تھوڑی سی کمائی پکڑی اور کانپتے ہاتھوں سے اس پولیس اہلکار کی طرف مٹھی بڑھا دی۔ اکرم پھل فروش کی آنکھوں میں گھر پر راہ تکتے اپنے بچوں کے چہرے گھوم گئے۔ گھر میں انتظار میں بیٹھے بچوں کی حسرتیں اور خواہشیں ایک ایک کر کے اس کی آنکھوں کے سامنے دم توڑنے لگیں۔
پولیس اہلکار نے اکرم پھل فروش سے روپے پکڑے اور دوسری ریڑھی والے کی طرف بڑھ گیا۔ اکرم پھل فروش خالی جیب لیے ٹوٹے دل کے ساتھ ریڑھی دھکیلتا گھر لوٹ آیا۔
