"دو قدم دور" شہظل خان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ ہے۔۔۔ایک ایسی شعری دنیا ہے جہاں خواب پھولوں کی صورت کھلتے ہیں ۔ دکھ عبادت میں بدل جاتے ہیں۔مضافات تہذیبی حافظے کی علامت بن کر اظہار پاتے ہیں اور۔انسان اپنی اصل کی تلاش میں گرم سفر رہتا ہے۔
شہظل خان اپنا شجرہ شہرِ تشنگاں سے جوڑتے ہیں۔ آنکھوں میں عکسِ ستم لیےیہں کہتے نظر آتے ہیں کہ ان کے پندار کو توڑنا آسان نہیں۔ وہ صبر کو آزماتے ہیں اور گزرے دنوں کی کہانی پر نظم کہنا چاہتے ہیں۔ محبوب کے لمس کے انداز کو پہچانتے ہوئے، ضبط کے بازار میں ، عشق کی سرشاری کے ساتھ اپنی منزل سے بس دو قدم دور کھڑے نظر آتے ہیں
شہظل خان کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے سب سے پہلے جو بات قاری کو متوجہ کرتی ہے۔۔وہ ان کے شعری نظام کی داخلی وحدت ہے۔ ان کے ہاں استعارہ، تشبیہ اور تمثال الگ الگ صنعتیں نہیں بلکہ ایک مربوط فکری ساخت کے اجزاء ہیں ۔اس شاعری کا بنیادی موضوع "فاصلہ" ہے۔ یہ فاصلہ صرف عاشق اور معشوق کے درمیان نہیں بلکہ انسان اور اس کی آرزو، خواب اور حقیقت، ماضی اور حال، مرکز اور مضافات، جسم اور روح کے درمیان بھی ہے۔ شاید اسی لیے ان کی کتاب کا عنوان "دو قدم دور" اپنے اندر پورے شعری نظام کا استعارہ بن کر ظاہر ہوتا ہے۔
مجھ کو لے جائیں جہاں نقشِ کفِ پا اس کے
کاسنی رنگ کے دو پھول کھلے ہوتے ہیں
یہاں محبوب کی موجودگی کو براہِ راست بیان نہیں کیا گیا بلکہ اس کے نقشِ پا کو دو کاسنی پھولوں کی صورت میں مجسم کیا گیا ہے۔
یوں یہ ایک استعارہ نہیں شعری واقعہ ہے۔ نقشِ پا ایک نشان ہے، اور نشان سے پھول کا اگ آنا اس بات کا اعلان ہے کہ محبوب شخص نہیں، ایک تخلیقی قوت ہے جو زمین کو بھی گلزار بنا دیتی ہے۔ "کاسنی" رنگ کا انتخاب بھی اہم ہے۔ اردو شعری روایت میں یہ رنگ خواب، اداسی اور روحانی لطافت کے درمیان معلق کیفیت کا نمائندہ رہا ہے۔
شہظل خان کی شاعری میں تمثال سازی کا ایک اہم وصف یہ ہے کہ وہ مجرد کیفیت کو مرئی شے میں تبدیل کر دیتے ہیں:
چھوڑ جائیں گے یقینا ریشمی قربت تری
تیرے سینے میں پڑے پتھر سے اکتائے ہوئے
یہاں "ریشمی قربت" اور "سینے کا پتھر" دو متقابل تمثالیں ہیں۔ ایک طرف نرمی، لمس اور حرارت ہے، دوسری طرف جمود، بے حسی اور سنگ دلی۔ شعر کی معنوی قوت اسی تصادم سے پیدا ہوتی ہے۔ محبت ایک زندہ وجود ہے جو پتھر کے ساتھ زیادہ دیر نہیں رہ سکتی۔
اسی طرح:
زمانے والے سمجھ رہے ہیں سپردِ الحاد کر دیا ہے
قسم خدا کی مجھے دکھوں نے غلامِ سجاد کر دیا ہے
یہاں "الحاد" اور "غلامِ سجاد" کی تضاد آمیز ترکیب شعر کو فکری جہت عطا کرتی ہے۔
شہظل خان کے ہاں خودی اور شناخت کا مسئلہ بھی بار بار سامنے آتا ہے:
میں لوٹ جاؤں گا اک دن بنانے والے کے پاس
مجھے خبر ہے کھلونوں کی کس دکان سے ہوں
مندرجہ بالا کائناتی اور روزمرہ سطحیں ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں۔ انسان کو "کھلونا" کہنا بظاہر سادہ بات ہے مگر "دکان" کا لفظ پوری کائنات کو ایک تمثیلی منظرنامے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ وجود کی پیچیدہ فلسفیانہ بحث اچانک ایک معصوم بچے کی دنیا میں ڈھل جاتی ہے۔ یہی ارفع شاعری کی علامت ہے کہ وہ مشکل ترین تجربات کو سادہ ترین تصویروں میں بیان کر دے۔
ان کے شعری نظام میں ہجرت اور واپسی کا استعارہ بھی بار بار نمودار ہوتا ہے:
آخری عمر میں روتے ہیں پلٹنے کے لیے
جو جوانی میں مضافات کو رد کرتے ہیں
یہ شعر صرف دیہات اور شہر کا مسئلہ نہیں۔ "مضافات" یہاں اصل، جڑ، روایت اور شناخت کا استعارہ ہے۔ جدید زندگی کا انسان ترقی کی دوڑ میں جس شے کو غیر ضروری سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے، عمر کے آخری حصے میں اسی کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے۔ یہ شعر اپنے باطن میں تہذیبی نوحہ بھی ہے۔
شہظل خان کے ہاں خواب ایک مرکزی علامت ہے:
فصلِ خوابوں کی اگاؤں تو وہ تعبیر میں دے
ایسا موسم جو کٹائی کی طرف بھیجتا ہے
خواب اور تعبیر کے درمیان جو فاصلہ ہے۔ وہی ان کی شاعری کا اصل موضوع ہے۔ خواب بونا آسان ہےمگر اس کے لیے ایسا موسم درکار ہے جو اسے انجام تک پہنچا سکے۔ یہاں "کٹائی" زرعی عمل ہی نہیں تکمیل، حصول اور ثمر آوری کی علامت ہے۔ شاعر کا تخلیقی شعور خواب کو حقیقت میں بدلنے کے امکانات پر غور کرتا ہے۔
"دو قدم دور " کا شاعر کلاسیکی شعری روایت سے جڑے ہوئے ہونے کے باوجود اس کے اندر نئی معنوی توانائی پیدا کرتا ہے۔ ان کے ہاں تشبیہات مانوس ہیں مگر ان کا استعمال غیر متوقع ہے، استعارات روایت سے آتے ہیں مگر نئے سیاق میں روشن ہوتے ہیں، اور تمثالیں ایسی بصری قوت رکھتی ہیں کہ شعر پڑھنے کے بعد بھی دیر تک ذہن میں قائم رہتی ہیں۔ فطرت محبت وجودی کرب اور تجربے کی پختگی کے عکاس یہ اشعار پڑھیں اور ایک حساس شاعر کے ہم احساس ہونے کی لذت کشید کریں ۔۔
آنکھیں حسین لگتی ہیں اپنے مقام پر
ماتھے پہ آگئیں تو کسی کام کی نہیں
چھوڑ جائیں گے یقینا ریشمی قربت تری
تیرے سینے میں پڑے پتھر سے اکتائے ہوئے
مجھ کو ادراک نہیں ہجر زدہ سینے میں
پیار بس جائے تو پھر وہم کہاں رکھتے ہیں
اپنی مرضی سے بھلا پھول کہاں سوکھتے ہیں
شام ہو جائے تو پھر ان کے بدن ٹوٹتے ہیں
فصل خوابوں کی اگاؤں تو وہ تعبیر میں دے
ایسا موسم جو کٹائی کی طرف بھیجتا ہے
میری بلقیس یہاں بیٹھ کے اڑنے کی نہ سوچ
یہ چٹائی ہے میری تختِ سلیمان نہیں
کب تک لگے گا اپ یہاں پر ہیں اجنبی
چہرے سے اپنے نقل مکانی اتاریے
مرا زندان سے احوال پوچھو
میں دیواروں کو ازبر ہو گیا ہوں
مجھ سے بڑھ کر ہے جسے تجھ سے محبت میں ہوں
تجھ سے بڑھ کر بھی اگر کوئی حسین ہے تو ہے
شہظل خان مبارک باد اور دعائیں
