زیگارنک ایفیکٹ۔۔۔۔ خالد عثمان

1920 کی دہائی میں، روسی ماہرِ نفسیات بلوما زیگارنک (Bluma Zeigarnik) ویانا کے ایک مصروف ریستوران میں بیٹھی تھیں۔ انہوں نے ایک حیرت انگیز بات نوٹ کی کہ وہاں کے ویٹر بغیر کچھ لکھے، درجنوں گاہکوں کے لمبے اور پیچیدہ آرڈر بالکل درست یاد رکھ لیتے تھے۔ لیکن جیسے ہی کوئی گاہک کھانا کھا کر بل ادا کرتا، ویٹر وہ سارا آرڈر فوراً بھول جاتے۔ اگر کوئی گاہک کچھ دیر بعد واپس آ کر اپنے آرڈر کے بارے میں پوچھتا، تو ویٹر کو بمشکل ہی کچھ یاد ہوتا تھا۔ اس دلچسپ مشاہدے نے بلوما کو ایک زبردست تحقیق کی جانب راغب کیا، جس نے انسانی ذہن کے ایک انوکھے فریب کو بے نقاب کیا۔ اسے آج نفسیات کی دنیا میں "زیگارنک ایفیکٹ" (Zeigarnik Effect) کہا جاتا ہے۔
یہ اصول بتاتا ہے کہ ہمارا دماغ ان کاموں کو بہت شدت سے یاد رکھتا ہے جو ابھی ادھورے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی کام مکمل ہو جاتا ہے، دماغ اسے اپنی یادداشت سے مٹا دیتا ہے تاکہ نئی چیزوں کے لیے جگہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم کوئی کام بیچ میں چھوڑ دیتے ہیں، تو وہ ہمارے ذہن پر بوجھ بن کر سوار رہتا ہے اور ہمیں بے سکون رکھتا ہے۔ چاہے وہ کوئی نامکمل پروجیکٹ ہو، کسی بات کا ادھورا جواب ہو، یا زندگی کا کوئی ان سلجھا رشتہ—یہ ادھورے کام ہمارے ذہن کے پس منظر میں بالکل ویسے ہی چلتے رہتے ہیں جیسے موبائل فون میں کھلی ہوئی درجنوں ایپس جو خاموشی سے بیٹری ختم کر رہی ہوتی ہیں۔
ہم اکثر زندگی میں کامیابیاں سمیٹنے اور نئے مقاصد طے کرنے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں، لیکن اپنے نامکمل کاموں اور الجھنوں کو شعوری طور پر ختم کرنے (Unlearn) کی عادت نہیں بناتے۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ یہ ادھورے باب ہماری ذہنی توانائی کو کس طرح دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ اگر آپ اپنے ذہن کو پرسکون اور اہداف کی طرف مکمل فوکس رکھنا چاہتے ہیں، تو اس کا ایک ہی آزمودہ حل ہے۔اپنے ادھورے کاموں کو یا تو مکمل کر لیں، یا پھر ایک حتمی فیصلہ کر کے انہیں ہمیشہ کے لیے ترک کر دیں۔ جب تک آپ ذہن میں کھلی ان پرانی فائلوں کو بند نہیں کریں گے، آپ کا دماغ نئے سفر پر پوری توانائی کے ساتھ کبھی نہیں نکل پائے گا۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !