حاصلِ زیست از روبینہ قریشی ۔۔۔ اعجاز اعوان

میں نے کتابوں پر ریویو بہت ہی کم لکھے ہیں ۔ پتا نہیں کیا بات ہے کہ ایک جھجک سی محسوس ہوتی ہے ۔ زیر نظر تحریر ایک کتاب کا ریویو سمجھ لیں یا تعارف سمجھ لیں ۔ اُم محمد علی محترمہ روبینہ قریشی کی ہی آئی ڈی ہے ، آپ نے دیکھا ہو گا وہ گھریلو و معاشرتی مسائل پر بہت خوبصورت تحریریں لکھتی ہیں ۔ ان کی کتاب حاصل زیست گذشتہ دنوں مجھے ملی اور میں نے اسے پڑھا تو بہت دلچسپ کتاب لگی جس میں کئی موضوعات پر بہت خوبصورتی سے لکھا گیا تھا ۔ کتاب روفی سرکار ملتان نے پبلش کی ہے جن کو پوسٹ میں ٹیگ کر رہا ہوں ۔ 
حاصلِ زیست ۔ ایک مطالعہ 
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر باعزت اور پر سکون گھر کے بنانے میں مرد کی بُردباری اور تحمل کے ساتھ ساتھ اس کی گھر بنیادوں میں ایک عورت کی اناکی لاش بھی دفن ہوتی ہے ہر سجے سجائے خوبصورت گھر کے درو دیوارمیں ایک مرد کی محنت کی کمائی کے ساتھ ساتھ عورت کی اچھی منصوبہ بندی، سلیقے اور شب و روز کی تگ و دو شامل ہوتی ہے ۔ہر لائق فائق بچے کے پیچھے ایک باپ کا احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ایک ماں کی دن رات کی محنت اور آنسوؤں کے ساتھ مانگی ہوئی دعائیں شامل ہوتی ہیں ۔ 
زندگی کو خوبصورت بنانا ہمیشہ سے ممکن رہا ہے ، کبھی معاف کر کے ، کبھی با ت میں پہل کر کے ، کبھی جھگڑے والی بات ٹال کر ۔ صبر اور خاموشی دو ایسے ہتھیار ہیں جن سے گھریلو زندگی پرسکون اور خوشگوار بن سکتی ہے ۔ مناسب وقت میں مناسب بات کہنے کا سلیقہ آپ کی زندگی میں خوشیوں کے کئی رنگ بکھیر سکتا ہے ۔ 
یہ اقتباس میں نے معروف مصنفہ روبینہ قریشی کی کتاب "حاصلِ زیست " سے نقل کئے ہیں جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے شب و روز کی داستان لکھی ہے تو ساتھ ساتھ اس میں بہت سے ایسے سبق بھی شامل کئے ہیں جو ہماری زندگیوں کو بلاشبہ خوشگوار بنا سکتے ہیں ۔ روبینہ قریشی بنیادی طور پر میرے دونوں آبائی اضلاع خوشاب اور سرگودھا سے تعلق رکھتی ہیں تو ان کی تحریر میں مجھے اپنے علاقے کی خوشبو محسوس ہوتی ہے ۔ دریائے جہلم کنارے ٹبہ قائم دین آبائی گاؤں ، سرگودھا کی سب سے خوبصورت سڑک کلب روڈکی ایک سرکاری کالونی کے کشادہ کوارٹر میں پرورش و تعلیم نے ان کی خداداد صلاحیتوں کو خوب نکھارا۔ لکھتی بھی یوں ہیں کہ اپنے بچپن کا زمانہ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے ہماری ہی داستان لکھ دی ہو ۔ ایک بڑے خاندان سے تعلق ہونے کی وجہ سے والدہ کے ساتھ ساتھ نانی ، دادی ، پھوپھیوں ، خالاؤں سبھی سے کچھ نہ کچھ سیکھا اور ان اصولوں کو اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنا لیا ۔ ان کی تحریر میں شگفتگی بھی ہے ، کامیاب ازدواجی زندگی گذارنے کے اصول بھی ہیں ۔ ستر اور اسی کی دہائی کی زندگی کتنی سادہ اور پرسکون ہوا کرتی تھی اس کی یادیں بھی کتاب میں شامل ہیں ۔ جب سرگودہا ایک مختصر آبادی پر مشتمل ایک پرسکون شہر ہوا کرتا تھا ۔ 
کتاب کی ابتداء میں ہی وہ اپنی شادی اور اس کی دلچسپ تقریبات کا ذکر کرتی ہیں جب صرف سترہ سال کی عمرمیں ان کی رخصتی ہوئی ۔ ٹبہ قائم دین دریا ئے جہلم کے کنارے پر ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک ریگستان سموئے ہوئے ہے ۔ جہاں کئی قدیم رسومات ابھی تک زندہ ہیں اور نوجوان نسل ابھی بھی ان سے پوری طرح لطف اندوز ہوتی ہے ۔ لکھتی ہیں 
"شادی کے وقت دلہن کے ہاتھوں پرخوب مہندی لگائی جاتی، کہا جاتا تھا کہ جتنا مہندی کا رنگ گہرا آئے گا ، اتنی ہی دلہن کی ساس اچھی ہو گی " 
ایک اور دلچسپ تقریب دلہا کی مہندی کے موقع پر دلہن کے گھر آمد تھی ، دلہا کے سامنے ایک پرات میں چھ عدد ہانڈیاں اور تین ڈھکن لائے گئے ، دلہا سے کہا گیا کہ تین ہانڈیاں تمہاری امی کے کچن کی ہیں اور تین تمہاری ساس کی ۔ یہ تین ڈھکن ہیں ہانڈیوں کو کیسے ڈھانپو گے ؟ یہ دلہے کا امتحان تھا ، دلہے نے یوں کیا کہ اپنی گوٹے والی چُنی کے پلو سے ساری ہانڈیاں ڈحانپ دیں ، دلہا امتحان میں پاس ہو گیا تھا ۔ 
 نکاح کے بعد منہ میٹھا کرانے کیلئے ایک پلیٹ میں گُڑ لایا گیا ساتھ ہی ایک کٹوری میں دیسی گھی تھا ، خالہ نے گڑ دیسی گھی کے ساتھ مس کر کے ان کے ہونٹوں سے لگایا تو دلہن نے گڑاپنے دانتوں سے قابو کر لیا اب خالہ گڑ کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں اور دلہن گڑ کو کھانے کی کوشش میں ہیں ، خالہ نے کہا ، ارے کملی ، اسے کھانا نہیں بس رسم ادا کرنی ہے ۔ لیکن دلہن شہر کی پڑھی لکھی ، اس نے گڑ کھا کر ہی چھوڑا ،
شادی کی رسمیں اتنے دلچسپ انداز میں ادا کی گئیں کہ شادی کے بہت عرصہ بعد بھی جب یہ ٹبہ قائم دین کسی شادی میں شرکت کیلئے جاتیں تو پورا گاؤں انہیں دیکھ کر یہی کہتا یہ وہ بی بی ہے جس کی شادی بہت یادگار تھی ۔ 
شادی کے بعد عملی زندگی میں آئیں تب انہیں معلوم ہوا کہ والدین کے گھر گذری بے فکری و پرآسائش زندگی اور ازدواجی زندگی میں کتنے فرق ہیں ۔ لیکن انہوں نے یہ مشکل مرحلہ بھی کامیابی کے ساتھ طے کیا ۔ کبھی کمیٹیاں ڈالیں تو کبھی اپنا زیور بیچا اور سرگودہا کے اچھے علاقے میں اپنا گھر تعمیر کیا ۔ایک مڈل کلاس فیملی کیلئے گھر کیا اہمیت رکھتا ہے یہ بات ان کی تحریر سے محسوس ہوتی ہے ۔ 
کتاب کیا ہے ایک دلچسپ داستان ہے جس کا ہر عنوان اپنی جگہ ایک جامع کہانی بیان کرتا ہے ۔ گاؤں میں گزری چھٹیاں ، گرمی کے طویل دن ، درختوں پر لگائی پینگیں ، بڑے بوڑھوں سے سنی داستانیں ، لینڈ لائن فون جو کبھی بہت نایاب ہوا کرتے تھے پورے محلے کی نگاہ کا مرکز وہ گھر ہوا کرتا جہاں لینڈ لائن فون لگا ہوتا تھا ۔ بچوں کی تعلیم و پرورش کی باتیں ، ان کے رشتے ناتے کرنے کے قصے ، بچوں کے بچوں کی دلچسپ باتیں ۔ ہر موضوع بہت عمدہ ہے ۔ والدین کی اطاعت اور ان کو خوش کیسے رکھنا ہے اس پر ایک دلچسپ واقعہ لکھتی ہیں ، ان کے پڑوس میں دو بھائی رہتے تھے دونوں اپنی ضعیف ماں سے بہت پیار کرتے تھے جنہیں آنکھوں سے کم دکھائی دیتا تھا ، وہ صحن میں چارپائی پر بیٹھی تھیں انہیں وہم ہوا کہ وہ دوسری منزل پر ہیں انہوں نے بچوں سے کہا کہ مجھے نیچے لے جاؤ، یہاں مجھے سردی لگ رہی ہے ، بچوں نے کہا کہ آپ نیچے ہی بیٹھی ہیں ، بیٹے نے بھی سمجھایا کہ آپ نے نیچے صحن میں ہیں ، مگر وہ مان نہیں رہی تھیں ، اتنے میں ان کا دوسرا بیٹا آیا ، ماں کے پاس بیٹھا تو ماں نے شکائت لگائی کہ دیکھو یہ مجھے نیچے نہیں لے جا رہے ، مجھے سردی لگ رہی ہے ، بیٹے نے انہیں گود میں اٹھایا ، صحن میں دو تین چکر لگوائے اور پھر آرام سے چارپائی پر لٹا دیا ، پیچھے تکیہ رکھ دیا ، ماں بہت خوش ہوئیں کہ دیکھو میرا یہ بیٹا کتنا اچھا ہے ، بوڑھے والدین کو سمجھانا اور سنبھالنا تھوڑا مشکل تو ہوتا ہے مگر ناممکن نہیں ہے بس تھوڑی سی توجہ ، تھوڑی سی عقل اور تھوڑی سی محنت درکار ہوتی ہے ورنہ والدین تو راضی ہونے کے بہانے تلاش کرتے ہیں 
آج کل ہمارے جو معاشرتی و معاشی مسائل چل رہے ہیں ان کے بارے لکھتی ہیں اور کیا خوب لکھتی ہیں کہ جو انسان کڑے حالات کی دھوپ میں کھڑا ہوتا ہے جس کے مالی وسائل بھی کم ہوتے ہیں اور زندگی کے چیلنج سخت، وہ انسان بھی تھوڑا سخت مزاج ہو جاتا ہے ، باتوں کا منفی رخ زیادہ دیکھتا ہے ، بات بات پر غصہ کرتا ہے ، اس سے ملنے والے لوگ بھی پریشان ہونے لگتے ہیں ، کیوں نہ ہم اپنے ارد گرد ایسے لوگ دیکھ کر ان سے چند اچھی باتیں کریں ، کچھ حوصلہ افزا ء جملے کہہ دیں ، کوئی بھی انسان برا نہیں ہوتا بس یہ اس کے حالات ہوتے ہیں جو کبھی کبھی انسان کو منفی بنا دیتے ہیں ، ایسے لوگوں کو تھوڑا سا مارجن دینے کی ضرورت ہے ان کی تلخ باتوں کو درگزر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اللہ نے ہمیں بڑی نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سے ایک کسی کیلئے خوبصورت مسکراہٹ کا تحفہ ہے ۔ 
کتاب کی سب سے خاص بات جو مجھے پسند آئی وہ ہے اپنی ازدواجی زندگی کو خوشگوار کیسے بنایا جا سکتے ہیں اوراس پر لکھے آزمودہ مشورے ۔ اور ساس بہو کے روائتی تعلقات کو بہتربنانے کیلئے توبہت عمدہ لکھتی ہیں ، 
"کیوں نہ آج کی ساس سے کچھ ہتھ ہولا رکھنے کا کہا جائے ، جب بہو بیاہ کر اس کے گھر آتی ہے تو اس وقت ساس کا عروج اور کروفر دیکھنے والا ہوتا ہے لیکن اسے یاد نہیں رہتا کہ یہ حکمرانی ، یہ صحت ، یہ بادشاہی ہمیشہ کیلئے نہیں ہے ، ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی جوانی ، صحت ، طاقت سب کچھ زوال کی طرف جا رہے ہوتے ہیں جبکہ آنے والی کا عروج ابھی دروازے پر کھڑا اندر آنے کا انتظار کر رہا ہوتا ہے ۔ اگر آج کی ساس اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ اپنے گھر آنے والی بیٹی سے لینے کی بجائے اسے کھلے دل سے قبول کرے تو اس میں ہماری اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری ہے " 
" آج کی بہو کل کی ساس ہے ، اگر آج ہم اپنی بہو کے آرام کا خیال رکھیں ، تھکی ہوئی نظر آئے تو پیار کے دو بول بول دیں ، کبھی اس کیلئے کوئی خاص ڈش بنا دیں ، تو یقین کریں کہ یہ بھی ایک صدقہ جاریہ ہے ، کل آپ کمزور ہوں گی تو وہ آپ کے ساتھ بہتر سلوک کرے گی ، کل کو وہ بھی آنے والی بہو کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے گی "
ایک باب دوستوں کے بارے میں ہے جو ہمیں کچھ سبق دیتا ہے ۔ کہیں پڑھا کہ دوست کے غم میں غمگین ہونا آسان لیکن خوشی میں خوش ہونا مشکل ہے ۔ ایک مرتبہ ان کی اپنی ایک سکول فیلو سے ملاقات ہو گئی ، وٹس ایپ نمبرز کا تبادلہ ہوا ۔ کچھ دن بعد وڈیو کال پر بات ہوئی ۔ دکھ سُکھ کی باتیں ہوئیں ، روبینہ قریشی نے اپنی کامیابیوں کی داستان سنانا شروع کی ، ذاتی گھر ، بیٹے اعلیٰ عہدوں پر فائز، بیٹیاں اچھے گھروں میں بہت خوش ہیں ، جیسے جیسے بتاتی گئیں دوست کا رنگ اڑتا گیا ، اور جلدی میں کال ہی کاٹ دی ، یہ پریشان کہ ہوا کیا ، کئی دن کال ملانے کی کوشش کرتی رہیں مگر کال اٹینڈ نہ ہو۔ اپنا تجزیہ کیاکہ پہلی کال پر کیا ایسا انوکھا ہوا کہ دوست نے کال اٹینڈ کرنا چھوڑ دی ہے ۔ ایک وجہ ذہن میں آئی اسی کو سامنے رکھ کر آڈیو کال ملائی ، کال ملتے ہی اپنے دکھ درد چھیڑ دیئے ، اپنی پریشانیوں کا دردناک نقشہ کھینچا، اپنی مشکل زندگی کے بارے میں بتایا ، پھر دوست کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے ، دوست بھی خوش ہو گئی ، کچھ رہنما مشورے دیئے ، اب ان کی دوستی بحال ہو چکی ہے ۔ یہ واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ دوست کی خوشی میں خوش ہونا کس قدر مشکل ہوتا ہے ۔ اپنی کامیابیاں اور خوشیاں سوچے سمجھے بغیر ہر ایک کو نہیں بتانا چاہیئں ۔ 
خوشبو کی بات چھڑی تو خوشبو کا استعمال لازمی قرار دے دیا ،گھر کے ماحول کو خوشبودار اور فریش بنانے کیلئے موتیا کے پھول گھر میں جگہ جگہ لگانا ، ایک دو پھول بالوں میں لگا لینا ، خوشبو کا یہ ہالہ نہ صرف اپنی طبیعت خوشگوار رکھتا ہے بلکہ ملنے ملانے والوں پر بھی اچھا تاثر پڑتاہے ۔ 
 میری رائے میں ہر نئے شادی شدہ جوڑے کو یہ کتاب ضرور پڑھنا چاہئے ۔ زندگی کو کیسے خوشگوار بنانا ہے ، کامیابی ایک دم سے نہیں ملتی ، اس کیلئے کس قدر محنت کی ضرورت ہے ، شوہر ، سسرال ، مائیکے ، رشتہ داروں ، بچوں ، بچوں کے سسرالیوں سے کیسے تعلقات بہتر رکھنے چاہیئں ، سب یہ کچھ اس کتاب میں موجود ہے ۔ یہ کتاب سرکارپبلشرز ملتان نے شائع کی ہے ، جس کے مالک روفی سرکار ہمارے بہت سے دوستوں کے مشترکہ دوست ہیں انہیں کہہ کر بھی کتاب منگوائی جا سکتی ہے ۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !