مجھے ہمیشہ سے تخلیق کاروں کے اپنے لکھے دیباچہ/پیش لفظ اور مقدمے پسند رہے ہیں اور بڑے شوق سے ان کا مطالعہ بھی کرتا ہوں۔ان دنوں ڈاکٹر صنوبر الطاف کی نثری نظموں کی کتاب(کائنات کے بیک یارڈ سے) زیر مطالعہ رہی تو مجھے جہاں ان کی نظموں کی مجموعی فضا نے مسحور کیئے رکھا وہاں ان کا لکھا دیباچہ بھی فکر و نظر کے دریچہ وا کرتا دکھائی دیا۔اس دیباچے کا
متن مع اسلوب نثری نظم جیسا تخلیقی، علامتی اور تاثراتی ہے۔ الفاظ سادہ، گہرے اور تخلیقی رچاؤ سے معمور۔ان کے فقرے جیسا کہ "لفظ کا احساس اپنے ساتھ لے کر جنمی تھی"، "وہ جو نظم ہونے سے رہ گیا" نثر میں شاعری کا رنگ بھرتے نظر آتے ہیں۔ دیباچے میں لوریوں، لوک گیتوں اور دھیمی گنگناہٹ کا ذکر زبان کی صوتیاتی خوبصورتی اور اس کے لاشعوری اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔صنوبر نے اپنے تخلیقی سفر کو بچپن کی یادوں، ماں کی دھیمی گنگناہٹ اور بڑی بہن کی لوریوں سے جوڑا ہے۔ یہ فرائیڈ کے اس نظریے کی عکاسی کرتا ہے جب انسان کی تخلیقی اور لاشعوری شخصیت کی بنیادیں بچپن کے ابتدائی تجربات میں رکھی جاتی ہیں۔
محبت کے جذبے کے ساتھ جڑے خوف، پشیمانی اور مایوسی کا اعتراف انسانی نفسیات کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ محبت جہاں سرشاری لاتی ہے وہاں ایک مسلسل خوف اور اضطراب بھی پیدا کرتی ہے جسے ڈاکٹر صنوبر ایک "مسلسل نبرد آزمائی" کہتی ہیں۔
تنہائی کے ساتھ محبت اور عدم محبت کا رشتہ کسی اَن بیان ایبل نفسیاتی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ تنہائی ان کے لیے اذیت ناک بھی ہے اور تخلیق کا ذریعہ بھی جس سے وہ دوستی نبھاتی ہیں۔
دیباچے میں شعورِ ذات کی سیڑھیاں چڑھنے اور اپنی ذات کی دریافت کا ذکر وجودی فلسفے کے اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ "محبت نے مجھے دریافت کیا ہے، بنایا ہے، سنوارا ہے" یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان اپنے وجود اور معنی کی تلاش بیرونی دنیا کے بجائے داخلی تجربات اور رشتوں کے ادراک سے کرتا ہے۔
دیباچے کا عنوان "وہ جو نظم ہونے سے رہ گیا" بذاتِ خود ایک گہرا فلسفیانہ تصور ہے۔ یہ اس ادھورے پن، ان کہی باتوں اور مابعد الطبیعاتی احساسات کی طرف اشارہ ہے جو زبان اور الفاظ کے سانچے میں ڈھلنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔
صنوبر نے عورت اور مرد کے طرزِ احساس اور کائنات کو دیکھنے کے زاویے میں ایک واضح تانیثی فرق قائم کیا ہے۔ ان کے مطابق مرد کے پاس تو صرف ایک آنکھ ہوتی ہے جو باہر کی دنیا کو بجی بہت سرسری دکھ پاتی ہے کیوں کہ وہ آس پاس کے مقاصد میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔جب کہ عورت اپنے اردگرد کو اندر اور باہر دونوں آنکھوں سے دیکھتی ہے۔خوشی اس بات کی ہے کہ اس دیباچے میں عورت کو بہادر، عقل مند، مضبوط اور گہری شخصیت کے طور پر ابھارا گیا ہے ورنہ ہمارے ہاں بالعموم عورت کی مظلومیت پر بات ہوتی ہے۔یہاں عورت کو ایک باشعور، حساس اور کائنات کے مظاہر (چرند پرند کی بولیاں، موسموں کی آمد و رفت) سے ہم آہنگ ہستی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ عورت صرف چار دیواری کی اسیر نہیں، وہ اپنی ذات کے اندر ایک پوری کائنات بسا لینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
صنوبر نے اپنے خیالات کو منطقی تسلسل کے ساتھ جوڑا ہے۔ اگرچہ متن جذباتی اور تخلیقی ہے تاہم اس میں دلیل موجود ہے۔
محبت کے بارے میں شاعرہ کا استدلال روایتی رومانیت سے ہٹ کر ہے وہ ایک طرف محبت کو زندگی کا سب سے قیمتی اور تعمیری تجربہ مانتی ہیں تو دوسری جانب منطقی طور پر یہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ ہر فیصلہ اپنے ساتھ خوشی کے ساتھ غم اور خوف بھی لاتا ہے۔ یہ منطقی توازن جذبے کو اندھا ہونے سے بچاتا ہے اور حقیقت پسندی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
صنوبر الطاف کا یہ دیباچہ ایک تخلیق کار عورت کا اعترافِ ذات ہے جہاں ادب، نفسیات، فلسفہ اور نسوانی شعور مل کر ایک متوازن فکری دھارے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
