طارق نعیم صاحب کا زیرِ نظر شعری کلیات ان کے تین مجموعوں ( رکی ہوئی شاموں کی راہداریاں/ دیے میں جلتی رات/ وقت کا انتظار کون کرے) پر مشتمل ہے۔ یہ شاعری ایک ایسے فکری اور جمالیاتی تجربے کی نمائندگی کرتی ہے جہاں شاعر اپنے وجود کے توسّع، عصری لاسمتیت اور کائناتی حیرت کے ساتھ مسلسل مکالمہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے ہاں لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں بل کہ ایک وجودی تجربہ ہے۔
چنانچہ ان کی شاعری قاری کو معنی ہائے گونا گوں کی لذت سے ہی آشنا نہیں کرتی بل کہ ایک ایسی ذہنی کیفیت میں بھی داخل کرتی ہے جہاں انسان خود اپنی ذات، وقت، دنیا اور حقیقت کے بارے میں نئے سوالات اٹھانے لگتا ہے۔ ان کے ہاں ایک ایسے مربوط و مضبوط داخلی/باطنی نظام کی تشکیلیت کا جا بجا احساس ہوتا ہے جس کے تحت وہ ذات و کائنات میں پھیلے ہوئے خلا، خاموشی، خوف، یاد، انتشار، تنہائی اور حیرت کو عمدہ شعری پیرائے میں بیان کرتے ہیں اور اس سے نئی معنوی جہتیں برآمد کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک ایسا فرد سامنے آتا ہے جو دنیا میں موجود تو ہے مگر پوری طرح اس دنیا کا حصہ نہیں۔ وہ فرد مسلسل کسی دوسری سطحِ وجود کی تلاش میں ہے اور ایک وسیع کائناتی سلسلے کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مابعد الطبیعیاتی اور کائناتی حسیت کی رنگا رنگ کار فرمائی طارق نعیم صاحب کے شعری کینوس کا اہم تشکیلی عنصر ہے۔
ذیل میں ان کے کلیات سے نہایت مختصر سا شعری انتخاب:
میں اسے دیکھ کے آیا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں
شہر کا شہر مجھے دیکھنے آیا ہوا ہے
اک زمانے میں تو مَیں لفظ ہوا کرتا تھا
تنگئ جوئے معانی مری دیکھی ہوئی ہے
یہ کائنات صراحی تھی، جام آنکھیں تھیں
مواصلات کا پہلا نظام آنکھیں تھیں
وہ قافلہ کسی اندھے نگر سے آیا تھا
ہر ایک شخص کا تکیہ کلام آنکھیں تھیں
قفس سے خود ہی پرندہ رہا کیا میں نے
پھر اس کے بعد یہ سوچا کہ کیا کیا میں نے
بدن بغیر بھی کچھ دن ملیں کہ اب تو ہمیں
حدودِ جسم میں رہتے ہوئے زمانہ ہوا
ہم نے اک لفظ سے تاریخ بدل کر رکھ دی
کر کے دکھلایا کہ انکار سے ہوتا کیا ہے
سامانِ سفر کھول کے دیکھا تو کھلا ہے
عجلت میں اٹھا لایا ہوں غم اور کسی کا
بس یہی ایک خرابی ہے زمانے مجھ مِیں
دُور ہوتا ہوں کوئی جتنا قریں ہوتا ہے
تم اس قدر مِرے شعروں مِیں آنے لگ گئے ہو
مَیں رو پڑوں گا کسی دن غزل سُناتے ہُوئے
وہ رنگ دکھائے مری کوتاہ روی نے
میں جلسۂ عجلت میں بھی تاخیر سے آیا
عجب طرح کا اذیّت پسند ہے مِرا دوست
میں رو پڑا ہوں تو مجھ کو ہنسانے لگ گیا ہے
عمر بھر ایک عجب سیرِ زبونی مِیں رہے
خود کو مربوط نہ ترتیبِ زمانی سے کیا
کوئی نہیں ہے اگر ہم سفر تو کیا غم ہے
غبارِ راہ تو ہوتا ہے راہ گیر کے ساتھ
مجھ کو جینے کے نہ آداب بتاؤ لوگو
مَیں نے مَرنے کا بھی کردار نبھایا ہُوا ہے
آج مل ہی نہیں رہی دُنیا
کل تلک تو یہیں پڑی ہُوئی تھی
پتا چلا کوئی نام و نشاں رہے گا نہیں
مَیں عمر بھر یونہی نام و نشاں بناتا رہا
وہ جو اک بار اُٹھا لایا تھا مَیں عجلت مِیں
پھر وہی بار ہر اک بار اٹھانا تھا مجھے
اِتنا خاموش تھا وہ شخص کہ یُوں لگتا تھا
ایک پَل اور نہ بولے گا تو مَر جائے گا
آواز دے کے اُس نے مجھے دوسرا کِیا
ورنہ بس ایک ذات لیے پھر رَہا تھا مَیں
وحشت نے عجب حبس کِیا شہرِ ہَوا مِیں
گھر چھوڑ کے ہم سُوئے بیاباں نکل آئے
کھول دیتے ہیں پلٹ آنے پہ دروازۂ دل
آنے والے کا ارادہ نہیں دیکھا جاتا
اُس ایک لفظ کے معنی نہیں کُھلے ہیں ابھی
جو بے زبان پرندے کی آنکھ سے نکلا
پڑا ہوں کب سے بے صورت اسی حیرت سرا میں
تمھارے ہاتھ سے ایجاد ہونا چاہتا ہوں
میں اس کے ساتھ گلہ کر رہا تھا دنیا کا
خبر نہیں تھی کہ وہ بھی زمانے والا تھا
ایسے آباد ہوئے جاں کے پری خانے میں
رابطہ پھر نہ کسی زود گمانی سے کیا
مجھے گماں ہے کسی غار کے دہانے پر
یہ آسماں بھی کہیں مکڑیوں کا جالا نہ ہو
پلٹ کے دیکھ نہ لیتا اگر وہ جاتے ہوئے
تو میرا جان سے جانا بھی رائگاں گیا تھا
تم آئے تھے تو مجھے مل کے ہی چلے جاتے
یہیں زمین پہ تھا اور میں کہاں گیا تھا
ہمارے عشق کا قصہ عجیب قصہ تھا
بس اک مقام سے آگے چلا نہ ختم ہوا
بن رہا ہے مجسمہ میرا
اور کچھ دن ابھی چٹان میں ہوں
عجب خراب سی عادت پڑی ہوئی ہے اُسے
جہاں وہ ہوتا نہیں ہے وہاں بتاتا ہے
یہ قصہ گو تو بہت بات کو بدلتے ہیں
میں آپ اپنی کہانی سنا کے جاؤں گا
دھیان دے اس طرف بھی کوزہ گر
دیکھ میں بھی تری دکان میں ہوں
خاک ہو کے یہاں سے نکلوں گا
اس لیے تیرے خاک دان میں ہوں
تو کہیں اور ڈھونڈتا ہے مجھے
میں کسی اور ہی جہان میں ہوں
غضب تو یہ ہے وہاں اور کوئی تھا ہی نہیں
جب ایک عہد مرے اس کے درمیاں ہوا تھا
مرے چراغ کو حاجت نہیں کسی لو کی
میں اس کو ہاتھ لگاؤں گا اور جل پڑے گا
تیری تصویر مل گئی ہے مجھے
آئنے میں کہیں پڑی ہوئی تھی
ہم سے کیا پوچھتے ہو، اب تو ہمارے بچے
آسمانوں سے بھی آگے کا بتا دیتے ہیں
مجھ کو اک کام سے جانا ہے یہاں سے آگے
یوں ہی کچھ دیر کو بس کارِ جہاں دیکھیے گا
دیکھیے راستہ دیتا ہے کسے یہ دریا
آپ بھی رکھیے قدم، ہم بھی قدم رکھتے ہیں
تم نہیں جانتے، میں ہم سفراں! جانتا ہوں
چھوڑ جائے گا مجھے کون کہاں، جانتا ہوں
کھڑا ہوا ہوں تری گھومتی زمین پہ میں
مری جگہ کوئی ہوتا تو لڑکھڑا جاتا
پوشیدہ کسی ذات میں پہلے بھی کہیں تھا
میں ارض و سماوات میں پہلے بھی کہیں تھا
آگے نکل چکا تھا بہت آسمان سے
تیری صدا پہ لوٹ کے آنا پڑا مجھے
اس اوج سے دیکھے گا وہ کیا میرے شب و روز
پاتال میں رہتا ہوں تو پاتال میں آئے
اس جہاں آفریں کے پاس ابھی
کیسے کیسے جہاں پڑے ہیں مرے
اس رات کسی اور قلمرو میں کہیں تھا
تم آئے تو میں اپنے بدن ہی میں نہیں تھا
زمانے والو مری بات کو ذرا سمجھو
مجھے یہ بات بھی کہتے ہوئے زمانہ ہوا
یہ راہ عاشقاں ہے دیکھیے گا
یہاں اک ایک دیوانہ پڑا ہے
سنائی دیتا تھا لوگوں کو اِس قدر کہ مجھے
تمام عمر اشاروں میں بات کرنی پڑی
دم بخود تھی جب سوالِ زندگی پر کائنات
ایک دروازے کے کھلنے کی صدا آئی تو تھی
خاک سے عہد کیا اور نہ پانی سے کِیا
میں نے آغازِ سفر نقل مکانی سے کِیا
کسی نے آج ہی ترتیب بدلی ہے جہاں کی
کہاں کا آسماں دیکھو کہاں رکھا ہوا ہے
اک روز تو میں ایسی بلندی پہ تھا جہاں
سورج کا نام تک بھی کوئی جانتا نہ تھا
میں اندر سے کہیں ٹوٹا ہوا ہوں
مجھے باہر سے جوڑا جا رہا ہے
آنکھ سے آسمان جاتا ہے
میں توجّہ ہٹا نہیں سکتا
