میں ان موضوعات کو ویسے بہت حساس موضوع سمجھتا ہوں، پھر بھی کچھ سمجھا تو سوچا کچھ لکھ ڈالوں، میری بیٹی اکثر کئی رویوں کا اظہار کرتی ہے، جو بظاہر، ضد کرنا، غصہ کرنا یا بات نہ ماننا لگتے ہیں، مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ بچوں کے یہ روئیے حقیقتا بالغ افراد کے رویوں جیسے نہیں ہوتے، حالانکہ انسانی اظہار میں وہ بالکل ویسے ہی ہوتے ہیں مگر حقیقتا ان کے پیچھے ان بچوں کی فہم عاقل و بالغ افراد کی طرح نہیں ہوتی ۔
جیسے چھوٹے بچے ہر وقت آپ کو کچھ ضد کرکے یا غصہ کرکے بتانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں اور ان کے ظاہری اظہار میں کبھی کبھی آپ کو لگتا ہے کہ وہ غیر مناسب رویہ اختیار کررہے ہیں۔ جیسے
@ اگر وہ بد تہذیبی یا تلخ روئیے سے بات کررہے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ تلخی ان کی طے شدہ ایک بالغ شخص کے تلخ روئیے جیسی ہے۔ بلکہ وہ بد تہذیبی نہیں کررہے ہوتے، اس وقت وہ اس حالت میں کسی فیصلے سے محروم یا اپنی بات کے اظہار سے محروم ہوتے ہیں۔
@ یا اگر بچے آپ کی بات نہیں سن رہے یا بات نہیں سمجھ رہے ہوتے تب ضروری نہیں ہے کہ وہ ایک بالغ انسان کی طرح طے کرکے بیٹھے ہیں کہ وہ آپ کو اس روئیے سے زک پہنچانا چاہتے ہیں، اس وقت وہ آپ کو نظر انداز نہیں کررہے ہوتے، بلکہ آپ کی بات کو سمجھنے یا ان لفظوں سے جو آپ نے ادا کیے ہیں ان سے اپنے عمل کا یا سمجھ کا دماغی طور پر تعلق جوڑنے کی سعی کررہے ہوتے ہیں۔
@ جب کبھی آپ کو لگتا ہے کہ چھوٹ بچے غصے کا اظہار کررہے ہیں
تب ضروری نہیں کہ وہ واقعی بالغ شخص کی طرح غصے کا اظہار کررہے ہوں بلکہ وہ اس وقت ممکن ہے کہ واقعی اپنی بات کی کوئی وجہ رکھتے ہیں۔ ممکن ہے اس لمحے وہ آپ کے جذباتی توجہ کے اظہار کا تقاضہ کررہے ہوں، انہیں اس لمحے آپ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
اپنے چھوٹے بچوں کے روئیے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
یہ بہت ضروری عمل ہے، ورنہ بچوں کے یہی روئیے ان کی مستقبل میں عادت بن جاتی ہے۔ وہ آپ کو اپنے معصوم رویوں سے ہی اپنی بات ہہنچانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں، جو بظاہر سخت روئیے محسوس ہوتے ہیں مگر انہیں ایک بالغ روئیے کا اظہار نہ سمجھا جائے۔
اک بات اور بتا دوں
میری پانچ سال کی بیٹی مجھ سے بہت سارے سوالات کرتی ہے، بہت سارے سوالات ،عام سے سوالات، سامنے رکھی چیزوں کے بارے میں، میرے ادا کئے گئے جملوں کے بارے میں، میری کسی حرکت پر سوال کرتی ہے، کبھی کبھی بہت سے لایعنی سوالات، میں ڈرائیونگ کررہا ہوں تو کبھی کبھی پچھلی سیٹ سے کندھا پکڑ کر سوال کرتی ہے، آس پاس سے گزرنے والی گاڑیوں کے بارے میں سوالات، ٹی وی دیکھتے ہوئے ٹی وی کے بارے میں، کارٹون دیکھتے ہوئے اپنے پسندیدہ کھلونوں کے بارے میں بہت سارے سوالات، کھانا کھاتے ہوئے، کہیں شاپنگ مال میں کسی چیز کو دیکھ کر بہت سارے سوالات، میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ اسے جواب دوں، مگر کبھی کبھی دوران ڈرائیونگ یا فون کال کے دوران میں اس کے سوالات سے جھنجھلا بھی جاتا ہوں ۔
مگر یہ بھی تو سوچنا ہوگا، کہ آج ہم ان بچوں کو اپنے روئیے کی سختی سے خاموش کروادیں گے، انہیں بہت سارے سوالات کے جواب دینے کے بجائے خاموش ہونے کا کہیں گے، ان کے عجیب سے سوالات سن کر غصہ کریں گے، ڈانٹ ڈپٹ کریں گے، یا خود خاموش ہوکر جواب نہیں دیں گے، تو یہی بچے ہم سے فاصلہ کرلیں گے، تب ہمارے کل آنے والے بڑھاپے میں یہ ہمیں ہمارے سوالات کے جواب میں بھی ایسی ہی سرد مہری دکھائیں گے۔ بچوں کے سارے معصوم و متجسس سوالات کے جواب دیں جس درجہ ممکن ہوسکے۔ انہیں بولنے دیں کہ انہوں نے کل بھی بہت بولنا ہے۔
بچے جب کوئی غلطی کریں تو ان پر شدید غصہ نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ بچے تو آئندہ بھی غلطی ہی کریں گے۔ درست و غلط کی تفریق یا کسی عمل سے کتنا بڑا نقصان ہوسکتا ہے اس کیفیت کا انہیں ابھی ادراک نہیں ہے، مگر آپ کے شدید غصے اور درشت روئیے سے یہ ضرور ہوگا کہ بچے اپنی خوداعتمادی اور فیصلے کی طاقت کھو دیں گے۔۔
@ یاد رکھیں کہ اگر ایسا آپ مسلسل کریں گے تو وہ آئندہ اپنے کسی بھی عمل سے پہلے ہی آپ کے غصے یا درشت روئیے کے احساس سے خوف زدہ رہیں گے، جو ان کی تخلیقی صلاحیت کی موت ہوگی، اور ان کی خود اعتمادی ختم ہو جائیگی ۔
@ غلطیاں تو انسان کے تجربے و مشاہدات کی اٹھان ہیں اور سیکھنے کے عمل کی پہلی سیڑھی ہے، جو بچوں کو حوصلہ دیتی ہے کہ انہیں کچھ غلطیوں کے بعد کچھ بہتر عمل کرنا ہے۔
@ میں چاہے اپنی بیٹی کے لئے کچھ بھی سیکھانے کے عمل میں مدد کروں، لیکن اس کی سیکھ کا سب سے بہتر و حوصلہ مند قدم اس کا اپنا فیصلہ اور اپنا عمل ہوگا، جس عمل کے کرنے سے وہ اپنی خود اعتمادی اور حوصلے تک پہنچے گی۔ اس لیے چھوٹے چھوٹے امور کے عمل میں انہیں ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ سے پرہیز کرنا چاہئے ان کے عمل کو دیکھیں مگر انہیں سختی سے مت روکیں۔ ان کے ہر عمل کی کوشش ان کے سیکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
@ ہاں جب بچے غلطیاں کرے تو انہیں محبت سے دوستوں کی طرح ایک باوقار لہجے میں جیسے آپ اپنے کسی اپنے ہم منصب شخص سے مخاطب ہوتے ہیں بالکل ویسے ان کو سمجھائیں، جس میں ان کی کمزوریوں کی نشاندھی سے زیادہ ان کی صلاحیتوں کا تذکرہ زیادہ ہو۔ کیونکہ اگر ان کی صلاحیتوں اور کاوشوں سے زیادہ آپ نے ان کی کمزوریوں اور غلطیوں کی نشاندھی پر زور رکھا تو وہ پشیمان ہونگے اور اپنی خود اعتمادی کھو بیٹھیں گے۔ ان کی صلاحیتوں اور قابلیت کے ضمن میں انہیں غلطیوں کا احساس دلائیں مگر اس احساس پر انہیں اپنی صلاحتیں بھاری محسوس ہوں۔
