احمد رضوان کی شاعری۔۔۔ احسان خان زرین

کچھ ماہ قبل دلاور علی آزر بھائی نے مجھے ایک شعر سنایا تھا 
"بہت سے لوگ ہیں جو بول بھی نہیں سکتے
میں اپنے آپ کو اظہار تک تو لے آیا"

میں نے پوچھا کہ بھائی یہ کس کا شعر ہے تو انہوں نے بتایا احمد رضوان کا ہے۔ اس طرح یہ شعر میرا احمد رضوان بھائی سے پہلا تعارف تھا۔ میں نے فوراً انھیں ایڈ کر لیا فیسبک پر۔ اس شعر میں کیا خاص ہے یہ تو میں نہیں جانتا لیکن میں اس شعر کے سحر میں کئی دن رہا۔ شاید میں نے اسے خود سے ریلیٹ کر لیا۔ میں یہ مکمل غزل پڑھنا چاہتا تھا لیکن مجھے کہیں سے نہ ملی۔ آخر کار میں نے احمد بھائی کو میسج کیا اور کہا یہ مکمل غزل بھیجیں مجھے۔ انھوں نے نہ صرف غزل بھیجی بلکہ کتاب "طلوعِ شام" مکمل بھیج دی جس میں یہ غزل تو شامل تھی ہی ساتھ ہی اور بھی شاہکار غزلیں شامل تھیں۔ کتاب کا نام ہے "طلوعِ شام" اور احمد بھائی نے اس نام کو اس کتاب کے ساتھ بلاشبہ ناگزیر حد تک ہم آہنگ کیا اور حق ادا کر دیا شاعری کا۔ اس کتاب میں مجھے جو جو پسند آیا میں یہاں نیچے لکھ رہا ہوں۔ آپ احباب اسے ضرور پڑھیں زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس منٹ لگیں گے اور اچھی شاعری پر اپنی رائے بھی دیں 
آخر میں احمد بھائی کے لیے ڈھیر ساری داد اور دعائیں کہ انھوں نے اس قدر خوبصورت سخن سے ہمیں نوازا❤️❤️❤️

میں نے سورج سے راستہ پوچھا 
اور وہ بھی طلوعِ شام کے بعد

جو اس نے بولا وہی کائنات نے بولا
زمیں پہ ایک عجب خوش کلام آیا تھا

گزر رہا ہے دلوں سے زمانے بیت گئے 
وہ قافلہ جو مدینے سے شام آیا تھا

وہ خود زمین پہ چلتا تھا بادشہ ہو کر
اور اس کے اونٹ پہ بیٹھا غلام رہتا تھا 

میں جس کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں کائنات میں اب 
وہ میرے ساتھ یہیں گام گام رہتا تھا 

داستاں ختم تو نہیں ہوتی 
چلتی رہتی ہے اختتام کے بعد 

کتنی آنکھوں سے گزرتا ہوں ان آنکھوں کے لیے 
کتنی گلیوں سے گزر کر وہ گلی آتی ہے 

صدائے گنبدِ اسرار تک تو لے آیا 
میں خود کو آخری کردار تک تو لے آیا 

میں خود کو اور بھلا کس خلا میں لے جاؤں
طلسمِ گردشِ سیّار تک تو لے آیا 

یہ اور بات کہ منزل تلک نہیں پہنچا
سفر کو گرمیِ رفتار تک تو لے آیا 

بہت سے لوگ ہیں جو بول بھی نہیں سکتے 
میں اپنے آپ کو اظہار تک تو لے آیا

اب اس کا کام ہے یہ اضطراب ختم کرے
میں اس کا ہاتھ دلِ زار تک تو لے آیا

خدا ہی دے مرے قدموں کو اب ثبات احمد
میں اپنے آپ کو انکار تک تو لے آیا

عجب تصورِ تنہائی ہے جہاں میں ہوں 
فریبِ انجمن آرائی ہے جہاں میں ہوں 

مرے وجود کا سایہ کہیں نہیں موجود
مرے خیال کی پنہائی ہے جہاں میں ہوں

قدم قدم سرِ تسلیم خم جہاں تم ہو
گلی گلی مری رسوائی ہے جہاں میں ہوں

جہاں پہ تُو ہے مجھے پوچھتا نہیں کوئی
یہاں بھی تیری پذیرائی ہے جہاں میں ہوں 

نہ جانے کونسی گہرائیوں میں بیٹھ گئی
اٹھی تھی موج، مگر پانیوں میں بیٹھ گئی 

ہوئی جو شام تو سائے افق پہ پھیل گئے
پھر ایک رات سی آ کر گھروں میں بیٹھ گئی 

مری حیات نہ تھی پختہءِ معاشِ جہاں
سو ایک قبر کہیں بارشوں میں بیٹھ گئی

کسے کہوں کہ مرے ساتھ یہ سفر کاٹے
ہوا بھی دور کہیں جنگلوں میں بیٹھ گئی 

اداس چھت کی طرف جا رہی تھی ویرانی
یہ کیا کہ جاتے ہوئے سیڑھیوں میں بیٹھ گئی 

ذرا سی بھول تھی، اس بھول کا جواز بھی تھا
مگر وہ بات جو سب کے دلوں میں بیٹھ گئی 

جدا کروں تو مری سانس بھی نہیں چلتی
تری طلب تو مری دھڑکنوں میں بیٹھ گئی 

ذرا سی دیر کو میں دھوپ میں چلا احمد 
شجر کی چھاؤں مرے راستے میں بیٹھ گئی

میں ایک شام جو روشن دِیا اٹھا لایا
تمام شہر کہیں سے ہوا اٹھا لایا 

یہ لوگ دنگ تھے پہلی کہانیاں سن کر
میں ایک اور نیا واقعہ اٹھا لایا

طلسمِ شام ابھی پھیلتا تھا گلیوں میں 
کوئی چراغ، کوئی آئینہ اٹھا لایا

تمام رات ستاروں سے بات ہوتی رہی
جب اک چراغ بُجھا، دوسرا اٹھا لایا

بھلا یہ کونسی تعبیر جی رہے ہیں ہم
ہمارا خواب ہمیں کس جگہ اٹھا لایا

میں اس کے پاس گیا اور ہم کلام ہوا
جو درمیان تھا، وہ فاصلہ اٹھا لایا

اب اس سے آگے اٹھائیں گے راستہ کوئی 
یہاں تلک تو ہمیں راستہ اٹھا لایا

میں زندگی کے مراحل سے جب گزر آیا
تو وقت اور نیا مرحلہ اٹھا لایا

کسی نے آسماں گم کر دیا ہے
پرندوں کو پرِ پرواز دے کر 

مرے سپرد کیا جا رہا ہے منظرِ شب 
کہاں چراغ جلاؤں، کہاں دیا رکھوں؟

یہ لوگ میری طرف شعلگی سے دیکھتے ہیں
میں اپنی سوچ بھی ان سے اگر جدا رکھوں

میں ابھی ایک حوالے سے اسے دیکھتا ہوں
دفعتاً وہ نئے کردار میں آ جاتا ہے

مجھ سا دیوانہ کوئی ہے کہ ترے نام کے ساتھ 
رقص کرتا ہوا بازار میں آ جاتا ہے 

کہہ رہا ہوں اک شجر کی چھاؤں سے
دھوپ کا ٹکڑا اٹھا کر دے مجھے

رقص بھی کرتا رہے میرا وجود
اور کوئی آئینہ کر دے مجھے

میں تو بس اک کھیل ہوں اس کے لیے
کیا خبر! وہ ہاتھ کیا کر دے مجھے

میں تیرے سامنے تنہا کھڑا ہوں حسنِ ازل
کبھی کلام سے ہٹ کر کلام کر مجھ میں

ہے ایستادہ بچانے کے واسطے کوئی
مرے وجود کی دیوار تھام کر مجھ میں

ازل کی آنکھ میں جو جو تُو نے رکھ دیا تھا کبھی
اس ایک خواب کا منظر تمام کر مجھ میں

کبھی تو آ کے لپٹ، پھیل جا مرے اندر
لہو کے ساتھ مسلسل خرام کر مجھ میں

وقت کا ایک سمندر ہے رواں ساتھ مرے
اس کے پُر شور کنارے نہیں سونے دیتے

یہ جو دن رات زمیں جاگتی رہتی ہے، اِسے
آسمانوں کے اشارے نہیں سونے دیتے

ایک بجھتا ہے، کوئی دوسرا جل اُٹھتا ہے 
آگ کو اپنے شرارے نہیں سونے دیتے

چاند بھی ہوتا ہے، صحرا بھی، ہوا بھی، شب بھی
اور مل کر مجھے سارے نہیں سونے دیتے 

میں خود ہی آگ لگاتا ہوں اپنے چاروں طرف 
پھر اپنے واسطے جائے پناہ دیکھتا ہوں

فضا ملُول رہے گی یہاں زمانوں تک
جو کرب ہے پسِ شہرِ تباہ، دیکھتا ہوں 

کہیں پڑاؤ کیا ہی نہیں مسافت میں
سو اپنے ساتھ ہوا کا نباہ دیکھتا ہوں

وہ تیرا رنگ ٹھہر سا گیا ہے آنکھوں میں 
شبِ سیاہ! تجھے کب سے سیاہ دیکھتا ہوں 

حُسنِ کم یاب کی تمنا میں
ہوں کسی خواب کی تمنا میں 

کاسہءِ شام لے کے نکلا ہوں
ایک مہتاب کی تمنا میں

پھول ہوں خواہشِ بہاراں کا 
دشت ہوں آب کی تمنا میں

بند کرتا ہوں بابِ کم آثار 
اک نئے باب کی تمنا میں 

شعر آواز کا تمنائی 
ساز مضراب کی تمنا میں

خود کو تو چھوڑ ہی دیا احمد
ہم نے احباب کی تمنا میں

میں خاک ہو رہا ہوں یہاں خاکدان میں
وہ رنگ بھر رہا ہے اُدھر آسمان میں

یہ کون بولتا ہے مرے دل کے اندروں
آواز کس کی گونجتی ہے اس مکان میں

یہی میری مسافت ہے، یہی میری کہانی ہے
ہوا کے ساتھ گاتا ہوں، ندی کے ساتھ چلتا ہوں 

قدم قدم پہ نیا سنگِ میل ہوتا ہے
سفر اک اور سفر کی سبیل ہوتا ہے 

ذرا سی دوری پہ ملتے ہیں آسمان و زمیں
مگر یہ فاصلہ کتنا طویل ہوتا ہے 

میں آ گیا ہوں اک ایسی جگہ چراغ بدست
جہاں سے شام کا سایہ طویل ہوتا ہے

کہیں فصیل اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے
کہیں چراغ ہی گھر کی فصیل ہوتا ہے

بس ایک پھول کے کھلنے میں بیت جاتا ہے
خوشی کا وقت بھی کتنا قلیل ہوتا ہے 

اس نے آنکھوں کو کھول کر احمد 
روشنی پر بڑی عنایت کی

اے بادِ زمانہ! تجھے آرام نہیں کیا 
جُز در بدری اور کوئی کام نہیں کیا

چلتے ہی رہیں گے یہ شب و روز مسلسل 
رکنے کی کہیں گردشِ ایّام نہیں کیا

اے موجِ فنا! کیا تجھے درکار ہے مجھ سے 
یہ ٹوٹ بکھرنا مرا انجام نہیں کیا

وہ ایک ستارہ جو مجھے دیکھ رہا تھا
وہ ایک ستارہ بھی مرے نام نہیں کیا

کیا کوئی تعلق ہی نہیں تجھ سے ہمارا 
وابستہ چراغوں سے کوئی شام نہیں کیا

جہاں چراغ کو چُھو کر ہوا گزرتی ہے 
وہیں قریب سے کوئی دعا گزرتی ہے 

یہ ہم نے اپنے در و بام تو سنبھال لیے
نہ جانے شہر کی گلیوں پہ کیا گزرتی ہے 

یہ کُھل گیا ہے کہاں ابتدائے وقت ہوئی 
یہ دیکھنا ہے کہاں انتہا گزرتی ہے

وہ ماہتاب ابھی بن سنور کے نکلا ہے
نہ جانے آج سمندر پہ کیا گزرتی ہے

جو مسئلہ ہے تمہارا، وہی مرا بھی ہے
یہ اور بات کہ مجھ پر جدا گزرتی ہے

جو ایک دشت ملا تھا مجھے تمنا کا
وہاں میں شہر بسانے میں کامیاب رہا

وہ ماہتاب چلاتا رہا قریب مجھے
تمام رات طبیعت میں اضطراب رہا

جب کوئی شام تحیر سے مجھے دیکھتی ہے 
مجھ کو حیرت کا یہی مرحلہ خوش آتا ہے 

کتنی آنکھوں کی اذیت سے گزر کر احمد 
ایک چہرہ ہے جسے دیکھنا خوش آتا ہے 

خوشا کہ ندرتِ افکار سے بدلتا رہا
میں اپنی طبعِ طرحدار سے بدلتا رہا 

مرا وجود تو بدلا نہ جا سکا لیکن
میں اپنے آپ کو اظہار سے بدلتا رہا

سمے بدلتا چلا جا رہا تھا ہر منظر
سو میں بھی وقت کی رفتار سے بدلتا رہا 

بس ایک غم تھا مرے پاس یادگارِ جنوں 
اسی کو نت نئے آزار سے بدلتا رہا 

میں جیسے خود کو بدلتا چلا گیا احمد
یہ شہر بھی اسی رفتار سے بدلتا رہا 

کیا بات کروں، کبھی پانی باتیں کرتا تھا 
یہ دریا اس کی خشک زمیں، کیا بات کروں 

ہم آنکھ لگائے بیٹھے ہیں، دنیا کو بھلائے بیٹھے ہیں 
اس لوحِ ابد کے ماتھے پر کوئی بات نئی تحریر تو ہو

کوئی دور سلگتی آنکھوں سے، دیکھے تو ہماری اَور کبھی
خود کو تو جلا ہی لیں گے ہم، یہ شام ستارہ گیر تو ہو

ہم لوگ مسافر ہیں احمد، اک شام تمہاری بستی میں
رکنے کو تو رک بھی سکتے ہیں، پیروں میں کوئی زنجیر تو ہو

نظر ملا کے ابدگیر کرنے والا نہیں 
کوئی بھی خواب کو تعبیر کرنے والا نہیں 

مرے چراغ بجھے جا رہے ہیں اور یہاں
کوئی ہواؤں کو زنجیر کرنے والا نہیں 

مرے سپرد کسی اور کی کہانی ہے
میں اپنا واقعہ تحریر کرنے والا نہیں 

یہ لوگ شہر بسا کر اجاڑ دیتے ہیں
یہاں میں خواہشِ تعمیر کرنے والا نہیں 

ترے وصال میں جو مجھ پہ آشکار ہوا
میں اس خیال کو تصویر کرنے والا نہیں

الٰہی خیر! کبھی دیر ہو بھی جاتی ہے 
مگر وہ اتنی بھی تاخیر کرنے والا نہیں

جانے تم کونسے منظر میں چھپے بیٹھے ہو
میری آنکھوں نے بہت دور تلک دیکھا ہے

رات کا خوف نہیں جاتا، اندھیرا تو کُجا 
سب طرح دار ستاروں نے چمک دیکھا ہے

قدرتِ ضبط بھی لوگوں کو دکھائی ہم نے 
صورتِ اشک بھی آنکھوں سے چھلک دیکھا ہے 

ایک مدت سے اسے دیکھ رہا ہوں احمد
اور لگتا ہے ابھی ایک جھلک دیکھا ہے 

مرے خیال میں تعمیر ہو رہا ہے کہیں 
وہ شہر جو در و دیوار سے گریزاں ہے

بس ایک بار بجھا تھا چراغِ لب اُس کا
وہ شام آج بھی گفتار سے گریزاں ہے 

اشک یونہی تو نہیں آنکھ میں آ جاتے ہیں
دل میں جو آگ لگی ہے اسے کم کرتا ہوں 

یہ جو اک ہست کی تصویر مجھے بخشی ہے
اپنے ہاتھوں سے اسے نذرِ عدم کرتا ہوں

پہلے کرتا ہوں تری یاد زمانے سے الگ
پھر اسے اپنے خیالات میں ضم کرتا ہوں

ذرا سی شام ڈھلی تھی، ذرا سے سائے بڑھے
چراغ اور ہی منظر مجھے دکھانے لگا

زندگی کو ثبات کچھ بھی نہیں 
بات یہ ہے کہ بات کچھ بھی نہیں 

کیا یہیں خاک ہو رہوں گا میں؟
کیا پسِ شش جہات کچھ بھی نہیں؟

اک دِیا تھا کو بُجھ گیا جل کر
اس میں حیرت کی بات کچھ بھی نہیں 

کوئی نہیں تھا جو مرے ہمراہ چل سکے
پھر ایک دن ہوا نے اشارہ کیا مجھے

احمد بجھا گئی تھی سرِ شام جو مجھے 
روشن اسی ہوا نے دوبارہ کیا مجھے

بارش و باد کے اسیر ہوئے
اور کبھی آگ سے نباہ کیا

نقش اک ایسا سرِ لوحِ جہاں رکھتا میں
مر بھی جاتا تو کوئی نام و نشاں رکھتا میں 

اس کا سامان اسے سونپ دیا جاتے ہوئے 
اس قدر خواب تھے ویسے بھی کہاں رکھتا میں

ہر نفس موجِ فنا بڑھتی چلی آتی تھی 
پاؤں کو طرح سرِ آبِ رواں رکھتا میں

شام آتی تو بھٹکتی ہوئی پھرتی احمد
ایک دن صرف چراغوں میں دھواں رکھتا میں 

وہ جب بساطِ ابد آشنا سمیٹے گا
تو اس جہانِ خرابی سے کیا سمیٹے گا

اسی کے ساتھ سمٹ جائے گا یہ منظرِ شب
وہ جب چراغ بجھاتی ہوا سمیٹے گا

زمیں پہ آئے گا اک روز آسمانوں سے
وہ درمیان کا یہ فاصلہ سمیٹے گا 

چراغِ خواب درِ انتظارِ جاناں پر
جلا رہا تو بڑا مرتبہ سمیٹے گا 

ہوا سے خستہ بدن کو بچائے پھرتے ہیں 
بکھر گئے تو ہمیں کون آ سمیٹے گا 

ہماری پیاس بجھائے گا کوئی تو آخر
کوئی تو سلسلہءِ کربلا سمیٹے گا

وہ آنکھ خاک کے پردے میں سو گئی احمد 
اب اس کے خواب کوئی دوسرا سمیٹے گا

احمد شجر کے پاؤں میں پانی ہے سجدہ ریز 
"صحرا میں اے خدا" کوئی سیلاب بھی نہیں 

دشت ہے ایک دل کے بیچ کہیں 
اور اک شہر زیرِ آب تمام

نا معلوم کی سرحد ختم نہیں ہوتی
سب کچھ جاننے والے بھی کیا جانتے ہیں

پہلے نکلی زمین پیروں سے
اور پھر گر پڑا دھڑام سے میں

نئے جہان کا امکان سانس لیتا ہے
جب اپنے خواب کی جاگیر سے گزرتا ہوں

سمے کی گرد مرے آنسوؤں میں بہتی ہے
جب اک جہانِ اساطیر سے گزرتا ہوں 

ہر ایک شے چلی آتی ہے ساتھ ساتھ مرے 
میں ایک راہِ ابد گیر سے گزرتا ہوں 

یہ صبح و شام مری دسترس سے باہر ہیں
سمے کے پھیر میں الجھا ہوا مسافر ہوں 

دھوپ نکلی ہوئی تھی آنگن میں 
میرے کمرے میں رات تھی کتنی

سرد ہاتھوں سے میں نے دیکھ لیا 
اس کے ہاتھوں میں آگ تھی کتنی

وہ شخص جس نے مجھے بولنا سکھایا تھا
وہ آج مجھ سے کوئی بات ہی نہیں کرتا 

پیاس کو تیرتے ہوئے دیکھا 
آبنائے سراب میں ہم نے

دیکھتا ہوں تو مرے پاس کوئی اور نہیں
بولتا ہوں تو مرے ساتھ کوئی بولتا ہے 

چھاؤں دیتے ہیں جو صحرا میں کسی کو احمد
دل مرا ایسے درختوں کو ولی بولتا ہے

اس کی آنکھیں تھیں آسماں جیسی 
دل سمندر کی طرح گہرا تھا

دیپ جلنے کے اہتمام تلک
لوٹ آؤ طلوعِ شام تلک

آ! اے ابد کے شہر سے آتی ہوئی ہوا
یہ خاک دیکھتی ہے گلِ جاوداں کا خواب 

آنکھوں میں ایک شہر بسائے ہوئے ہیں ہم
کوئی کہاں کا خواب ہے، کوئی کہاں کا خواب

بکھرے ہیں زرد پھول، پرندہ نہیں کوئی
جیسے بہار پر ہو، چمن میں خزاں کا خواب

ہے مری دسترس میں یہی ایک پل
ایک پل اور پل کا یقیں بھی نہیں 

لوگ سنتے نہیں تری آواز 
میرا نغمہ فلک فلک جاتا؟

کہکشائیں بلاتی رہ جائیں
خاک ہو جائیں خاکدان میں ہم 

خیال آتا رہا صبحِ ازل کا
مجھے اُس شام پانی سے گزرتے 

پھر یوں ہوا کہ بھول گئے اس کا نام تک
جتنا قریب تھا اسے اتنا الگ کیا

احمد مری شناخت ہی مٹی میں مل گئی
مٹی نے ایک روز مجھے کیا الگ کیا

کاروانِ وقت تھا ایسے رواں
روشنی کے سائے سائے شام تھی 

دن کو تو کچھ بھی نہیں درکار تھا
جو ضرورت تھی برائے شام تھی

کہاں کہاں سے گزرتا بھلا چراغ لیے
ہر اک گلی میں تو احمد اتر رہی تھی شام

پرندو! آؤ کوئی گیت گنگناتے ہیں 
یونہی اداس شجر در شجر نہ جائے شام

خود کسی خوب کی طرح ہے وہ
نام ہے آئنہ مثال اس کا 

مجھ کو صحرا میں بھی سیلاب نظر آتا ہے
ایک مدت سے یہی خواب نظر آتا ہے

پاس آؤ تو مری پیاس کا اندازہ ہو
دور سے دشت بھی سیلاب نظر آتا ہے

شہر تاریک تھا، گلیوں میں اندھیرا تھا رواں
روشنی پھوٹتی دیکھی کسی پیشانی سے 
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !