برطانوی وزیراعظم کا استعفیٰ۔۔۔ عارف انیس

آج صبح ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر کھڑے صحافیوں کے چہرے دیکھ کر مجھے وہ منظر یاد آ گیا جو پچھلے گیارہ سال میں اِس قوم نے پانچ بار دیکھا ہے۔ ایک اور وزیراعظم، اپنے سیاسی جنازے کے ساتھ، اُس کالے دروازے سے نکلنے کو تیار ہے. 

کیئر اسٹارمر آج اپنی رخصتی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ ابھی تک رسمی الفاظ ادا نہیں ہوئے، مگر آبزرور، ٹائم، نیوز ویک، سب ایک ہی خبر دے رہے ہیں۔ اور حد یہ ہوئی کہ اعلان سب سے پہلے کسی برطانوی نے نہیں، خود ٹرمپ نے کیا، جس نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اسٹارمر مستعفی ہو جائے گا۔ ایک امریکی صدر کا برطانوی وزیراعظم کی رخصتی کا اعلان کرنا، اِس سے بڑی سفارتی توہین کا تصور مشکل ہے۔ مگر یہی آج کے برطانیہ کا حال ہے۔

پچھلے کچھ تجزیوں، میں، میں مسلسل کہتا رہا کہ اسٹارمر کا جانا اب وقت کی بات ہے۔ جولائی 2024 میں جب وہ ایک سو بہتر نشستوں کی تاریخی اکثریت سے جیتا تھا، تب بھی میں نے ایک محفل میں کہا تھا کہ یہ اکثریت دھوکا ہے۔ یہ محبت کا ووٹ نہیں، نفرت کا ووٹ ہے، ٹوریوں سے نفرت کا۔ اور جو حکومت محبت کے بجائے نفرت پر کھڑی ہو، وہ زیادہ دیر نہیں چلتی۔

یہ صرف اندازہ نہیں تھا۔ اِسی فروری میں مجھے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک نشست کا موقع ملا۔ وہاں جو کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ کسی پولنگ سے زیادہ بلند آواز میں بول رہا تھا۔ ایوان کی راہداریوں میں اسٹارمر کی قیادت ایسے پگھل رہی تھی جیسے دھوپ میں موم۔ لیبر کے اپنے ارکان ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے۔ کسی کے چہرے پر وہ یقین نہیں تھا جو ایک جیتی ہوئی جماعت کے ارکان کے چہرے پر ہوتا ہے۔ ایک سینیئر رکن نے مجھ سے کہا تھا، یہ آدمی مقدمہ تو جیت سکتا ہے، دل نہیں جیت سکتا۔ وہ ایک بہترین وکیل ہے، مگر وکیل اور لیڈر میں فرق ہوتا ہے۔ اُس دن میں سمجھ گیا تھا کہ گنتی شروع ہو چکی ہے۔

اب ذرا سٹارمر کی کہانی پر نظر ڈالیے، کیونکہ یہ سمجھے بغیر اُس کا زوال سمجھ نہیں آتا۔

کیئر اسٹارمر کوئی پیدائشی اشرافیہ نہیں۔ اُس کا باپ راڈنی ایک فیکٹری میں اوزار ساز تھا، ٹول میکر۔ ماں جوزیفین نرس تھی، جو ساری زندگی ایک نایاب اور تکلیف دہ بیماری، اسٹِلز ڈیزیز، سے لڑتی رہی۔ کیئر نے اپنا بچپن ماں کو ہسپتالوں میں آتے جاتے دیکھتے گزارا، اور باپ کو ہمیشہ اُس کے بستر کے ساتھ کھڑے پایا۔ اُس کا نام لیبر پارٹی کے پہلے پارلیمانی لیڈر، کیئر ہارڈی، کے نام پر رکھا گیا۔ یعنی یہ بچہ گویا پیدائش سے ہی لیبر کا تھا۔

وہ اپنے خاندان کا پہلا فرد تھا جس نے یونیورسٹی کی ڈگری لی۔ لیڈز سے قانون پڑھا، آکسفرڈ گیا، اور پھر ایک ایسا وکیل بنا جس نے سزائے موت کے قیدیوں کے مقدمے مفت لڑے، شیل اور میکڈانلڈز جیسی کمپنیوں کے خلاف عام آدمی کے لیے کھڑا ہوا، اور شمالی آئرلینڈ کے امن معاہدے کے بعد پولیس بورڈ بنانے میں مدد دی۔ پھر وہ ملک کا سب سے بڑا سرکاری وکیل بنا، ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشنز، اور 2014 میں اُسے نائٹ ہڈ ملا۔ وہ اپنے ماں باپ کو بکنگھم پیلس لے کر گیا، اور سنا ہے گھر کا کتا بھی ساتھ لے گیا۔

یہ ایک خوبصورت کہانی ہے۔ مگر اِسی کہانی میں اُس کے زوال کا بیج بھی چھپا ہے۔

دوستو، وکیل اور لیڈر دو الگ مخلوق ہیں۔ وکیل کا کام ثبوت اکٹھا کرنا، نکتہ نکالنا، اور مقدمہ جیتنا ہے۔ لیڈر کا کام خواب دکھانا، دل جیتنا، اور قوم کو ایک سمت دینا ہے۔ اسٹارمر ساری زندگی وکیل رہا، اور وزیراعظم بن کر بھی وکیل ہی رہا۔ وہ ہر سوال کا محتاط، ناپا تلا جواب دیتا تھا۔ ہر بیان پہلے سے جانچتا تھا۔ مگر قوم کو وکیل نہیں چاہیے تھا، قوم کو ایک ایسا آدمی چاہیے تھا جو اُن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کہے کہ میں جانتا ہوں تم کہاں دکھتے ہو، اور میں اُسے ٹھیک کروں گا۔ یہ وہ نہیں کر سکا۔

اور پھر غلطیاں۔ ایک کے بعد ایک۔ سب سے بڑی، پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں سفیر مقرر کرنا، وہ شخص جس کے روابط بدنامِ زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے نکلے۔ جب فائلیں کھلیں تو اسٹارمر کو اُسے برطرف کرنا پڑا، مگر داغ لگ چکا تھا۔ پھر مہنگائی، کمزور معیشت، اور وہ مسلسل یو ٹرن جنہوں نے اُس کی ساکھ کو ایک ایسے آدمی میں بدل دیا جسے خود معلوم نہیں کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔ اُس کے اپنے ووٹر، جو بائیں بازو سے تھے، غزہ پر اُس کے مؤقف اور فلاحی کٹوتیوں سے ناراض ہو کر گرین پارٹی کی طرف چلے گئے۔ اور دائیں طرف، نائجل فاراج کی ریفارم پارٹی نے امیگریشن کے نام پر اُس کی زمین کھینچ لی۔

اعداد و شمار دیکھیے۔ مئی 2026 کے بلدیاتی انتخابات میں لیبر نے گیارہ سو سے زائد کونسل نشستیں گنوائیں، جبکہ فاراج کی ریفارم نے چودہ سو پچاس سے زائد جیت لیں۔ اسٹارمر کی اپنی مقبولیت منفی چھیالیس تک گر گئی۔ پچانوے سے زائد لیبر ارکانِ پارلیمنٹ نے اُسے رخصت ہونے کا کہا۔ کابینہ کے وزیر مستعفی ہونے لگے۔ گیارہ جون کو دفاعی بجٹ کے جھگڑے پر وزیرِ دفاع تک چھوڑ گیا۔ اور اٹھارہ جون کو اینڈی برنھم نے میکرفیلڈ کا ضمنی انتخاب چون فیصد ووٹوں سے جیت کر پارلیمنٹ میں واپسی کی، جو دراصل اسٹارمر کے تابوت میں آخری کیل تھی۔

اب سوال یہ ہے کہ اگلا کون۔ تین نام سب سے آگے ہیں۔

پہلا، اور سب سے مضبوط، اینڈی برنھم۔ گریٹر مانچسٹر کا میئر، جسے برطانوی میڈیا "کنگ آف دی نارتھ" کہتا ہے۔ ایک ٹیلیفون انجینئر کا بیٹا، کیمبرج سے پڑھا، نرم بائیں بازو کا سوشلسٹ۔ عوامی مقبولیت میں وہ اسٹارمر سے میلوں آگے ہے، پچیس فیصد کے مقابلے میں بارہ فیصد۔ گزشتہ دس برس میں برنھم سے کئی ملاقاتیں رہیں اور اس میں دم ہے، مگر اُس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ابھی ابھی پارلیمنٹ میں واپس آیا ہے، اور قیادت کی دوڑ آسان نہیں ہوتی۔

دوسرا، ویس سٹریٹنگ۔ سابق وزیرِ صحت، جو مئی میں اسٹارمر پر کھل کر تنقید کر کے مستعفی ہوا۔ پارٹی کے دائیں بازو کا نمائندہ، تیز، مہتواکانکشی۔ مگر اُس کا مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی کے عام ارکان اُسے پسند نہیں کرتے، اور برنھم کے حامی اُس کے راستے میں کھڑے ہیں۔

تیسرا، اور یہ نام پاکستانی کان کے لیے دلچسپ ہے، شبانہ محمود۔ موجودہ وزیرِ داخلہ، برمنگھم سے، پاکستانی نژاد، کشمیری پس منظر۔ ایک سخت گیر منتظم جو امیگریشن پر سخت مؤقف رکھتی ہے۔ وہ بھی اُن وزرا میں شامل تھی جنہوں نے اسٹارمر کو رخصتی کا کہا۔ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مسلمان، پہلی پاکستانی نژاد وزیراعظم بن سکتی ہے۔ مگر فی الحال وہ تیسرے نمبر پر ہیں۔

اور اب اصل بات کی طرف چلتے ہیں. 

برطانیہ 2015 سے وزرائے اعظم کا قبرستان بن چکا ہے۔ گنتی کیجیے۔ ڈیوڈ کیمرون، تھریسا مے، بورس جانسن، لِز ٹرس، رشی سونک، اور اب کیئر اسٹارمر۔ گیارہ سال میں چھ وزیراعظم۔ لِز ٹرس تو صرف انچاس دن چلی، اتنے دن جتنے ایک سلاد کے خراب ہونے میں لگتے ہیں۔

میں ہر سال دنیا کے درجنوں ممالک میں سمٹس اور کانفرنسز میں بولنے جاتا ہوں۔ اور جہاں بھی جاتا ہوں، چاہے الماتی ہو یا بیونس آئرس، نیویارک ہو یا نیروبی، لوگ مجھ سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں۔ عارف، برطانیہ کو کیا ہو گیا؟ یہ وہ ملک تھا جس کی پارلیمنٹ کو جمہوریت کی ماں کہا جاتا تھا، جس کی سیاسی استحکام کی دنیا مثال دیتی تھی۔ آج وہی ملک ہر اٹھارہ مہینے بعد ایک نیا وزیراعظم پیدا کرتا ہے اور پرانا دفنا دیتا ہے۔

میرا جواب ہمیشہ ایک ہوتا ہے۔ یہ قیادت کی ناکامی ہے۔ یہ اُس خلا کی کہانی ہے جو بریگزٹ کے بعد پیدا ہوا، جب ایک قوم نے ایک بڑا فیصلہ تو کر لیا مگر اُس کے بعد کا راستہ کسی کے پاس نہیں تھا۔ بریگزٹ کی دسویں سالگرہ پر کیے گئے ایک سروے میں پچپن فیصد برطانوی کہتے ہیں کہ یورپ سے نکلنے کا فیصلہ ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ مگر کوئی لیڈر یہ ماننے کو تیار نہیں، کیونکہ ماننے کے لیے جرات چاہیے، اور جرات اِس وقت برطانوی سیاست کی سب سے نایاب جنس ہے۔

اور یہی فرق ہے۔ ایک طرف وہ معاشرے ہیں جو بحران سے سیکھ کر ادارے مضبوط کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ جو بحران میں صرف چہرے بدلتے ہیں، نظام نہیں۔ برطانیہ پچھلے گیارہ سال سے چہرے بدل رہا ہے۔ کیمرون گیا، مے آئی۔ مے گئی، جانسن آیا۔ جانسن گیا، ٹرس آئی۔ ٹرس گئی، سونک آیا۔ سونک گیا، اسٹارمر آیا۔ اور اب اسٹارمر بھی جا رہا ہے۔ مگر وہ بنیادی بیماری، وہ معاشی جمود، وہ ٹوٹتا ہوا انفراسٹرکچر، وہ عالمی اثر و رسوخ کا زوال، جوں کا توں موجود ہے۔ کیونکہ بیماری چہرے میں نہیں، نظام میں ہے۔

آج شام جب اسٹارمر اُس کالے دروازے سے نکلے گا، تو وہ اکیلا نہیں نکلے گا۔ اُس کے ساتھ ایک پوری قوم کا وہ سوال نکلے گا جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ کہ آخر اِس ملک کو ایک ایسا لیڈر کب ملے گا جو چہرہ نہیں، نظام بدلے۔ جو مقدمہ نہیں، دل جیتے۔ جو وقتی طوفان سے نہیں، آنے والی نسل سے ڈرے۔

وزرائے اعظم کی صف کا چھٹا جنازہ اٹھ رہا ہے،اور قبرستان ابھی بھرا نہیں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !