مچھیرے نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔"ذرا غور سے دیکھو۔"
اس شخص نے دیکھا کہ جب بھی کوئی ایک کیکڑا پوری طاقت لگا کر بالٹی کے کنارے تک پہنچتا اور آزادی کے بالکل قریب ہوتا، تو نیچے بیٹھے باقی کیکڑے اس کی ٹانگیں پکڑ کر اسے زور سے واپس نیچے کھینچ لیتے۔ کوئی بھی کیکڑا دوسرے کو باہر نکلنے نہیں دے رہا تھا۔ مچھیرے کو ڈھکن لگانے کی ضرورت ہی نہیں تھی، کیونکہ کیکڑے خود ہی ایک دوسرے کے پہرے دار بنے ہوئے تھے۔
نفسیات اور سماجیات کی دنیا میں اس زہریلے رویے کو "کریب مینٹالٹی" (Crab Mentality) یا "کیکڑے کی ذہنیت" کہا جاتا ہے۔ اس ذہنیت کا ایک ہی خطرناک اصول ہے۔۔۔"اگر میں کامیاب نہیں ہو سکتا، تو میں تمہیں بھی نہیں ہونے دوں گا۔"(If I can't have it, neither can you).
بدقسمتی سے، یہ ذہنیت صرف کیکڑوں تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے انسانی معاشرے، دفتروں، دوستوں اور خاندانوں میں بھی گہرائی تک پھیلی ہوئی ہے۔
ذرا اپنی روزمرہ زندگی پر غور کریں، آپ کو یہ انسان نما کیکڑے ہر جگہ نظر آئیں گے۔۔۔
جب آپ کوئی روایتی اور محفوظ نوکری چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کرنے کا سوچتے ہیں، تو سب سے زیادہ ڈرانے والے، ناکامی کے طعنے دینے والے اور ہمت توڑنے والے اکثر آپ کے اپنے جاننے والے ہوتے ہیں۔
جب آپ خود کو بہتر بنانے کے لیے کوئی نیا ہنر سیکھتے ہیں، کتابیں پڑھنا شروع کرتے ہیں یا وزن کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو آپ کے اردگرد موجود لوگ مذاق اڑاتے ہیں۔۔۔"بڑا آیا تبدیلی لانے والا!"
دفتر میں جب آپ کوئی نیا آئیڈیا دیتے ہیں یا ایمانداری اور محنت سے کام کرتے ہیں، تو کام چور ساتھی آپ کے خلاف سازشیں شروع کر دیتے ہیں تاکہ آپ ان سے آگے نہ نکل جائیں۔
یہ سب لوگ دراصل اسی بالٹی کے کیکڑے ہیں، جو اپنی ناکامی، سستی اور احساسِ کمتری کا بدلہ آپ کو نیچے کھینچ کر لینا چاہتے ہیں۔ انہیں اس بات سے اتنی تکلیف نہیں ہوتی کہ وہ خود بالٹی (ناامی) میں قید ہیں، انہیں اصل تکلیف اس بات سے ہوتی ہے کہ آپ وہاں سے باہر کیوں نکل رہے ہیں؟ وہ آپ کی اڑان دیکھ کر اپنی معذوری محسوس کرتے ہیں۔
اگر آپ زندگی میں کچھ نیا اور بڑا کرنا چاہتے ہیں، تو اس تلخ حقیقت کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں کہ آپ کے اردگرد موجود لوگ آپ کی ٹانگیں ضرور کھینچیں گے۔ ان سے بحث کر کے، لڑ کر یا انہیں اپنا نقطہ نظر سمجھا کر اپنی قیمتی توانائی بالکل ضائع مت کریں۔
بالٹی سے باہر نکلنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اپنی محنت، فوکس اور رفتار کو اتنا طاقتور کر لیں کہ ان کی گرفت آپ کے قدموں کو روک نہ سکے۔ اور جب ایک بار آپ کامیاب ہو کر باہر نکل جائیں، تو اپنا حلقہ احباب (Circle) بدل لیں۔ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھیں جو آپ کو آسمان کی طرف کھینچتے ہیں، نہ کہ ان کے ساتھ جو آپ کو واپس کیکڑوں کی بالٹی میں گرانا چاہتے ہیں!
