ہر بار نتیجہ ایک ہی نکلتا۔ اکیلا چوہا اس نشے والے پانی کا دیوانہ ہو جاتا، وہ اسے بار بار پیتا اور آخر کار نشے کی زیادتی (Overdose) سے مر جاتا۔ سائنسدانوں نے دنیا کو بتایا۔۔۔"دیکھو! منشیات اتنی طاقتور ہیں کہ جو بھی انہیں چکھے گا، وہ اس کا غلام بن کر جان دے دے گا۔"
لیکن کینیڈا کے ایک ماہرِ نفسیات بروس الیگزینڈر (Bruce Alexander)نے اس تجربے میں ایک بہت بڑی خامی نوٹ کی۔ اس نے سوچا کہ یہ چوہا ایک تنگ اور تاریک پنجرے میں بالکل تنہا ہے۔ اس کے پاس پانی پینے کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں ہے۔ کیا ہوگا اگر ہم اس چوہے کا ماحول بدل دیں؟
بروس نے ایک نیا اور حیرت انگیز تجربہ کیا جسے آج دنیا "ریٹ پارک" (Rat Park - چوہوں کا پارک) کے نام سے جانتی ہے۔
اس نے ایک بہت بڑا، خوبصورت اور کھلا پنجرہ بنایا۔ اس میں چوہوں کے کھیلنے کے لیے سرنگیں، پہیے، رنگ برنگی گیندیں اور بہترین کھانا رکھا۔ سب سے بڑھ کر، اس نے اس پارک میں بہت سارے نر اور مادہ چوہوں کو ایک ساتھ چھوڑ دیا تاکہ وہ دوستیاں کر سکیں، کھیل سکیں اور ایک خوشگوار زندگی گزار سکیں۔
اب بروس نے اس "ریٹ پارک" میں بھی پانی کی وہی دو بوتلیں رکھ دیں (ایک سادہ، ایک نشے والی)۔ اور پھر جو نتیجہ آیا، اس نے پوری میڈیکل سائنس کو ہلا کر رکھ دیا!
اس پرسکون اور خوشگوار ماحول میں چوہوں نے نشے والے پانی کو چکھا ضرور، لیکن انہیں وہ پسند نہیں آیا۔ انہوں نے اسے پینا چھوڑ دیا اور صرف سادہ پانی پینے لگے۔ ریٹ پارک کے کسی ایک چوہے کو بھی نشے کی لت نہیں لگی، اور کوئی ایک چوہا بھی اوور ڈوز سے نہیں مرا!
اس تجربے نے ایک صدیوں پرانا نظریہ توڑ دیا اور ثابت کیا کہ۔۔۔"نشہ اور لت صرف کسی کیمیکل کی طاقت کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے ماحول، تنہائی اور درد سے فرار کا نتیجہ ہے۔"
اس کی سب سے بڑی اور زندہ مثال ویتنام کی جنگ تھی۔ جنگ کے دوران ہزاروں امریکی فوجی شدید خوف اور دباؤ سے بچنے کے لیے ہیروئن کا نشہ کرنے لگے تھے۔ امریکی حکومت شدید خوفزدہ تھی کہ جب یہ لاکھوں نشے کے عادی فوجی واپس امریکہ آئیں گے، تو سڑکوں پر تباہی مچ جائے گی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، جنگ ختم ہونے کے بعد جب وہ فوجی اپنے گھروں، بیوی بچوں اور پرسکون ماحول میں واپس آئے، تو ان میں سے 95 فیصد فوجیوں نے بغیر کسی علاج کے خود ہی نشہ چھوڑ دیا! کیونکہ اب وہ ایک خوفناک پنجرے سے نکل کر اپنے 'ریٹ پارک' میں آ چکے تھے۔
یہ اصول صرف منشیات تک محدود نہیں، بلکہ آج کے جدید دور کی ہر لت (Addiction) پر لاگو ہوتا ہے۔۔۔
ہم گھنٹوں ٹک ٹاک، فیس بک یا انسٹاگرام پر کیوں سکرول کرتے ہیں؟ کیونکہ ہماری اصل زندگی کا پنجرہ اکثر خالی ہوتا ہے۔ ہمارے پاس حقیقی دوست، بامقصد مشاغل اور دل کی بات سننے والے لوگ نہیں ہوتے، اس لیے ہم سکرین کے ورچوئل نشے میں سکون ڈھونڈتے ہیں۔
جنک فوڈ اور بری عادتیں۔۔۔ جب انسان اندر سے ناخوش یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، تو وہ وقتی سکون کے لیے میٹھی اور غیر صحت بخش چیزوں پر ٹوٹ پڑتا ہے۔
مشہور برطانوی صحافی جوہان ہری (Johann Hari) نے اس تجربے کا نچوڑ ایک انتہائی شاندار جملے میں بیان کیا ہے
"نشے کا الٹ 'پرہیز' (Sobriety) نہیں ہے، بلکہ نشے کا الٹ 'رابطہ اور تعلق' (Connection) ہے۔"
اگر آپ خود کی یا اپنے کسی پیارے کی کوئی بھی بری عادت (چاہے وہ سکرین کی لت ہو، سگریٹ نوشی ہو یا وقت کا ضیاع) ختم کرنا چاہتے ہیں، تو صرف اس عادت کو برا بھلا کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس کے اردگرد کا ماحول دیکھیں۔ اس کی زندگی کا "پنجرہ" خالی ہے۔ اسے ڈانٹنے کے بجائے اس کی زندگی میں حقیقی خوشی، بامقصد سرگرمیاں اور سچے رشتوں کا 'ریٹ پارک' بنا کر دیں۔ جب زندگی اندر سے پرسکون اور خوبصورت ہو، تو انسان کو کسی بھی قسم کے نشے یا شارٹ کٹ کی ضرورت نہیں رہتی!
