اخبارات۔۔۔ واجد امیر

  جب ہم نے ہوش سنبھالا اور کچھ پڑھنا سیکھا تو سب سے پہلے تو گھر میں اخبار پڑھنا شروع کیا اُس زمانے میں ہمارے گھر میں امروز آیا کرتاتھا پھر کینٹین سے بھی اخبار گھر آجاتےتھے یہی چنیز لنچ ہوم کا بھی تھاوہاں سے رات گئے سب اخبار گھر آجاتےتھے اُ س زمانے کے معروف اخبار ، مشرق ، امروز ، نوائے وقت ، ندائے ملت اور جنگ تھے اور بھی اخبار تھے مگر اب یاد نہیں اُس زمانے کے اخبارات میں جو ہمیں یاد رہ گئے مشرق ، امروز، نوائے وقت ، مساوات ندائے ملت وغیرہ تھے مساوات پیپلز پارٹی کا اخبار تھا ستر کی دہائی میں سامنے آیا اور بھٹو دور میں عروج پایا یاد رہے اُسؤ زمانے میں جنگ اخبار دوپہر دوبجے لاہور آتاتھا کہ تب جنگ کراچی کہلاتاتھا البتہ مشرق اخبار بہت مشہور تھا اس میں سنڈے فیچر بہت مقبول تھا سنسنی خیزی میں بے مثال تھا اعجاز بٹالوی نامی فیچر رائٹر تھے جن کے فیچر نہایت شوق سے پڑھے جاتےتھے جو بعد ازاں ڈرامے بھی لکھتے رہے ہمیں بھی مشرق پسند تھا مگر اباجی کو امروز ہی پسند تھا جبکہ ہمیں یہ اخبار ناپسند رہا ویسے اباجی اور سارا گھر مذہبی تھااور امروز لیفٹسٹ تھا پھر اباجی کو نوائے وقت کا شوق چرایا اور یہ اخبار ہمارے گھر آنے لگا اور ہم پہ گھریلو مذہبی ماحول اور نوائے وقت کا ملی و مذہبی خمار چڑھنے لگا جو بعد ازاں خود مطالعہ کرنے سے اُترا۔نوائے وقت میں سرِ راہے کے نام سے وقار انبالوی کا مستقل گوشہ تھا جو معلوماتی اور دلچسپ تھا یہ ضرور پڑھا جاتا پھر سب سےاہم جناب عطالحق قاسمی کا کالم پڑھا جاتا قاسمی صاحب کے شگفتہ اور گاہے گاہے طنز و مزاح کے نشتر چبھوتا کالم پڑھ پڑھ کے مختلف پیرائے سے اپنا مافی ضمیر بیان کرنے کی سمجھ آتی گئی قاسمی صاحب نے ایم اے او کالج کے باہر راؤنڈ اباؤٹ (گول چکر ) کو ختم کرنے اوراس کے کچھ عرصے بعد واپس بنا دینے پہ بھی کالم لکھا تھا گول چکر کی واپسی ،اپنے ویسپا اسکوٹر ، پاک ٹی ہاؤس میں ادیبوں شاعروں پہ اُن کی عادات پہ ہلکے پھلکے انداز میں جملے کسنا دلچسپ تھا 1979 میں ہمارے تایا اور پاک ٹی ہاؤس کے مالک سراج الدین احمد کے اچانک اور ناگہانی انتقال پہ کالم لکھا خوشبو کا سفر نوائے وقت جب قاسمی صاحب نے چھوڑا تب ہمیں بہت بُر الگا اور اس کا ذکر بھی اُن سے کی ااوراُنہوں نے نہایت فراخدلی سے اس کی وجوہات بھی بتائیں مگر ہم پر تو مذہبی اور جہادی لٹریچر سوار تھا پھر افغان وار کے بعد افغانستان میں ملائیت اور انتہاپسندی کے پے بہ پے واقعات نے ہمیں نوائے وقت سے متنفر کر دیا جس کے اندرونی صفحہ پہ جلی حروف میں لکھا تھا ،، افغان باقی کہسار باقی،، سو ہمیں جنگ میں جھونکنے والے امریکہ نے ہمیں انتہا پسندی کی آگ میں جلتا چھوڑ کے اپنے گھر کی راہ لی روس اپنے زخم چاٹتا رہا ہماری اسٹیبلشمنٹ نے پیسہ کمایا اور ملک سے باہر جاکے چھپایا اپنے بچوں کا مستقبل روشن کرکے ملک کے لاکھوں بچوں کو تاریکیوں میں دھکیل دیا
                 یوں سمجھیے ہمارے بچپن لڑکپن اورجوانی میں اخبارات کی مثال ایسی ہی تھی جیسی اب موبائل کی ہے جس تھوڑ بہت پڑھنا جانتاتھا وہ اخبار ضرور پڑھتا تھا گرم حمام ، حجام ، ریستوران، یاکسی پرچون والے کے پاس بھی اگر اخبار ہوتاتو سڑک پہ کھڑےکھڑے پڑھا جاتا اورجہاں جہاںاخباربیچنے والوں کی ایجنسیاں یا دکانیں ہوتیں وہاں اخبار پڑھنےوالوںکےٹھٹ لگے ہوتے صبح سویرے نمازی اور دوسرے لوگ ان دکانوں پہ کھڑے نظر آتے کرشن نگر میں آخری اسٹاپ اور اسلام پورہ میں یہ دکانیں تھیںجہاں اخبار معلق ہوتے ترپال والے شیڈ سے ۔اُسی زمانے میں رسائل کی بہتات ہوتی تھی خواتین حور ، زیب النسا، بچے ،نونہال ، بچوں کی دُنیا وغیرہ پڑھتے تھے
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !