ناول "جہنم"۔۔۔۔ تبصرہ نگار:- عریش خان

اس وقت جو ناول میرے ہاتھوں میں موجود ہے
 " سرکار پبلشرز ملتان " کا تیار کردہ ہے ، لوگو پر ملتان کے مشہور صوفی بزرگ "شاہ رکن عالم ؒ " کا دربار ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکار پبلشرز " سرکار شاہ رکن عالم ؒ " کے پیرو کاروں میں سے ہیں ۔
بہر حال سب سے پہلے اگر ٹائٹل پیج کی بات کی جائے تو ٹائٹل بہت اٹریکٹو ہے ، 
اس کی منظر نگاری بہت اثر انگیز ہے ، 
پورا کور ایک آتش فشاں وادی کا منظر پیش کرتا ہے
 زمین و آسمان دونوں گہرے سرخ ، اورنج اور کالے رنگوں کی آگ اور دھوئیں میں لپٹے ہوئے ہیں جس سے کسی تباہ شدہ دنیا یا قیامت خیز ماحول کی جھلک دکھائی دیتی ہے ، ایسے لگ رہا ہے جیسے جہنم کی ہولناکی کو ظاہر کرنے کی اپنی سی پوری کوشش کی گئی ہو ، 
پہاڑوں پر سے آگ لاوے کی صورت بہہ کر درمیان میں موجود ایک بہت بڑے گہرے گڑھے میں گر رہی ہے ، 
آسمان پر موجود بادل سیاہ و سرخ ہو چکے ہیں اور فضا میں شعلے پھیل رہے ہیں ، سورج کا ڈوبنا ، ڈوبنا نہیں محسوس ہو رہا بلکہ سورج زمین کے اندر سے آگ اگلتا دکھائی دے رہا ہے ، 
ہر طرف آگ کی تپش اور گرمی محسوس ہو رہی ہے ، 

نیچے کی طرف کئی انسانی سائے ہیں جو کہ کالے سیاہ انسانوں کی شکل میں کھڑے اور بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں جن کے چہرے نظر نہیں آ رہے ، 

ان کی بے بس حالت ان کے اندر کے خوف کی عکاسی کر رہی ہے ایسے لگتا ہے جیسے یہ تمام لوگ اس جہنم نما وادی میں دھنسے ہوئے ہیں اور نجات کی راہ کی تلاش میں ہیں ۔
مجموعی طور پر یہ تصویر ایک ایسی دنیاکی منظر نگاری کر رہی ہے جہاں تباہی ، خوف ، دھوکہ ، ہولناک انجام اور اسرار آپس میں مل کر ایک گہرا اثر چھوڑ رہے ہیں اور دیکھنے والے کو یہ بات سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ یہ محض ایک ناول نہیں بلکہ ایک انجام کی کہانی ہے ۔۔۔۔۔۔

اب ناول کے اندر چلتے ہیں تو ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ پیپر کوالٹی بہت اعلیٰ ہے ، 
 اس ناول کی سب سے خاص بات یہ کہ یہ ایسا ناول نہیں ہے کہ فوراً ہی سے آپ پر آشکار ہو جائے بلکہ قطرہ قطرہ دریا کی صورت قاری کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ 
تجربہ اور مشاہدہ تو یوں سمجھیں گھول کر رکھا گیا ہے ۔

اس کی باقاعدہ کہانی ایک ایسے منظر سے شروع ہوتی ہے جس میں کچھ ڈاکو دیوار پھلانگ کر کسی گھر میں داخل ہوتے ہیں اور اندر آتے ہی گھر میں موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیتے ہیں ، اس وقت گھر میں صرف تین افراد ( میاں ، بیوی اور ان کی ایک جوان بیٹی ) موجود ہوتے ہیں ، جب وہ ان کے سرہانے پہنچ کر ان پر پسٹل تان کر خاموش ہونے کی تلقین کرتے ہیں تو وہ لوگ پریشان ہو جاتے ہیں ، 

یقیناً یہاں پر مرد کے مختلف روپ نظر آتے ہیں 
سب سے پہلے وہ ایک شوہر ہے جس کو خود سے زیادہ اپنی بیوی کی فکر ہے ، جس کو ڈاکوؤں نے گھر میں داخل ہوتے ہی یرغمال بنا لیا ہے ، 

اس کے بعد مرد کا ایک اور روپ ایک باپ کی شکل میں دکھایا گیاہے جب وہ اپنی جوان بیٹی کو ڈاکوؤں کے نرغے میں دیکھتا ہے تو اندر سے کانپ جاتاہے ، 

مرد کا ایک اور روپ جب وہ ڈاکو کی صورت میں چوہدری کا دوست نکلتا ہے اور وہیں پہ اس کی بیٹی کے لئے دل میں نرم جذبات محسوس کرلیتا ہے اور 
یہی سے ہی ناول قاری کی مکمل دلچسپی سمیٹ لیتا ہے، 

اس منظر میں کچن میں چائے بنانے کے دوران اس ڈاکو اور چوہدری کی بیٹی کے درمیان جو مکالمہ ہوتا ہےتو وہ بھی ڈاکو کے روپ میں مرد کی اک اور خوبی کو ظاہر کرتا ہے کہ 
جب وہ ( ڈاکو ) کچن میں داخل ہوتے ہی اس( کچن ) کی صفائی ستھرائی دیکھ کر وہ عورت کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اس کی سلیقہ مندی کا بھی قائل ہو جاتا ہے ۔

 اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مرد چاہے معاشرے کا کم پڑھا لکھا چور ڈاکو ہو یا 
Highly qualified 
آفیسر ، 
اچھائی یا برائی اس کے اندر پائی جاتی ہے ۔ 
جہاں پر مرد کے اتنے روپ بیان کیے گئے ہیں وہی پر صنف مخالف پر بھی کیاگیا مشاہدہ صاف ظاہر ہوتا ہے 
مرد کی طرح عورت بھی خوبیوں اور خامیوں کا مرقع ہے ، 
کہیں اس کی خوبصورتی ہے تو کہیں اس کی وفا،
کہیں اس کی چھٹی ساتویں بلکہ آٹھویں حس کو بیان کیا گیاہے تو کہیں اس کی مکاری و غداری کو،
 کہیں عورت کی قربانی ہے تو کہیں اس کی چالاکی ۔
ساتھ میں یہ بھی کہ ایک مرد عورت کی ہر غلطی کو بھلا سکتا ہے
 لیکن
 اس کی
 بد اعتمادی کو نہیں ، اگر عورت اس کے ساتھ غداری کرے تو وہ اس کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتا ۔
مرد کو اس چیز کا غم نہیں ہوتا کہ اس کو قتل کر دیا جائے جتنا کہ اس چیز کا کہ اس کے اعتماد کا قتل کر دیا جائے ۔
جیسا کہ ببو خان نے شاذیہ کو اس وقت قتل کیا جب اس نے ایک ڈاکو کو اعتماد میں لے کر پولیس کا ساتھ دیا اور اپنی جان کی بازی بھی اسی ڈاکو کے ہاتھوں ہار بیٹھی جس کی وہ خود جان بنی ہوئی تھی ، 
اور اس ڈاکو نے اسے نشان عبرت بنا دیا ۔
اور ڈاکو بھی وہ ، جو کہ بذات خود ڈاکو نہیں تھا بلکہ حق کا ساتھ دینے والا ایک حساس انسان تھا ، 
جب اس سے پوچھا جاتا ! 
" کیا تم مجرم نہیں ہو؟ " 
تو اس کا جواب ہوتا :
" میں مجرم ہوں ،
 لیکن میرا جرم مظلوم کی حمایت اور غریب سے ہمدردی ہے

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !