ہمارا تعلیمی نظام ۔۔۔ سعد الرحمٰن

میٹرک کے بعد کئی دوستوں نے گھریلو مسائل کے باعث تعلیم کو خیرباد کہہ دیا، کچھ دوستوں نے ہمت کر کے ایف ایس سی مکمل کی لیکن اس کے بعد آگے پڑھنے سے ہاتھ کھڑے کر دیے۔۔۔۔میں نے ایک دوست کو بھیانک مستقبل سے ڈراتے ہوئے تعلیم جاری رکھنے کے قائل کرنا چاہا تو وہ کاغذ پینسل میرے سامنے رکھتے ہوئے بولا کہ اس پر لکھ کر دے کہ گریجویشن کے بعد مجھے اچھی جاب مل جائے گی۔۔۔مجھے خاموش دیکھ کر اس نے اپنے نوکیا گیارہ دس پر کیلکولیٹر کھولا اور بولا کہ یونیورسٹی میں ایک سمسٹر کی فیس اڑتالیس ہزار روپے ہے، یعنی چار سالہ ڈگری میں چار لاکھ روپے صرف فیس کی مد میں درکار ہوں گے۔۔۔۔ٹرانسپورٹ اور روزمرہ کے دیگر یونیورسٹی اخراجات اس سے دگنا ہوں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے گریجویشن کرنے کے لیے کم از کم سات، آٹھ لاکھ روپے درکار ہیں۔۔۔میرے پاس اس کے حساب کی تائید کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔۔اگر میں گریجویشن کے بجائے اسی آٹھ لاکھ روپے سے اپنا ذاتی کاروبار شروع کروں تو چار سال میں میرا کاروبار ایک کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے جس کے لیے مجھے کسی کی نوکری کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔۔وہ مزید گویا ہوا۔۔۔۔۔۔۔تب میں نے اسے "پاگل" کہہ کر اپنی خفت مٹائی لیکن وہ اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اس نے گریجویشن کے بجائے گاؤں میں اپنا کریانہ کی دکان کھول لی۔۔۔۔چند دن پہلے اس کے پاس جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ اس کا کریانہ اب ڈپارٹمنٹل سٹور بن چکا ہے اور وہ ماہانہ پچاس ہزار سے زیادہ کما رہا ہے۔۔۔۔
یہ کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے کہ پاک سوشل اینڈ لیونگ سٹینڈرڈ سروے کے مطابق اعلیٰ تعلیم پاکستان میں ایک مہنگا ترین عمل ہے۔۔۔۔۔ ایک عام شہری کا اگر ایک بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا ہے تو اس کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ اس پر خرچ ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ سرکاری سطح پر اس کا اوسط خرچ 25374 روپے ہے۔۔۔۔۔ اگر بچہ کسی نجی ادارے میں پڑھتا ہے تو یہ خرچ42704 روپے ہے۔۔۔۔۔۔ایک غریب آدمی جس کی ماہانہ آمدن بمشکل پندرہ ہزار روپے ہے وہ اپنے بچے کو اعلیٰ تعلیم دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔
ہماراتعلیمی شعبہ چند مہینوں یا سال میں نہیں تباہ ہوا بلکہ اس کی بربادی میں ستر سال سے ہر حکومت نے حصہ ڈالا ہے۔۔۔۔۔ پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک بار،1997ء میں ہمارے تعلیمی بجٹ نے جی ڈی پی کے تین فیصد کو چھوا، ورنہ یہ ہمیشہ تین فیصد سے کم ہی رہا ہے۔۔۔۔۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست قوم کی تعلیمی ضرویات پورا کرنے میں ناکام رہی اور نجی شعبہ نے اس کا فائدہ اٹھا کر تعلیم کو نفع بخش کاروبار میں بدل ڈالا۔۔۔خان صاحب نے ہمیشہ یوتھ ایجوکیشن اور امپاورمنٹ کی بات کی، یہی وجہ ہے کہ یوتھ نے انہیں ووٹ دے کر اقتدار تک پہنچایا لیکن حکومت سنبھالتے ہی انہوں نے سب سے پہلے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں پچاس فیصد کمی کر دی۔۔یعنی مرے کو سو درے۔۔۔ یہی صورتحال رہی تو وہ دن دور نہیں جب اعلیٰ تعلیم پر بھی صرف امراء کی اولادوں کو رسائی ہوگی۔۔!!

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !